rss

ایران کے لیے خصوصی نمائندے اور وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی ایڈوائزر برائن ایچ ہُک کی خصوصی بریفنگ

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی
20 فروری 2020

 

مسٹر براؤن: سبھی کو صبح بخیر۔ آپ تمام لوگوں کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ہمارے ساتھ شمولیت، ایک مرتبہ پھر ۔۔۔۔

سوال: میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مجھے آپ کی بات پر بھروسہ  ہے۔

مسٹر براؤن: میرا یقین کیجیے، واقعتاً یہی بات ہے۔ (قہقہہ) ایران کے لیے ہمارے خصوصی نمائندے برائن ہُک آج ہمارے ساتھ ہیں۔ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی یہاں وہ ایران کے ضرررساں طرزعمل اور اسے روکنے کے لیے ہماری کوششوں پر گفتگو کریں گے۔ وہ مختصر بات سے آغاز کریں گے اور پھر آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔

برائن

مسٹر ہُک: شکریہ۔ صبح بخیر۔

سوال: صبح بخیر۔

مسٹر ہُک: کل ایرانی حکومت ایک ڈرامہ رچائے گی جسے وہ اچھے الفاظ  میں انتخابات کہتے ہیں۔ ایرانی عوام کی بدقسمتی ہے کہ کوئی ووٹ کاسٹ ہونے سے بہت پہلے ہی خفیہ طور سے اصل انتخاب ہو چکا ہوتا ہے۔ ایران میں گزشتہ 41 برس سے یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے۔ ایرانی حکمران حکومت چلانے کے لیے لوگوں کی اہلیت کا پیشگی فیصلہ کر کے ایران کے  عوام کو اپنی نمائندہ پارلیمان سے محروم کر دیتے ہیں۔

آج ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکومت کا احتساب کرنے کے لیے قدم اٹھا رہی ہے۔ میں اعلان کر رہا ہوں کہ امریکہ انتظامی حکم 13876 کے تحت ایرانی حکومت کے پانچ اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ آج نامزد کیے جانے والے ان پانچ حکام نے ایرانی عوام کو آزادانہ و منصفانہ پارلیمانی انتخابات سے محروم رکھا ہے۔  ان میں شوریٰ نگہبان کے سیکرٹری احمد جنتی اور کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی رکن اور اور ایران کی ظالم عدلیہ کے سابق سربراہ محمد یزدی بھی شامل ہیں۔ ہم انتخابی نگرانی کے لیے شوریٰ نگہبان کی مرکزی کمیٹی کے تین دیگر حکام پر بھی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

یہ پانچوں حکام مل  کر ایک ایسے عمل کی نگرانی کرتے ہیں جو ایرانی عوام کی آوازوں کو خاموش کرتا، ان کی آزادی میں تخفیف کرتا، اور سیاسی عمل میں ان کی شرکت کو محدود کرتا ہے۔ انتخاب لڑنے کے خواہش مند ہر ایرانی کو سب سے پہلے شوریٰ نگہبان  اور اس کی  انتخابی نگرانی سے متعلق کمیٹی سے منظوری لینا ہوتی ہے۔ شوریٰ نگہبان 12 غیرمنتخب مذہبی پیشواؤں اور نام نہاد قانونی ماہرین پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ فیصلہ کرتے ہیں کہ کسے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دراصل ایران میں یہی وہ لوگ ہیں جو نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

شوریٰ نے 7000 سے زیادہ امیدواروں کو کل ہونے والے انتخابات میں شرکت کے حق سے محروم رکھا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے ایران کی پارلیمان کے 90 موجودہ ارکان کو بھی دوبارہ انتخاب لڑنے کے لیے ناہل اقرار دیا۔ احمد جنتی شوریٰ نگہبان کا چیئرمین ہے۔ وہ 92 سال عمر کا مذہبی پیشوا ہے۔ اس نے 1980 میں کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی اور 1988 میں اس کا چیئرمین بنایا گیا۔ اس طرح گزشتہ 40 برس سے وہ یہ فیصلے کرنے میں مصروف ہے کہ کون سے ایرانی انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ 2010  میں جب ایرانی عوام نے اس کے جعلی انتخابات کے خلاف احتجاج کیا تو اس نے مظاہرین کو سزائے موت دینے پر حکومت کو سراہا تھا۔ اس نے احتجاج ختم ہونے تک مزید لوگوں کو پھانسیاں دینے پر زور دیا تھا۔

جنتی موقع ملنے پر امریکہ اور اسرائیل کے لیے موت کی خواہش کا اظہار کرنے  کے لیے بھی معروف ہے۔ ایرانی حکومت کے دنیا میں ریاستی سطح پر یہود مخالفت  کا  سب سے بڑا معاون ہونے میں اس کا ایک بڑا کردار ہے۔ امریکی اور یورپی میڈیا جنتی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا کیونکہ ایرانی حکومت اسے مشہور نہیں کرنا چاہتی۔ اس سے انہیں فائدہ نہیں ہو گا۔ تاہم ایران کے عوام اسے اچھی طرح جانتے ہیں اور احمد جنتی جیسے  پیشواؤں کے باعث ہی اس حکومت کو اندرون ملک اپنی ساکھ اور جواز کے بحران کا سامنا ہے۔

ایران کے عوام جانتے ہیں کہ کل ہونے والا انتخاب ایک سیاسی ڈرامہ ہے۔ جب حکومت نصف سے زیادہ امیدواروں کو انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دے تو پھر یہ نام ہی کی جمہوریت ہے۔ لاکھوں ایرانیوں نے ووٹ ڈالنے کے بجائے گھر وں پر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس عمل میں ان کی بات نہیں سنی جائے گی۔ وہ ایک آزاد اور شفاف انتخابی عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں جہاں وہ نظرانداز کیے جانے یا قتل ہونے کے خوف سے بے نیاز ہو کر آزادی سے اپنی بات کر سکیں۔

امریکہ ایسے ایرانی حکام کو دنیا کے سامنے لاتا رہے گا جو اپنے اختیار کو ایران کے عوام کے حقوق کی پامالی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور انہیں ان کی بنیادی آزادیوں سے محروم رکھتے ہیں۔ ان حکمرانوں کو نمائندہ حکومت کے لیے اپنے عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے اور  انہیں انتخابات میں اپنے حقیقی نمائندے منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ ایرانی حکومت اندرون ملک جبر میں اضافہ کرتے ہوئے ایرانی عوام کی دولت بیرون ملک جنگوں پر خرچ کر رہی ہے۔ ایرانیوں کو گیس پر دی جانے والی امدادی قیمت ختم کرنے کے بجائے شاید اسے حوثیوں کو میزائلوں کی امداد بند کرنی  چاہیے۔

چند ہی ہفتے قبل امریکہ کی بحریہ نے یمن میں حوثیوں کے لیے ایرانی اسلحے کی بڑی کھیپ لے جانے والے ایک  بادبانی جہاز دھاؤ کو روکا۔ اس جہاز سے پکڑے گئے اسلحے میں ایرانی ساختہ 150 ٹینک  شکن اور ایران میں بنائے گئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے تین میزائل بھی شامل تھے۔ علاوہ ازیں اس کھیپ  میں ایرانی ساختہ تھرمل دوربینیں اور حوثیوں کے لیے زیرآب چلائے جانے والے جدید دھماکہ خیز آلات کے پرزے بھی شامل تھے۔ یہ ہتھیار بحیرہ قلزم میں تجارتی جہاز رانی اور سمندری سفر کی آزادی کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔

اس سے پہلے نومبر میں بھی بھاری تعداد میں ایرانی اسلحہ پکڑا گیا تھا جب امریکی بحریہ نے یمن میں حوثیوں کو بھیجے جانے والے جدید ہتھیاروں اور ان کے پرزوں کی کھیپ قبضے میں لی تھی۔ اس میں بھی ایسے ہی ٹینک شکن اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل تھے جو چند ہفتے پہلے قبضے میں لیے گئے ہیں۔ جنوری میں اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں یمن کو بھیجے گئے ان ہتھیاروں کے تجزیے کی تفصیل سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ ہتھیار ایران میں تیار کیے گئے تھے۔

ایران کی جانب سے حوثیوں کو ہتھیاروں کی منتقلی کا سلسلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ کامیاب کارروائیاں یمن کے حوالے سے ایران کے دوغلے پن کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ ایک جانب ایرانی حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ یمنی تنازعے کا سفارتی حل چاہتی ہے تو دوسری جانب اس کے عملی اقدامات اس دعوے سے متضاد ہیں۔ گائیڈڈ میزائل اور جدید دھماکہ خیز آلات سفارتی ذرائع نہیں ہیں، یہ جنگی ہتھیار ہیں اور ایران یہی کچھ سامنے لایا ہے۔

امریکہ ایران کی ضرررساں سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے جو یمن میں ایران کی پشت پناہی سے ہونے والی جنگ میں اگلے محاذوں پر لڑ رہا ہے۔ آج وزیر خارجہ پومپیو ریاض میں موجود ہیں جہاں وہ شاہ سلیمان، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان، وزیر خارجہ فیصل اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں ایرانی خطرے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر خارجہ نے آج صبح پرنس سلطان ایئربیس کا دورہ کیا۔ یہ ہوائی اڈہ اس وقت امریکی فوجی دستوں کے زیراستعمال ہے۔ وہاں سعودی عرب کی فورسز کے ساتھ ہماری مشترکہ موجودگی ایرانی جارحیت کو روکنے اور خطے کی دفاعی ساخت بہتر بنانے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ اشتراک کے ضمن میں امریکہ کے عزم کو نمایاں کرتی ہے۔

خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے ہم ایرانی اسلحے کی ترسیلات اور میزائلوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی مصروف عمل ہیں۔ عالمی برادری کو ایران پر مزید دباؤ ڈالنا چاہیے یہاں تک کہ وہ شورش زدہ علاقوں میں اپنے آلہ کار گروہوں کو اسلحہ، تربیت اور مالی وسائل کی فراہمی بند نہ کر دے۔ اس میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر اسلحے کی خریدوفروخت کے حوالے سے پابندی میں توسیع بھی شامل ہے جو کہ ایرانی معاہدے کے تحت اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔

ایران کی دہشت گرد گروہوں یا ملیشیاؤں کو ہتھیاروں کی فراہمی کی اہلیت پر سلامتی کونسل کی پابندیاں اٹھائے جانے سے خطے میں امن کمزور پڑ جائے گا۔ اس سے ایران کو ہلاشیری، اپنے اسلحے میں مزید اضافے اور خطے میں جاری تنازعات میں اپنا کردار مزید بڑھانے کی چھوٹ ملے گی۔

اب میں آپ کے چند سوالات لینا چاہوں گا۔

مسٹر براؤن: میٹ

سوال: جی، مجھے شوریٰ نگہبان پر آج عائد کی جانے والی پابندیوں کے بارے میں پوچھنا ہے، کیا یہ لوگ پہلے سے عائد  پابندیوں کے دائرے میں نہیں آتے؟

مسٹر ہُک: نہیں، وہ اس میں شامل نہیں ہیں۔

سوال: تو پھر یہ کیسے ہوا اگر وہ اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ ۔۔۔

مسٹر ہُک: صدر نے گزشتہ برس جون میں ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے تھے جو سپریم لیڈر اور اور اس کے دفتر پر پابندیاں نافذ کرتا ہے۔ ہم نے اس اختیار کو متعدد مواقع پر استعمال کیا۔ اسی اختیار کے تحت ہم نے ایران کے بہت سے  حکام بشمول جواد ظریف، ایران کی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی، اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شامخانی پر پابندی عائد کی۔ چنانچہ ہم اس نئے اختیار کو بہتر طور سے استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ ہم نے ماضی میں ان لوگوں پر پابندیاں عائد کیں اور اب آج ان میں پانچ مزید لوگوں کا اضافہ کیا ہے۔

سوال: ٹھیک ہے، اور پھر یہ ۔۔ یہ پابندیاں ویسی ہی ہیں ۔۔ اثاثوں کا انجماد ۔۔ وہ ۔۔

مسٹر ہُک: جی، جی

سوال: مگر جہاں تک امریکی دائرہ اختیار ہے  تواس میں ان لوگوں کے کوئی اثاثے نہیں ہیں؟

مسٹر ہُک: کیا آپ کو اس کا علم ہے؟

سوال: مجھے اس کا علم نہیں ہے مگر میرے خیال میں یہ خاصا درست مفروضہ ہے۔ ۔۔

مسٹر ہُک: چنانچہ ایران ۔۔ ایران ۔۔

سوال: ۔۔۔ کہ ایران کی شوریٰ نگہبان کے 92 سالہ سربراہ کے پاس سٹی بینک کا اکاؤنٹ یا ایسی کوئی اور چیز نہیں ہو گی۔

مسٹر ہُک: ایرانیوں کے اثاثے دنیا بھر میں ہیں اور وہ جہاں جس کے پاس موجود ہیں اسے چاہیے کہ انہیں منجمد کر دے۔

سوال: ٹھیک ہے۔ کیا میں پابندی کی صورتحال پر کچھ پوچھ سکتا ہوں؟ کیا اب آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ بس پابندی میں توسیع کے لیے کوشاں ہیں اور گزشتہ صورتحال کی جانب واپس نہیں جانا چاہتے؟ کیا آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں  بعض مخصوص لوگوں میں بے تابی بڑھ رہی ہے جو ایرانی جوہری معاہدے کے حامی نہیں ہیں۔ وہ لوگ بے چین  ہیں کہ آپ اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کی فوری بحالی کے لیے تاحال کچھ نہیں کر رہے۔

چنانچہ میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اب بھی اس کا امکان موجود ہے؟ کیا آپ اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کو دوبارہ بحال کرانا چاہیں گے یا محض اکتوبر کے بعد اسلحے کے پابندی میں توسیع کے ہی خواہاں ہیں؟

مسٹر ہُک: یورپیوں کی جانب سے تنازعے کے حل کے طریق کار کی بابت اعلان سے پہلے ہی ہم نے کھل کر مطلع کرنا شروع کر دیا تھا کہ اس پابندی کی مدت ختم ہونے پر کون سے خطرات سامنے آئیں گے۔ چنانچہ میں اسلحے کی خریدوفروخت پر اس پابندی کی تجدید سے متعلق ہمارے فیصلے اور ای 3 ممالک کی جانب سے تنازعے کے حل کے طریق کار کو اختیار کیے جانے سے پہلے اس کی تجدید کو آپس میں جوڑنا ضروری نہیں سمجھتا۔

میں آپ کے سوال کے جواب میں وہی کچھ کہوں گا جو صدر نے جنوری کے اوائل میں کہا تھا کہ ہم  چاہیں گے کہ ایرانی جوہری معاہدے کے ارکان ہماری کوششوں میں ساتھ دیں اور معاہدے سے نکل جائیں۔ وہ معاہدہ چھوڑ کر ہماری کوششوں میں شامل ہوں تاکہ ایک نیا اور بہتر معاہدہ کیا جا سکے جس میں صرف جوہری پروگرام سے ہی نہ نمٹا جائے بلکہ اس میں میزائلوں، علاقائی جارحیت اور لوگوں کو یرغمال بنائے جانے جیسے معاملات بھی شامل ہوں۔

اب جبکہ میرے خیال میں ایران پانچ مرتبہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے تو اس سے یورپی ممالک تنازعے کے حل کے طریق کار سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔ اب اس معاہدے کو برقرار رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔ ایران پر اسلحے کی پابندی کی مدت اکتوبر میں ختم ہونا شروع ہو گی اور ایرانی حکومت کئی مرتبہ اس کی خلاف ورزی کر چکی ہے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے چند بہت اچھی کامیابیاں ملی ہیں اور ایرانی حکومت اس دولت سے محروم ہوئی ہے جو اسے اپنے آلہ کاروں کی اس سطح تک مالی معاونت اور اپنی کارروائیوں کے لیے درکار تھی جس کے وہ عادی ہیں۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ مزید ممالک کو ہماری خارجہ پالیسی کا ساتھ دینا چاہیے اور صدر یہ بات کہہ چکے ہیں۔

مسٹر براؤن: نادیہ

سوال: شکریہ۔ برائن، جب آپ یہ کہتے ہیں کہ گزشتہ 41 برس میں انتخابات کا فیصلہ خفیہ طور سے ہوتا رہا ہے تو کیا آپ کے پاس اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے؟ اور کیا اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ، خاتمی جیسے معتدل صدور اور دیگر ، جیسا کہ وہ سمجھتے ہیں؟ اگر موجودہ انتخاب کے حوالے سے کوئی خاص ثبوت موجود ہے تو ۔۔۔ مجھے علم ہے کہ یہ صدارتی نہیں بلکہ کونسل کا انتخاب ہے۔

مسٹر ہُک: یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شوریٰ نگہبان نے امیدواروں کو نااہل کیا ہو۔ وہ باقاعدگی سے یہی کچھ کرتے چلے آئے ہیں۔ جنتی 1980 سے وہاں بیٹھا ہے۔ وہ ایک غیر منتخب عہدیدار ہے جو یہ تعین کرتا ہے کہ ایران کے عوام کسے ووٹ دیں گے۔ نام کے اعتبار سے یہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں اس کی پارلیمان کے لیے انتخاب لڑنے والے نصف امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ ایران کے آئین کا آرٹیکل چھ یہ کہتا ہے کہ ”ملکی معاملات عوامی رائے پر بھروسے کے تحت اور ”انتخابات کے ذریعے” چلائے جائیں گے۔” تاہم وہ لوگ ایسا نہیں کرتے، آپ دیانت داری سے ایسے عمل کو انتخابات نہیں کہہ سکتے جس میں  الیکشن لڑنے کے خواہاں نصف لوگوں کو چند غیرمنتخب افراد نااہل قرار دے دیں۔

چنانچہ ایران دونوں انداز میں چلنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ ملائی، بدعنوان، مذہبی مافیا ملک کو چلاتا رہے مگر وہ دنیا کو اسے ایک جمہوریت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس حکومت کے لیے بڑی حد تک یہ کردار جواد ظریف انجام دیتے ہیں۔ میرے لیے یہ بات دلچسپ تھی کہ ۔۔۔ گزشتہ رات میں نے گوگل پر تلاش کیا تو احمد جنتی کے نام کے نیچے تلاش کے 69000 نتائج سامنے آئے جبکہ جواد ظریف کے نام تلے 4 ملین نتائج دیکھے گئے۔ ایرانی حکومت کو یہی پسند ہے۔ کیونکہ وہ اپنی حکومت کا ایسا چہرہ سامنے لانا چاہتی ہے جو مغربی سامعین کے لیے خوش کن ہو مگر اس حکومت کے اصل کردار احمد جنتی جیسے لوگ ہیں۔

مسٹر براؤن: حمیرا

سوال: ہیلو برائن۔

مارک ہُک: ہیلو

سوال: کیا میں امدادی ذریعے کے بارے میں پوچھ سکتی ہوں جس کے بارے میں آپ لوگوں نے کچھ دیر پہلے اعلان کیا تھا۔ اس وقت آپ نے کہا تھا کہ آپ دیگر کمپنیوں اور ممالک سے بات کر رہے تھے۔ کیا اس حوالے سے مزید ترسیلات بھی ہوئی ہیں۔ کیا کسی اور نے بھی ایران کو ادویات اور دیگر اشیا بھیجنے کے لیے یہ ذریعہ استعمال کیا ہے؟

مسٹر ہُک: ہم نے اس حوالے سے پہلی کارروائی چند ہفتے قبل کی جس کی ہمیں بے حد خوشی ہوئی۔ ہمیں کینسر کے علاج کی ادویات موصول ہوئیں۔ میں نے یہاں پوڈیم سے ان کے بارے میں بات کی تھی۔ کم از کم دو مزید کمپنیوں سے خاص طور پر ہم یہ بات چیت کر رہے ہیں۔

ہم اس ذریعے کے کارآمد ہونے کا جائزہ لینے کے لیے ہرممکن طور سے جلد ابتدائی کارروائی سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ اور اب میں سمجھتا ہوں کہ جوں جوں طبی، ادویہ اور دوساز کمپنیوں کو اس کے بارے میں علم ہو رہا ہے تو وہ اس ذریعے کو استعمال کرنے میں خاصی دلچسپی لے رہی ہیں۔

میں نے گزشتہ ہفتے محکمہ خزانہ میں ڈپٹی سیکرٹری میوزینچ سے ملاقات کی تھی جس میں یہ تبادلہ خیال ہوا کہ اس حوالے سے آئندہ کارروائی کیسے کی جائے گی۔ چنانچہ ہم مل کر کام کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں آپ ایسا مزید لین دین دیکھیں گے۔

مسٹر براؤن: مائیکل

سوال: شکریہ۔ آپ ارکان کانگریس اور سابق امریکی حکام کی ایرانی حکام جیسا کہ  وزیر خارجہ ظریف کے ساتھ ملاقاتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ وزیر خارجہ ظریف نے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک بات چیت نہیں کرے گا جب تک امریکہ اس پر پابندیاں اٹھا نہیں لیتا جبکہ  آج آپ نئی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

مسٹر ہُک: وزیر خارجہ اس پر بات کر چکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدر بھی اس پر بات کر چکے ہیں۔ جہاں تک آپ کا پہلا سوال ہے تو مجھے ان کی بات سے آگے کچھ نہیں کہنا۔

سوال: کیا آپ اسے امریکی  حکمت عملی یا موجودہ انتظامیہ کی حکمت عملی کے لیے مددگار سمجھتے ہیں؟

مسٹر ہُک: وزیر خارجہ نے گزشتہ روز اس بارے میں بات کی تھی اور مجھے اس معاملے پر مزید کچھ نہیں کہنا۔ مگر آپ کا دوسرا سوال کیا تھا؟

سوال: ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کے بارے میں، جن  کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گا جب تک ۔۔۔

مسٹر ہُک: اس بارے میں فیصلہ ایرانیوں کو کرنا ہے۔ وہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے آغاز سے ہی یہ فیصلہ لیتے آئے ہیں۔ ایرانی حکومت موجودہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصہ میں مسائل کے سفارتی حل کی پیشکشوں رد کرتی چلی آئی ہے۔انہوں نے صدر میکخواں اور وزیراعظم ایبے کی سفارتی کوششوں کو مسترد کیا۔ بہت سے ممالک نے ایران کو بہتر راستے پر لانے اور امریکہ کے ساتھ مل کر چلنے پر آمادہ کرنے اور سفارت کاری کے ذریعے باہمی اختلافات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ تاہم یوں لگتا ہے کہ ایرانی حکومت ہمارے باہمی اختلافات سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی غرض سے عسکری طاقت کے استعمال پر کاربند ہے۔

چنانچہ ہماری حکمت عملی بالکل واضح ہے۔ جہاں تک مل بیٹھ کر بات کرنے کا تعلق ہے تو صدر نے کہا ہے کہ وہ اس کے بدلے کچھ نہیں دیں گے۔ اسی لیے انہوں نے باہر کہا ہے کہ مذاکرات کی میز پر آنے کے بدلے میں  پابندیوں میں چھوٹ نہیں ملے گی۔ صدر اور وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایک مکمل اور جامع معاہدے کے نتیجے میں ایران کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے، تاہم اس کے لیے ہمیں ایران کے طرزعمل میں تبدیلی کا انتظار ہے۔

مسٹر براؤن: آئیے تیسری قطار کی جانب جاتے ہیں، بالکل وہاں۔

سوال: شکریہ برائن۔ ایران کے رہنما علی خامنائی اور صدر روحانی نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کہا تھا کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کریں گے جب تک امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی مہم روک نہیں دیتا۔ مجھے اس پر آپ کا تبصرہ درکار ہے۔

مسٹر ہُک: میرے خیال میں انہوں نے  پہلے جو کچھ کہا تھا یہ اس سے مختلف ہے، مگر ہم ایران کے معاملے میں 2017 سے اسی حکمت عملی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے تین حصے ہیں: یہ حکمت عملی ایرانی حکومت کو اس آمدنی کے حصول سے روک رہی ہے جو اسے اپنی انقلابی خارجہ پالیسی اور اپنے آلہ کاروں کی معالی معاونت کے لیے درکار ہوتی ہے؛ یہ حکمت عملی ایران کے ساتھ قوت مزاحمت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے، اور اس حکمت عملی کے تحت ہم ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی لیے ہم روزانہ کی بنیاد پر اس حکمت عملی سے کام لے رہے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج ہمارے لیے بے حد اطمینان بخش ہیں۔

اس تمام عرصہ میں ہم نے یہ واضح کیا ہے کہ ہم بات چیت کے لیے بالکل تیار ہیں مگر ایرانی حکومت نے مختلف راہ پنانے کا فیصلہ کیا۔ اسی لیے ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ ہمارے پاس بہت سا وقت ہے۔ اسی لیے ایرانی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے، جیسا کہ وزیر خارجہ نے مئی 2018 میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یا تو وہ دیگر پرامن ممالک  جیسا طرزعمل اپنائے یا پھر اپنی معیشت کو منہدم ہوتا دیکھے۔ انہوں نے انہدام کی راہ اختیار کی۔

مسٹر براؤن: معاف کیجیے۔ لارا۔

سوال: ہیلو برائن: صبح بخیر، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کل ہونے والے انتخابات کے بعد جب نئی ایرانی پارلیمان آئے گی، خواہ یہ موجودہ پارلیمان سے زیادہ ہی رجعت پسند کیوں نہ ہو، کیا اس سے امریکہ کے ساتھ ایران کی حکمت عملی پر کوئی اثر پڑے گا؟

مسٹر ہُک: مجھے اس میں شبہ ہے، کیونکہ انتخابات کے بعد بھی سپریم لیڈر ہی مختار کُل ہو گا اور سپریم لیڈر کسی وجہ سے سپریم لیڈر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دیگر امریکی حکومتیں ایرانی حکمرانوں میں معتدل لوگ ڈھونڈنے میں زیادہ دلچسپی لیتی رہی ہیں ار میرے خیال میں اس سے فیصلہ سازی انتہائی برے طور سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ہم ایرانی حکومت کے بارے میں اس کے افعال کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کرتے ہیں۔ ہم اپنی رائے اس بنیاد پر قائم نہیں کرتے کہ حکومت میں کون پُراثر ثابت ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔ یہ ایک متشدد، انقلابی اور توسیع پسند حکومت ہے اور آج مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ اسی کا ہے۔ ہم نے ایسی خارجہ پالیسی اختیار کی ہے جواسی  حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔

مجلس کی بات ہو تو انہوں نے ہر اس معتدل کو نااہل قرار دے دیا ہے جو الیکشن لڑ سکتا  ہو، تاہم اگر مجلس میں متعدل لوگ  بھی موجود ہوں تو اس صورت میں بھی سپریم لیڈر ہی نے ہر فیصلہ کرنا ہے۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ یہ فیصلے لیتے ہیں۔ اسی لیے ہم معتدل اور سخت گیر شخصیات کی بات سے اپنی راہ کھوٹی نہیں کرتے۔ اگر آپ ایرانی حکومت کا حصہ ہیں تو پھر آپ سخت گیر ہیں۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے۔ میرے خیال میں ہمارے پاس چند مزید سوالات کے لیے کچھ وقت ہے۔

مسٹر ہُک: جی

مسٹر براؤن: کیرول

سوال: برائن، اس بریفنگ کے لیے آپ کا شکریہ۔ ایلیٹ  ابرامز نے کہا ہے کہ وینزویلا کے خلاف پابندیاں آنے کو ہیں۔ یہ پابندیاں کہاں ہیں، کیا ایران کے خلاف پابندیوں کے بارے میں بھی آپ کا یہی اندازہ ہو گا؟ کیا آپ کے پاس ان گروہوں اور لوگوں کی طویل فہرست ہے جن پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں؟ اس معاملے میں  آپ کہاں کھڑے ہیں؟

مسٹر ہُک: جی ہاں، اس معاملے میں ہمیشہ بہت سے اہداف ہوتے ہیں۔ ایران پابندیوں سے بچنے میں نہایت متحرک ہے اور وہ  لوگ جعلی کمپنیاں قائم کرنے کے ماہر ہیں۔ اسی لیے ہم ہمیشہ ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ ہم باقاعدگی سے اپنی پابندیوں کو بہتر بناتے ہیں۔ وزیر خارجہ پومپیو پابندیوں کے نفاذ بارے بے حد پرعزم ہیں اور پابندیوں کا نفاذ نامزدگیوں جیسا ہی اہم ہے۔ ہم اب بھی ماہانہ چند لاکھ بیرل تیل چین کو جاتا دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم نے تین مختلف واقعات میں چین کے لوگوں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ہم اس تعداد کو صفر تک جاتا دیکھنا چاہیں گے، اسی لیے ہم پابندیوں کے نفاذ کے معاملے میں کڑی محنت کر رہے ہیں۔ ہم افراد اور اداروں کو ہدف بناتے ہوئے ایرانی حکومت کو آمدنی کے ذرائع سے محروم کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں خواہ یہ خام تیل ہو، پیٹروکیمیکل، صنعتی دھاتیں ہوں یا قیمتی دھاتیں۔

جب ہم احمد جنتی جیسے کسی فرد پر پابندی عائد کرتے ہیں تو اس کی شخصیت دنیا کے سامنے لا رہے ہوتے ہیں تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ سپریم لیڈر کے پیچھے کون سے لوگ ہیں جو ملک کے اصل حکمران ہیں اور جنہیں اس کے وزیر خارجہ سے بڑھ کر ملک کا نمائندہ سمجھا جانا چاہیے۔ اسی لیے ان پابندیوں کا عملی اثر ہوتا ہے مگر ان کا علامتی اثر بھی ہے کیونکہ اگر آپ ان لوگوں پر پابندی عائد نہیں کرتے تو اس سے ایک پیغام جاتا ہے۔ یہ خاموشی یا کسی اور جانب دیکھنے کا پیغام ہے۔ اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ہم ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چنانچہ ہم ایسے عناصر کے بارے میں عالمی برادری کا شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں۔

ہم ایک اور سوال لیں گے۔

مسٹر براؤن: سامنے، آخری۔ روفینی

سوال: ہیلو برائن

مسٹر ہُک: ہیلو

سوال: سلیمانی پر حملے سے فوری بعد ایران کی جانب سے ایسے اشارے سامنے آئے کہ وہ اپنے ہاں قید امریکیوں یا قیدیوں کے تبادلے یا ایسے ہی معاملات پر بات چیت لازمی طور سے بند کر دے گا۔ کیا اس ضمن میں کسی طرح کی بات چیت میں کوئی اضافہ ہوا ہے؟ کیا اب تک وہی صورتحال ہے؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں اس سلسلے میں کون سی کوششیں ہوئی ہیں اور کیا یہ حملہ دیگر امریکیوں کو ایران سے واپس لانے کی ہماری اہلیت پر اثرانداز ہو رہا ہے یا نہیں؟

مسٹر ہُک: ہم نومبر میں ایک قیدی کا تبادلہ کرنے میں کامیاب رہے تھے اور ہم نے پابندیوں میں نرمی لائے بغیر، انہیں نقدی سے بھرے صندوق دیے بغیر اور حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لائے بغیر ایسا کیا۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی طرح کے حالات سے قطع نظر امریکیوں کو واپس لانے کی کوشش کا موقع ہمیشہ موجود ہے۔ میں بقیہ امریکیوں کو ایران سے واپس لانے کی کوشش کے لیے روزانہ بنیادوں پر کام کرتا ہوں جو وہاں ناجائز طور سے قید ہیں۔ میں اس حوالے سے مخصوص تفصیلات بیان نہیں کر سکتا، تاہم میں روزانہ بنیادوں پر یہ کام کر رہا ہوں۔

اس وقت پانچ امریکی بدستور ایران میں ناروا قید کاٹ رہے ہیں۔ آپ اس حوالے سے جلد کوئی بات سنیں گے۔ میں ان کی حالت زار اور انہیں ناجائز طور سے حراست میں رکھے جانے پر مزید بات کروں گا۔ میں ان افراد کے اہلخانہ کے ساتھ باقاعدگی سے بات کرتا ہوں جو تکلیف جھیل رہے ہیں۔ لوگوں کو یرغمال بنانے پر اقوام متحدہ اور دیگر ممالک نے ایران کی مذمت کی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے۔ میں حال ہی میں ژی یو وانگ سے ملا جو میرے لیے نہایت اطمینان بخش تجربہ تھا۔ ہمیں مزید لوگوں کو گھر واپس لانا ہے۔

مسٹر براؤن: ٹھیک ہے۔

سوال: ان پانچ لوگوں میں لیونسن شامل نہیں ہیں، کیا ایسا ہی ہے؟

مسٹر ہُک: جی

سوال: کیا وہ شامل ہیں؟

سوال: شکریہ

مسٹر ہُک: الوداع، جی، شکریہ۔

سوال: شکریہ برائن۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں