rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا افغان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب سے

العربية العربية, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
خطاب
شیرٹن ہوٹل
دوحہ، قطر
29 فروری 2020

وزیر خارجہ پومپیو: سہ پہر بخیر۔ میں ان تاریخی مذاکرات کے میزبان کی حیثیت سے قطر کے بیش بہا کردار پر فضلیت مآب شیخ تمیم کے شکریے سے اپنی بات کا آغاز کرنا چاہوں گا۔ ان کی اور جناب وزیر خارجہ آپ کی فیاضانہ مدد کی بدولت دونوں فریقین کو معاونت ملی اور وہ اس یادگار دن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

امریکہ اور طالبان نے کئی دہائیوں تک باہم دشمنی اور بداعتمادی جھیلی ہے۔ اس سے پہلے امن کے لیے ہونے والی بات چیت کامیاب نہیں ہو پائی تھی۔ حالیہ کوشش امریکہ کے لیے صرف اس لیے معتبر تھی کہ طالبان نے قیام  امن اور القاعدہ و دیگر غیرملکی دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے میں دلچسپی کا اشارہ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بات بھی تسلیم کی کہ میدان جنگ میں فتح ناممکن ہے۔ تب میں نے سفیر خلیل زاد سے کہا کہ وہ ہماری جانب سے ان مذاکرات کی رہنمائی کرتے ہوئے طالبان کے اخلاص کا اندازہ لگائیں۔

آج ہم جس معاہدے پر دستخط کریں گے وہ اس  کوشش کا حقیقی امتحان ہو گا۔ ہم طالبان کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر گہری نظر رکھیں گے اور ان کے اقدامات کی مطابقت  سے اپنے انخلا کی رفتار متعین کریں گے۔ اس طرح ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ افغانستان دوبارہ کبھی عالمی دہشت گردوں کا ٹھکانہ نہ بن سکے۔

دوحہ میں ہونے والے مذاکراتی عمل نے اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود  یہ ثابت کیا ہے کہ ہم اس قدم کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔ گزشتہ سات دن میں افغانستان میں تشدد گزشتہ چارسال  میں  کم ترین درجے پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی اور افغان فورسز نے بھی دشمن کے محدود حملوں کا جواب امن کا پاس کرتے ہوئے دیا۔ اسے بہت اچھی صورتحال نہیں کہا جا سکتا مگر ایک ہفتے کے لیے ہی سہی، طالبان نے یہ ثابت کیا کہ جب وہ پُرامن رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔

اس کامیابی پر افغان عوام نے خوشی منائی ہے۔ وہ اپنے اہلخانہ اور دوستوں سے ملنے کے لیے ملک بھر میں آزادانہ طور سے آ جا رہے ہیں،  وہ خریدوفروخت کر رہے ہیں،  حتیٰ کہ وہ سڑکوں پر رقص کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی یہ ابتدا ہے۔ امن کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ کام کرنا ہو گا اور قربانیاں دینا ہوں گی۔ ان میں امریکہ، اتحاد، طالبان، افغان حکومت، دیگر افغان رہنما اور خود افغان عوام شامل ہیں۔ انہیں جامع، ہمہ گیر، اور پائیدار امن کے لیے درکار کام کی رفتار برقرار رکھنا ہو گی۔

اگر ہم نے اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو پھر یہ معاہدہ بے معنی  ہو گا اور آج کے اچھے محسوسات باقی نہیں رہیں گے۔ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے۔ امریکہ۔طالبان معاہدے نے اس کے لیے محض حالات پیدا کیے ہیں۔

اس معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے طالبان کو درج ذیل قدم اٹھانا ہوں گے۔

پہلی بات یہ کہ القاعدہ اور دیگر دہشت گردوں سے تعلقات ختم کرنے کے اپنے وعدے پورے کریں۔ داعش کو شکست دینے کی جنگ جاری رکھی جائے۔ گزشتہ ہفتے تشدد میں بڑے پیمانے پر کمی کے نتیجے میں مردوخواتین اور شہری دیہاتی سمیت تمام افغان شہریوں کی زندگیوں میں آنے والے سکون کا خیرمقدم کریں اور اپنی کوششیں تشدد میں مزید کمی لانے کے لیے وقف کریں۔ یہ تشدد میں  نمایاں کمی  ہی ہے جس کی بدولت امن کے لیے حالات سازگار ہوں گے جبکہ  اس کی غیرموجودگی ناکامی کا باعث بنے گی۔

افغان حکومت، دیگر افغان سیاسی رہنماؤں، اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل بیٹھیں اور اپنے ملک کے لیے ایک سیاسی منصوبے پر بات چیت شروع کریں۔ مایوسی کے عالم میں بھی تحمل سے کام لیں۔ اپنے ملک کے بھرپور تنوع کی قدر کریں اور تمام تصورات کو جگہ دیں۔ ماضی کی افغان حکومتیں اس لیے ناکام رہیں کہ وہ خاطرخواہ طور سے سبھی کو ساتھ لے کر نہیں چل پائی تھیں۔ 2020 کی افغان حکومت اور درحقیقت 2020 کا افغانستان 2001 سے مختلف ہے۔ عورتوں اور لڑکیوں کی تاریخی ترقی کو قبول کریں اور تمام افغانوں کے فائدے کے لیے اسے مزید آگے بڑھائیں۔ افغانستان کا مستقبل ہر فرد کو خدا کی عطا کردہ صلاحیت پر استوار ہونا ہے۔

اگر آپ یہ اقدامات اٹھاتے ہیں، اگر آپ اسی راہ پر چلتے ہیں اور افغان حکومت و دیگر افغان شراکت داروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر قائم رہتے ہیں تو ہم اور آج یہاں موجود بقیہ عالمی برادری بھی آپ کو اس کا صلہ دینے کو تیار ہے۔

میں جانتا ہوں کہ فتح کی ترغیب بھی جنم لے گی۔ مگر افغانوں کے لیے فتح صرف اسی صورت حاصل ہو سکتی ہے جب وہ امن اور خوشحالی میں زندگی بسر کر سکیں گے۔ امریکہ کو اسی صورت فتح حاصل ہو گی جب امریکیوں اور ہمارے اتحادیوں کو افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ نہیں رہے گا اور ہم اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے سب کچھ کریں گے۔ امریکہ تمام فریقین پر زور دے گا کہ وہ پُرامن، خوشحال اور خودمختار افغانستان کے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں۔ یہ افغانستان ضرررساں غیرملکی مداخلت سے پاک ہو گا اور یہاں تمام آوازوں اور تمام برادریوں  کو سنا جائے گااور انہیں نمائندگی ملے گی۔ صرف اسی صورت پائیدار امن کا حصول ممکن ہے۔ یہاں موجود ہم سب لوگوں اور سب سے بڑھ کر امریکیوں اور افغان عوام کی سلامتی کے لیے یہی کچھ  ہونا چاہیے۔ شکریہ۔ (تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں