rss

افغانستان میں سیاسی تعطل پر وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

العربية العربية, English English, Русский Русский, Français Français

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
23 مارچ 2020

 

امریکہ کو اسلامی جمہوریہ افغانستان اور افغان عوام کے ساتھ  اپنی شراکت پر فخر ہے اور وہ 2001 سے اب تک افغانستان کو حاصل ہونے والی  کامیابیوں کا معترف ہے۔ ہم نے 2001 سے عالمگیر امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے جواب میں مشترکہ قربانیوں کے ذریعے باہم گہرا رشتہ قائم کیا ہے جس میں افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہمارے تعلقات خاص طور پر اہم ہیں۔ چالیس سالہ تباہ کن جنگ کے سیاسی تصفیے میں مدد سے متعلق امریکہ کی قومی ترجیح کو واضح کرتے ہوئے وزیر خارجہ پومپیو آج ایک فوری پیغام لے کر کابل آئے۔ انہوں نے افغان عوام کی خاطر سمجھوتے کی ضرورت پر زور دینے کے لیے قومی رہنماؤں سے براہ راست بات کی۔

امریکہ کو انتہائی افسوس ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے وزیر خارجہ پومپیو کو مطلع کیا کہ وہ ایک ایسی جامع حکومت پر متفق نہیں ہو سکتے جو حکمرانی، امن اور سلامتی کے مسائل سے نبردآزما ہو سکے اور افغان شہریوں کی صحت و بہبود کا خیال رکھے۔ امریکہ کو ان سے اور ان کے طرزعمل سے مایوسی ہوئی ہے جس کے نتائج افغانستان اور ہمارے مشترکہ مفادات پر مرتب ہوں گے۔ ان کی ناکامی نے امریکہ۔افغان تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے اور افسوسناک طور سے ان افغان، امریکیوں اور اتحادی شراکت داروں کا نقصان کیا ہے جنہوں نے اس ملک کے لیے ایک نیا مستقبل تعمیر کرنے کی جدوجہد میں جان و مال کی قربانی دی۔

چونکہ قیادت کی یہ ناکامی امریکی مفادات کے لیے براہ راست خطرے کا باعث ہے اس لیے امریکہ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی وسعت کا ازسرنو جائزہ لے گا اور یہ اقدام فوری طور پر موثر ہو گا۔ اس حوالے سے دیگر اقدامات کے علاوہ آج ہم افغانستان میں اپنے اخراجات کے حوالے سے ایک ذمہ دارانہ تبدیلی کا اعلان کر تے ہوئے اس برس افغانستان کے لیے اپنی امداد میں فوری طور پر ایک ارب ڈالر تک کمی لا رہے ہیں۔ ہم 2021 میں افغانستان کے لیے امداد میں مزید ایک ارب ڈالر کمی لانے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اس حوالے سے مزید کمی کے لیے اپنے تمام پروگراموں اور منصوبوں کا جائزہ بھی شروع کریں گے اور افغانستان کے لیے عطیہ دہندگان کی آئندہ کانفرنس میں اپنے وعدوں پر نظرثانی کریں گے۔ ہم نے افغان قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ ہم سلامتی کے حوالے سے ایسی کارروائیوں کی حمایت نہیں کریں گے جن کا محرک سیاسی ہو اور نہ ہی ایسی کارروائیوں کا حکم دینے والے سیاسی رہنماؤں اور متوازی حکومت کی حمایت یا معاونت کرنے والوں کی مدد کریں گے ۔

امریکہ بدستور سمجھتا ہے کہ ایک سیاسی تصفیہ ہی اس جنگ کا واحد حل ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ افغان رہنما مشترکہ اعلامیے کے تحت اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کر رہے اور خاص طور پر بین الافغان بات چیت میں شرکت کے لیے ایک جامع قومی ٹیم کی تشکیل یا سیاسی تصفیے اور مستقل و جامع جنگ بندی کے لیے اعتماد کی بحالی کی غرض سے فریقین کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں سہولت دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم امریکہ۔طالبان معاہدے کے تحت حالات کی بنیاد پر اپنی فوجیں واپس بلانے پر عمل پیرا ہیں۔

اگر افغان رہنما ایک ایسی جامع حکومت بنائیں جو عوام کو تحفظ دے سکے اور امن عمل میں شرکت کرے تو امریکہ ایسی کوششوں کی حمایت اور آج شروع کردہ جائزوں پر نظرثانی کے لیے تیار ہے۔

امریکہ افغانستان کے ساتھ اپنی شراکت ترک کر رہا ہے اور نہ ہی افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کے سلسلے میں اپنے وعدوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ اس کے بجائے ہم افغان رہنماؤں کے غیرذمہ دارانہ اقدامات کے باعث افغانستان سے اپنے تعاون کی وسعت کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ افغان عوام سے اپنی ثابت قدم وابستگی کے ثبوت میں امریکہ وہاں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے 15 ملین ڈالر امداد دے گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں