rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی صحافیوں سے گفتگو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
17 مارچ 2020

 

 

پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو سہ پہر بخیر۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ ووہان وائرس کا مقابلہ کرنے اور امریکی عوام کو تحفظ دینے کے لیے بے پایاں توانائی صرف کر رہی ہے۔ یہاں دفتر خارجہ میں ہم اس اہم کام میں پوری طرح مشغول ہیں۔ میں اس بارے میں کچھ بات کروں گا اور پھر آپ کے چند سوالات کے جواب بھی دوں گا کہ دفتر خارجہ  میں ہم کیا کر رہے ہیں۔

ہمارے اقدامات آپ کے سامنے ہیں تاہم اس کے باوجود میں آج یہاں آ کر بتانا چاہتا تھا کہ اس عالمگیر وبا کو روکنے کے حوالے سے وسیع تر معاملات میں دفتر خارجہ بدستور پوری طرح اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ کوئی ملک زندگی اور آزادی کے تحفظ اور خوشی کی جستجو کے لیے امریکہ سے زیادہ کام نہیں کرتا اور ہم پوری دنیا میں یہ کام کر رہے ہیں۔ یہ کام جاری ہے۔ آج میں آپ کو یہی بتانا چاہتا تھا۔

آئیے دہشت گردی سے بات شروع کرتے ہیں جو ہمارے اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ آج دفتر خارجہ امیر محمد سید عبدالرحمان المولیٰ کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دینے کے ارادے کا اعلان کر رہا ہے۔ قبل ازیں وہ ”القاعدہ عراق” میں متحرک تھا اور معصوم یزیدی مذہبی اقلیتوں پر تشدد کے لیے بدنام ہے۔ گزشتہ برس جب ہم نے ابوبکر البغدادی کو ہلاک کیا تو اسے آئی ایس آئی ایس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ ہم نے آئی ایس آئی ایس کی خلافت کا خاتمہ کر دیا ہے اور ہم اس کی پائیدار شکست کے لیے بدستور پرعزم ہیں خواہ وہ کسی بھی شخص کو اپنا رہنما نامزد کریں۔

دفتر خارجہ نامزدگیوں اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمی کو روکنے کی کوشش میں اپنا قائدانہ کردار جاری رکھتے ہوئے آج جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ اور چین سے تعلق رکھنے والے نو اداروں پر بھی پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو بھی پابندیوں کے لیے نامزد کیا جا ر ہا ہے۔ یہ تمام ادارے اور افراد دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کے سب سے بڑے سرپرست  ایران سے جانتے بوجھتے پیٹروکیمیکل اشیا کی خریداری، حصول، فروخت، نقل و حمل یا مارکیٹنگ کی غرض سے نمایاں لین دین میں ملوث تھے۔

اس اقدام میں ایرانی مسلح افواج کے لیے سوشل سکیورٹی کے حوالے سے سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی اور اس کے ڈائریکٹر کی نامزدگی  بھی شامل ہے جو ان کی جانب سے وسائل کو پابندی کے لیے نامزد اداروں میں خرچ کرنے پر عائد کی گئی ہے۔

آج میں یہ بات بھی بتانا چاہوں گا کہ ایرانی حکومت کے جوہری سرگرمیوں میں ناقابل قبول اضافے کے جواب میں محکمہ تجارت پانچ ایرانی جوہری سائنس دانوں کو بھی پابندی کی فہرست میں شامل کر رہا ہے۔

یہ پانچ افراد 2004 سے پہلے ایران کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام میں شامل تھے جسے عماد پروگرام بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ بدستور ایرانی حکومت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ عماد پروگرام پر کام روکے جانے کے بعد ایران نے اس دور کے ریکارڈ اور جوہری ہتھیار بنانے والے سائنسدانوں بشمول ان تینوں کو برقرار رکھا۔

ماضی میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق بہت سی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات کے جوابات بدستور باقی ہیں۔ محکمہ تجارت کی جانب سے آج پابندیوں کے لیے نامزد افراد کی یہ نئی فہرست اس معاملے میں مکمل اور دیانتدارانہ احتساب کے مطالبے اور ایران سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے اس کی ماضی کی سرگرمیوں بارے جوابدہی کی اہمیت کی ازسرنو توثیق کرتی ہے۔

میں ایرانی حکومت کی جانب سے ووہان وائرس کی ابتدا کے بارے میں غلط اطلاعات پھیلانے کی مہم کی جانب توجہ بھی دلانا چاہتا ہوں۔ ایرانی عوام کی ضروریات پر توجہ دینے اور مدد کی حقیقی پیشکش قبول کرنے کے بجائے ایرانی رہنماؤں نے کئی ہفتوں تک ووہان وائرس کی وبا پھوٹنے کے حوالے سے جھوٹ بولا۔

ایران کی قیادت اپنی انتہائی نااہل اور مہلک حکمرانی کی ذمہ داری لینے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ افسوناک طور سے ایران کے عوام 41 برس سے ایسے جھوٹ سنتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ووہان وائرس ایک قاتل ہے اور ایران کی حکومت شریک جرم ہے۔

ہم مدد دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم کئی انداز میں ایران کو مدد کی پیشکش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

اگرچہ ہم یہ امر یقینی بنا رہے ہیں کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کے ذریعے دہشت گردوں کی رقم تک رسائی روکی جائے، تاہم اس کے باوجود ہمارے پاس قانونی لین دین میں سہولت دینے کے لیے ایک کھلا امدادی ذریعہ موجود ہے۔

ہم جوہری نگرانی کے ادارے ”آئی اے ای اے”، اس کے معائنہ کاروں کی معاونت کر رہے ہیں جو یہ بات یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی تعمیل کرتا رہے۔

ہم نے آئی اے ای اے کے ذریعے دس لاکھ ڈالر مختص کیے ہیں تاکہ رکن ممالک کو کرونا وائرس کی جانچ کے سامان اور تربیت کے ساتھ مطلوبہ مدد فراہم کی جا سکے۔

امریکہ ایران سے یہ مطالبہ  بھی کر رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں ناجائز طور سے قید تمام امریکیوں کو فوری رہا کر دے۔ ہم ایران کی حکومت کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا اور ایران کے عوام کی مدد کرنا جاری رکھیں گے۔

شام کے معاملے میں، شام کے عوام کی مدد کے لیے ہم نے یہ کوششیں کی ہیں:

آج صبح امریکہ نے اسد حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل علی عبداللہ ایوب کو شام میں قتل و غارت کا ارتکاب کرنے اور تباہ کن انسانی بحران پیدا کرنے پر پابندی کے لیے نامزد کیا۔ دسمبر 2019 سے اب تک اس کے دانستہ اقدمات نے شام میں جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں ادلب میں قریباً دس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے جنہیں شدید سردی میں امداد کی اشد ضرورت ہے۔

روسی اور ایرانی فورسز کی پشت پناہی میں اسد حکومت کی افواج مسلسل بمباری کی ذمہ دار ہیں جس کے نتیجے میں سکول اور ہسپتال تباہ ہو گئے اور عام شہری ہلاک ہوئے۔ ان میں طبی ماہرین اور اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر سب سے پہلے لوگوں کی مدد کے لیے پہنچنے والے بھی شامل ہیں۔

ہم شام میں قتل و غارت فوری طور پر روکنے اور اس تنازع کے سیاسی حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں ہم سمجھتے ہیں کہ روس نے اپنی فوجی کارروائیوں میں ترک فوج کے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔ ہم اپنے نیٹو اتحادی ترکی کے ساتھ ہیں اور اس کی مدد نیز ادلب اور شام میں غارتگری ختم کرنے کے لیے اضافی اقدامات پر غور جاری رکھیں گے۔

اب میں آئی سی سی کے بارے میں بات کروں گا۔ یہ نام نہاد عدالت خود کو واضح طور پر ایک سیاسی ادارے کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔

جیسا کہ میں نے اس سے پہلے آپ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ہم آئی سی سی کی جانب سے کسی امریکی  اہلکار پر  اپنا اختیار استعمال کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کریں گے۔ ہم امریکیوں کے خلاف تفتیش یا قانونی کارروائی کے  لیے اس کی نامناسب اور ناجائز کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ جب ہمارے اہلکار وں پر  کسی جرم کا الزام لگتا ہے تو وہ اپنے ملک میں ہی انصاف کا سامنا کرتے ہیں۔

حال ہی میں میرے علم میں لایا گیا ہے کہ عدالتی وکیل کے معتمد خصوصی سیم شومانیش اور اختیار، تکمیلی رابطے اور تعاون سے متعلق عدالتی شعبے کے سربراہ پاکیسو موچوچوکو آئی سی سی کے پراسیکیوٹر فاطو بینسودا کو اس عدالت کے ذریعے امریکیوں کی تفتیش کی کوشش میں مدد دے رہے ہیں۔ میں ان اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہوں اور اس بات پر غور کر رہا ہوں کہ ان افراد اور امریکیوں کو خطرے میں ڈالنے والے دیگر تمام لوگوں کے حوالے سے ہمارے آئندہ اقدامات کیا ہونے چاہئیں۔

ہم اس جانبدارانہ تفتیش کے ایسے ذمہ داروں اور ان کے اہلخانہ کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جو ممکنہ طور پر امریکہ کا سفر کرنا یا کسی ایسی سرگرمی میں حصہ لینا چاہتے ہیں جو ہماری جانب سے امریکیوں کا تحفظ یقینی بنانے سے عدم مطابقت رکھتی ہو۔

یہ عدالت، آئی سی سی ایک بیہودگی ہے۔ ہم اس کی قانونی پامالیوں کو سامنے لا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی قیادت کی ایک حقیقی مثال ہے کہ کثیرملکی ادارے وہی کام کریں جن کے لیے انہیں تخلیق کیا گیا ہے۔

اب میں جلدی سے جنوبی امریکہ کے حوالے سے ایک بات کرنے کے بعد آپ سے چند سوالات لوں گا۔

امریکہ گیانا میں ووٹوں کی گنتی کا بغور جائزہ لے رہا ہے جہاں 2 مارچ کو انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ ہم درست گنتی کے مطالبے میں او اے ایس، کامن ویلتھ، یورپی یونین، کیریکوم اور دوسرے جمہوری شراکت داروں کے ساتھ ہیں۔ ہم مسئلے کا فوری اور جمہوری حل ڈھونڈنے کے لیے کیریکوم کے کردار کی ستائش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ انتخابی دھوکہ دہی اور غیرقانونی حکومتوں سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مندوں کو امریکہ کی جانب سے بہت سے سنگین نتائج کا سامنا ہو گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں