rss

امریکہ میں صحت عامہ سے متعلق خدمات کے شعبے کی کمانڈر اور بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز میں ‘کوویڈ۔19’ کے لیے عالمی ٹاسک فورس کی سربراہ سارہ بینیٹ کی بریفنگ

Español Español, English English, Português Português, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
خصوصی بریفنگ بذریعہ ٹیلی فون
26 مارچ 2020

 

نگران: امریکی دفتر خارجہ میں عالمی میڈیا سے متعلق شعبے کی جانب سے سبھی کو صبح بخیر۔ میں دنیا بھر سے ٹیلی فون پر موجود اپنے شرکا کا خیرمقدم کرنا چاہوں گا۔

ہمیں خوشی ہے کہ امریکہ میں صحت عامہ سے متعلق خدمات کے شعبے کی کمانڈر اور بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) میں ‘کوویڈ۔19’ کے لیے عالمی ٹاسک فورس کی سربراہ سارہ بینیٹ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ بدقسمتی سے ڈاکٹر میسونیر آج ہمارے ساتھ نہیں ہوں گی۔

آج ڈاکٹر بینیٹ کوویڈ۔19 وبا کے دوران سی ڈی سی کے عالمی شراکت داروں سے رابطے اور صحت کی وزارتوں کے ساتھ تعاون پر بات کریں گی۔ براہ مہربانی اپنے سوالات کوویڈ۔19 کے خلاف عالمی سطح پر سی ڈی سی کے ردعمل تک ہی محدود رکھیں۔ ڈاکٹر بینیٹ اندرون ملک سی ڈی سی کے اقدامات پر بات نہیں کریں گی۔ ہم اس حوالے سے بات چیت کے لیے ڈاکٹر میسونیر کے ساتھ کسی اور دن کال کا اہتمام کر رہے ہیں۔

ہم آج کی کال کا آغاز ڈاکٹر بینیٹ کے ابتدائی کلمات سے کریں گے اور پھر آپ کے سوالات کی جانب آئیں گے۔ ہم اپنے پاس موجود اندازاً 30 منٹ وقت میں زیادہ سے زیادہ سوالات لینے کی کوشش کریں گے۔

آخر میں، یاد رہے کہ آج کی کال آن دی ریکارڈ ہے اور اس کے ساتھ ہی میں ڈاکٹر بینیٹ کو بات کی دعوت دوں گا۔ جی بات کیجیے۔

ڈاکٹر بینیٹ: شکریہ۔ سبھی کو صبح بخیر اور اس کال میں شمولیت پر شکریہ۔ ہم میں سے بیشتر لوگوں یعنی میرے، آپ کے اور ہمارے ساتھ رہنے والوں کے لیے کوویڈ۔19 کی وبا ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس کی 1918 میں انفلوئنزا کی وبا کے بعد اب تک کوئی مثال نہیں ملتی۔

ہمیں اندازہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ کس قدر دہشت ناک اور ذہنی دباؤ کا حامل ہو سکتا ہے خصوصاً اگر اس بیماری کے متاثرین میں آپ کے معمر عزیز یا کسی اورمرض میں مبتلا لوگ بھی شامل ہوں۔ امریکی حکومت دنیا بھر کے ممالک کو صحت عامہ کو لاحق خطرات کے خلاف تیاری کرنے، انہیں روکنے، ان کی نشاندہی اور ان کے خلاف ردعمل میں مدد دینے کے لیے اپنے عالمی شراکت داروں اور حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

خاص طور پر اس وبا کے لیے امریکہ میں بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مراکز کا محکمہ (سی ڈی سی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، صحت کی وزارتوں کے ساتھیوں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ممالک کو کوویڈ۔19 کے خلاف تیاری اور اس کا مقابلہ کرنے میں مدد دینے کی درخواستوں پر کام کر رہا ہے۔

ہمارا عملہ دنیا بھر میں 60 سے زیادہ ممالک میں تعینات ہے جو متعلقہ ممالک میں اپنے شراکت داروں کے تعاون سے ان کی صحت عامہ سے متعلق ترجیحات سے نمٹنے اور زندگیاں بچانے کے لیے سرگرم ہے۔

سی ڈی سی کوویڈ۔19 کے ممکنہ مریضوں کی نشاندہی، ان میں مرض کی تشخیص  و  نگہداشت اور وبا کا پتا چلانے کے لیے ڈبلیو ایچ او کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے ممالک کی مدد کر رہا ہے۔ ماضی میں سی ڈی سی کی معاونت حاصل کرنے والے بہت سے ممالک ان اسباق اور صلاحیتوں کو کوویڈ۔19 سے مقابلے کی تیاری، اس کی نشاندہی اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اس میں ہنگامی کارروائیوں میں ربط کے لیے مدد دینا، صحت عامہ کے شعبے میں کام کرنے والوں کی تربیت اور طبی تجربہ گاہوں  کی معاونت شامل ہے۔ امریکہ اور بیرون ملک ہمارا عملہ کوویڈ۔19 کی وبا کے خلاف مدد دینے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہا ہے۔

میں یہاں اپنی بات ختم کرتے ہوئے آپ کے سوالات لوں گی۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ۔ اب ہم آج کی کال میں سوال و جواب کا حصہ شروع کریں گے۔ جو خواتین و حضرات سوال کرنا چاہتے ہیں وہ براہ مہربانی اپنا اور اپنے ادارے کا نام بتائیں اور ایک سوال تک ہی محدود رہیں۔

یاد دہانی کے طور پر بتاتا چلوں کہ اپنے سوالات کو اس بیماری کے خلاف سی ڈی سی کے عالمگیر ردعمل تک ہی محدود رکھیں کیونکہ ڈاکٹر بینیٹ اندرون ملک سی ڈی سی کے اقدامات پر بات نہیں کر سکتیں۔

ہم پہلے سوال کے لیے نک ٹورس کی جانب جائیں گے۔ جی بات کیجیے۔

سوال: میں انٹرسیپٹ سے نک ٹورس بات کر رہا ہوں۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایسٹر تک ملک کے بڑے حصوں کو کھولنا چاہتے ہیں۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ آیا یہ حقیقت پسندانہ سوچ ہے اور اس قدر جلد یہ قدم اٹھانے سے سے باقی دنیا کو کیا پیغام جاتا ہے؟

ڈاکٹر بینیٹ: اس وقت سی ڈی سی بہت سے شراکت دار ممالک کو ان کے ہاں ایسے اقدامات پر عملدرآمد میں مدد دے رہی ہے جنہیں اس وبا پر قابو پانے کے بہترین طریقہ ہائے کار مانا جاتا ہے۔ اس موقع پر میں اندرون ملک سی ڈی سی کے اقدامات پر کوئی بات نہیں کر سکتی۔

نگران: شکریہ۔ میں ایک مرتبہ پھر یہ کہوں گا کہ اپنے سوالات سی ڈی سی کے بیرون ملک اقدامات پر تک محدو رکھیں۔ اندرو ن ملک اس کی کارروائیوں پر سوال نہ کریں۔

اگلا سوال کے لیے ہم ہنوئی میں وی این ایکسپریس سے ویت نا پن کے ساتھ بات کریں گے۔ جی سوال کیجیے۔

سوال: ہیلو، میں چاہوں گا کہ آپ ہمیں ویت نام سے طبی سازوسامان کی درآمد کے امریکی منصوبے سے آگاہ کریں۔ شکریہ۔

ڈاکٹر بینیٹ: ہیلو، میں سارہ بینیٹ ہوں۔ اس وقت میں ویت نام سے وینٹی لیٹر منگوانے سے متعلق امریکہ کے منصوبوں پر بات نہیں کروں گی۔ ہم آپ سے درخواست کریں گے کہ آپ یہ سوال دفتر خارجہ سے کریں۔

نگران: شکریہ۔ اگلے سوال کے لیے ہم تھامس نیہلز سے بات کریں گے۔ آپریٹر، براہ مہربانی ان کی لائن کھول دیں۔

آپریٹر: کس کی لائن ہے؟

نگران: تھامس نیہلز۔

سوال: میڈم؟

نگران: ہیلو، ہاں، ہمیں آپ کو سن سکتے ہیں۔

سوال: کیا عالمی پابندیاں ایران میں خاص طور پر امریکہ، یورپی ممالک اور جرمنی کی جانب سے متاثرین کی مدد کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟

ڈاکٹر بینیٹ: ہیلو، سی ڈی سی اس وقت پابندیوں اور ممالک کی انسانی مدد میں ان کے سبب  ممکنہ رکاوٹ پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس پر امریکی دفتر خارجہ ہی بہتر طور سے بات کر سکتا ہے۔

نگران: اگلا سوال جان پوور کریں گے۔ جان پوور، میرا خیال ہے کہ لائن کھلی ہے۔ کیا آپ بات کریں گے؟

سوال: امریکہ میں بعض شخصیات بشمول وزیر خارجہ نے چین کی جانب سے معلومات اور تعاون میں کمی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سی ڈی سی کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو کیا کوئی ایسا تعاون یا معلومات ہیں جسے وہ حاصل کرنا چاہے گا یا معلومات میں بہتری کی کوئی گنجائش موجود ہے تاکہ دونوں فریق اس مسئلے پر مل کر کام کر سکیں؟

ڈاکٹر بینیٹ: سی ڈی سی اور چین کی حکومت گزشتہ 30 برس سے امریکہ، چین اور دنیا کو متاثر کرنے والی صحت عامہ سے متعلق ترجیحات سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ سی ڈی سی چین، انفلوئنزا وبائیات، وائرس کے مطالعے اور وبا کے خلاف تیاری کے قومی مراکز، چین کے صوبائی اور مقامی سی ڈی سی، ہسپتالوں، اور تعلیمی اداروں کی قریبی شراکت سے کام کرتا ہے۔ علاوہ ازیں سی ڈی سی موسمی اور نئے انفلوئنزا وائرس کی نگرانی اور پرندوں سے متعلق موسمی جراثیموں اور ممکنہ طور پر وبا میں تبدیل ہونے والے دیگر نئے انفلوائزا وائرس کی نگرانی کے لیے اپنی چینی شراکتی اداروں کو مدد دیتا ہے۔

سی ڈی سی کا عملہ کوویڈ۔19 کی شدت اور پھیلاؤ کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے چین جانے والے مشن میں بھی شامل تھا۔ سی ڈی سی وباؤں کے خلاف مستقل تیاری کی حالت میں رہتا ہے خواہ یہ کہیں بھی پھوٹیں اور ان کی وجہ کوئی بھی ہو۔ ہم کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے والے بہت سے ممالک سے حاصل ہونے والے اسباق اور بیماری کے خلاف بہترین طریقہ ہائے کار سے سیکھنے کے متمنی ہیں۔

نگران: شکریہ میڈم۔ اب میں ایک پیشگی وصول کردہ سوال دہراؤں گا جو سام میڈنک کی جانب سے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ”سی ڈی سی ایسے کمزور ممالک کے حوالے سے کیا تجویز کرتا ہے جہاں لوگ خود کو الگ تھلگ نہیں کر سکتے اور جہاں ریاست لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے لیے ہوٹل یا ایسی دوسری جگہیں نہیں بنا سکتی؟”

ڈاکٹر بینیٹ: سی ڈی سی صحت کی وزارتوں اور ڈبلیو ایچ او جیسے شرکت داروں کو کوویڈ۔19 کی وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے بہترین طریقہ ہائے کار اختیار کرنے میں مدد دینے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ احتیاطی اقدامات پر عملدرآمد وائرس سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اسی لیے ہم تسلسل سے ہاتھ دھونے پر زور دیتے اور بیماروں  کو ماسک پہننے کی تاکید کرتے ہیں۔ ماسک کی غیرموجودگی میں لوگ رومال یا ایسی کسی اور شے سے اپنا ناک اور منہ ڈھانپ سکتے ہیں۔

 سی ڈی سی اور ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ پر رہنمائی سے متعلق بہت سی دستاویزات موجود ہیں جنہیں حکومتیں بہترین طریقہ ہائے کار اختیار کرنے اور اپنے ملک میں بیماری پر قابو پانے کے اقدامات اٹھانے کے لیے کام میں لا سکتی ہیں۔ سی ڈی سی  اس مقصد کے لیے ممالک کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔

نگران: بہت اچھے۔ شکریہ۔ اگلا سوال جیمز میکارٹن کریں گے۔

سوال: اوہ، ہیلو، میں کینیڈین پریس سے بات کر رہا ہوں اور مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا آپ مجھے اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں کہ سی ڈی سی نے کینیڈا کو امریکہ سے قریب ہونے کی بنا پر وہاں سے بیماری کی درآمد کے خلاف حفاظتی اقدامات بارے کوئی مشورہ دیا ہے؟

ڈاکٹر بینیٹ: امریکہ سے قربت کی بنا پر کینیڈا بدستور اس کا مضبوط شراکت دار ہے۔ عمومی طور پر ہم تجویز کرتے ہیں کہ تمام ممالک اپنے ہاں بہترین طریقہ ہائے کار لاگو کریں اور ہم سے پہلے اس بیماری کا سامنا کرنے والے ممالک سے اس کا مقابلہ کرنے اور اس کا پھیلاؤ روکنے کا سبق سیکھیں۔ جہاں تک اس بیماری کی امریکہ سے کینیڈا درآمد سے متعلق خاص اقدامات کا تعلق ہے تو میں کسی ایسی بات چیت میں شامل نہیں ہوں اس لیے میں فی الوقت اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔

نگران: شکریہ۔ ال ہورا سے مائیکل گینڈور اگلا سوال کریں گے۔ مائیکل، آپ کی لائن کھلی ہے۔

آپریٹر: براہ مہربانی مجھے لائن نمبر دیجیے۔

نگران: 44۔

سوال: ہیلو؟

نگران: ہیلو مائیکل۔ ہم آپ کو سن سکتے ہیں۔ براہ مہربانی بات کیجیے۔

سوال: جی، میرے پاس دو سوال ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکہ دنیا کے ممالک کو کس طرح کی امداد دے رہا ہے؟ کیا آپ کسی طرح کا طبی سازوسامان بھی دے سکتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس خاطرخواہ مقدار میں سامان موجود ہے؟ میرا دوسرا سوال ادویات سے متعلق ہے، کیا آپ کو ان کے نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔۔ یا امریکہ میں کلوروکوئن اور دیگر ادویات کا استعمال شروع ہونے کے بعد کیا سامنے آیا ہے؟ کیا ان کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں؟ کیا یہ مددگار ہیں؟

ڈاکٹر بینیٹ: آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا ہے کہ  اس کا جواب ڈاکٹر میسونیر بہت طور سے دے سکتی ہیں اور جب ہم ان کی میڈیا بریفنگ کا دوبارہ اہتمام کریں گے تو یہ سوال ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔

جہاں تک آپ کے پہلے سوال کا تعلق ہے تو 60 سے زیادہ ممالک میں سی ڈی سی کے دفاتر موجود ہیں۔ ہم کوویڈ۔19 وبا کے دوران زندگیاں بچانے کے لیے صحت عامہ سے متعلق ان کی ترجیحات سے نمٹنے کی غرض سے وہاں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔ اس وقت ہم امریکی حکومت کے شراکت داروں، ڈبلیو ایچ او اور صحت کی وزارتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ  کسی ملک کی خاص ضروریات سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے اور ہم اپنی جانب سے ہرممکن مدد فراہم کرنے کے لیے بدستور پرعزم رہیں گے۔

نگران: شکریہ۔ ہم اگلے سوال کے لیے سنگ من لی سے بات کریں گے۔

سوال: (ناقابل سماعت) شمالی کوریا میں کوویڈ کے مریض۔ شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ اس کے ہاں کوویڈ۔19 کا کوئی مریض نہیں ہے مگر کوریا میں امریکی فورسز کے کمانڈر رابرٹ ابرامز نے بتایا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ شمالی کوریا میں کوویڈ۔19 کے مریض موجود ہیں۔ کیا آپ کے پاس شمالی کوریا میں کوویڈ۔19 کے مریضوں کے حوالے سے کوئی اطلاع موجود ہے؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ وہ کوویڈ۔19 کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ سی ڈی سی کے نقطہ نگاہ سے آپ شمالی کوریا کو کس طرح کی مدد فراہم کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر بینیٹ: ہم مریضوں کی مصدقہ تعداد کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت سے رجوع کرتے ہیں۔ تمام رکن ممالک اپنے ہاں مریضوں کی تعداد کے بارے میں ادارے کو مطلع کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتی کہ آیا شمالی کوریا اپنے میڈیا میں ڈبلیو ایچ او کو دی گئی اطلاعات سے ہٹ کر کوئی بات کر رہا ہے یا نہیں۔ میں اس حوالے سے معلومات کے لیے آپ کو شمالی کوریا سے رابطہ کرنے کو کہوں گی۔

جہاں تک شمالی کوریا کو ہماری جانب سے معاونت کی فراہمی کا تعلق ہے تو سی ڈی سی ڈبلیو ایچ او اور اپنے دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ دنیا بھر کے ملکوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے تاکہ انہیں کوویڈ۔19 کی وبا سے نمٹنے میں معاونت دی جا سکے۔ اگر ممالک ہم سے مدد کی درخواست کرتے ہیں تو ہم ان درخواستوں پر غور کریں گے۔

نگران: شکریہ۔ میں ایک مرتبہ پھر آپ سے کہوں گا کہ وبا کے خلاف سی ڈی سی کے بیرون ملک اقدامات سے متعلق ایک ہی سوال تک محدود رہیں۔

جیکولین چارلس اگلا سوال کریں گی۔

سوال: شکریہ، کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ سی ڈی سی ہیٹی میں کیا مدد فراہم کر رہا ہے۔ کیا اس کے پاس لوگوں کے معائنے کے لیے خاطرخواہ تعداد میں ٹیسٹ کِٹ موجود ہیں؟

ڈاکٹر بینیٹ: میں معذرت چاہتی ہوں، اس وقت میرے پاس ہیٹی میں کوویڈ۔19 کی موجودہ صورتحال سے متعلق اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔ تاہم میرا خیال ہے کہ اگر ممالک کو ٹیسٹ کٹ کی ترسیل کے ضمن میں مشکلات کا سامنا ہو تو شراکت دار ان ملکوں کو اضافی ٹیسٹ کٹ کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔ چونکہ سی ڈی سی بیرون ملک کٹ نہیں بھیج رہا اس لیے ہم  تجویز کرتے ہیں کہ ایسے ممالک عالمی ادارہ صحت یا اس کے علاقائی دفاتر سے رابطہ کر کے اضافی ٹیسٹ کٹ کی درخواست کریں۔

نگران: شکریہ۔ بلومبرگ سے ٹم کلپن اگلا سوال کریں گے۔

سوال: وقت دینے کا شکریہ۔ میں خاص طور پر تائیوان کے حوالے سے پوچھنا چاہوں گا۔ اپنی منفرد سیاسی صورتحال کے سبب یہ ڈبلیو ایچ او کا رکن نہیں ہے مگر امریکی سی ڈی سی کے تائیوان اور تائیوان کے سی ڈی سی سے تاریخی طور رپ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ کیا آپ مجھے مختصراً بتا سکتی ہیں کہ مریضوں کے حوالے سے انصرامی یا طبی سطح پر معلومات کے تبادلے کے لیے آپ کی تائیوان کے حکام سے کیا بات ہوئی ہے؟ شکریہ۔

ڈاکٹر بینیٹ: سوال کے لیے شکریہ۔ ہم خطرے کے دھانے پر موجود آبادی سے متعلق معلومات کے تبادلے کے لیے ایسے ممالک کی جانب دیکھ رہے ہیں جنہیں کوویڈ۔19 کا زیادہ طویل تجربہ ہے۔ ان میں ایسے لوگوں کی معلومات شامل ہیں جن کے اس بیماری سے متاثر ہونے یا مرنے کا زیادہ خطرہ ہے۔ ہمیں ان سے مقامی سطح پر بیماری کے خلاف اقدامات اور علاج معالجے کے ضمن میں معلومات درکار ہیں۔

میں تائیوان کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں سامنے آنے والی معلومات سے متعلق خاص طور سے کچھ نہیں کہہ سکتی مگر یہ معلومات اہم ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ ہم یہ معلومات جلد از جلد دوسرے ممالک تک پہنچائیں گے تاکہ وہ اپنے ملکی تناظر میں اس سے کام لے سکیں۔

نگران: شکریہ: ایلیجاندرا اریڈونڈو اگلا سوال کریں گی۔

سوال: میرا سوال لاطینی امریکہ میں سی ڈی سی کے اقدامات سے متعلق ہے۔ سی ڈی سی لاطینی امریکہ کی حکومتوں کو کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے میں کیسے مدد دے رہا  ہے؟ شکریہ۔

ڈاکٹر بینیٹ: سی ڈی سی کوویڈ۔19 کی وبا میں تعاون کی درخواست کرنے والے ممالک کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔ خاص طور پر لاطینی امریکی خطے سے متعلق ہمارا ایک بہت بڑا علاقائی دفتر گوئٹے مالا میں قائم ہے جو کہ خطے کو بہت سی سرگرمیوں بشمول وائرس سے متاثرہ افراد کی تلاش، وبائی تحقیقات اور طبی تجربہ گاہوں کو بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔

پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کے خطے میں ہم  اس وبا کے حوالے سے اپنے ہمسایہ ملکوں کی بہتر طریقہ ہائے کار اور ڈبلیو ایچ او کے رہنما اصولوں پر عملدرآمد کے ذریعے مدد کے لیے پرعزم ہیں۔

نگران: بہت اچھے، آپ کا شکریہ۔ اگلا سوال بن گرو وانگ کریں گے۔

سوال: آپ نے جس عالمی معاونت کا تذکرہ کیا ہے، کیا اس میں چین کے لیے مدد بھی شامل ہے؟ جیسا کہ آپ نے بتایا ہے سی ڈی سی کے امریکہ سے بہت پرانے تعلقات ہیں۔ یہاں تک کہ چین میں سی ڈی سی کا ایک دفتر بھی موجود ہے۔ ایسے میں کیا سی ڈی سی ابتدائی مرحلے سے ہی چین میں کوویڈ۔19 کی وبا پھوٹنے سے آگاہ تھا جس سے امریکہ کو اس وائرس کے خلاف تیاری کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی وقت مل جاتا۔ شکریہ۔

ڈاکٹر بینیٹ: جی، سی ڈی سی اور چین کی حکومت میں گزشتہ 30 برس سے قریبی رابطہ ہے۔ دونوں امریکہ، چین اور دنیا بھر کو متاثر کرنے والی صحت عامہ سے متعلق ترجیحات سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ چین میں ہمارا ایک دفتر بھی ہے جس میں سی ڈی سی کا عملہ موجود رہتا ہے جو کہ چین کی مدد کرنے اور بیماری کے خلاف امریکہ کی مدد کے لیے چین کے تجربہ سے سیکھتا ہے۔ اس سے ہمیں ایسی سرگرمیوں بارے آگاہی میں بھی مدد ملے گی جنہیں ہم دوسرے ممالک کو اپنے ہاں شروع کرنے میں مدد دیں گے اور جن سے ہمیں ان ممالک کے حالات کے مطابق وہاں ڈبلیو ایچ او کے رہنما اصولوں کے اطلاق میں مدد ملے گی۔

امریکہ نے چین جانے والے ڈبلیو ایچ او کے مشن میں بھی شرکت کی اور اس مشن کی رپورٹ کے نتائج ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

نگران: شکریہ۔ اگلا سوال مونالیزا فریحہ کریں گی۔

سوال: میرا سوال لبنان سے متعلق ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہ ملک سنگین معاشی بحران کا شکار ہے۔ کیا لبنان میں اس کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے طبی سازوسامان بھیجے جانے کا کوئی امکان موجود ہے؟

ڈاکٹر بینیٹ: سوال کے لیے شکریہ۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس وقت سی ڈی سی اپنے وزارتی شراکت داروں سے رابطہ کر رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ہر ملک کے لیے کیا بہتر ہے اور ہم ممالک کو انہیں درکار طبی سازوسامان تک رسائی بہم پہنچانے کے لیے ڈبلیو ایچ او اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ کام کریں گے۔

نگران: شکریہ۔ اینا کیلی اگلا سوال کریں گی۔ اینا کیلی، میرا خیال ہے کہ آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: معذرت، جی۔ کیا اب آپ مجھے سن سکتے ہیں؟ میرا فون خاموش تھا، معذرت۔

نگران: جی ہاں۔

سوال:  ہیلو، میرا سوال سی ڈی سی کی تحقیقی کوششوں سے متعلق ہے۔ کیا اس کے پاس کرونا وائرس پر تحقیق کے لیے بھی بجٹ موجود ہے اور اگر ایسا ہے تو اسے دنیا بھر میں کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے۔ اگر ممکن ہو تو میں اس حوالے سے کچھ جاننا چاہوں گی۔ شکریہ۔

ڈاکٹر بینیٹ: آپ نے واقعتاً ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ اس وائرس کے بارے میں بہت سے سوالات کا تاحال جواب نہیں مل سکا۔ سی ڈی سی ایسے ممالک کی مدد کر رہا ہے جو اس بارے میں معلومات حاصل کر کے ان سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت میں آپ کو ان تحقیقی سرگرمیوں کے بارے میں مخصوص معلومات سے آگاہ نہیں کر سکتی جن کی ہم نے عالمگیر سطح پر منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ تاہم ایسی تحقیقی سرگرمیاں مستقبل کے اقدامات کا حصہ ہوں گی۔

نگران: اگلا سوال سوانیلو جومانے کریں گے۔

سوال: میں نے لیسوتھو کے بارے میں پوچھنا ہے۔ یقیناً یہ ملک چاروں جانب جنوبی افریقہ میں گھرا ہوا ہے اور جنوبی افریقہ میں کوویڈ۔19 کی موجودگی، جس کا سبب اٹلی سے آنے والے مسافر تھے اور پھر چین و اٹلی میں کوویڈ۔19  کا سلسلہ مختلف ہونے کو مدنظر رکھا جائے تو ایسی اطلاعات (ناقابل سماعت) ہیں کہ لیسوتھو جلد یا بدیر بیماری کے اسی سلسلے کی گرفت میں آ جائے گا جس نے اٹلی میں مسائل پیدا کیے ہیں۔ سی ڈی سی لیسوتھو کو اس بیماری کا سامنا کرنے کے لیے کس طرح تیار ہونے کا مشورہ دے گا جبکہ اس وقت ملک میں کوویڈ۔19 کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

ڈاکٹر بینیٹ: ایسے بہت سے اقدامات ہیں جنہیں عالمی ادارہ صحت اور امریکہ میں بیماریوں پر قابو پانے کے مراکز نے تجویز کیا ہے تاکہ دوسرے ممالک سے وائرس کی درآمد سے بچا جا سکے اور اگر وائرس ملک میں آ جائے تو اسے لوگوں میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔

میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں تک معلومات پہنچانے میں صحافیوں کا نہایت اہم کردار ہے۔ صحافی کوویڈ۔19 کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے بہت سے اقدامات کر سکتے ہیں جیسا کہ لوگوں کو تسلسل سے ہاتھ دھونے کی یاد دہانی کرانا، ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کو کہنا، اپنی کھانسی اور چھینکوں کے اثرات دوسروں پر نہ پڑنے دینا یا ناک منہ صاف کرتے وقت ٹشو کا استعمال اور ہاتھ دھو کر چیزوں کو چھونا وغیرہ۔ حکومتوں کو ایسے اقدامات کی بابت سوچنا چاہیے جن کی انہیں اس وبا پر قابو پانے میں ضرورت پڑ سکتی ہے اور انہیں وبا پھیلنے تک انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں ابھی سے تیاری شروع کرنا ہو گی۔ سی ڈی سی اس تیاری کے ضمن میں حکومتوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔

نگران: بے حد شکریہ۔ اگلا سوال نتاشا خان کریں گی۔

سوال: میرا تعلق وال سٹریٹ جرنل سے ہے۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آیا آپ کو وبا کے ابتدائی دنوں جیسا کہ جنوری میں بروقت اور مکمل طور سے اس بارے میں چین کے سی ڈی سی سے اطلاعات مل گئی تھیں؟

ڈاکٹر بینیٹ: میں سمجھتی ہوں کہ چین کے تجربے سے بہت سے سبق سیکھے گئے ہیں۔ ہم چین سے آنے والی معلومات کے مطابق اقدامات کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ناصرف اندرون ملک اقدامات میں مدد ملے بلکہ دوسرے ممالک میں ہماری سرگرمیوں کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔ ہم ڈبلیو ایچ او کے اس مشن کا حصہ تھے جو اس وائرس کے بارے میں مزید جاننے اور اس کی شدت اور پھیلاؤ سے بہتر طور پر آگاہ ہونے کے لیے چین گیا تھا۔ سی ڈی سی کے عملے اور اس مشن کے دیگر ارکان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

نگران: اگلے سوال کے لیے ہم شوجن یو سے بات کریں گے۔

ہمیں چین کے ساتھ سی ڈی سی کے تعاون کے بارے میں بتائیے۔ آپ کے خیال میں اس وقت سی ڈی سی اور چین کون سے شعبے میں اکٹھے کام کر سکتے ہیں جبکہ چین پہلے ہی صورتحال پر قابو پا چکا ہے اور امریکہ کو اب اس وبا کا مرکز بننا ہے؟ کیا دونوں ممالک کے مل کر چلنے میں کوئی رکاوٹیں بھی ہیں؟ شکریہ۔

ڈاکٹر بینیٹ: سی ڈی سی اور امریکی حکومت طویل عرصہ سے صحت عامہ سے متعلق سرگرمیوں بشمول امریکہ، چین اور دیگر ممالک میں وباؤں سے نمٹنے میں تعاون کرتے چلے آئے ہیں۔ ہم چین سے اس وبا کے خلاف بہترین طریقہ ہائے کار اور اسباق کے تبادلے کے منتظر ہیں تاکہ ان اقدامات کو امریکہ میں وبا پر قابو پانے میں استعمال کر سکیں اور دیگر ممالک میں بھی ایسے بہترین طریقہ ہائے کار لاگو کر سکیں جن کی بدولت بیماری کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے۔

نگران: اگلا سوال گونزالو زیگارا کریں گے۔ جی بات کیجیے، آپ کی لائن کھلی ہے۔

سوال: صبح بخیر۔ دنیا ایسی حالت میں ہے کہ ہر ملک کا اپنا طریقہ کار ہے اور (ناقابل سماعت) دیگر طبی معائنوں کے منفی نتائج کی تعداد نہیں بتاتے۔ ایسی صورتحال میں سی ڈی سی وبا کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لیے کیسے کام کرے گا؟

ڈاکٹر بینیٹ: یہ درست ہے کہ مختلف ممالک بیماری کے حوالے سے جانچ کے مختلف طریقہ ہائے کار استعمال کر رہے ہیں اور ہر ملک میں وائرس کی نشاندہی اور اس کے پھیلاؤ کی بابت مزید جاننے کے لیے ایک دوسرے سے مختلف ٹیس کٹس سے کام لیا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں اس وقت ہمارے لیے یہ بات سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہم بہتر اقدامات کے لیے مریضوں کی تعداد سے قطع نظر ممالک کے ساتھ مل کر چلیں اور دستیاب بہترین طریقہ ہائے کار سے کام لیں، پہلے سے اس وبا کا مقابلہ کرنے والے ممالک کے تجربات سے سیکھیں جن کی بدولت ہم اس وائرس کو پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔

نگران: اگلے سوال کے لیے ہم میلو ایکونا سے بات کریں گے۔

سوال: میرا تعلق فلپائن سے ہے۔ آپ کوویڈ۔19 کو روکنے کے لیے مختلف حکومتوں کے ساتھ اپنی شراکت میں کس قدر کامیاب رہے جہاں ثقافتی فرق پائے جاتے ہیں اور اس وبا سے کون سے سبق سیکھے گئے؟ شکریہ۔

ڈاکٹر بینیٹ: کسی وبائی بیماری کے خلاف ردعمل میں مخصوص علاقوں کے ثقافتی و سماجی فرق ذہن میں رکھنا واقعتاً اہم ہوتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اسی لیے حکومتوں اور شراکت داروں کا ڈبلیو ایچ او اور سی ڈی سی کی رہنمائی سے واقف ہونا اہم ہے اور اس حوالے سے تمام تر مواد ان اداروں کی ویب سائٹس پر موجود ہے۔ ہر ملک کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ملک میں اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اس رہنمائی سے بہتر طور پر کیسے کام لے سکتا ہے۔

ہمارے سی ڈی سی کے پاس بہت سے ممالک میں اپنا عملہ موجود ہے جو حکومتوں کو یہ مدد دینے کے لیے پرعزم ہے کہ ان اقدامات سے کام لینے اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بہتر طریقہ کون سا ہے۔

نگران: شکریہ۔ سرجیو مورالز آخری سوال کریں گے۔

سوال: میں گوئٹے مالا سے بات کر رہا ہوں۔ ہمارے ہاں بنیادی تشویش یہ ہے کہ وائرس دوسری جگہوں سے ملک بدر ہو کر آنے والوں کے ذریعے ملک میں داخل ہو گا۔ کیا آپ جانتی ہیں کہ اس کی روک تھام کے لیے تارکین وطن کے حراستی مراکز میں کس طرح کا علاج میسر ہے؟

ڈاکٹر بینیٹ: بہت سے ممالک نے وائرس کا اپنے ہاں داخلہ روکنے کےلیے سفری  پابندیوں سے کام لیا ہے۔ تاہم سی ڈی سی اور ڈبلیو ایچ او یہ سمجھتے ہیں کہ محض سفری پابندیاں دنیا بھر میں کوویڈ۔19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک کو اپنے ہاں وائرس کی موجودگی میں اس کا پھیلاؤ روکنے کے طریقوں پر غور کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او اور سی ڈی سی کی ویب سائٹس پر بہت سی دستاویزات موجود ہیں۔ تمام ممالک اپنے تناظر میں ان دستاویزات میں دیے گئے طریقہ ہائے کار اپنا سکتے ہیں۔ سی ڈی سی ان ممالک کو یہ رہنمائی دینے میں پرعزم ہے کہ کون سے سے ملک میں کون سے طریقہ ہائے کار سے کام لینا بہتر ہو گا۔

نگران: آپ کا بے حد شکریہ۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس سوالات کے لیے یہی وقت تھا۔ مجھے علم ہے کہ ابھی بہت سے لوگ سوالات کی قطار میں موجود تھے، اس لیے جن کا سوال نہیں لیا جا سکا ان سے ہم معذرت چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر بینیٹ نے آج دیگر کام بھی کرنا ہیں۔

ڈاکٹر بینیٹ کیا آپ آخر میں کچھ کہنا چاہیں گی۔

ڈاکٹر بینیٹ: اس کال میں شمولیت پر آپ سبھی کا شکریہ۔ دنیا بھر کے ممالک کی مدد کے لیے سی ڈی سی اپنا کام کرتا رہے گا اور جب تک ہر ملک کوویڈ۔19 سے پاک نہیں ہو جاتا اس وقت تک ہم سب خطرے میں ہیں۔ براہ مہربانی تسلسل سے اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے دھونے، ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور بیماری کی صورت میں گھر پر رہنے نیز آج بیان کردہ دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے اس بیماری سے بچاؤ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

ہمارے ساتھ شمولیت پر تمام صحافیوں کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔ صحت مند رہیے، محفوظ رہیے۔

نگران: ڈاکٹر بینیٹ، آپ کا بے حد شکریہ۔ اس کے ساتھ ہی آج کی کال ختم ہوتی ہے۔ میں اس میں شرکت پر ڈاکٹر بینیٹ اور کال کے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ نے اس کال کے حوالے سے کوئی سوال کرنا ہو تو آپ [email protected] پر عالمی میڈیا سے متعلق دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ کا بے حد شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں