rss

امریکہ کا شام میں بحران سے نمٹنے کے لیے نئی امداد کا اعلان

English English, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, العربية العربية, Français Français

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان
3 مارچ 2020

 

  ترکی میں اقوام متحدہ کے لیے امریکی نمائندہ کیلی کرافٹ نے شام کے عوام کی مدد کے لیے 108 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا جس کا مقصد اسد حکومت، روسی اور ایرانی فورسز کی جانب سے پیدا کردہ بحران سے نمٹنا ہے۔ اس میں دفتر خارجہ کے بیورو برائے آبادی، مہاجرین و مہاجرت کی جانب سے قریباً 56 ملین ڈالر اور امریکہ ادارہ برائے عالمی ترقی (یوایس ایڈ) کی جانب سے 52 ملین ڈالر سے زیادہ رقم شامل ہے۔ اس سے امریکہ کی جانب سے شام کے لیے امداد کا حجم 10.6 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گیا ہے جو شامی بحران کے آغاز سے دی جا رہی ہے۔ امریکہ بدستور شام سمیت دنیا بھر میں انسانی بحرانوں میں امداد دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ امداد انسانی مصائب میں کمی لانے کو ترجیح بنانے کے لیے ہماری قومی سلامتی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ہم ان تمام عطیہ دہندگان کی کوششوں کو سراہتے ہیں جو لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئے اور ہم راویتی اور نئے عطیہ دہندگان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی ضروریات سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں۔

یکم دسمبر 2019 سے اب تک اسد حکومت، روسی اور ایرانی فورسز کے حملوں کے باعث  شمال مغربی  شام میں قریباً 950,000 افراد جان بچانے کے لیے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ ان میں 80 فیصد سے زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ یہ شامی بحران کے آغاز سے اب تک جبری طور پر بے گھر ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ آج کا اعلان لاکھوں شامی ضرورت مندوں کو تحفظ زندگی کے لیے خوراک، پناہ، سردیوں کے کپڑے اور دیگر اشیا ، طبی سازوسامان اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ہماری کوششوں کا حصہ ہے۔ امداد وصول کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو شمال مشرقی شام میں تباہ کن جنگ سے جان بچا کر نکل رہے ہیں۔ تحفظ زندگی کی یہ امداد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر)، عالمی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم)، امدادی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (یواین او سی ایچ اے)، عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی)، غیرسرکاری تنظیموں اور دیگر اداروں کے ذریعے مہیا کی جائے گی۔

عالمی برادری امداد پہنچانے کے لیے سرحد پار اور فریقین کے زیرقبضہ علاقوں کے آر پار رسائی پر انحصار کرتی ہے جبکہ شامی عوام اپنی بقا کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتیخش کی جانب سے شام اور ترکی کے مابین تل ابیض نامی مقام پر اضافی سرحدی راستہ کھولنے کی سفارش کی بھرپور حمایت کرتا ہے تاکہ ضرورت مندوں کو امداد اور ادویات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2504 کے ذریعے شام میں خطرات کی زد میں آنے والے علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے عالمی برادری کی اہلیت میں رکاوٹ ڈالنے کی مذموم کوشش کی۔ اس قرارداد کے ذریعے شام میں امداد پہنچانے کے راستوں کی تعداد چار سے کم کر کے دو کر دی گئی ہے اور شمال مغربی  شام میں 40 فیصد طبی امداد کی فراہمی رک گئی ہے۔ اس طرح انسانی ضروریات کی تکمیل میں بہت بڑا خلا مزید وسیع ہو گیا ہے۔ امریکہ عراق سے یاروبیہ نامی متبادل سرحدی راستے کے ذریعے امداد پہنچانے کے لیے سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کرنے پر بھی سیکرٹری جنرل گوتیخش کی بھرپور ستائش کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں شمال مشرقی شام میں طبی امداد پہنچانے  کے لیے  یاروبیہ کی اہمیت اور اسے متبادل راستے کے طور پر دوبارہ کھولنے کی ضرورت واضح کر دی گئی ہے۔

ہم فوری جنگ بندی اور شمال مغربی شام میں اسد حکومت، روسی اور ایرانی فورسز کی جانب سے وحشیانہ جنگ روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔ سکولوں، طبی مراکز اور بے گھر لوگوں کی آبادیوں پر حملے بھی بند ہونے چاہئیں۔ امریکہ تمام بے گھر لوگوں کے لیے نقل و حرکت کی آزادی اور مہاجرین و اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی جبر سے پاک ماحول میں باوقار واپسی  کے لیے اپنی حمایت کی ازسرنو توثیق کرتا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی مطابقت سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام اس مسئلے کے قابل اعتماد اور جامع حل کے لیے اپنے عزم کی توثیق نو کرتے ہیں۔

اس حوالے سے میڈیا کے سوالات ہمارے بیورو برائے آبادی، مہاجرین، اور مہاجرت [email protected] یا یو ایس ایڈ [email protected] کو بھیجے جا سکتے ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں