rss

تفریحی بحری جہاز پرنسس ڈائمنڈ سے امریکی شہریوں کی ملک واپسی کے بارے میں بریفنگ

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
بذریعہ ٹیلی کانفرنس
ڈاکٹر رابرٹ کیڈلک، اسسٹنٹ سیکرٹری برائے تیاری و جوابی اقدام، امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات
ڈاکٹر ولیم والٹرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر و مینجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنل میڈیسن، بیورو برائے طبی خدمات، امریکی دفتر خارجہ
کارل ریش، اسسٹنٹ سیکرٹری، بیورو برائے قونصلر امور، امریکی دفتر خارجہ
17 فروری 2020

 

مسٹر براؤن: سبھی کو سہ پہر بخیر اور تفریحی بحری جہاز ڈائمنڈ پرنسس سے امریکی شہریوں کی ملک واپسی کے حوالے سے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ آج کی کال میں شمولیت پر آپ کا شکریہ۔ میں امریکی دفتر خارجہ میں نائب ترجمان کیل براؤن ہوں اور میں اس کال کے نگران کی حیثیت سے فرائض انجام دوں گا۔

امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات میں شعبہ تیاری و جوابی اقدام کے اسسٹنٹ سیکرٹری ڈاکٹر رابرٹ کیڈلک؛ امریکی دفتر خارجہ میں شعبہ طبی خدمات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر و مینجنگ ڈائریکٹر برائے آپریشنل میڈیسن ڈاکٹر ولیم والٹرز؛ اور دفتر خارجہ میں بیورو برائے قونصلر امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری کارل ریش آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

آج کی بریفنگ آن دی ریکارڈ ہو گی۔ کال کے اختتام تک اس بریفنگ کی تفصیلات نشروشائع کرنے پر پابندی رہے گی۔

ہم محدود تعداد میں ہی سوالات لے سکتے ہیں۔ اسی لیے وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ افتتاحی بیان کے اختتام کا انتظار کیے بغیر اسی وقت  ایک اور صفر والا بٹن دبائیں تاکہ سوالات کرنے والوں کی قطار میں شامل ہو سکیں۔

اب ہم اپنے مقررین کی جانب جائیں گے جو افتتاحی کلمات کے ساتھ اس کال کا آغاز کریں گے۔ ایک مختصر وقفے کے بعد ہم آپ کے سوالات کی جانب آئیں گے۔

ڈاکٹر کیڈلک۔

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: آپ سبھی لوگوں کا بے حد شکریہ۔ میں محکمہ صحت و انسانی خدمات میں تیاری و جوابی اقدام سے متعلق اسسٹنٹ سیکرٹری ڈاکٹر باب کیڈلک ہوں۔ میں ڈائمنڈ پرنسس سے ان افراد کو واپس لانے کے لیے اے ایس پی آر اور دفتر خارجہ کی جانب سے آپریشنل میڈیسن کی مشترکہ کارروائی کا مختصر جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

میں جاپان کی حکومت اور وزارت صحت کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے آفات میں طبی امداد فراہم کرنے والی میری ٹیموں اور وبائی امراض کے ماہرین کی ڈائمنڈ پرنسس پر اپنی ٹیموں کے ساتھ تعیناتی میں غیرمعمولی مدد فراہم کی اور لوگوں کی واپسی کا فیصلہ ہونے کے بعد جہاز پر موجود امریکیوں کی حسب ضرورت نگہداشت اور ان کی معاونت کے کام میں ہمیں مدد دی۔

یہ جاپان میں وزارت صحت کے ساتھ کیے جانے والے ہمارے قریباً ڈیڑھ سالہ کام کا نتیجہ تھا ۔ ہم نے اسی طرح کی صورتحال کے حوالے سے مارچ میں ایک مشق کرنا تھی کہ کسی آفت یا ہنگامی صورتحال میں امریکیوں کو جاپان سے کیسے واپس لایا جائے؟ اس بیشتر کام کا بے حد فائدہ ہوا کہ ہم ان امریکیوں کو جہاز سے محفوظ و موثر طور سے نکالنے میں کامیاب رہے۔

اب میں ڈاکٹر والٹرز سے کہوں گا کہ وہ فضائی کارروائیوں اور اس کام میں دفتر خارجہ کے اہم کردار سے متعلق چند خاص باتوں کی وضاحت کریں۔

ڈاکٹر والٹرز: شکریہ ڈاکٹر کیڈلک۔

میں دفتر خارجہ سے ڈاکٹر والٹرز ہوں۔

بیورو برائے طبی خدمات میں ڈائریکٹوریٹ آف آپریشنل میڈیسن ان افراد کو ملک واپس لانے کے لیے انجام دیے جانے والے فضائی مشن کا ذمہ دار ہے۔

ہم اے ایس پی آر کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔ یہ گزشتہ کئی روز کے دوران  ہماری چھٹی پرواز ہے۔ ہم چینی شہر ووہان سے پروازوں میں لوگوں کو واپس لائے اور یقیناً یہ بھی ایسی ہی پرواز تھی۔

اس کارروائی کی منصوبہ بندی کئی روز سے جاری تھی۔ جب قومی سلامتی کونسل نے اس بارے میں قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا تو پھر ہم نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کارروائی کی۔

میں جاپانی حکومت کے لیے ڈاکٹر کیڈلک کے ستائشی کلمات کو دہرانا چاہوں گا۔ انہیں اس وائرس کے حوالے سے نمایاں طور سے غیریقینی حالات کا سامنا تھا اور ہم ان کے تعاون کو سراہتے ہیں۔ جہاز روانہ ہوئے جنہیں کیلیٹا ایئر گروپ سے ٹھیکے پر لیا گیا تھا۔ یہ ایک متواتر ٹھیکہ ہے جو ہم نے کارٹرزویل جارجیا میں  فونیکس ایئرگروپ کے ذریعے کیا تھا۔ ہم نے گزشتہ کئی سال کے دوران انتہائی نوعیت کی متعدی بیماریوں سے متاثرہ افراد کو ایک سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے اسی سے کام لیا ہے۔ 

یہ جہاز اٹلانٹا ہارٹس فیلڈ سے روانہ ہو کر براہ راست ٹوکیو کے ہانیڈا ایئرپورٹ پر پہنچے اور پھر وہاں سے مریضوں کی منتقلی عمل میں آئی اور  اے ایس پی آر نیز وہاں موجود اس کے عملے اور سفارت خانے میں دفتر خارجہ کے اہلکاروں کے مابین کارروائی ہوئی اور پھر یقیناً جہازوں  پر بھی دفتر خارجہ کے اہلکاروں نے ضروری کارروائی کی۔

پھر یہ جہاز ہانیڈا سے  امریکہ روانہ ہو گئے۔ پہلے جہاز نے براہ راست ٹریوس ایئرفورس بیس کا رخ کیا۔ اس موقع پر محکمہ دفاع سے نارتھ کام، ایچ ایچ ایس اور اے ایس پی آر، ایچ ایچ ایس اور سی ڈی سی اور دفتر خارجہ سمیت سبھی نے قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔

دوسرا جہاز ہانیڈا سے براہ راست ٹیکساس کے لیک لینڈ ایئرفورس بیس پر پہنچا۔ مسافروں کو ان دو مقامات پر اتارا گیا اور پھر انتہائی خدشے کے حامل چند مریضوں کو ان دونوں جگہوں سے انہی جہازوں پر نبراسکا کے شہر اوماہا روانہ کر دیا گیا جہاں انہیں یونیورسٹی آف نبراسکا میں علاج معالجے کے لیے رکھا جانا ہے۔

اس وقت یہ جہاز واپس اٹلانٹا آ رہے ہیں جہاں ان کی صفائی کی جائے گی اور پھر انہیں دوبارہ کرائے پر دینے کے لیے رکھا جائے گا۔

اب میں ڈاکٹر کیڈلک کی جانب واپس جاؤں گا تاکہ وہ یہ بتائیں کہ واپسی کے بعد ان مسافروں کے ساتھ اب کیا ہونا ہے۔

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: شکریہ ڈاکٹر والٹرز۔ میں نہایت مختصراً کہوں گا کہ امریکہ واپس آنے والے لوگوں کی  بحری جہاز سے بس کے ذریعے طیارے میں منتقلی کے موقع پر ان کے کئی معائنے ہوئے۔ اس کے بعد جب وہ دو منزلوں یعنی ٹریوس اور لیک لینڈ پہنچ گئے تو ان کا مزید جامع طور سے طبی جائزہ لیا گیا جبکہ ان کی بنیادی صحت اور موجودہ طبی علامات سے متعلق سوالات بھی پوچھے گئے۔

دونوں ہوائی اڈوں پر ان افراد کو طبی کارروائی کے بعد قرنطینہ میں رکھا گیا۔ ٹریوس ایئر بیس پر آنے والے تین افراد کو بخار تھا جنہیں ہسپتال لا کر ان کی حالت کا تجزیہ کیا گیا اور یہ جانچا گیا کہ اس کی کیا وجہ یا (ناقابل سماعت) ہو سکتی ہے۔ یہ افراد آئندہ 14 دن تک سی ڈی سی اور اے ایس پی آر کی مشترکہ دیکھ بھال اور نگرانی میں رہیں گے۔ اس دوران ان کی طبی نگرانی ہو گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ 14 روز کے بعد کس موقع پر انہیں ان کے گھروں میں بھیجا جائے۔

اس کے ساتھ ہی میں اپنی بات ختم کروں گا اور مزید صرف یہ کہوں گا کہ متعدد مریض، معاف کیجیے، 10 مریضوں  اور ان کے ازدواجی ساتھیوں کو دوسروں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے اوماہا میں یونیورسٹی آف نبراسکا میں بھی بھیجا گیا ہے۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے۔ اب ہم سوالات کا جواب دینے کے لیے چند منٹ لیں گے۔ سب سے پہلے سی این این سے جینیفر ہینسلر کا سوال لیتے ہیں۔

سوال: (ناقابل سماعت) کو دوسرے مسافروں سے الگ رکھا گیا؟اور پھر کیا آپ کو کوئی اندازہ ہے کہ کتنے امریکی بدستور ڈائمنڈ پرنسس پر موجود ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر ایسے کتنے لوگ ہیں جنہیں دنیا بھر میں مختلف جگہوں پر الگ تھلگ رکھا گیا ہے؟

مسٹر براؤن: جینیفر کیا آپ اپنا سوال دہرا سکتی ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ آپ کی بات کا بڑا حصہ ہم تک نہیں پہنچا۔

سوال: اوہ، یقیناً۔ معاف کیجیے۔ کیا آپ اس بارے میں قدرے مزید تفصیل سے بتا سکتے ہیں کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مسافروں کو انہیں واپس لانے  والی ان پروازوں پر دوسرے مسافروں سے کیسے الگ رکھا گیا؟ اور مزید  کتنے امریکی بدستور ڈائمنڈ پرنسس پر موجود ہیں؟ کمبوڈیا میں ویسٹرڈیم پر کتنے مسافر ہیں، اور کیا ان کے لیے کوئی پیغام ہے؟

ڈاکٹر والٹرز: جی، میں ڈاکٹر والٹرز ہوں۔ جہاز کا استعمال اور خطرے کی زد میں آئے مسافروں کی نقل و حرکت، اس حوالے سے  کرونا وائرس نہایت مخصوص معاملہ ہے، نہایت متعین، سالہا سال تک بہت سے اداروں نے مل کر جو کام کیا یہ کارروائی اسی کا نتیجہ تھی۔

747 یقیناً ایک بڑا طیارہ ہے اور اس کے کئی حصے ہیں۔ طیارے میں ہوا کا بہاؤ اس کے اگلے سرے یعنی ‘نوز’ سے پچھلے سرے ‘ٹیل’ کی جانب ہوتا ہے۔ ہمارا عملہ طیارے کے نوز والے حصے میں ہوتا ہے اور ہم اسے محفوظ جگہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد مسافروں کی نشستیں شروع ہوتی ہیں اور پھر جہاز کی ‘ٹیل’ آتی ہے جس میں 18 نشستیں ہوتی ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کسی کو دوسروں سے الگ رکھا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ مال بردار جہاز ہے اس لیے ہمارے پاس بہت سی جگہ تھی کہ ہم نے اس میں نشستیں بھی لگائیں اور ان نشستوں کی چاروں  جانب پلاسٹک لگانے کی گنجائش بھی نکال لی۔ پلاسٹک کی یہ شیٹ 10 فٹ بلند ہے اور اس میں ایک داخلی راستہ اور اس الگ تھلگ جگہ کے عقب میں ایک خارجی راستہ ہے۔ اس طرح باقی مسافر اور عملے کے ارکان بیماری کے پھیلاؤ سے محفوظ ہیں۔ اس جگہ الگ تھلگ رکھے جانے والے مسافروں سے ہر طرح کا رابطہ نہایت متعین ہوتا ہے جس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور یہ کام نہایت احتیاط سے انجام دیا جاتا ہے۔

یہ کام اس طرح ہوا کہ جہاز چھوڑنے سے پہلے ہر فرد کا ایک میڈیکل آفیسر یا نرس یا امریکی حکومت کی جانب سے کسی نرس نے طبی معائنہ کیا۔ کرونا وائرس سے متاثرہ کوئی اہلکار جہاز سے نکالے جانے والے لوگوں میں شامل نہیں تھا۔ چنانچہ ہمارے پاس 338 لوگ تھے اور یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ بیماری کی جانچ کے لیے ان کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہو۔ ان لوگوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور ان میں اس بیماری کی کوئی علامت نہیں پائی گئی۔

ہم جہاز سے اتر آئے۔ جب ان لوگوں نے حکومتی نگرانی میں انخلا  کے عمل میں جہاز چھوڑ دیا تو ان کی حیثیت ایسے افراد کی تھی جنہیں وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔ وہ اس عمل کا حصہ تھے۔ انہیں بسوں میں سوار کیا گیا۔ اندازاً یہ 15 بسیں تھیں اور انہیں ایک پیکیج کی صورت میں وہاں سے لے جایا گیا۔ جاپان کی سکیورٹی اور پولیس ان بسوں کے ساتھ تھی۔ جب  یہ مسافر بسوں میں سوار ہو گئے اور بسیں حرکت میں آئیں تو ہمیں آگاہ کیا گیا کہ جاپان کی حکومت کی جانب سے کچھ مسافروں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

اب یہ بات سمجھنا ہو گی کہ جاپان کی حکومت اس بے مثل معاملے سے نمٹنے کے لیے حیران کن کام کر رہی ہے جبکہ اس وائرس کے بارے میں ہمارے پاس زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ ہم اس حوالے سے روزانہ نئی چیزیں سیکھ رہے ہیں۔ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا اس وقت ہوا جب یہ لوگ انخلا کے عمل سے گزر رہے تھے اور پہلے ہی بسوں میں سوار تھے اور طیارے کی جانب جا رہے تھے۔

جب یہ بسیں طیارے تک پہنچ گئیں تو جن لوگوں میں کرونا وائرس کی نشاندہی ہوئی تھی مگر ان میں بیماری کی کوئی علامات موجود نہیں تھیں، انہیں بسوں سے اتار کر جہاز میں اس مخصوص الگ تھلگ جگہ پر بٹھا دیا گیا جو کہ محفوظ ترین جگہ تھی جہاں وہ دوسروے مسافروں سے دور تھے۔ یوں ہمیں کچھ فیصلے کرنے کے لیے وقت مل گیا۔

میں نے اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک سے رابطہ کیا۔ ہمارے مابین بات چیت ہوئی جو کچھ یوں تھی کہ: ہمارے پاس ایک ضابطہ ہے جسے ہم نے کرونا وائرس سے متاثرہ یا ایسے  مسافروں کو لانے والی تمام پروازوں میں استعمال کیا ہے جنہیں یہ بیماری لاحق ہونے کا انتہائی خدشہ موجود ہو۔ وہ ضابطہ یہ ہے کہ ایسے مسافروں کو انخلا کے عمل کی تکمیل تک الگ تھلگ جگہ پر بٹھایا جائے۔ اس کے بعد کا سوال سادہ تھا کہ آیا ان افراد کا شمار ایسے لوگوں میں ہو گا جنہیں متاثرہ علاقے سے نکالا گیا ہو؟ اور کیا ہم اپنے ضابطے کی پیروی کریں؟ اور دونوں سوالات کا جواب ‘ہاں’ میں تھا۔ جی ہاں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں متاثرہ جگہ سے نکال لیا گیا ہے۔ ہم نے انہیں انخلا کے عمل میں گویا پائپ لائن میں رکھا ہے اور ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے۔ کیا ہمیں اس منصوبے پر عمل کرنا چاہیے؟ اور اس کا جواب بھی ‘ہاں’ میں تھا۔

چنانچہ ان لوگوں کو الگ تھلگ جگہ پر رکھا گیا تاکہ فیصلہ سازی کی گنجائش مل سکے اور پھر وہ الگ تھلگ جگہ پر ہی رہے کیونکہ وہ طبی اعتبار سے  ایسے افراد کے  درجے میں آتے تھے جنہیں الگ تھلگ رکھا جانا چاہیے اور اس جگہ یہ لوگ دیگر مسافروں اور عملے کے لیے کوئی اضافی خطرہ نہیں تھے۔ ڈاکٹر کیڈلک، کیا آپ نے اس حوالے سے مزید کچھ کہنا ہے۔

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: جی، میں بس ایک بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ وائرس اور لوگوں کے اس مخصوص گروہ کی غیرمعمولی نوعیت اور ان سے وابستہ غیریقینی صورتحال، خاص طور پر لوگوں کی عمر اور ان میں بعض کو پہلے سے لاحق بیماریوں کے سبب اے ایس پی آر نے ایک اضافی میڈیکل ٹیم بھی بھیجی جس میں وبائی امراض کے دو ڈاکٹر شامل ہیں۔ ان میں ایک کا تعلق یونیورسٹی آف نبراسکا سے ہے جبکہ ایک بوسٹن کے میس جنرل ہاسپٹل میں کام کرتا ہے۔ یہ دونوں ڈاکٹر ناصرف 2003 کی وبا کے دوران سارس وائرس سے نمٹنے کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے ایبولا وائرس کی وبا میں بھی اہم کام کیا تھا۔

چنانچہ ہمارے پاس ناصرف دوران پرواز ان لوگوں کی نگہداشت اور جہاز میں نگرانی کے لیے اضافی مہارت اور تجربہ کار لوگ موجود تھے بلکہ انہوں نے بحری جہاز پر بھی لوگوں کا معائنہ  کیا اور پھر پرواز کے دوران مسافروں کی نگرانی کرتے رہے۔ چنانچہ ہمیں یوں محسوس ہوا کہ ان مریضوں کے معائنے اور نگہداشت کے لیے ہمارے پاس نہایت تجربہ کار لوگ موجود ہیں۔

ڈاکٹر والٹرز: جہاں تک آپ کے سوال کے بقیہ حصے کا تعلق ہے تو اس وقت ہم اندازاً 60 امریکی شہریوں کا کھوج لگا رہے ہیں جو تاحال جاپان میں موجود ہیں۔ ہم 200 سے کچھ زیادہ ایسے امریکی شہریوں کو بھی ڈھونڈ رہے ہیں جو اپنا سفر ملتوی کر کے کمبوڈیا میں موجود ہیں۔ ان میں 92 افراد کمبوڈیا میں کھڑے  جہاز ویسٹرڈیم پر ہی موجود ہیں۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے، چلیے اب اگلے سوال کا رخ کرتے ہیں۔ بلومبرگ نیوز کے شان ڈونین سے بات کرائیے۔

آپریٹر: شان ڈونین، آپ کی لائن کھلی ہے۔ براہ مہربانی بات کیجیے۔

سوال: اس کال کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ کیا میں کمبوڈیا میں ویسٹرڈیم کی صورتحال پر کچھ مزید جان سکتا ہوں۔ آپ نے کہا ہے کہ آپ بدستور  کمبوڈیا میں موجود 200 سے کچھ زیادہ امریکی شہریوں کو تلاش کر رہے ہیں، تو کیا یہ لوگ ایک ہی جگہ پر موجود ہیں؟ کیا یہ مختلف جگہوں پر پھیل رہے ہیں؟

ہمیں ایک رات پہلے طیارے کے ذریعے ملائشیا پہنچنے والی ایک ایسی خاتون کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں جسے کرونا وائرس لاحق ہے۔ کیا آپ کو اس پر کوئی تشویش ہے کہ شاید ایسے بعض لوگ کمبوڈیا چھوڑ چکے ہوں؟ ہم کمبوڈیا کی صورتحال کے بارے میں قدرے مزید جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر والٹرز: ٹھیک ہے۔ ہم 92 ایسے امریکی شہریوں کا کھوج لگا رہے ہیں جو بدستور ویسٹرڈیم پر موجود ہیں جبکہ مزید 260 افراد نوم پین کے ہوٹلوں میں مقیم ہیں۔ کم و بیش 300 امریکی شہری کمبوڈیا چھوڑ چکے ہیں تاہم انہوں نے کمبوڈیا کی وزارت صحت کی جانب سے طبی معائنے کے بعد ہی ملک چھوڑا۔

کوالالمپور کے ہسپتال میں موجود ایک شخص ویسٹرڈیم سے آنے والا وہ واحد فرد ہے جس میں کرونا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔

یقیناً ہر کسی کو تمام امریکی شہریوں اور ویسٹرڈیم پر موجود تمام دوسرے مسافروں  کی سلامتی کا خیال ہے اور ہر قدم متاثرہ لوگوں سے ممکنہ طور پر رابطے میں رہنے والوں میں بیماری کی علامات ڈھونڈنے اور جہاز کے مسافروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کے معاملے پر تعاون کی عالمی بنیادوں پر اٹھایا جا رہا ہے۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے، آئیے نیویارک ٹائمز کے ایڈ وانگ کا سوال لیتے ہیں۔

آپریٹر: ایڈ وانگ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: اس کال کے لیے آپ سبھی کا شکریہ۔ مجھے ڈاکٹر والٹرز کے بیان کردہ اس طریقہ کار کی بابت ایک سوال پوچھنا ہے جو مریضوں کو واپس لانے کے لیے اختیار کیا گیا۔

جیسا کہ بتایا گیا ہے امریکی طبی عملے نے مسافروں کا معائنہ کیا۔ آپ نے جس طرح یہ بات بتائی ہے اس کو مدنظر رکھتے  ہوئے میں یہ فرض کرتا ہوں کہ انہوں نے مسافروں کا ٹیسٹ نہیں لیا بلکہ جاپانی طبی ماہرین نے ان مسافروں کو کرونا وائرس کے حوالے سے کسی طرح جانچا تھا۔

اور پھر یہ کہ آیا اس ٹیسٹ کے نتائج پہلے ہی آ چکے تھے، اور کیا یہ منفی تھے، مگر بعد میں اس پر ذہن تبدیل ہو گیا؟ یا نتائج واپس آنے سے پہلے ہی مسافروں کی منتقلی کا عمل شروع ہو گیا تھا؟ اگر ایسا تھا تو ان لوگوں کو  ٹیسٹ کے نتائج آنے سے پہلے کیوں لے جایا گیا؟

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: ڈاکٹر والٹرز کیا یہ بہتر ہو گا کہ میں اس پر بات کا آغاز کروں اور آپ اس کا اختتام کریں؟

ڈاکٹر والٹرز: یہ بہتر ہے۔

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: بہت اچھا سوال ہے۔ جب ہماری ٹیمیں وہاں پہنچیں اور جب ہم نے صورتحال دیکھی تو جیسا کہ ہمارے ملک میں بھی ہے کہ تیزی سے ٹیسٹ لینے کی گنجائش بہت محدود تھی۔ اگر آپ جہاز پر قریباً 3000 افراد کی موجودگی کو ذہن میں لائیں تو جاپانی حکومت گنجائش کے مطابق ان کے سلسلہ وار ٹیسٹ لے رہی تھی۔ اس طرح بسوں  پر ایئرپورٹ کی جانب جانے والے  جن لوگوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ان کے ٹیسٹ دو سے تین روز پہلے لیے گئے تھے۔ اسی لیے ان افراد میں بیماری کی موجودگی قریباً دو سے تین روز تک اخفا میں رہی۔

ان لوگوں کے معائنے کے لیے جہاز میں جانے والی ہماری ٹیمیں بیماری کی تشخیص کی اہلیت رکھتی تھیں اور جب جہاز میں کچھ لوگوں کا معائنہ کیا جا رہا تھا تو موقع پر کچھ لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آئے اور انہیں اس ضابطے کے مطابق دوسروں سے علیحدہ کر دیا گیا جو ہم نے ہسپتال کو بھیجا تھا۔ ان لوگوں کی نقل وحرکت بھی روک دی گئی۔

اس طرح جاپان کے حکام نے ان لوگوں کے ٹیسٹ لیے۔ ہمارے پاس اپنے لیے اس جگہ پر ٹیسٹ لینے کے ذرائع نہیں تھے۔ اب میں اس بارے میں مزید تبصرے کے لیے ڈاکٹر والٹرز سے رجوع کروں گا۔

ڈاکٹر والٹرز: جی، میں سمجھتا ہوں کہ جاپانی حکام ان لوگوں کے طبی معائنے کی بابت نہایت نفاست پسند واقع ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں بعض بہت اچھے ضوابط استعمال کیے یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ یقینی طور پر انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے کام لیا۔ تاہم بیماری کے حوالے سے چین کی جانب سے معلومات کے حصول میں تاخیر کے باعث کچھ کمی رہ گئی۔یہ ٹیسٹ انہی معلومات کی روشنی میں ہی تیزی سے  لیے جا سکتے تھے۔ ہمارا اندازہ یہ تھا کہ لوگوں کے طبی معائنے میں دو سے تین روز صرف ہوں گے۔ چونکہ یہ ایک منفرد صورتحال ہے اسی لیے اس بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ معائنے کے نتائج کب موصول ہوں گے۔ اگر یہ نتائج ہمارے جہاز چھوڑنے اور انخلا کے نظام کے تحت لوگوں کو نکالے جانے سے چار گھنٹے پہلے موصول ہو جاتے تو صورتحال کچھ اور ہوتی۔

تاہم آخر میں جب ہم ہمیں نتائج موصول ہوئے تو یہ لوگ پہلے ہی بس میں سوار ہو چکے تھے اور اگلا مرحلہ انہیں دوسروں سے الگ تھلگ جگہ پر رکھنا تھا۔ میں کھل کر کہوں گا کہ جب وہ اس جگہ پر آ گئے تو پھر انہیں الگ رکھنا اور انخلا کا عمل مکمل کرنا محفوظ تر ہو گیا۔

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: دیکھا جائے تو  لوگوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ہمیں بھی  ٹیسٹ کرنے میں ویسی ہی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے۔ اگلے سوال کے لیے کیا ہم واشنگٹن پوسٹ کے ایلکس ہورٹن سے رابطہ کر سکتے ہیں؟

آپریٹر: واشنگٹن پوسٹ سے ایلکس ہورٹن کی لائن کھلی ہے۔ براہ مہربانی بات کیجیے۔

سوال: چھٹی کے دن اس بریفنگ کے اہتمام پر سبھی لوگوں کا شکریہ۔ میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کال کے لیے سی ڈی سی کے ساتھ بات چیت کس وقت ہوئی۔ اگر چند روز پہلے  جاری ہونے والی ان کی پریس ریلیز کو دیکھا جائے تو انہوں نے کہا تھا کہ کرونا وائرس میں مبتلا لوگوں کو جاپان سے واپس آنے سے روکنے کے لیے ان میں بیماری کی علامات کی نشاندہی کے لیے ان کا معائنہ کیا جائے گا۔ آپ لوگوں کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز  میں نہایت احتیاط سے لکھا گیا ہے کہ ”ایچ ایچ ایس سے مشاورت کے بعد دفتر خارجہ نے ان 14 افراد کو واپسی کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔”

اس طرح سی ڈی سی اور ایچ ایچ ایس میں آپ لوگوں کی جانب سے انہیں آگے بھیجنے کے معاملے پر اختلاف سامنے آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان اداروں کے وہ کون سے اعتراضات تھے جنہیں آپ نے بظاہر رد کر دیا؟

ڈاکٹر والٹرز: میں ڈاکٹر والٹرز ہوں۔

میں یہ کہوں گا کہ امریکی سفارت خانے سے چیف آف مشن ایگزیکٹو برانچ کی تمام سرگرمیوں کی سربراہی کرتا ہے۔ اسی لیے جب ہم فیصلے کی ذمہ داری لینے میں نہایت احتیاط کرتے ہیں تو پھر دفتر خارجہ یعنی سفارت خانے کے لوگ یہ فیصلہ لیتے  ہیں۔ دفتر خارجہ فضائی مشن چلا رہا تھا اور اسی لیے بات چیت کی غرض سے کچھ وقت حاصل کرنے کے لیے ان لوگوں کو دوسروں سے الگ تھلگ رکھنا دفتر خارجہ کا فیصلہ تھا۔

بیماری کے حوالے سے ‘علاماتی’ کی اصطلاح کی تعریف کے معاملے میں آپ کو کچھ تضاد دکھائی دے سکتا ہے۔ جب ہم یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو ہماری مراد کھانسی، چھینکوں، بخار اور جسم میں درد ہوتی ہے۔ انہیں علامات کہا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے؟ اور جیسا کہ ڈاکٹر کیڈلک نے بیان کیا اور میں اسے دہراؤں گا کہ ان 338 افراد میں ہر ایک کا تجربہ کار طبی عملے نے معائنہ کیا اور ان میں سے کسی میں یہ علامات نہیں پائیں گئیں۔

جب یہ لوگ بس میں سوار ہو گئے تو ہمیں ایک لیبارٹری ٹیسٹ کے بارے میں اطلاع ملی جو دو سے تین روز پہلے لیا گیا تھا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں کو جہاز سے نکالنے کا فیصلہ ہوا تو کسی فرد میں بخار، کھانسی یا سانس کی نالی میں انفیکشن یا جسم میں درد یا کوئی ایسی علامت نہیں پائی گئی تھی جس سے کسی کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا گمان ہو۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے۔ شکریہ۔ اگلے سوال کے لیے کیا ہم اے بی سی سے کونر فینیگن سے رابطہ کر سکتے ہیں؟

آپریٹر: اے بی سی سے کونر فینیگن، آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: مجھے جلدی سے دو سوال پوچھنا ہیں۔ پہلا یہ کہ مجھے یہ وضاحت درکار ہے کہ کیا تفریحی بحری جہاز ڈائمنڈ پرنسس پر اب بھی کوئی امریکی شہری موجود ہیں اور کیا کوئی امریکی شہری جاپان کے ہسپتالوں میں بھی زیرعلاج ہیں؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت سمندرپار دیگر امکانات پر بھی غور کرتی رہے گی جن میں جہاں مناسب ہو امریکی شہریوں کی ملک واپسی بھی شامل ہے۔ کیا اس کے علاوہ بھی کہیں کوئی امریکی شہری موجود ہیں؟ غالباً کمبوڈیا میں سیکڑوں امریکی موجود ہیں جہاں آپ انخلا  کے لیے مزید پروازیں بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر والٹرز: میں ڈاکٹر والٹرز ہوں۔ ہم ناصرف اس وقت جاپان میں زیرعلاج امریکی شہریوں پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان لوگوں کی نگرانی بھی کر رہے ہیں جنہوں نے ڈائمنڈ پرنسس پر رہنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ ہماری توجہ دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں پر بھی ہے خواہ وہ نوم پین میں ہوں یا کہیں اور خواہ انہیں وائرس کا خطرہ لاحق ہو، اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہوں یا انہیں عالمگیر فضائی صنعت اور پروازوں میں تعطل آنے کے باعث امریکہ واپسی میں مشکل پیش آ رہی ہو۔

یہ شعبہ قونصلر امور کے لیے بنیادی اہمیت کا معاملہ ہے۔ یہ دفتر خارجہ کے لیے بنیادی اہمیت کی بات ہے اور سمندرپار امریکی شہریوں کی بہتری دفتر خارجہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ہم اسے نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے، شکریہ۔ اگلے سوال کے لیے کیا ہم سان انتونیو سے لارین کیروبا کو سن سکتے ہیں؟

آپریٹر: سان انتونیو ایکسپریس نیوز سے لارین کیروبا کی لائن کھلی ہے۔ براہ مہربانی بات کیجیے۔

سوال: سوال لینے پر میں آپ کی بے حد شکرگزار ہوں۔ کیا آپ ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں کہ 338 مسافروں میں سے کتنے لیک لینڈ، کتنے اوماہا اور کتنے ٹریوس کی جانب گئے ہیں؟ کیا آپ ہمیں تفصیل سے بتا سکتے ہیں کہ ان مسافروں کو کس جگہ لے جایا گیا ہے؟

مجھے اسی سوال سے متعلق یہ بھی پوچھنا ہے کہ کیا کرونا وائرس سے متاثرہ کوئی فرد لیک لینڈ آیا ہے؟

ڈاکٹر والٹرز: میں ڈاکٹر والٹرز ہوں۔ تین سو اڑتیس مسافروں کو جہاز سے نکالا گیا۔ پہلا طیارہ ٹریوس کی جانب گیا جس پر 177 افراد سوار تھے۔ ان میں سے 7 لوگوں کو کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی بنا پر دوسروں سے الگ رکھا گیا۔ دوران پرواز بخار میں مبتلا ہونے والے تین مزید لوگوں کو دوسروں سے علیحدہ کر لیا گیا مگر یہ وہ لوگ نہیں تھے جن میں ٹیسٹ کے ذریعے کرونا وائرس کی نشاندہی ہوئی تھی۔ ایک سو سڑسٹھ لوگوں کو الگ تھلگ نہیں کیا گیا تھا۔ ایک سو ستر لوگ ٹریوس میں ہی ٹھہرے جبکہ چونسٹھ افراد کو اوماہا بھیج دیا گیا اور میاں بیوی کے تین جوڑوں میں چار لوگوں کے جسم میں کرونا وائرس کی نشاندہی ہوئی تاہم ان میں ظاہری علامات نہیں پائی گئیں۔ ان لوگوں کو ٹریوس ایئرفورس بیس کے قریب  طبی مراکز میں لے جایا گیا۔

دوسرا جہاز لیک لینڈ کی جانب گیا۔ اس پر 151 لوگ سوار تھے۔ ان میں سات افراد کو لیبارٹری ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث دوسروں سے الگ رکھا گیا تاہم ان میں بیماری کی ظاہری علامات موجود نہیں تھیں۔ دوران پرواز بخار کی شکایت پر مزید دو لوگوں کو ضوابط کے مطابق دوسروں سے الگ کر دیا گیا۔ ایک سو تینتالیس افراد کو الگ تھلگ نہیں کیا گیا۔ ایک سو چوالیس افراد نے لیک لینڈ میں قیام کیا جبکہ سات کو اوماہا بھیجا گیا۔ ان سات افراد میں ایک میاں بیوی بھی شامل تھے۔ جن لوگوں میں لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے کرونا وائرس کی نشاندہی ہوئی انہیں نبراسکا کے شہر اوماہا بھیج دیا گیا۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس مزید ایک سوال کے لیے وقت باقی ہے۔ کیا آپ وال سٹریٹ جرنل سے مشیل ہیکمین سے بات کروائیں گے۔

سوال: جی، ایک ۔۔۔

آپریٹر: آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: کیا آپ میری بات سن سکتے ہیں؟ شکریہ۔

مجھے ایک وضاحتی سوال کرنا اور پھر مزید ایک بات پوچھنا ہے۔ آپ نے بتایا کہ بعض لوگوں کو ٹریوس ایئرفورس بیس کے قریبی ہسپتالوں میں لے جایا گیا۔ اوماہا سے برعکس آپ نے کچھ لوگوں کو مقامی ہسپتالوں میں لانے کا فیصلہ کیسے کیا؟

اور پھر ان لوگوں کو بسوں پر سوار کرنے کا معاملہ بھی ہے، کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ کرونا وائرس سے متاثرہ لوگ کتنی دیر تک بسوں میں دوسرے مسافروں کے ساتھ رہے؟

کیا اس تجربے کے بعد آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس ظاہر ہونے میں ابتدائی اندازے کے مقابلے میں زیادہ وقت لیتا ہے؟

ڈاکٹر والٹرز: میں آپ کے سوال کے پہلے یا آخری حصے کا جواب پہلے دوں گا اور پھر جہاں تک ہسپتال کے انتخاب اور ان فیصلوں کا تعلق ہے تو اس کے لیے ڈاکٹر کیڈلک آپ سے بات کریں گے۔

جہاں تک بس کا معاملہ ہے تو بحری جہاز سے ایئرپورٹ تک سفر قریباً 40 منٹ پر مشتمل تھا۔ ہم نے انہیں جہاز سے نکالا ۔۔ معاف کیجیے، جونہی بسیں ٹارمک پر مخصوص جگہ پہنچیں تو ہم نے انہیں باہر نکال لیا  اور یہ عمل محفوظ تھا۔

جہاں تک وائرس سے متعلق سائنسی معاملات کی بات ہے تو یہ ارتقا پذیر رہتا  ہے۔ جونہی ہمیں چین میں ووہان، عالمی ادارہ صحت اور سی ڈی سی سے مزید معلومات حاصل ہوئیں تو اس وائرس، اس کے ظاہر ہونے کے دورانیے اور انسانی جسم پر اس کے اثرات بارے ہماری سوجھ بوجھ بہتر ہو جائے گی۔

اب میں ڈاکٹر کیڈلک سے درخواست کروں گا کہ وہ ہسپتال کے انتخاب سے متعلق سوال کا جواب دیں۔

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: یقیناً، میں وائرس کے ظاہر ہونے کے دورانیے کے بارے میں ایک بات کہوں گا۔ یوں لگتا ہے کہ وائرس جسم میں داخل ہونے اور اس کی علامات ظاہر ہونے کا درمیانی عرصہ قریباً 5 سے 6 یوم تک ہے جس کی وسعت 2 سے 14 دن تک بھی ہو سکتی ہے۔ یہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے اتصال جیسی بات ہے اور میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ یہ پختہ نتیجہ نہیں ہے تاہم اس سے آپ کو وائرس کے ظاہر ہونے کے دورانیے بارے کچھ اندازہ ضرور ہو جاتا ہے۔ میں معذرت چاہتا ہوں، کیا آپ ہسپتال کے انتخاب کے بارے میں اپنا سوال دہرا سکتی ہیں؟ ہیلو؟

مسٹر براؤن: شاید ان کی لائن بند ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ سوال پوچھا تھا کہ بعض لوگوں کو ٹریوس کے قریبی ہسپتالوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیسے لیا گیا جبکہ کچھ لوگوں کو اوماہا بھیجا گیا تھا۔

اسسٹنٹ سیکرٹری کیڈلک: ٹھیک ہے، اس حوالے سے ریاستی اور مقامی سرکاری طبی حکام کے ساتھ پہلے ہی طے پایا جا چکا تھا اور میں پھر کہوں گا کہ ہر قسم کے بخار اور ہر طرح کی بیماری کرونا وائرس نہیں ہوتی۔ اسی لیے یہاں بنیادی طور پر ہمارا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کو الگ تھلگ رکھ کر ان کا طبی جائزہ لیا جائے، انہیں مقامی ہسپتال کے ایسے کمرے میں رکھا جائے جہاں سے ہوا کے ذریعے جراثیم دوسروں کو منتقل ہونے نہ پائیں۔ ان ہسپتالون کو ریاستی اور مقامی حکام نے نامزد کیا تھا۔ چنانچہ وہاں ان لوگوں کی مجموعی صحت کا معائنہ کیا گیا اور خاص طور پر یہ دیکھا گیا کہ  آیا انہیں کرونا وائرس لاحق ہے یا نہیں اور اس کے ساتھ انہیں ممکنہ طور پر انفلوائنزا یا کسی دوسرے بیماری لاحق ہونے کے امکان کا جائزہ بھی لیا گیا کہ آج کل انفلوئنزا کا موسم ہے۔

تو یہ وہ ضابطہ ہے جس پر لیک لینڈ اور ٹریوس دونوں جگہوں پر یا جہاں بھی لوگ قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں وہاں عمل کیا جا رہا ہے۔

شکریہ۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے۔ آج کی کال میں شریک ہونے پر آپ سبھی لوگوں کا شکریہ اور بریفنگ دینے والوں کا بھی شکریہ کہ وہ یہاں آئے۔

چونکہ اب یہ کال ختم ہو گئی ہے اس لیے اس کے مواد کو نشروشائع کرنے پر پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ ہم آپ سبھی لوگوں کے لیے اچھے دن کی خواہش رکھتے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں