rss

طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے کی جانب آئندہ اقدامات

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
21 فروری 2020

 

امریکہ اور طالبان افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی تصفیے میں سہولت دینے، امریکی اور اتحادی افواج کی موجودگی میں کمی لانے اور یہ امر یقینی بنانے کے لیے جامع بات چیت میں شامل رہے ہیں کہ کوئی دہشت گرد گروہ امریکہ یا ہمارے اتحادیوں کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے لیے کبھی افغان سرزمین استعمال نہ کرے ۔

حالیہ ہفتوں میں امریکی مذاکرات کاروں نے قومی اتحاد کی حکومت کی مشاورت سے دوحہ میں طالبان کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا جس کی رو سے افغانستان بھر میں تشدد میں نمایاں کمی لائے جائے گی۔ اس سمجھوتے پر کامیاب عملدرآمد کی صورت میں آگے بڑھنے کے لیے امریکہ۔طالبان معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ ہم 29 فروری کو اس معاہدے پر دستخط کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بین افغان مذاکرات جلد شروع ہوں گے جو ایک جامع اور مستقل جنگ بندی اور افغانستان کے لیے مستقبل کا سیاسی نقشہ تیار  کرنے کے لیے اس بنیادی قدم کو آگے بڑھائیں گے ۔ افغانستان میں پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ یہ ہے کہ افغان عوام مل بیٹھیں اور مستقبل کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں۔

مسائل بدستور باقی ہیں مگر دوحہ میں ہونے والی پیش رفت امید افزا ہے اور ایک حقیقی موقع فراہم کرتی ہے۔ امریکہ تمام افغانوں سے کہتا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

امریکہ افغانستان میں امن کے لیے معاونت پر قطر اور تمام دیگر اتحادیوں اور شراکت داروں کا مشکور ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں