rss

آئی اے ای اے کی ایران میں جوہری خدشات کی اطلاعات

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

 

3 مارچ کو ویانا میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے دو نئی رپورٹس جاری کیں جن سے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری مواد اور سرگرمیوں کو چھپانے سے متعلق پہلے سے موجود سنگین خدشات کو مزید تقویت ملتی ہے۔

ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں فریق ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کے جوہری حفاظت سے متعلق سمجھوتے اس سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ جوہری مواد آئی اے ای اے کو دکھائے گا اور ادارے کے معائنہ کاروں کو جوہری مواد اور سرگرمیوں کی تصدیق کے لیے رسائی دے گا۔ ایسے جوہری مواد کو سامنے لانے میں ایران کی دانستہ ناکامی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں اس کے حفاظتی سمجھوتوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ ایرانی حکومت آئی اے ای اے سے فوری تعاون کرے اور اپنی جوہری حفاظتی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرے۔ بصورت دیگر این پی ٹی کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہے گی۔

آئی اے ای اے کی تازہ ترین رپورٹس مزید پریشان کن ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے اپنے سابقہ  پروگرام کے بارے میں مسلسل جھوٹ بولتا چلا آیا ہے اور جب اس نے جوہری معاہدہ کیا تو اپنی جوہری سرگرمیوں سے متعلق بہت بڑا ریکارڈ چھپایا تھا، مسافر بردار طیارہ  گرانے اور اپنے ہاں کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کی اطلاعات دبانے کی بات تو الگ رہی۔ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے سابقہ پروگرام اور اس کے شرمناک دوغلے پن کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ایران میں کسی بھی طرح کے غیراعلانیہ جوہری مواد کی موجودگی ایک انتہائی سنگین معاملہ ہو گا۔

امریکہ  ایران کی جوہری ہتھیاروں تک رسائی کی ہر راہ روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے سابقہ پروگرام کو دیکھتے ہوئے یہ لازم ہے کہ وہ قابل تصدیق طور سے واضح کرے کہ اس نے ایسی تمام جوہری سرگرمیوں کو مستقل طور سے ترک کر دیا ہے۔ ایران میں جوہری خدشات سے نمٹنے کے لیے ایک نئے معاہدے کو مضبوط اور موثر تصدیق پر استوار ہونا چاہیے۔

عالمی برادری یک زبان ہو کر واضح طور پر کہے کہ: آئی اے ای اے سے مکمل اور شفاف تعاون اور این پی ٹی پر عملدرآمد  ہی ایران کے لیے واحد راستہ ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں