rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا مشرقی ایشیا اور الکاہل خطے کے میڈیا اداروں کے صحافیوں سے مذاکرہ

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا مشرقی ایشیا اور الکاہل خطے کے میڈیا اداروں کے صحافیوں سے مذاکرہ
یکم اپریل 2020

 

مس والش: تو ہم پہلا سوال ‘سٹریٹ ٹائمز’ کی نرمل گھوش سے لیں گے۔

سوال: صبح بخیر جناب وزیر خارجہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: صبح بخیر۔

سوال: کیا آپ کو میری آواز سنائی دے رہی ہے؟

وزیر خارجہ پومپیو: جی میں آپ کو اچھی طرح سن سکتا ہوں، جناب۔

سوال: ٹھیک ہے۔ میں سٹریٹ ٹائمز سے نرمل گھوش بات کر رہی ہوں۔ آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ وبا کے بعد یا کم از کم اس وبا سے پیداشدہ بحران کے بعد امریکہ۔چین تعلقات کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا ان تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے یا یہ پہلے بھی بدتر صورت اختیار کر سکتے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپیو: دیکھیے، بحران کے اس موقع پر ہم چین کے ساتھ کام کرنے کا ہر موقع ڈھونڈنا جاری رکھیں گے۔ ہمارے مابین اہم معاشی تعلقات ہیں۔ اس بحران سے کچھ ہی عرصہ پہلے ہم نے تجارتی معاہدے کا پہلا حصہ مکمل کیا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ اس کا دوسرا حصہ بھی جلد پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ تاہم چین کے حوالے سے بے پایاں مسائل بھی ہیں اور ایسے معاملات بھی ہیں جن کے بارے میں صدر نے نشاندہی کی ہے کہ وہاں برابری کی بنیاد پر لو اور دو کا وجود نہیں ہے۔ ہم نے تجارت کے میدان میں یہ سب کچھ دیکھا ہے۔ہم نے صحافیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور اطلاعات کی آزادی کے معاملے میں یہ سب کچھ دیکھا ہے کہ سرحدوں سے پار اور خطے بھر کے حوالے سے اس کی کیا صورتحال ہے۔

لہٰذا جیسا کہ ہم نے موجودہ حکومت کے آغاز میں ہی دیکھ لیا تھا، یہ امریکہ کے لیے ایک حقیقی تزویراتی حریف ہے۔ میں یہ توقع نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ تبدیل ہو جائے گا مگر ہم نے بعض باتیں ضرور سیکھی ہیں۔ ہم نے یہ امر یقینی بنانے کے لیے امریکہ کی ضرورت کے بارے میں چند باتیں سیکھی ہیں کہ ہمارے پاس خاطرخواہ وسائل ہوں جنہیں ہم ایسی صورتحال کے لیے بھی برقرار رکھ سکیں۔

سوال: شکریہ۔

مس والش: شکریہ جناب۔ ‘بینکاک پوسٹ’ سے کورنچانوک اگلا سوال کریں گے۔

سوال: (ناقابل سماعت) جیسا کہ امریکہ میں کوویڈ کے پھیلاؤ کی رفتار خاصی  تیز ہے تاہم، وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کا تھائی لینڈ اور آسیان ممالک کے ساتھ تعاون کے حوالے سے کیا منصوبہ ہے؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں آپ کے سوال قدر کرتا ہوں۔ ہم نے اس حوالے سے بہت سا کام کیا ہے۔ میرے نائب ناصرف جنوبی ایشیا اور ایشیا بلکہ پورے جنوبی وسطی ایشیا اور وسطی ایشیا سمیت خطہ ہندوالکاہل کے تمام ممالک میں ہر ہفتے ٹیلی فون پر بات کرتے ہیں۔ ہمیں یہاں پیش آنے والے معاملات اور وسطی ایشیائی ممالک میں وائرس سے لاحق خطرات پر بے حد تشویش ہے۔ ہم نے اس حوالے سے ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہم نے نہایت معقول امداد کا اعلان کیا جو قریباً 274 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اسے 64 ممالک میں ترجیحی طور پر تقسیم کیا جائے گا۔ اس کا بڑا حصہ خطہ ہندوالکاہل کو دیا جانا ہے، خواہ اس سے ۔۔ ان ممالک کو وبا کے خلاف تکنیکی مدد اور بیماری کا پتا چلانے کی اہلیت برقرار رکھنے میں معاونت ملے گی۔ بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ وہ تمام معاملات ہیں جن کے بارے میں ہم اب مجموعی طور پر سیکھ چکے ہیں۔ یہ وسائل بنگلہ دیش سے برما اور کمبوڈیا سے انڈیا اور قازقستان تک بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ مدد خطے میں ہر جگہ مہیا کی جانا ہے۔ مجھے امید ہے کہ امریکہ ان ممالک کو اس مشکل وقت میں نکلنے سے مدد دینے کے لیے سب سے بڑے شراکت دار کی حیثیت سے ہر جگہ موجود ہو گا۔

لہٰذا ہم ان سے روزانہ بات کرتے ہیں۔ میں نے ہفتے کے اختتام پر سنگاپور کے اپنے ہم منصب سے بات کی۔ شاید یہ جمعے کا دن ہو۔ ہم ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ سنگاپور کے تجربات اور اس کی کامیابی سے سیکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ انہیں دفتر خارجہ اور پوری حکومتی کوششوں کے ذریعے مدد فراہم کریں جن میں سے بہت سے ملکوں کے پاس علاج معالجے کا خاطرخواہ بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے اور جو معقول مدد کے بغیر آنے  والے مسائل سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ہم ان ممالک کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہیں۔

آپ نے چین کے بارے میں بھی پوچھا ہے۔ ہم چین کو مدد اور معاونت کی پیشکش کرنے والا پہلا ملک یا چند پہلے ممالک میں سے ایک تھے۔ ہم نے وبا پھوٹنے کے بعد چند روز میں ہی ووہان میں مدد بھیجی۔ ہم نے ناصرف انہیں بلکہ کثیرملکی اداروں، ڈبلیو ایچ او اور چین نیز خطے بھر میں کام کرنے والے متعدد کثیر ملکی اداروں کے ذریعے تکنیکی، علاج معالجے سے متعلق اور پیشہ وارانہ معاونت کی پیشکش کی۔

مس والش: شکریہ جناب۔ اگلے سوال کے لیے ہم ‘وائس آف امریکہ’ کے نائیکے چنگ سے رجوع کریں گے۔

وزیر خارجہ پومپیو: ہیلو۔

سوال: ہیلو، جناب وزیر خارجہ صبح بخیر۔ ٹیلی فون مذاکرے کے انعقاد پر آپ کا بے حد شکریہ۔ چین کی جانب سے عالمی ادارہ صحت میں اپنے بیانیے پر زور دینے کے معاملے میں امریکہ کا ردعمل کیا ہو گا؟

اس کے علاوہ اگر اجازت ہو تو مجھے یہ پوچھنا ہے کہ چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے ایس 1678 کو قانون کی شکل دی جسے تائپے قانون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قانون امریکہ سے  تقاضا کرتا ہے کہ وہ تائیوان کو عالمی اداروں میں آبزرور کا درجہ دینے کی حمایت سمیت مخصوص اقدامات اٹھائے گا۔

جناب وزیر خارجہ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ صحت کے عالمی ادارے میں تائیوان کو آبزرور کا درجہ دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں؟ دفتر خارجہ اس امریکی قانون کی تعمیل کے لیے کس قدر تیار ہے؟ شکریہ۔ بہت شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ۔ دونوں سوالوں کے لیے شکریہ۔ میں آپ کے دوسرے سوال کا جواب پہلے دینا چاہوں گا۔

صدر نے قانون پر دستخط کیے۔ انہوں نے بخوشی یہ سب کچھ کیا۔ وہ اس کے مندرجات سے خوش ہیں۔ اب یہ امریکی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے ہر حصے پر عمل کرے اور اس میں یہ امر یقینی بنانے کے لیے کام کرنا بھی شامل ہے کہ ہر ادارے میں ۔۔ آپ نے خاص طور پر ڈبلیو ایچ او کا ذکر کیا ۔۔ کہ ہر ادارے میں جہاں تائیوان میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق کوئی چیز سامنے آئے گی، وہاں ہم اسے اپنا مناسب کردار ادا کرنے میں مدد دینے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ ہم ایسا ہی کریں گے۔ ہم اس پر پوری طرح عمل کریں گے۔ ہمارے خیال میں یہ اہم ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کانگریس نے یہ قانون منظوری  کے لیے صدر کو بھیج دیا۔

آپ کا پہلا سوال اس وقت کوویڈ۔19 کے حوالے سے غلط اطلاعات پھیلانے کی مہمات سے ہے جو اس وقت دنیا بھر میں جاری ہیں۔ یقیناً اس معاملے پر ہماری نظر ہے۔ ہم نے ناصرف ایران اور روس بلکہ چین اور دوسرے ممالک کی جانب سے بھی ایسا بیانیہ دیکھا ہے۔ یہ بیانیے ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر ان سب میں ایک ہی کوشش نظر آتی ہے کہ ذمہ داری سے پہلو تہی کی جائے اور دنیا میں وائرس کی شروعات اور ممالک کی جانب سے اس وبا کے مقابلے کے طریقوں اور واقعتاً دنیا بھر میں مدد فراہم کرنے والے ممالک کے حوالے سے شبہات پھیلانے کی کوشش کی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے بیانیوں کو درست کیا جانا اہم ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایسی غلط اطلاعات کے حوالے سے ریکارڈ کو واضح طور پر درست کیا ہے اور ہم بھی ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اہم معاملہ ہے۔

معلومات کا آزادانہ بہاؤ بے حد اہم ہے۔ اب جبکہ ہم اس وبا کا مقابلہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور اس کا سامنا کر رہے ہیں تو یہ امر یقینی بنانا آج بھی اہم ہے۔ میں نے لوگوں کو غلط اطلاعات پر بات کرتے سنا ہے اور وہ صرف اسی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ آغاز میں کیا ہوا تھا۔ تاہم شفافیت، واضح معلومات اور بیماری سے متاثرہ افراد کی نشاندہی کے بعد ان کے حوالے سے درست اطلاع کی ضرورت، اور جیسا کہ لوگ دنیا بھر میں چیزیں بھیج رہے ہیں تو ایسے میں یہ دیکھنا کہ ایسی چیزیں اعلیٰ معیار کی حامل اور کارآمد ہیں یا نہیں، اور یہ کہ ہم دنیا بھر میں ایسی اطلاعات پھیلانے والے نظام کا درست طور سے پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چنانچہ یہ نہایت اہم ہے کہ ہمارے پاس شفافیت ہو۔

اسی لیے جب چین نے مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو چین سے باہر نکالا تو ہم نے ایک بیان جاری کیا۔ ہم نے سوچا  کہ یہ ناصرف اس لیے غلط اقدام تھا کہ ہم یہاں امریکہ میں اطلاعات کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں بلکہ یہ اس لیے بھی غلط تھا کہ اس سے ہماری یہ اندازہ لگانے کی صلاحیت محدود ہو جاتی کہ چین اور خطے بھر میں کیا ہو رہا ہے۔

درست معلومات کے حصول کی خاطر ہم نے ہر وقت یہی بات کی ہے، خواہ یہ لوگوں کے ٹیسٹ لیے جانے کا معاملہ ہو، مصدقہ مریضوں کی تعداد ہو، شرح اموات یا ممکنہ علاج معالجہ، ہم نے یہ بات یقینی بنانے کی کوشش کی کہ معلومات، درست، بروقت اور اس انداز میں سامنے آئیں جو باآسانی قابل فہم اور سراغ پذیر ہو تاکہ ہم ان معلومات کو درست ٹھہرا سکیں۔ یہ ایک عالمگیر وبا ہے۔ اس مسئلے کے حل کا دارومدار دنیا بھر میں لوگوں کے مل کر کام کرنے پر ہے۔ اس لیے حکومتوں کی جانب سے غلط اطلاعات پھیلانے کی کوششوں سے انسانی زندگیاں بچانے کےلیے دنیا کی صلاحیت کو نقصان پہنچتا ہے۔

مس والش: شکریہ جناب۔

سوال: آپ کا بے حد شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ۔

مس والش: ‘ملائشیاکینی’ سے مارٹن اگلا سوال کریں گے۔

سوال: جی، ہیلو وزیر خارجہ۔ (ناقابل سماعت)

وزیر خارجہ پومپیو: ہیلو مارٹن۔

سوال: ہیلو، ٹھیک ہے، آپ نے ثبوت کا تذکرہ کیا، غلط اطلاعات کا، خاص طور پر ایران، روس اور چین کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط اطلاعات۔ کیا آپ کے پاس مرنے والوں کی تعداد جیسے معاملات کا کوئی ثبوت موجود ہے؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں معذرت چاہتا ہوں۔ کیا آپ کی مراد ان تین ممالک میں وبا سے مرنے والوں کی تعداد سے ہے؟

سوال: جی ہاں۔ کیا ان ممالک نے اس حوالے سے غلط اطلاعات دی ہیں اور کیا امریکہ کے پاس اس کا کوئی ثبوت موجود ہے؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہم نے اس بارے میں میڈیا میں آنے والی اطلاعات دیکھی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایسی اطلاعات ان حکومتوں کی جانب سے آ رہی ہیں۔ ہم نے تواتر سے جو بات کہی ہے وہ یہ کہ جب آپ امریکہ اور اس کے ہاں پیش آنے والے واقعات کو جانچنے کے حوالے سے اس کی اہلیت پر غور کرتے ہیں تو یہ نہایت اہم بات نظر آتی ہے۔ ہم درست اطلاع دیتے ہیں۔ ہم اپنے ہاں پیش آنے والے ہر واقعے سے دنیا کو کھل کر آگاہ کرتے ہیں تاکہ پوری دنیا اس سے واقف ہو جائے۔ ہم بحران میں بھی اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ چیزوں کی درست نشاندہی کی جائے اور بتایا جائے کہ ہم اس وبا کا پھیلاؤ سست کرنے اور لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے کون سے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ ہر ملک اپنی معلومات کا تبادلہ کرے۔ جب ہمارے پاس بہت سی معلومات ہوں گی تو دنیا بھر میں تکنیکی ماہرین، ڈاکٹر، سائنس دان اور  طبی محققین ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے مسئلے کا ایسا حل پیش کریں گے جو بالاآخر یہ فیصلہ کرنے میں بنیادی عنصر ثابت ہو گا کہ یہ بحران کس حد تک جائے گا۔

اسی لیے، خواہ یہ ایران میں ہو، شمالی کوریا میں یا دنیا میں کہیں بھی، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ممالک ناصرف اپنے ہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد کے حوالے سے درست معلومات سامنے لائیں گے اور مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں بھی درست اعدادوشمار پیش کریں گے بلکہ وبا کی شدت میں کمی لانے کے لیے اپنے اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے تاکہ ہم اس حوالے سے عالمی سطح پر موثر جوابی اقدامات کر سکیں۔

سوال: ٹھیک ہے، شکریہ۔

مس والش: شکریہ جناب۔ ہم ‘یون ہاپ’ کی ہایا لی سے اگلا سوال لیں گے۔

سوال: جناب وزیر خارجہ صبح بخیر۔ مذاکرے کے لیے شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: ہیلو، جی محترمہ۔

سوال: شمالی کوریا نے چند گھنٹے پہلے ایک بیان جاری کیا ہے کہ ایک جانب صدر ٹرمپ نے اسے کوویڈ۔19 کی وبا میں مدد کی پیشکش پر مبنی خط بھیجا ہے جبکہ دوسری جانب آپ نے جوہری پروگرام پر شمالی کوریا کے خلاف جی7 ممالک کی جانب سے دباؤ ڈالے جانے سے متعلق لاپرواہانہ بیان دیا ہے۔ شمالی کوریا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپ کے بیان نے مذاکرات میں اس کی دلچسپی کم کر دی ہے۔ اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟  کیا آپ کے پاس شمالی کوریا کو کوویڈ۔19 کے حوالے سے مدد دینے کا کوئی خاص منصوبہ ہے؟ مزید یہ کہ کیا آپ سمجھتے ہیں جنوبی کوریا کی حکومت نے اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں؟ شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: کیا آپ نے جنوبی کوریا کا نام لیا، کیا جنوبی کوریا کی حکومت نے مناسب اقدامات کیے؟

سوال: آخری حصہ، جی، جنوبی کوریا کی حکومت ۔۔۔۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی، جی، آخری حصہ، جی۔ دیکھیے، شمالی کوریا کے بارے میں صدر اور میرا پہلے دن سے یکساں موقف رہا ہے۔ جب سے میں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہیں بات چیت کے لیے آمادہ کرنے کی غرض سے شمالی کوریا کا پہلا دورہ کیا تو اسی وقت سے ہم نے انہیں اپنے ساتھ رکھنے کی اپنی بہترین کوشش کی ہے۔ جب دونوں رہنما پہلی مرتبہ سنگاپور میں ملے تو انہوں نے بہت سے اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔ اس موقع پر چار بڑے عہد کیے گئے تھے جن میں شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنا اور شمالی کوریا کے عوام کے لیے ایک وسیع تر مستقبل شامل تھا۔ ہمیں یہ سب کچھ اچھی طرح یاد ہے۔ امریکہ کی جانب سے ہم ان مذاکرات کی بنیاد پر معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے تندہی سے کوشش کرتے چلے آئے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں یہ مسئلہ حل کرنے کا موقع میسر آئے گا۔

اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا موقف بھی واضح رہا ہے کہ جب تک ہم اس مقام پر نہیں پہنچ جاتے، جب تک خاطرخواہ پیش رفت نہیں ہو جاتی اس وقت تک پابندیاں جاری رہیں گی۔ یہ امریکہ کی پابندیاں نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عائد کردہ پابندیاں ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمیں دوبارہ شمالی کوریا کی قیادت کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملے گا اور ہم شمالی کوریا کے عوام کے روشن مستقبل کی راہ ہموار کریں گے۔ ہماری کوششوں کے آغاز سے ہی صدر ٹرمپ کا یہی موقف رہا ہے۔

جہاں تک شمالی کوریا اور کوویڈ۔19 کے حوالے سے ہماری کوششوں کا تعلق ہے تو ابتدا ہی سے جب یہ عیاں تھا کہ شمالی کوریا کو ممکنہ طور پر مسائل کا سامنا ہو گا، اسی وقت سے ہم نے انہیں مدد کی پیشکش کر دی تھی۔ ہم نے یہ پیشکش ورلڈ فوڈ بینک کے ذریعے کی۔ یہ پیشکش براہ راست کی گئی تھی اور ہم نے دیگر ممالک کی بھی ایسی ہی معاونت کی۔ ہم نے واضح کر دیا تھا کہ ہم یہ امر یقینی بنائیں گے کہ ہماری مدد ہر ملک تک پہنچے۔

جنوبی کوریا کی جانب سے کوویڈ وائرس کے خلاف اقدامات سے متعلق سوال کا جواب میں دوسروں پر چھوڑتا ہوں۔ اس حوالے سے میں صرف یہی کہوں گا کہ انہوں نے اس حوالے سے خاصی موثر کوشش کی ہے۔ ہمیں موصول ہونے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی  کوریا والوں نے اپنے ہاں وبا کے عروج میں معاملات کو احسن طریقے سے سنبھالا جس پر وہ ستائش کے مستحق ہیں۔

سوال: شکریہ۔

مس والش: شکریہ جناب۔ ‘اے بی ایس۔سی بی این’ سے کرسچین ایسگوئرا اگلا سوال کریں گے۔

سوال: جناب وزیر خارجہ، صبح بخیر۔ سوالات کا موقع دینے پر آپ کا بے حد شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی یقیناً، آپ کیسے ہیں؟

سوال: ٹھیک، میں اچھا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس وقت دنیا کے ممالک کی مدد کرنے اور کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے رہنمائی دینے کے حوالے سے اس وقت امریکہ کے لیے عالمی سطح پر اپنا قائدانہ کردار سامنے لانا کس قدر اہم ہے؟ اپنے ہاں وائرس کا سدباب کرنے کی کوششوں کے ہوتے ہوئے امریکہ کے لیے یہ سب کچھ کرنا کتنا مشکل ہو گا؟ یقیناً آپ نے الکاہل خطے کے تمام ممالک کو دی جانے والی امریکی امداد کا تذکرہ کیا ہے۔ کیا آپ خاص طور پر بتا سکتے ہیں کہ فلپائن کو کتنی مدد دی گئی ہے؟ شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: جہاں تک آپ کے تیسرے سوال کا تعلق ہے تو میں یقینی بناؤں گا کہ مورگن اور ان کی ٹیم آپ کو تفصیلات مہیا کرے کہ ہم نے فلپائن کو کتنی امداد دی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ہم نے پہلے ہی وہاں بہت سا کام کیا ہے مگر جہاں تک امداد سے متعلق اعدادوشمار کی بات ہے تو وہ اس وقت میرے سامنے موجود نہیں ہیں۔ میں یہ یقینی بناؤں گا کہ یہ معلومات آپ تک پہنچ جائیں اور آپ کو اس امداد کی نوعیت کے بارے میں بھی تفصیلات مہیا کی جائیں گی۔

جہاں تک آپ کا پہلا سوال ہے تو امریکہ دنیا میں انسانی امداد مہیا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ میرا مطلب ہے کہ یہ ہماری روایت ہے۔ آپ حساب کتاب دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ واضح ہے۔ خواہ یہ براہ راست دوطرفہ معاونت ہو یا یہ اقوام متحدہ یا عالمی ادارہ صحت یا کسی اور کثیرملکی ادارے کے ذریعے ہمارا امدادی کردار ہو، درحقیقت امریکہ نے اس ضمن میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کوویڈ۔19 کے حوالے سے بھی یہی حقیقت ہو گی۔

ہم ان لوگوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان لوگوں اور ان کے ملکوں کو لاحق خطرہ محدود کرنا چاہتے ہیں۔ جب آپ یہ دیکھتے ہیں کہ ہم مجموعی طور پر اس کے خلاف کیا اقدامات کریں گے تو اس ضمن میں بھی امریکہ ہمیشہ بہترین کردار ادا کرے گا۔ اس حوالے سے ہم جو اہم ترین قدم اٹھائیں گے ان میں اس وائرس سے بری طرح متاثر ہونے والی معیشتوں کے لیے اچھے معاشی نتائج کی فراہمی شامل ہو گی۔

اگر آپ تاریخ پر نظر ڈالیں ، خواہ یہ 1960 کی دہائی ہو یا 1990 کی دہائی کے ایشین ٹائیگر ہوں، امریکہ نے الکاہل خطے میں اپنے نجی شعبے کے ذریعے ہمیشہ بہترین کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے بیرون ملک براہ راست سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ایشیا میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اس وبا کے بعد امریکہ ناصرف انسانی امداد کے سلسلے میں یہاں موجود ہو گا بلکہ امریکی ہنرمندی، امریکی کاروبار اور امریکی نجی شعبہ بھی ان ممالک میں لوگوں کو کاروبار کو دوبارہ ترقی کے راستے پر لانے، ان کی نوکریاں موزوں سطح پر لانے اور معیشتیں بحال کرنے میں مدد دے گا۔ ہم حکومتی اور نجی شعبے کی سطح پر یہ سب کچھ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مس والش: شکریہ جناب۔ ‘اساشی شمبن’ سے تاکاشی واتانابے اگلا سوال کریں گے۔

سوال: ہیلو، جناب وزیر خارجہ آپ کا شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ۔

سوال: میں معذرت چاہتا ہوں۔ اطلاعات کے مطابق جی7 کے وزرائے خارجہ اس لیے مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکے کیونکہ امریکہ نے کرونا وائرس کو ووہان وائرس کہنے پر اصرار کیا تھا اور بعض ممالک کو اس پر اعتراض تھا۔ کیا آپ اس کی وضاحت کر سکتے ہیں اور اس وقت آپ کی کیا بات ہوئی تھی؟

وزیر خارجہ پومپیو: جی، بدقسمتی سے یہ خاصی غلط اطلاعات تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا جی7 اجلاس بھرپور طور سے کامیاب رہا۔ اس اجلاس میں سبھی کا یقین تھا کہ جی7 گروپ کا رکن ہونے کے ناطے کوویڈ۔19 وبا کا مقابلہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں یہ سب کچھ اس انداز میں کرنا ہے کہ اپنی ٹیکنالوجی، وسائل اور منڈیوں کی صورت میں مغربی ممالک بہترین انداز میں اس مسئلے کے ایسے حل پیش کریں جس سے پوری دنیا کو فائدہ پہنچے۔

ہم نے غلط اطلاعات پھیلائے جانے کی مہمات کے بارے میں بھی تفصیل سے بات چیت کی مگر میرا خیال ہے کہ یہ پہلا یا دوسرا سوال تھا جو آج مجھ سے کیا گیا ہے۔ ہم نے اس پر خاصی لمبی چوڑی بات کی۔ یورپی ممالک نے واضح کیا کہ انہیں بھی اس کا خاصا تجربہ ہو رہا ہے۔ ایک وزیر نے مجھے بتایا کہ غلط معلومات پر مبنی مہم کے باعث یورپی ممالک کو افریقہ میں دق کیا جا رہا ہے کیونکہ ایک ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ وائرس یورپ میں کسی جگہ تخلیق کر کے دنیا میں پھیلایا گیا ہے۔ چنانچہ جی 7 کے رکن ممالک بھی شفافیت، درست اطلاع اور بروقت معلومات کی اہمیت سے آگاہ ہیں تاکہ دنیا سمجھ لے کہ درحقیقت کیا ہوا ہے تاکہ یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ (الف) ایسا دوبارہ نہ ہونے پائے اور (ب) ہم اس بحران کو بہترین طور سے حل کرنے کے اقدامات کا فوری تعین کر سکیں۔

اجلاس میں اس معاملے پر مکمل اتفاق پایا گیا۔ مجھے علم نہیں کہ ڈیرشپیگل میں شائع ہونے والی یہ خبر انہیں کہاں سے ملی۔ اگر آپ کانفرنس کے بعد جی7 ممالک میں سے ہر ایک کے نمائندے کے بیانات کا جائزہ لیں تو ان میں اس بحران کو حل کرنے، اپنے ملکوں کی تعمیر نو اور دنیا کو دوبارہ پہلی حالت میں لانے کے لیے اتفاق پایا گیا۔

مس والش: شکریہ جناب۔ ‘دی آسٹریلین’ کے کیمرون سٹیوارٹ اگلا سوال کریں گے۔

سوال: جناب وزیر خارجہ آپ کا شکریہ۔ میں ‘فائیو آئیز الائنس’ میں امریکہ کے ساتھ آسٹریلیا کے قریبی انٹیلی جنس تعلقات کے تناظر میں یہ سوال پوچھ رہا ہوں۔ کیا اس وبا کا نقشہ تیار کرنے، اس کی پیشگوئی یا اس کا مقابلہ کرنے کے کسی اور اقدام کے لیے اس اتحاد سے کوئی کام لیا گیا ہے یا یہ کسی طرح مفید ثابت ہوا ہے یا نہیں؟

وزیر خارجہ پومپیو: یہ بہت اچھا سوال ہے اور سی آئی اے کا سابق ڈائریکٹر ہونے کے ناطے میں انٹیلی جنس کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں کروں گا۔ تاہم مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ میں اس تعلق سے اچھی طرح واقف ہوں۔ مجھے ‘فائیو آئیز’ کے تعلق کی اہمیت کا اندازہ ہے۔

میں اس حوالے سے جاری سرگرمیوں کے بارے میں کوئی معلومات ظاہر کیے بغیر بے حد پراعتماد ہوں کہ فائیو آئیز نے ہم سب کو ان پانچ ممالک کے بارے میں وبا کے حوالے سے مجموعی سمجھ بوجھ میں بے حد مدد دی ہے۔ ہم ان معلومات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کریں گے جو اس وبا کو سمجھنے میں بے حد مددگار ثابت ہوں گی۔ ان معلومات کی بدولت ہم اس وبا کے بارے میں درست اندازے لگا سکیں گے اور ان کی روشنی میں ایک دوسرے کو اچھے نتائج تک پہنچنے میں مدد دیں گے۔ میں نے ڈیڑھ سال تک سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے فائیو آئیز کے طریقہ کار کو موثر نتائج کا حامل دیکھا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس بحرانی دور میں بھی ایسا ہی ہو گا۔

سوال: شکریہ۔

مس والش: شکریہ جناب۔ اگلے سوال کے لیے ہم ‘نیوزی لینڈ ہیرالڈ’ کے آڈرے ینگ سے بات کریں گے۔

سوال: صبح بخیر۔

وزیر خارجہ پومپیو: ہیلو، صبح بخیر۔

سوال: ہیلو، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کوویڈ بحران گزرنے جانے کے بعد اس سے متاثرہ ممالک کی اندرون ملک توجہ بڑھ جائے گی اور شاید وہ کھلی عالمگیر تجارت اور عالمی سطح پر باہم مل کر چلنے سے مزید گریزاں ہوں گے؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں سمجھتا ہوں کہ ہر ملک اپنے ہاں حالات پر نظر ڈالے گا کہ اس نے وبا کے دوران کیا کچھ کیا اور وہ اس بحران کے لیے کس قدر تیار تھا، کیا انہوں نے درست فیصلہ کیا، کیا ان کے ہاں مناسب انفراسٹرکچر اور وسائل موجود تھے، کیا انہوں نے اس طرح کے بحرانوں سے لاحق خطرات کے بارے میں درست اندازہ لگایا۔ میرے خیال میں ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے تخمینے لگائے۔

تاہم میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی دنیا ہے جہاں تجارت انتہائی اہم ثابت ہو گی۔ مگر میرا خیال ہے کہ ہر ملک کو اپنے وسائل دیکھنا پڑیں گے جیسا کہ صدر ٹرمپ نے تجارت کے حوالے سے بات کی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب بہت سے ممالک دیکھیں گے کہ صدر ٹرمپ درست تھے۔ انہوں نے تجارتی میں دوطرفہ برابری اور منصفانہ طرزعمل جیسے تمام عناصر کی نشاندہی کی جن کی عدم موجودگی میں  تجارتی صورتحال غیرمتوازن ہو چکی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر ملک دیکھے گا کہ اس عدم توازن کے حقیقی اثرات سامنے آئیں گے اور ہم اس صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کریں گے۔

مس والش: جناب، مجھے علم ہے کہ آپ کے پاس وقت محدود ہے، اس لیے اب ہم آخری سوال لیں گے۔ یہ سوال ‘نکئی’ سے میکیو سوگینو کریں گی۔

سوال: جناب وزیر خارجہ صبح بخیر۔

وزیر خارجہ پومپیو: صبح بخیر۔

سوال: شکریہ۔ مجھے ایک سوال پوچھنا ہے۔ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر یکم جون کو اندرون ملک معاشی سرگرمی دوبارہ شروع کرنا چاہیں گے۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ امریکہ کو کتنے ہفتے یا مہینے اپنی عالمی سرحدیں بند رکھنا پڑیں گی؟ مثال کے طور پر کیا امریکہ انہیں جون میں یا اس کے بعد کھولنے پر غور کر رہا ہے؟ مزید یہ کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کے ہوتے ہوئے امریکہ کو سرحد دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرنا ہے؟

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ۔ یہ بہت اچھا سوال ہے۔ دیکھیے، میں ان میں کسی بھی معاملے کے حوالے سے وقت کی بابت کوئی اندازہ قائم نہیں کرنا چاہتا۔ صدر اور کرونا وائرس ٹاسک فورس کی ٹیم وبا کے خلاف امریکی اقدامات کے تمام عناصر کا روزانہ تجزیہ کر رہے ہیں اور پھر اس میں ہمارا کردار یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ہم باقی دنیا کے ساتھ درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ عالمی سطح پر ایک ہی سوچ پائی جاتی ہو کہ اس وبا سے کیسے نمٹنا ہے۔

جہاں تک امریکہ کی عائد کردہ سفری پابندیوں کا تعلق ہے تو ہم وقفوں سے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم تواتر سے انہیں دیکھیں گے اور پھر اس بارے میں درست فیصلہ کریں گے۔ یہ وہ فیصلہ ہو گا جس سے امریکی عوام کو تحفظ ملے گا اور جس سے عالمگیر معیشت  اور امریکی اقتصادیات جلد از جلد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں گی۔ جہاں تک وقت کا سوال ہے تو اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

سوال: شکریہ۔

مس والش: جناب، آپ کا بے حد شکریہ۔ ہم نے اپنے تمام شرکا سے ایک ایک سوال لیا۔ جناب وزیر خارجہ پومپیو، اب میں آپ سے کہوں گی کہ آیا آپ ہمارے صحافی ساتھیوں سے کچھ کہنا چاہیں گے۔

وزیرخارجہ پومپیو: آپ سبھی کا شکریہ۔ نہیں، مجھے شکریے کے لیے علاوہ آپ سے کچھ نہیں کہنا۔ مجھے امید ہے کہ آپ کے لیے یہ باتیں فائدہ مند ہوں گی۔ میں آپ کے لیے اچھے دن یا شام کی امید رکھتا ہوں۔ آج ہمارے ساتھ شمولیت پر آپ سبھی کا شکریہ۔ اب میں رخصت چاہوں گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں