rss

امریکہ کا بے گھر روہنگیا اور بنگلہ دیش و برما میں دیگر متاثرہ گروہوں کے ارکان کے لیے نئی امداد کا اعلان

العربية العربية, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
امریکہ کا بے گھر روہنگیا اور بنگلہ دیش و برما میں دیگر متاثرہ گروہوں کے ارکان کے لیے نئی امداد کا اعلان
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان
5 مارچ 2020

 

3 مارچ کو امریکہ نے روہنگیا مہاجرین، بنگلہ دیش میں ان کی میزبانی کرنے والے لوگوں، برما میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے روہنگیا اور دیگر متاثرہ گروہوں کے لیے 59 ملین ڈالر سے زیادہ اضافی امداد کا اعلان کیا۔ اس رقم سے بنگلہ دیش میں 900,000 سے زیادہ مہاجرین کی ہنگامی ضروریات سے نمٹنے میں مدد ملے گی جن میں بڑی تعداد برما کی ریاست راخائن سے تعلق رکھنے والی روہنگیا عورتوں اور بچوں کی ہے جبکہ اس سے بنگلہ دیش میں انہیں پناہ دینے والوں کی ضروریات بھی پوری ہوں گی۔ اس رقم سے اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کو تحفظ زندگی میں مدد بھی ملے گی جن میں روہنگیا اور برما میں دیگر متاثرہ گروہ بشمول برمی فوج اور اراکان آرمی کے مابین لڑائی سے متاثرہ لوگ بھی شامل ہیں۔

امریکہ برما اور بنگلہ دیش میں بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سب سے زیادہ مدد دینے والا ملک ہے۔ اس نئی مالی امداد کے ساتھ اگست 2017 میں تشدد پھوٹنے کے بعد اب تک اس بحران میں ہماری مجموعی امداد کا حجم قریباً 820 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس رقم میں قریباً 693 ملین ڈالر بنگلہ دیش میں جاری امدادی پروگراموں کے لیے ہیں۔ اس بحران کے حوالے سے بہت بڑی مالی ضروریات کے ہوتے ہوئے ہم حالیہ مہینوں میں بعض رکن ممالک کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ ڈالنے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں مزید کردار ادا کریں اور دیگر ممالک اور متعلقہ فریقین کو بھی ایسا کرنے کو کہیں۔

اس بحران کے لیے مجموعی امریکی معاونت کے ذریعے  تمام امدادی شعبہ جات میں مدد مہیا کی جا  رہی ہے جن میں مقامی لوگوں سے بات چیت، روابط، ہنگامی ٹیلی مواصلات، تحفظ خوراک، صحت، انتظام و انصرام، غذائیت، تحفظ (بشمول صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنا اور تحفظ اطفال)، پناہ اور غیرغذائی اشیا، جگہ کی دیکھ بھال و ترقی ، پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی شامل ہیں۔ امریکہ اقوام  متحدہ کے اداروں اور ان کے شراکت داروں کی جانب سے ایک ابتدائی پروگرام میں بھی حصہ ڈال رہا ہے جس کے ذریعے 10 ہزار روہنگیا بچوں کو برمی نصاب کے تحت تعلیم دی جائے گی۔ اس مالی معاونت میں آفات سے بچاؤ کی تیاری میں بہتری لانا اور بنگلہ دیش میں روہنگیا باشندوں کو تعلیم تک رسائی میں مدد دینا بھی شامل ہیں۔ یہ برما میں  حالات سازگار ہونے پر روہنگیا باشندوں کی رضاکارانہ، محفوظ، باوقار اور پائیدار واپسی کے لیے بے حد اہم ہو گا۔

امریکہ اس انسانی بحران سے نمٹنے میں بنگلہ دیشی حکومت کی فیاضی کو سراہتا ہے اور متاثرہ لوگوں کی امداد تک رسائی یقینی بنانے کی کوششوں پر اس کا معترف ہے۔ امریکی حکومت یہ امر یقینی بنانے کا پورا تہیہ کیے ہوئے ہے کہ امداد اور ترقی کے لیے معاونت کاکس بازار کے لوگوں تک بھی پہنچے جو فیاضانہ طور سے روہنگیا مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ 2020 جے آر پی میں ان کے مسائل پر مزید واضح حکمت عملی اختیار کی گئی ہے جس میں یوخیا اور تیکنف اضلاع کے لوگوں کی بہبود کو فروغ دینے کےلیے مخصوص تزویراتی ہدف بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے تحت امدادی شراکت دار پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے پائیدار انتظام کو ترقی دینے میں مدد فراہم کریں گے، بنیادی اور ثانوی نوعیت کے طبی مراکز پر معقول وسائل صرف کریں گے، بنیادی اور ثانوی طبی مراکز میں معقول حد تک وسائل کا استعمال جاری رکھیں گے، بنگلہ دیشی لوگوں کو مستحکم روزگار کے حصول میں مدد دیں گے، سکولوں کو بحال کریں گے، تعلیمی ضرورت کا سامان مہیا کریں گے، اساتذہ کی پیشہ وارانہ ترقی میں مدد دیں گے اور ماحول و ماحولی نظام کی بحالی کو ترجیح بنائیں گے۔

ہم برما پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن کی بدولت جبری بے گھر ہونے والوں کی باخبر رضامندی کی بنیاد پر ان کی رضاکارانہ، محفوظ، باوقار اور پائیدار واپسی ممکن ہو سکے۔ ہم برما کی حکومت سے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ تمام ضرورت مند لوگوں کی امداد تک بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں