rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی
25 مارچ 2020

 

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو صبح بخیر۔ میں آج ہونے والے  وزارتی اجلاس کی روداد کا خلاصہ بیان کرنے سے پہلے افغانستان میں ہونے والے حملے پر بات کرنا چاہتا ہوں جس کی ذمہ داری ‘داعش۔خراسان ‘نے قبول کی ہے۔ امریکہ کابل میں سکھوں کی عبادت گاہ اور کمیونٹی سنٹر پر آج صبح ہونے والے اس ہولناک حملے کی مذمت کرتا ہے جس میں دو درجن سے زیادہ معصوم لوگوں کی جانیں گئیں۔ افغان عوام ‘داعش۔خراسان’ اور دیگر دہشت گرد سرگرمیوں  سے پاک مستقبل کے حق دار ہیں۔ ملک کو درپیش سیاسی مسائل کے باوجود اس وقت جاری افغان امن عمل افغانوں کے لیے باہم مل  کر ایک سیاسی تصفیے پر بات چیت کرنے اور ‘داعش۔خراسان’ کے خطرے کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنانے کا بنیادی موقع ہے۔ ہم تمام افغانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

اب میں آج ہونے والے اجلاس کی جانب آتا ہوں۔

آج جی7 ممالک کے ورچوئل وزارتی اجلاس کی شکل وہ نہیں تھی جس کا تصور ہم نے اس کی تیاری کے موقع پر کیا تھا، تاہم مجھے خوشی ہے کہ ہمیں ٹیلی کانفرنس کی صورت میں ہی سہی، مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

میں شرکا کی ذاتی شمولیت پر مبنی اجلاس کے لیے مدد و معاونت پر پٹس برگ والوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جسے بدقسمتی سے ہمیں منسوخ کرنا پڑا۔ یقیناً آج کا اہم ترین ایجنڈا ووہان وائرس سے متعلق تھا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ہم سب شفافیت سے مقابلہ کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔

میں نے اپنے جی7 شراکت داروں خصوصاً اٹلی اور بقیہ یورپ میں اپنے دوستوں پر واضح کیا کہ امریکہ ہر ممکن طور سے ان کی مدد کرنے کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دن امریکی فضائیہ نے طبی سازوسامان سے بھرا ایک سی۔130 طیارہ اٹلی بھیجا۔ امریکی فوج بھی اپنا کچھ زائد از ضرورت طبی سازوسامان ہمارے اٹلی کے دوستوں کو بھیجنے کے منصوبوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

علاوہ ازیں ہمارے نجی کاروبار، سائنسی شعبے سے متعلق لوگ، غیرسرکاری ادارے اور مذہبی تنظیمیں بھی مدد کی پُکار کا جواب دے رہی ہیں۔ امریکہ کے ایک نجی خیراتی ادارے Samaritan’s Purse نے شمالی اٹلی میں اس وبا سے بری طرح متاثرہ علاقے کریمونا میں 68 بستروں کا فیلڈ ہسپتال قائم کیا ہے۔ یہ امریکی عوام کی مشہور فیاضی کی عمدہ ترین مثال ہے۔

جہاں ہم اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے خاصا وقت صرف کر رہے ہیں کہ باہم مل کر اس وائرس کا مقابلہ کیسے کیا جائے، وہیں ہم دنیا کو درپیش دوسرے بڑے مسائل پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں جنہیں میں نے مختلف درجوں میں تقسیم کیا ہے۔

سب سے پہلے ہم نے آمرانہ ریاستوں کی جانب سے لاحق خطرات پر غور کے لیے اچھا خاصا وقت صرف کیا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی ہماری صحت اور طرززندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے جس کا ووہان وائرس کی وبا سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی آزاد اور کھلے نظام کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔ جی7 ممالک میں ہماری باہمی خوشحالی اور تحفظ اسی نظام سے وابستہ ہے۔

میں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ اور دوسرے اداروں کو اس کے ضرررساں اثرورسوخ اور آمریت سے تحفظ دینے کے لیے مل کر کام کریں۔ جی7 ممالک آزادی، خودمختاری، اچھی حکمرانی، شفافیت اور احتساب کی اپنی مشترکہ اقدار کو فروغ دیں  اور اقوام متحدہ پر بھی یہ اصول برقرار رکھنے کے لیے دباؤ ڈالیں ۔

گروپ نے روس اور یوکرائن میں جارحیت پر اس سے جواب طلبی کے معاملے پر بھی خاصی دیر بات چیت کی۔ مشرقی یوکرائن میں حقیقی پیش رفت روس کی جانب سے منسک معاہدوں کے تحت اس کے  وعدوں پر عملدرآمد سے شروع ہونی چاہیے۔ میں نے اس سادہ سچائی کا اعادہ  بھی کیا کہ: کرائمیا یوکرائن کا حصہ ہے۔ امریکہ روس کی جانب سے اس کا اپنے ساتھ الحاق کرنے کی کوشش کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔

ہم نے اسلحے کے غیرقانونی پھیلاؤ سے لاحق مسائل پر بات چیت بھی  کی۔

جہاں تک ایران کا معاملہ ہے، میں نے ماہان ایئر پر پابندی اور حزب اللہ اور ایرانی پشت پناہی میں سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں کو دہشت گرد تنظیمیں  قرار دینے جیسے اقدامات کے ذریعے ایرانی حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے پر ان ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

ہماری دباؤ ڈالنے کی مہم کا مقصد ایران کو ایک ذمہ دار ملک جیسا طرزعمل اپنانے پر مائل کرنا ہے۔ میں نے اپنے جی7 شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ اس مہم میں ہمارے ساتھ مزید کردار ادا کریں اور خاص طور پر یہ امر یقینی بنانے میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

اسی طرح جی7 اور تمام ممالک شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے مطالبے میں متحد رہیں اور اس کے غیرقانونی جوہری و بلسٹک میزائل پروگرام پر سفارتی و معاشی دباؤ بڑھانے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں۔

ہم نے دیرینہ تنازعات کے حل پر بھی  تفصیل سے بات چیت کی۔

افغانستان کے معاملے میں ہم نے امن عمل پر گفت وشنید کی۔ میں نے انہیں افغانستان کے اپنے حالیہ دورے کی بابت آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ کیسے ہم بین الافغان بات چیت کو واقعتاً کامیاب بنا سکتے ہیں۔

ہم نے شام کے مسئلے  پر بھی بات چیت کی جہاں روس، ایرانی حکومت، حزب اللہ اور اسد حکومت یورپ کو انسانی آفت سے دھمکا رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے مطابق اس مسئلے کے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ہم نے لیبیا کے مسئلے پر بات کی۔ وہاں کے رہنماؤں کو تحمل سے کام لینا ہو گا اور مہلک غیرملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے لیبیا کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی بات چیت میں سنجیدہ شمولیت اختیار کرنا ہو گی۔

برما کے معاملے پر تمام ممالک متحد تھے۔ انہوں نے برما میں جمہوری تبدیلی، معاشی اصلاحات اور ضرررساں اثرورسوخ کی مخالفت پر اتفاق کیا۔

برما راخائن ریاست کا بحران حل کرے، مظالم کا شکار بننے والوں کو انصاف کی فراہمی اورغیرقانونی کارروائیوں کے ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی فوجی حکام کا احتساب یقینی بنائے۔

آخر میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ساحل خطے میں داعش کے دہشت گرد حملے، جیسا کہ میں نے اپنی بات کے آغاز میں جس حملے کا تذکرہ کیا اور القاعدہ کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس خطے کو بہتر حکمرانی اور مدد کے معاملے میں ہمارے شراکت داروں کے مزید کردار کی ضرورت ہے۔ امن و استحکام کی بحالی کے لیے ناصرف اس خطے بلکہ دنیا بھر میں ان دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔ مالی میں’ الجزائر معاہدہ برائے امن و مفاہمت’ کے فریقین کو اس معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کرنا چاہیے۔

اگرچہ ہم لوگ ذاتی طور پر ایک دوسرے سے نہیں مل سکے مگر ہمارے مابین بات چیت کامیاب رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ بدستور مخلص ہے اور اسی جیسے  مفید کثیر ملکی انداز میں ان کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں آپ سے چند سوالات لوں گا۔

مسٹر براؤن: شان ۔

سوال: شکریہ جناب وزیر خارجہ۔ آج جی7 سے متعلق آپ کی باتوں کے بعد میں کل جی20 ممالک کے ورچوئل اجلاس کا منتظر ہوں جس کی میزبانی سعودی عرب کر رہا ہے۔ آپ کا چین کے بارے میں کیا پیغام ہے؟ کیا یہ وائرس کے مسئلے پر اس  سے تعاون کا وقت ہے یا ان کی مخالفت کا موقع ہے؟ آپ نے بتایا کہ امریکہ اپنے جی7 شراکت داروں کی مدد کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ چین کے معاملے میں آپ کیا کہیں گے؟ وہ ماسک وغیرہ کی صورت میں دنیا بھر کو بہت سی امداد دے رہے ہیں۔ کیا آپ اسے مثبت طور سے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں یہ کوئی ایسی چیز ہے جس سے ہمیں فکرمند ہونا چاہیے؟ کیا امریکہ بذات خود مدد قبول کرنے پر تیار ہو گا؟ پیٹر نیویرو نے کہا ہے کہ غالباً ہم مدد قبول کریں گے۔

اگر اجازت ہو تو میں اس نکتے پر ایک بات پوچھنا چاہوں گا۔ جرمن میگزین ڈیر شپیگل نے کہا ہے کہ آپ چاہتے تھے جی7 ممالک کے نمائندے ”ووہان وائرس” کا لفظ استعمال کریں جس پر غالباً شراکت داروں میں اختلاف بھی سامنے آیا۔ کیا ایسا ہی ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کسی چیز کو دیا گیا کوئی نام اس قدر اہم ہے کہ اسے ایک عالمی دستاویز کا حصہ ہونا چاہیے۔ شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: مجھے اپنے پہلے سوال کے جواب سے آغاز کی اجازت دیجیے۔ ہم اس پورے بحران میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں تھے۔ اس بحران کا آغاز ووہان میں ہوا جو کہ چین کا شہر ہے۔ آپ سبھی کو یاد ہو گا کہ ہم نے ابتدا ہی سے اپنے سائنس  دان اور ماہرین وہاں بھیجنے کی کوشش کی تاکہ اس بیماری کے خلاف عالمگیر ردعمل میں مدد دے سکیں اور یہ جان سکیں کہ چین میں یہ سب کیسے شروع ہوا مگر ہم ایسا نہ کر سکے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی ایسا کرنے کی اجازت نہ دیتی۔

آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ ابتدا میں جب واضح ہو گیا کہ یہ ایک مسئلہ ہے تو چین کو اس کا علم تھا۔ وہ پہلا ملک تھا جسے دنیا کو اس وائرس سے لاحق خطرات کا علم تھا اور انہوں نے دنیا کے ساتھ اس بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنے میں تواتر سے تاخیر کی۔

ہم اس معاملے پر دنیا کے ہر ملک کے ساتھ  کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ ایک عالمگیر وبا ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں امریکہ چین سمیت دنیا کے ہر ملک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہش مند ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زندہ اور صحت مند رکھا جائے اور ووہان وائرس سے متاثرہ اپنی معیشتوں کو کیسے بحال کیا جائے۔

چنانچہ ہم ان کے ساتھ کام کرنے اور ان کی معاونت کے لیے تیار ہیں۔ ہم چین کے لوگوں کا بھی بھلا چاہتے ہیں۔ اس بیماری سے چین میں بھی بہت سے لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ چین سے باہر کا معاملہ نہیں ہے۔ تاہم درست نتیجے پر پہنچنا واقعی اہم ہے۔

آج جی7 ممالک کے نمائندوں میں اس بیماری کے حوالے سے غلط اطلاعات پھیلانے کی مہم پر تفصیل سے بات ہوئی جس میں چین بدستور ملوث ہے۔ آپ نے یہ دیکھا ہے۔ آپ اسے سوشل میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔ آپ نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں کے بیانات میں یہ تذکرہ سنا ہو گا کہ آیا امریکہ یہ وائرس چین میں لایا تھا۔ میرا مطلب ہے کہ یہ پاگلوں جیسی باتیں ہیں۔ آج جی7 کے ہر رکن نے غلط اطلاعات پھیلانے کی اس مہم کا مشاہدہ کیا۔ اب چین محدود سی مقدار میں چیزیں دنیا بھر میں بھیج رہا ہے اور اس معاملے میں ہیرو بن رہا ہے۔ یہ کسی پر الزام تراشی کا وقت نہیں بلکہ یہ ایک عالمگیر مسئلہ حل کرنے کا وقت ہے۔ آج ہم نے اسی پر توجہ مرکوز کی۔ جی7 کے ارکان نے اپنا تمام وقت اسی پر صرف کیا۔ تاہم آج صبح اس اجلاس میں شریک ہر  ملک چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے غلط اطلاعات پھیلائے جانے کی مہم سے اچھی طرح آگاہ تھا جو کہ حقیقت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

جہاں تک اعلامیے کی بات ہے تو میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں درست جواب یہ ہے کہ ایسے اجلاسوں کے ذریعے ہمیشہ یکساں پیغام سامنے آنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ جب آپ دیگر چھ وزرائے خارجہ کو بات کرتا  سنیں گے تو آج ہماری بات چیت کے حوالے سے ان کا موقف یکساں ہو گا اور ہم ان معاملات پر بات کریں گے جن پر ہمارا اتفاق ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایرانی جوہری معاہدے جیسے چند ایسے معاملات پر بھی اظہار خیال کریں گے جن پر ہمارا اختلاف ہے، تاکہ اپنے تزویراتی نتائج کا حصول ممکن ہو سکے۔ یاد رہے کہ آج صبح اجلاس میں تمام شرکا کی توجہ یہ امر یقینی بنانے پر مرکوز تھی کہ ہمیں ناصرف ووہان وائرس سے متعلق طبی بحران حل کرنا ہے بلکہ ان معاشی مسائل پر بھی قابو پانا ہے جو اس بحران کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں لاحق ہوئے ہیں۔

مسٹر براؤن: ارشد ۔

سوال: افغانستان پر۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی جناب۔

سوال: سوموار کو آپ نے اپنے تحریری بیان میں کہا تھا کہ امریکہ افغانستان کے لیے امداد میں فوری طور پر ایک ارب ڈالر کمی کر دے گا۔  پہلی بات یہ کہ آپ کتنی رقم کم کر رہے ہیں؟ دوسری بات یہ کہ اطلاعات کے مطابق آج صبح صدر غنی نے اپنے وزرائے داخلہ، دفاع و مالیات کو سلامتی کے بجٹ میں مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کمی کی ہدایات جاری کی ہیں۔ کیا اس سے یہ نہیں لگتا کہ وہ بھی امریکی امداد کھونے کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ آپ اس پر کیا کہیں گے؟ تیسری بات یہ کہ اگر طالبان معاہدے کا احترام کرتے ہوئے امریکی فورسز کو نشانہ نہیں بناتے اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم کر لیتے ہیں تو پھر خواہ صدر غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ انتخابات پر اپنے تنازعات ختم کریں یا نہ کریں، کیا امریکہ منصوبے کے مطابق اپنے فوجی دستے افغانستان سے نکالنے کے لیے تیار ہے؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں نے ایسے وقت افغانستان کا سفر کیا جب چند نہایت خاص مقاصد کے لیے زیادہ سفر نہیں ہو رہا۔ میں یہ یقین دہانی لینے وہاں گیا کہ افغان رہنماؤں کو افغانستان میں امریکہ کی دلچسپی اور وہاں سالہا سال تک ریزولوٹ سپورٹ مشن کے کردار کا اندازہ ہو۔ میں نے ان پر زور دیا کہ وہ مشترکہ اعلامیے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کریں۔ افغان قیادت نے کچھ وعدے کیے تھے جن پر انہیں عمل کرنا ہے اور اب تک انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ میں ان سے یہ بات کرنے وہاں گیا تھا کہ ایسا کرنے میں ہم ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔

میں کھل کر کہوں گا کہ یہ دورہ نہایت مایوس کن رہا۔ میں ان کے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے زور دینے وہاں گیا تھا، آپ نے جن بیانات کا تذکرہ کیا ہے وہ میں نے نہیں دیکھے۔ ہمیں افغانستان کی تمام قیادت کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ صڈر غنی، ڈاکٹر عبداللہ  اور افغانستان کی ترقی میں دلچسپی رکھنے والے، افغان عوام کے لیے امن و مفاہمت پیدا کرنے والے اور افغان عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے خواہش مند تمام لوگ مل بیٹھیں اور بقیہ مسائل کے حل کے لیے کھل کر بات چیت کریں۔ ہم افغان قیادت سے یہی توقع رکھتے ہیں۔ میں اسی لیے وہاں گیا تھا۔ میں نے ان سے یہی بات کی تھی۔ اسی لیے ہم نے یہ اعلان کیا کہ امریکہ انہیں سلامتی کی مد میں اپنی معاونت کم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم طالبان سمیت تمام فریقین کو قائل کرنا جاری رکھیں گے کہ یہ افغانستان میں امن و مفاہمت کا وقت ہے۔

جہاں تک افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کا معاملہ ہے تو ہم نے اپنے شراکت داروں پر واضح کر دیا ہے کہ ہم  آگے بڑھتے وقت حالات کا تجزیہ کریں گے۔ ہم نے وعدے کر رکھے ہیں۔ اس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے ہم حالات کو دیکھیں گے۔ ہم نے اسے حالات کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا منصوبہ کہا ہے۔ ہم اپنی بات پر قائم رہیں گے تاکہ مزید پیشرفت کے لیے تمام فریقین اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ بالاآخر ان تمام لوگوں نے میری بات سمجھ لی جن سے میری ملاقات ہوئی۔ میں صرف صدر غنی اور ڈاکٹر عبداللہ سے ہی نہیں ملا بلکہ میں نے عسکری رہنماؤں اور دوحہ میں مُلا برادر سے بھی ملاقات کی۔ ان میں ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ افغان مسئلہ بندوقوں اور مارٹر سے حل ہونے والا نہیں۔ یہ مسئلہ سیاسی عمل کے ذریعے حل ہو گا اور اب وقت ہے کہ تمام افغان اکٹھے بیٹھ کر یہ سیاسی عمل شروع کریں۔ میں اب بھی پُرامید ہوں کہ ہم یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کام جلد از جلد ہونا چاہیے۔

سوال: آپ امدادی رقم میں کتنی کمی لا رہے ہیں؟ کیا (ناقابل سماعت) آپ ۔۔۔۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی اگلا سوال۔

سوال: ۔۔۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ فوری طور پر کم کر رہے ہیں؟

مسٹر براؤن: عقب میں مشیل کا سوال لیتے ہیں۔

سوال: شکریہ جناب وزیر خارجہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی جناب ۔

سوال: کانگریس میں چین کو کرونا وائرس کی وبا کا ذمہ دار قرار دینے کی باتیں ہو رہی ہیں کیونکہ اس نے معلومات چھپائیں اور انہوں نے چین سے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور دنیا کو ہرجانہ ادا کرے۔ کیا امریکی انتظامیہ چین پر مقدمہ کرنے یا اس سے زرتلافی کا مطالبہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے؟ مجھے یہ بھی پوچھنا ہے کہ کیا دفتر خارجہ نے شام کی حکومت سے قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے کہا ہے جن میں امریکی شہری بھی شامل ہیں؟ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کیا آپ شامی حکومت پر کوئی دباؤ ڈالنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپیو: آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم نے شام کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو رہا کر دے جنہیں ناجائز طور سے قید میں رکھا گیا ہے۔ ان میں صرف امریکی ہی نہیں بلکہ دوسرے بھی شامل ہیں۔ ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران سے بھی یہی کچھ کرنے کو کہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب جبکہ ان لوگوں کی صحت کو بے پناہ خطرات لاحق ہیں تو انہیں  خالصتاً انسانی بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہیے۔ انہیں ناجائز طور قید کیے جانے جیسی دیگر وجوہات کو چھوڑیں، یہ ان ملکوں کے لیے انسانی مدد کرنے اور ان امریکیوں کو ان کے اہلخانہ کے پاس گھر واپس بھیجنے کا اچھا موقع ہے۔

جہاں تک آپ کے پہلے سوال کا تعلق ہے تو میں اس کا جواب کانگریس پر چھوڑتا ہوں۔ یہ میں کانگریس پر چھوڑوں گا کہ وہ اس معاملے میں کیا کرتی ہے۔ تاہم جیسا کہ میں نے پہلے کہا، یہ جوابی الزام تراشی اور جواب طلبی کا وقت نہیں ہے۔ ہمیں یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا میں ہر ایک کو اس بیماری کے حوالے سے معلومات دستیاب ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی سمیت سبھی کو شفافیت سے کام لینا ہے۔ ہمیں اب بھی چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے پوری معلومات درکار ہیں کہ وہاں کیا ہوا تھا اور ملک میں وائرس کی کیا صورتحال ہے۔ ہمیں اس حوالے سے درست اور شفاف معلومات درکار ہیں جیسا کہ ہم دنیا کے دیگر ممالک سے مانگتے ہیں۔ تاہم اس کا ایک مناسب وقت آئے گا۔ جب ہم اس بحران پر قابو پا لیں گے اور جب ہم معیشتوں کو بحال کر لیں گے تو دنیا کے پاس یہ دیکھنے کا وقت ہو گا کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہونی چاہیے۔

آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں