rss

جرائم کی عالمی عدالت کا افغانستان سے متعلق فیصلہ

हिन्दी हिन्दी, English English, Português Português, Español Español, Français Français, العربية العربية, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجراء
5 مارچ 2020
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

 

  جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی) کے اپیلز چیمبر نے افغانستان میں طالبان، امریکی اور افغان اہلکاروں کی مبینہ سرگرمیوں کی تحقیقات کی اجازت  دی۔ یہ قانونی ادارے کا روپ دھارے ایک غیرجواب دہ سیاسی ادارے کا واقعتاً حیرت انگیز اقدام ہے۔

یہ اقدام اس لیے اور بھی غیرمحتاط ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے  ایک تاریخی امن معاہدے سے چند ہی دن بعد آیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک نسل کے عرصہ میں امن کا بہترین موقع ہے۔ درحقیقت افغان حکومت نے خود آئی سی سی سے درخواست کی تھی کہ وہ اس راہ پر نہ چلے ۔ تاہم آئی سی سی کے سیاست کاروں کے مقاصد کچھ اور تھے۔

امریکہ آئی سی سی کا فریق نہیں ہے اور ہم  اپنے شہریوں کو اس بدعہد نام نہاد عدالت سے تحفظ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔

اس سے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب کثیرفریقی اداروں میں نگرانی اور ذمہ دار قیادت کا فقدان ہوتا ہے اور الٹا جب یہ سیاسی انتقام کا ذریعہ بن جاتے ہیں تو کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ آج آئی سی سی نے گزشتہ تین دہائیوں میں اپنے کڑے ترین نقادوں کے تمام الزامات کی افسوسناک طور سے تصدیق کر دی ہے۔ 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں