rss

افغان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
شیرٹن ہوٹل
دوحہ، قطر
29 فروری 2020

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ آج امریکہ اور امریکی عوام کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ آج ہم نے افغانستان میں امن، حقیقی امن کی جانب ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ ہر اہم سفر کے آغاز کی طرح یہ بھی ایک پہلا قدم ہے۔

قریباً 19 برس پہلے امریکہ نے 11 ستمبر کے حملوں کا ارتکاب کرنے والے دہشت گردوں اور ان کے شرپسند حامیوں کا زوروشور سے پیچھا کرنے اور ایسے وحشیانہ حملے کا ہمیشہ کے لیے سدباب کرنے کی غرض سے ایک نیک کام شروع کیا تھا۔ اس دوران ہم نے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ہم نے یہ یقینی بنایا کہ افغانستان ہم  پر حملے کے لیے دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانا نہ بنے اور ہم نے افغان عوام کی زندگیاں بہتر بنائیں جس پر ہمیں بے حد فخر ہے۔

آج افغانستان میں سیاسی مباحثۃ آزاد اور توانا ہے۔ آج 90 لاکھ سے زیادہ طالب علم سکولوں میں زیرتعلیم ہیں جن میں 39 فیصد لڑکیاں ہیں۔ آج 57 فیصد سے زیادہ افغانوں کو صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہے جو کہ 2002 میں صرف 9 فیصد لوگوں کے پاس تھی۔ آج القاعدہ اپنے ماضی کی پرچھائیں بن کر رہ گئی ہے۔ ہم نے اس کی قیادت کا خاتمہ کر دیا ہے اور اب طالبان اس بات پر اتفاق کر رہے ہیں کہ القاعدہ دوبارہ کبھی افغانستان کو اپنا محفوظ ٹھکانہ نہ بنائے۔

تاہم جس طرح آج کا افغانستان 2001 کا افغانستان نہیں ہے اسی طرح 2020 کی دنیا بھی ویسی نہیں ہے جیسی 2001 میں تھی۔ آج امریکہ کو ایران، چین، روس اور دیگر جگہوں سے اپنی قومی سلامتی کو ایسے مسائل درپیش ہیں جن کا چند برس پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس نئی حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں ہماری قربانیوں اور کامیابیوں کو بھی دیکھا اور اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا کہ ایک جامع، ہمہ گیر اور پائیدار امن خود افغان عوام ہی قائم کر سکتے ہیں۔

آج ہم حقیقت پسندی سے کام لے رہے ہیں۔ ہم ایک نسل کے عرصہ میں امن کے بہترین موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ موقع ہمارے سپاہیوں، سفارت کاروں، کاروباری لوگوں، امدادی کارکنوں، دوستوں اور خود افغانوں کی کڑی محنت سے ہاتھ آیا ہے۔

آج ہم ضبط سے کام لے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم افغانوں کو امن قائم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں تو پھر امریکہ کو سلطنتوں کے قبرستان میں ہمیشہ کے لیے نہیں لڑنا چاہیے۔

ہم نے احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ افغان عوام مستقبل  کے لیے اپنی راہ متعین کرنے کے لیے تیار ہیں۔

آج قریباً 19 سالہ جنگ میں ایک ہفتے پر مشتمل پہلے وقفے کے بعد میں فخریہ اعلان کرتا ہوں کہ امریکہ نے امن مذاکرات کے لیے اسلامیہ جمہوریہ افغانستان اور طالبان سے الگ الگ وعدے لیے ہیں۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ امریکہ۔طالبان معاہدے میں طالبان کی جانب سے یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ دہشت گرد دوبارہ کبھی افغان سرزمین استعمال نہیں کر سکتے۔ ہم کوئی غلطی نہیں کرتے۔ طالبان پر امریکی تاریخ کا باب بہت سے امریکیوں، نیٹو اتحادیوں، اتحادی شراکت داروں اور بہت سے افغانوں کے خون سے تحریر ہے۔

مجھے نائن الیون پر اتنا ہی غصہ ہے جتنا اس وقت تھا جب میں نے ٹی وی پر القاعدہ کو جڑواں عمارتیں گراتے دیکھا تھا۔ قندھار، ہلمند اور افغانستان بھر میں خدمات انجام دینے والے ہماری فوج کے بہادر ارکان، انٹیلی جنس کے لڑاکے اور عالمی معیار کے حامل سفارت کار براہ راست میری بات سمجھتے ہیں۔ وہ اچھی جانتے ہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔

ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کن لوگوں سے معاملہ کر رہے ہیں۔ اگر طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کرتے تو صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم وہ سب کچھ کرنے سے ہرگز  نہیں ہچکچائے گی جو ہمیں امریکی زندگیوں کے تحفظ کے لیے کرنا چاہیے۔

دوسری جانب، اگر طالبان اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے تو امریکہ ذمہ دارانہ انداز میں اور حالات کی بنیاد پر اپنے فوجی دستوں کو افغانستان سے نکال لے گا۔ انخلا کا مطلب یہ ہے کہ ہماری افواج کے مردوخواتین کو لاحق خطرات کم ہو جائیں گے، ہمارا مالی بوجھ بھی کم ہو جائے گا اور ہمارے بہادر فوجی اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے۔

یہ پُرامید لمحہ ہے مگر یہ محض آغاز ہے۔ سفارتی محاذ پر بہت سا کام ہونا باقی ہے۔

آخر میں مجھے ان لوگوں سے براہ راست بات کرنی ہے جنہوں نے افغانستان میں کام کیا۔

سب سے پہلے مجھے امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس کے لڑاکوں سے کہنا ہے کہ  میں جانتا ہوں آپ میں بعض لوگ اپنے گھروں سے بہت دور فرائض کی ادائیگی کے لیے پانچویں یا چھٹے دورے پر ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ اس سے بھی زیادہ ہو۔ اس بدطینت دشمن کو ایک کے بعد دوسری ہزیمت سے دوچار کرنے میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے آپ کے ساتھ موجودگی میرے لیے اعزاز تھا۔ آپ میں بہت سے لوگ اپنے ان بھائی بہنوں کی یاد میں سیاہ او رنقرئی کڑے پہنتے ہیں جنہوں نے اس لیے جان دے دی کہ آپ کے ہموطن امن و سلامتی سے زندگی بسر کر سکیں۔ آپ نے اور ان لوگوں نے اپنے خون پسینے اور آنسوؤں سے جو کچھ حاصل کیا ہم اسے ضائع نہیں کریں گے۔ آپ نے ہمارے اتحادیوں اور افغان شراکت داروں کے ساتھ امریکہ کو محفوظ بنایا ہے۔ آپ نے افغانستان کے عوام کو روشن مستقبل کے لیے یہ موقع مہیا کرنے میں مدد دی ہے۔

اس کے بعد اپنے ساتھ قربانیاں دینے والے نیٹو اتحادیوں اور دیگر اتحادی شراکت داروں سے مجھے یہ کہنا ہے کہ ہم اس نوزائیدہ امن کو برقرار رکھنے کے لیے درکار ہر طرح کی مدد کے لیے آپ کی جانب اور ان تمام ممالک سے رجوع کرتے رہیں گے جو ان معاہدوں کے حامی ہیں۔ خواہ یہ ناروے ہو یا آسٹریلیا یا جاپان یا ہمارے دیگر قابل قدر دوست اور شراکت دار ہوں، ہم جانتے ہیں کہ آپ ہماری محتاط امید میں ساجھے دار ہیں۔

افغانستان کے ہمسایوں بشمول پاکستان کو ہمیں یہ کہنا ہے کہ ہم ان تاریخی معاہدوں تک پہنچنے میں مدد دینے پر آپ کے مشکور ہیں اور اپنی یہ توقع واضح کرتے ہیں کہ آپ ایک پرُامن اور خوشحال افغانستان کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے تاکہ یہ ملک اور پورا خطہ پائیدار امن کے فوائد سمیٹ سکے۔

افغان عوام سے مجھے یہ کہنا ہے کہ یہ آپ کا لمحہ ہے۔ آپ کا ملک 1979 سے جنگوں کا شکار ہے۔ اب مزید غارتگری نہیں ہو گی۔ مزید ابتری نہیں ہو گی۔ ہم تمام نوجوانوں، بوڑھوں، مردوخواتین، ہر علاقے، ہر قبیلے، ہر نسل اور ہر مذہب کے لوگوں کی بات سنیں گے۔ یقیناً ایسے دھڑے سامنے آئیں گے جو ہمارے اچھے کام کو غارت کرنا چاہیں گے۔ ہمیں انہیں للکارنا اور ان کے نزاعی منصوبوں کو مسترد کرنا ہے۔

میں تمام فریقین سے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کروں گا کہ امن کی جستجو سے متعلق دانائی کی اس بات پر توجہ دیں جو انجیل میں مرکوز ہے: ”تم میں سے جسے زندگی پیاری ہے اور جو اچھے دنوں کی خواہش رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنی زبان کو برائی سے محفوظ رکھے اور اپنے ہونٹوں  کو جھوٹ سے دور رکھے، بدی سے منہ موڑ لے اور نیکی کو اپنائے، امن کی خواہش اور اس کی جستجو کرے۔”

آج ہم نے امن چاہا ہے۔ ہم اس کی جستجو جاری رکھیں گے۔ شکریہ، اب میں بخوشی چند سوالات لینا چاہوں گا۔

مس اورٹیگس: شکریہ، ہم اے ایف پی کے فرانسسکو فونٹیمیگی کے سوال سے آغاز کریں گے۔

سوال: شکریہ جناب وزیر خارجہ۔ مجھے یہ جاننا تھا کہ اگر طالبان معاہدے کی پابندی نہیں کرتے تو کون سی بات آپ کو انخلا سے روکے گی۔ کیا یہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے وعدے ہیں یا بین افغان بات چیت کے نتائج کہ انخلا کی مدت 14 ماہ رکھی گئی ہے؟ کیا طالبان کو اس وقت تک بین افغان معاہدہ مکمل کرنا ہو گا یا صرف مذاکرات میں پیش رفت ہی آپ کی جانب سے فوجیں نکالنے کے لیے کافی ہو گی؟

وزیر خارجہ پومپیو: آج ہم جہاں کھڑے ہیں وہاں تک پہنچنے میں کئی ماہ کی محنت صرف ہوئی ہے۔ اس معاملے میں باہم مربوط سمجھوتے اور عملدرآمدی معاہدے شامل ہیں جن میں تمام  معاملات  کی وضاحت موجود  ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ افغان حکومت، ہم خود اور طالبان سمیت تمام فریقین وعدوں اور ان کے ردعمل میں ہونے والے اقدامات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان اقدامات میں امریکی اور اتحادی فوجوں کے انخلا کی رفتار اور حجم ہی شامل نہیں ہے بلکہ دیگر امدادی عناصر بھی شامل ہیں جو امریکہ مہیا کرے گا۔ ہم نے افغان حکومت کے لیے سلامتی سے متعلق ضمانت کی فراہمی  جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم اس کے لیے ہمیں توقع ہے کہ طالبان اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔

تاہم کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ امریکہ اپنے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے سب کچھ کرے گا۔ جہاں تک طالبان کی جانب سے اپنے وعدوں کی پاسداری میں ناکامی کا معاملہ ہے تو صدر ٹرمپ اسی طرح قیام امن کے لیے پرعزم ہیں جس طرح وہ یہ امر یقینی بنانے میں پرعزم ہیں کہ امریکی عوام پر دوبارہ کبھی افغانستان سے حملہ نہ ہو۔

مس اورٹیگس: شکریہ۔ اب قطر ٹی وی سے عبداللہ المراقی سوال کریں گے۔

سوال: (بذریعہ ترجمان) میں جلدی سے ترجمہ کروں گا۔ آپ کیسے ۔۔۔

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ۔

سوال: (بذریعہ ترجمہ) عزت مآب، آپ خطے اور اس سے ہٹ کر متعدد امور پر امریکہ کے اتحادی کی حیثیت سے قطر کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپیو: ہمیں یہاں تک پہنچانے میں قطر نے بے حد اہم شراکت دار کا کردار ادا کیا ہے۔ اس راہ میں ہمیں جب  بھی مشکلات کا سامنا ہوا تو انہوں نے ہمارا راستہ صاف کیا۔ وہ بات چیت کے ایک ایسے اہم دور کی میزبانی پر رضامند ہوئے جس میں  ا معاہدوں تک پہنچنا ممکن ہوا جو آج آپ کے سامنے ہیں۔ ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور ان کے شکرگزار ہیں۔

مجھے اپنے قطری ہم منصب کے ہمراہ  امیر سے ملاقات کا موقع بھی ملا۔ اس موقع پر میں نے اس کام کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ امن کی راہ پر وہ آئندہ بھی ہماری مدد کرتے رہیں گے۔ یہاں تک پہنچنے میں وہ ہمارے بہت اہم شراکت دار رہے ہیں اور ہم ان پر بھروسہ کر رہے ہیں کہ وہ افغان عوام کے لیے امن کی خاطر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ 

مس اورٹیگس: شکریہ۔ سی بی ایس نیوز سے کرسٹینا روفینی۔

 سوال: شکریہ جناب وزیر خارجہ۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں وزیر دفاع ایسپر کابل میں صدر غنی کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کر رہے ہیں۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ انتخابات میں ان کی فتح کو تسلیم  کرتے ہیں کیونکہ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بات کہی گئی تھی۔ کیا آپ انہیں افغانستان کے مستقبل کے صدر کی حیثیت سے تسلیم کر رہے ہیں۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ: آپ نے آج معاہدے پر دستخط کی تقریب میں یہاں موجودگی کی ضرورت کیونکر محسوس کی اور یہاں آنے کے باوجود اس دستاویز پر خود دستخط کیوں نہیں کیے؟ شکریہ جناب۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی، اس دستاویز پر ان دو اشخاص نے دستخط کیے جنہوں نے اس کو عملی جامہ پہنانے میں تندہی سے کام کیا، جنہوں نے انتھک انداز میں کام کیا، جنہوں نے اپنے وقت اور کوشش کی بہت بڑی قربانی دی اور جنہوں نے ہمیں یہاں تک پہنچانے میں بھرپور توانائی صرف کی۔ مناسب یہی تھا کہ دونوں مذاکرات کار، سینئر مذاکرات کار ہی اس دستاویز پر دستخط کریں جو انہوں نے افغان عوام کے فائدے کے لیے تیار کی ہے۔

میں اس لیے یہاں موجود رہنا چاہتا تھا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے۔ میں سپاہی کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہوں۔ میں اپنے بہت سے نوجوان مردوخواتین کی جانب سے افغانستان میں دی گئی قربانیوں سے واقف ہوں اور میں نے انہیں لاحق خطرات میں کمی لانے کا تہیہ کر رکھا ہے، تاکہ افغانستان میں چوتھی اور پانچویں مرتبہ خدمات انجام دینے والوں کی تعداد کم سے کم ہو۔ میں نے یہ امر یقینی بنانے کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ والٹر ریڈ میں کم از کم فوجی ہوں اور امریکی افواج کے نقصان میں زیادہ سے زیادہ کمی لائی جائے۔

میں یہ امر یقینی بنانے کے لیے بھی اتنا ہی پرعزم ہوں کہ افغانستان سے دوبارہ کبھی دہشت گرد حملہ نہ ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمارے پاس ایک موقع ہے اور میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ امن کی جانب لے جانے والی مشکل سفارتی کوششوں کے آغاز پر دفتر خارجہ کو درست سمت پر ڈالنے میں اپنی ہرممکن کوشش کروں۔

میں نے ایک لحظہ ان تبدیلیوں پر گفتگو کی تھی جو افغانستان میں ہماری موجودگی کے دوران واقع ہوئیں۔ جب امریکہ نائن الیون کا بدلہ لینے کے لیے افغانستان میں آیا تو اس وقت یہ ملک اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ اب ہے۔ یہ بے حد مختلف ملک ہے۔ ہم نے یہاں بہت سا کام کیا ہے۔ امریکی عوام نے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہم نے اپنے سپاہیوں کی جانی قربانی ہی نہیں دی بلکہ وسائل، وقت، انٹیلی جنس ٹیموں اور سفارت کاروں کے کام کی شکل میں بھی قربانیاں دی گئی ہیں۔ میں اس تمام کام کی ستائش کے لیے یہاں آنا چاہتا تھا جو ہم نے ان دہائیوں میں کیا اور پھر میرا مقصد یہ بات یقینی بنانا تھا کہ سبھی جان لیں کہ یہ بات کہنا کس قدر اہم ہے کہ امریکہ اس عمل کو آگے بڑھانے کی خاطر افغانوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔ 

آپ کا پہلا سوال افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق ہے۔ ہم چاہیں گے کہ ہر افغانی اس عمل میں حصہ لے۔ میں نے اپنی تقریر میں اس پر بات کی تھی۔ وہ تمام اس پر کاربند رہیں گے۔ وہ تمام یہ بات سمجھتے ہیں کہ اس سے بہت بڑا فائدہ ہو گا۔ وہ افغان عوام کی بہتری کے لیے ایسا کریں گے۔

افغان عوام امن چاہتے ہیں۔ آپ یہ دیکھ سکتے ہیں۔ کرسٹینا، اگر آپ نے اس ہفتے تصویروں میں دیکھا ہو تو افغان عوام کو سڑکوں پر چلتے پھرتے، رقص کرتے اور امن کی خوشی مناتے دیکھنا نہایت شاندار تھا۔ پہلے وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔

افغان عوام ہر اس موقع کے متلاشی ہیں جو ہم اب انہیں دے رہے ہیں  اور ہر افغان رہنما کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانکنے اور افغانستان کے لیے امن ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔ اب وقت ہے۔ موقع ہمارے سامنے ہے۔

اب طالبان نے ہم سے وعدے کیے ہیں کہ وہ القاعدہ سے ناطہ توڑ لیں گے۔ یہ تاریخی موقع ہے۔ انہیں اپنے وعدے پورے کرنا چاہئیں۔ انہوں نے وعدے کیے ہیں کہ وہ تشدد میں کمی لانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہیں اپنے وعدے پورے کرنا ہیں۔

جب وہ ایسا کریں گے تو انہیں اپنے لیے موقع دکھائی دے گا کہ عالمی برادری افغانستان کو ایک پُرامن جگہ دیکھنا چاہتی ہے اور افغان عوام آج تخلیق پانے والے موقع کے بھرپور حقدار ہیں۔ میں یہی  بات کہنے کے لیے یہاں آنا چاہتا تھا۔

آج میرے ساتھ یہاں موجودگی پر آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں