rss

کوویڈ۔19 کے خلاف عالمی اداروں کے اقدامات میں امریکہ کا کردار

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
31 مارچ 2020

 

”جب بھی آپ کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کی جانب سے کوویڈ۔19 کے حوالے سے اعلیٰ معیار کی موثر امداد کی فراہمی دکھائی دے تو یہ امریکہ کے عوام اور ان لوگوں کی فیاضی ہو گی جو ہم جیسی انسانی اقدار کے مالک ہیں۔ ہم بڑی حد تک اقوام متحدہ میں بچوں کے فنڈ اور خوراک کے عالمی پروگرام جیسے اداروں کی سب سے زیادہ مالی معاونت کرنے والا ملک ہیں کیونکہ ہم ایسے موثر کثیرملکی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں جن کا مقصد اپنا سیاسی قد بڑھانا نہیں بلکہ ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہو۔ حقیقی عالمگیر قیادت اسے کہتے ہیں۔”

۔۔ وزیر خراجہ مائیکل آر پومپیو، 27 مارچ، 2020

امریکہ اقوام متحدہ اور بہت سے دوسرے عالمی اداروں کے ذریعے بحران کے خلاف اقدامات اور امدادی کارروائیوں میں بڑی حد تک سب سے زیادہ فیاض اور قابل اعتماد حصہ دار ہے۔ امریکہ کی جانب سے مالی اور سازوسامان کی صورت میں دی جانے والی  امداد، مہارت اور ٹیکنالوجی کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں ناگزیر اہمیت رکھتی ہیں۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے لیے امریکہ کی امداد

  • امریکہ 1948 میں عالمی ادارہ صحت کے قیام کے بعد اب تک اسے مالی معاونت فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔ 2019 میں ادارے کے مالی وسائل میں امریکہ کا حصہ 400 ملین ڈالر سے زیادہ تھا جو دوسرے سب سے بڑے حصہ دار ملک کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں چین نے ادارے کو 44 ملین ڈالر دیے۔
  • ڈبلیو ایچ او کوویڈ۔19 وبا کے خلاف عالمگیر اقدامات کو مربوط بنا رہا ہے اور دنیا بھر کے 149 ممالک میں موجود ہے۔ امریکہ کی مدد کے بغیر یہ وسیع البنیاد کوشش ممکن نہیں تھی۔
  • امریکہ اور دوسرے اہم شراکت دار جیسے برطانیہ، جرمنی، جاپان اور گیٹس فاؤنڈیشن نے کئی دہائیوں سے ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی تیاری، اقدامات کی صلاحیت اور مہارتوں کے شعبوں میں مالی وسائل مہیا کیے ہیں۔

اقوام متحدہ میں بچوں کے فنڈ (یونیسف) کے لیے امریکہ کی مالی معاونت

  • یونیسف کوویڈ۔19 وبا کے دوران چین کے لوگوں کو مدد مہیا کرنے والے پہلے اداروں میں شامل تھا۔ مثال کے طور پر 29 جنوری کو یونیسف نے شنگھائی میں صحت عامہ کے کارکنوں کو ووہان میں تقسیم کرنے کی غرض سے 6 میٹرک ٹن ماسک اور حفاظتی لباس مہیا کیے۔
  • یہ کوشش امریکہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ 2019 میں امریکہ نے یونیسف کو 700 ملین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل مہیا کیے جس کے مقابلے میں چین کا حصہ 16 ملین ڈالر رہا۔
  • یونیسف دنیا بھر میں اہم نوعیت کے طبی سازوسامان کی فراہمی ، پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کی خدمات کو وسعت دینے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ذرائع کی بابت آگاہی کے لیے ہنگامی اقدامات میں شریک ہے۔
  • امریکہ دنیا بھر میں بچوں کی صحت اور بہبود کو فروغ دینے کے لیے یونیسف کے ساتھ بھرپور انداز میں مصروف عمل ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) کے لیے امریکہ کی امداد

  • مہاجر آبادیوں کو خاص طور پر کوویڈ۔19 وبا سے خطرہ لاحق ہے اور امریکہ ‘یواین ایچ سی آر’ کی بے مثل مدد کر رہا ہے۔
  • 2019 میں امریکہ نے یواین ایچ سی آر کو قریباً تقریباً1.7 بلین ڈالر فراہم کیے جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمیں انسانوں کو درپیش مصائب کی فکر ہے خواہ یہ کہیں بھی پیش آئے  ہوں۔ چین نے اس مد میں 1.9 ملین ڈالر فراہم کیے تھے۔

خوراک کے عالمی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے لیے امریکہ کی مالی معاونت

  • خوراک کے عالمی پروگرام نے اپنے امدادی اقدامات کے شعبے کے ذریعے کوویڈ۔19 کے خلاف مدد دینے کے لیے 74 ممالک میں کھانے پینے کے سامان کی 85 سے زیادہ کھیپ بھیجی ہیں۔ ان میں ہیلتھ کٹ جیسے ذاتی حفاظت کے سازوسامان کے 1.4 ملین یونٹ بھی شامل ہیں۔
  • 2019 میں ڈبلیو ایف پی کے 8 ارب ڈالر مالیتی وسائل کا 42 فیصد امریکہ نے مہیا کیا تھا۔ اس طرح امریکہ خوراک کے عالمی پروگرام میں مالی وسائل مہیا کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا جس کا حصہ دوسرے سب سے بڑے حصہ دار سے چار گنا زیادہ ہے۔ چین نے ڈبلیو ایف پی کو صرف 30 ملین مہیا کیے۔
  • وبا کے دوران بھی ڈبلیو ایف پی نے اس سال غذائی عدم تحفظ کا شکار 86 ملین افراد تک پہنچنے کا ہدف برقرار رکھا ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ کی  مالی معاونت اور امریکی کسانوں کی اُگائی خوراک کی بدولت ہی ممکن ہوا۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں