rss

مذہبی اقلیتوں پر کوویڈ۔19 کے اثرات پر عالمگیر مذہبی آزادی کے لیےامریکہ کے خصوصی نمائندے سیموئل براؤن بیک کے ساتھ بریفنگ

हिन्दी हिन्दी, English English

سپیشل بریفنگ
عالمگیر مذہبی آزادی کے لیےامریکہ کے خصوصی نمائندے سیموئل براؤن بیک
دفتر برائے عالمگیر مذہبی آزادی
2 اپریل 2020

 

مورگن اورٹیگس: آپ کا بے حد شکریہ۔ سبھی کو سہ پہر بخیر۔ ایک اور بریفنگ کال میں ہمارے ساتھ شمولیت پر آپ کا شکریہ۔ آج ہمارے ساتھ ایک ایسی شخصیت موجود ہیں جنہیں دفتر خارجہ میں ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ ایمبیسڈر سیم براؤن بیک ہیں جو آج ہم سے بات کریں گے اور بتائیں گے کہ کوویڈ۔19 وبا کے دوران مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ کال آن دی ریکارڈ ہو گی اور اس کے اختتام تک اس کی تفصیلات نشروشائع کرنے پر پابندی رہے گی۔ جیسا کہ آپ کو بتایا گیا ہے ہم معمول کے مطابق سوال و جواب کریں گے۔ آپ سوال کے لیے 1 اور پھر 0 کا بٹن دبائیں گے۔

لہٰذا اب میں جناب ایمبیسڈر کی جانب آؤں گی جو مختصراً ابتدائی کلمات کہیں گے اور اس کے بعد ہم سوال و جواب کریں گے۔ سیم۔

ایمبیسڈر براؤن بیک: جی۔ شکریہ مورگن۔ میں اس کال میں دلچسپی لینے اور فون لائن پر موجودگی پر آپ سبھی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ممکن ہوا تو میں اپنی بات اپنے مخصوص موضوع پر مرکوز رکھنا چاہوں گا کہ دنیا بھر میں مذہبی بنیاد پر قید کیے جانے والے لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

وبا کے اس دور میں مذہبی بنیاد پر قید لوگوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔ ہم دنیا بھر میں تمام حکومتوں سے کہیں گے کہ وہ ایسا ہی کریں۔ یہ ان کے ملکوں کے لیے صحت عامہ کے حوالے سے ایک اچھا اقدام ہو گا اور یقیناً اخلاقی اعتبار سے بھی یہ ایک اچھا کام ہے۔ بدقسمتی سے دنیا بھر کے بہت سے ممالک میں بہت سے لوگ مذہبی بنیاد پر قید ہیں اور میں اس حوالے سے ایسے چند ممالک کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

ایران، ایران کی حکومت: حال ہی میں اس نے قریباً ایک لاکھ ضمیر کے قیدیوں کو رہا کیا ہے تاکہ ان میں کوویڈ۔19 کا پھیلاؤ کم رکھنے میں مدد ملے۔ یہ لوگ بیماری کی زد میں تھے اور مجھے اس اقدام پر خوشی ہوئی ہے ۔  وہاں ایسی صورتحال ہے کہ جیلوں میں تمام لوگوں کے اس وبا سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ تاہم ایران میں مذہب کی بنیاد پر قید بہت سے اہم لوگوں کو رہا نہیں کیا گیا اور ہم ان سے کہتے ہیں کہ وہ ایسے تمام قیدیوں کو رہا کریں۔

چین میں بدستور بہت سے لوگ اپنے عقیدے پر عمل کرنے کی پاداش میں قید ہیں۔ جہاں تک سنکیانگ کی صورتحال ہے تو ہم اس بارے میں جانتے ہیں، مگر ہمیں یہ بھی علم ہے کہ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک چرچ، گھروں میں قائم چرچ حتیٰ کہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ چرچ، اور پھر فالن گانگ فرقے کے ارکان اور تبتی بدھ لوگوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ان مذہبی گروہوں کے بہت سے ارکان قید میں ہیں۔ وبا کے وقت ان تمام لوگوں کو رہا کر دیا جانا چاہیے۔

اس وقت ویت نام کی جیلوں میں 128 افراد ایسے ہیں جنہیں ضمیر کے قیدی کہا جا سکتا ہے۔ ہم ویت نام کی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ انہیں رہا کر دے۔

روس میں قریباً 240 ضمیر کے قیدی ہیں جن میں سے 34 کا تعلق الف سعادت عیسائی فرقے سے ہے۔

اریٹریا میں ضمیر کے قیدیوں کی تعداد 40 ہے جن میں الف سعادت فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جبکہ انڈونیشیا میں ایسے قیدیوں کی تعداد 150 سے زیادہ ہے۔ معاف کیجیے مجھے اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ انڈونیشیا کی جیلوں میں 150 سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جنہیں توہین مذہب کے قانون کی خلاف ورزیوں پر قید میں رکھا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس موقع پر تمام ممالک مذہبی بنیاد پر قید میں ڈالے گئے تمام افراد کو رہا کر دیں۔

ہم اس حوالے سے اپنے اتحاد کے ارکان پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ 29 ممالک ہیں۔ مذہبی آزادی سے متعلق ہمارے عالمگیر اتحاد نے کل ایک ٹیلیفونک کال کا اہتمام کیا جس میں اسی موضوع پر بات ہوئی اور میں سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر مذہبی قیدیوں  کی رہائی کے لیے بہت سے دوسرے ممالک بھی ہمارا ساتھ دیں گے۔

یہ ایسا معاملہ ہے جس پر ہم نے کام کیا ہے، میں نے اس حوالے سے ذاتی طور پر کام کیا ہے اور بحیثیت ادارہ ہم نے سالہا سال تک مذہبی قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قید ہی نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہیں پُرامن طور سے اپنے عقیدے پر عمل کی پاداش میں قید رکھا گیا ہے اور بہت سی حکومتوں نے ان پُرامن لوگوں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔ یہ انہیں جیلوں سے مکمل طور پر رہا کرانے کے مقصد کے حصول کے لیے  اہم وقت ہے۔

میں آپ تمام لوگوں کا مشکور ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہبی برادری، آپ لوگ اس وبا کے دوران ہماری جانب سے ہر ممکن مدد دینے کی کوشش کے لیے مضبوط اقدامات ہوتے دیکھیں گے۔ تاہم میں  اپنی توجہ خاص طور اس موضوع  پر رکھنا چاہتا ہوں کہ ہم مذہبی بنیاد پر قید لوگوں کو رہا کروائیں اور حکومتوں سے کہیں کہ وہ ایسے قیدیوں کو جیلوں سے باہر نکالے۔

مورگن، مجھے اس حوالے سے سوالات لے کر کر خوشی ہو گی۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے، بہت اچھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ آپ تمام لوگوں کے پاس سوالات کے بارے میں ہدایات موجود ہیں اور روبن، ایک سیکنڈ ٹھہریے۔ میرا نہیں خیال کہ میرے پاس ابھی تک فہرست پہنچی ہے۔ میں سست رہی ہوں۔ روبن، اگر آپ کے پاس فہرست ہے تو آگے آ کر سوال و جواب شروع کیوں نہیں کرتے۔

مسٹر ہیروٹونیئن: کِم ڈوزیئر پہلا سوال کریں گے۔

آپریٹر: ذرا ٹھہریے۔

سوال: (ناقابل سماعت) یہ کال۔ ہم نے دیکھا ہے کہ انڈیا میں ‘کرونا جہاد’ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جس سے یہ اشارہ یا اطلاع ملتی ہے کہ کسی طرح (ناقابل سماعت) مسلمانوں کی جانب سے کرونا وائرس پھیلایا جا رہا ہے۔ کیا آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح کرونا وائرس نے ایسی مسلم مخالف سرگرمی کو بھڑکایا ہے؟ مزید یہ کہ آیا اس وقت کشمیر کو بھی امداد ملے گی؟

ایمبیسڈر براؤن بیک: ہم مذہبی اقلیتوں پر کوویڈ وائرس پھیلانے کے الزام کو دیکھ رہے ہیں اور بدقسمتی سے یہ بہت سی جگہوں پر ہو رہا ہے۔ اگر حکومتیں ایسا کر رہی ہیں تو یہ غلط اقدام ہے۔ حکومتوں کو اس کا سدباب کرنا چاہیے اور واضح طور پر کہنا چاہیے کہ یہ کرونا وائرس کا ذریعہ نہیں ہے۔ یہ وائرس مذہبی  اقلیتوں نے نہیں پھیلایا۔ حکومتوں کو عوام میں یہ پیغام دینا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ یہ سب کچھ حقیقت نہیں ہے۔ وہ لوگوں کو بتائیں کہ ہمیں علم ہے یہ وائرس کہاں سے آیا ہے۔ ہمیں علم ہے کہ یہ وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور اس کا مذہبی اقلیتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہم دنیا کے مختلف حصوں میں ایسی الزام تراشی دیکھ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی ایسا ہو رہا ہے وہاں حکومت سختی سے اس کو روکے گی۔

میرے پاس کشمیر کے حوالے سے خاص معلومات نہیں ہیں کہ آیا اسے اپنی ضرورت کے مطابق مدد مل رہی ہے یا نہیں۔ ہم حکومتوں سے کہتے ہیں کہ وہ وبا کے اس موقع پر اپنی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کام کریں اور یہ امر یقینی بنائیں کہ انہیں درکار وسائل اور امداد مل رہی ہے۔ ہم نے بہت سے ممالک میں ایسی صورتحال دیکھی ہے کہ اکثر کسی مذہبی اقلیت کو صحت عامہ اور امداد کی تقسیم کے عمل سے باہر رکھا جاتا ہے۔ ہم تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ وبا کے دوران مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر تمام لوگوں کی مدد کریں۔

سوال: کیا آپ کی انڈین حکام سے اس بارے میں تاحال کوئی بات چیت ہوئی ہے؟

ایمبیسڈر براؤن بیک: میری ابھی تک انڈین حکام سے اس پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

سوال: شکریہ۔

مس اورٹیگس: میں سبھی کو یاد دہانی کرانا چاہتی ہوں کہ سوالات کی قطار میں آنے کے لیے آپ کو 1 اور 0 کا بٹن دبانا ہو گا۔ روبن، کیا اس وقت کوئی اور لائن پر موجود ہے؟

مسٹر ہیروٹونیئن: اگلا سوال میٹ لی کریں گے۔

مس اورٹیگس: بہت اچھا۔

سوال: ہیلو، ایمبیسڈر، آپ کا بے حد شکریہ۔ یہ کال قابل قدر اقدام ہے۔ ہیلو مورگن، میں نے کچھ دیر پہلے اس موضوع سے ہٹ کر چند سوال پی اے پریس ڈیوٹی کو بھیجے تھے۔ بنیادی طور پر یہ سوالات گزشتہ روز روس کی جانب سے مدد کے عوض ادا کی گئی رقم، دوسرے ممالک کو ہماری امداد کی معطلی اور پاکستان میں ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزموں کی سزائیں ختم کیے جانے سے متعلق ہیں۔ کیا کوئی ہمیں ان تین سوالات کے جواب دلا سکتا ہے؟

مجھے جناب ایمبیسڈر سے یہ کہنا ہے کہ مذہبی بنیاد پر لوگوں کو قید میں رکھنے والے ممالک کے بارے میں بتانے پر آپ کا شکریہ۔ تاہم کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کتنے لوگ مذہبی وجوہات کی بنا پر قید میں ہیں جنہیں آپ رہا ہوتا دیکھنا چاہیں گے؟

ایمبیسڈر براؤن بیک: اس حوالے سے ہم ہر ملک کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں۔ میں نے آپ کو ایسے ممالک کے بارے میں بتایا جہاں سب سے بڑی تعداد میں مذہبی قیدی موجود ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے ایسے قیدی بہت سے ممالک میں ہیں۔ ہم ان کی تعداد معلوم کر سکتے ہیں اور کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم اس حوالے سے کوئی سرسری اندازہ قائم کر سکتے ہیں ۔ اس وقت میں نے آپ کو ان ممالک کے بارے میں بتایا ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں ضمیر کے قیدی ہیں۔

سوال: ٹھیک ہے، مگر میرا مطلب ہے کہ کیا یہ تعداد لاکھوں میں ہے؟ آپ نے بتایا کہ ایران نے ایک لاکھ قیدیوں کو رہا کیا، مگر میرا مطلب ہے کہ کیا یہ تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے؟ کیا آپ کو اس حوالے سے کوئی اندازہ ہے؟

ایمبیسڈر براؤن بیک: جی۔ بدقسمتی سے ہم لاکھوں لوگوں کی بات کر رہے ہیں اور صرف چین میں ہی لاکھوں لوگ قید ہیں۔ میرا مطلب ہےکہ آپ نے ویغور باشندوں کی صورتحال کا مشاہدہ کیا ہے، وہاں نظربندی کیمپوں میں لاکھوں لوگ قید ہیں۔

اس وقت میں خاص طور پر چین کی صورتحال پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ایران نے ایک لاکھ قیدیوں کو رہا کیا ہے اور بعض ممالک ایسے ہیں جہاں ہمیں قیدیوں کی حقیقی تعداد کا درست اندازہ نہیں ہے۔ شمالی کوریا میں بہت بڑی تعداد میں ضمیر کے قیدی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہاں مشقتی کیمپوں کے نظام میں کتنے لوگ ہیں۔ انہیں کوویڈ وبا کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ بدقسمتی سے ایسی بعض جیلوں میں بھی وہ بہت بڑی تعداد میں قیدیوں کو بھر دیتے ہیں۔ وہاں صفائی کی صورتحال خراب ہے اور بہت سے قیدی جیلوں میں ہی مر جاتے ہیں۔ حکومت ان قیدیوں کی صحت اور سلامتی کی فکر کرنے کے بجائے خود یہی  چاہتی ہے۔ مگر یہ ان کے اپنے شہری ہیں خواہ انہیں ایسے لوگوں کے مذہبی عقائد سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔

سوال: شکریہ۔

مسٹر ہیروٹونیئن: اگلا سوال مشیل کیلیمین کریں گی۔

سوال: مجھے روس کی جانب سے امداد کے عوض اسے ہونے والی ادائیگی کے بارے میں جاننا ہے۔ تاہم میرے چند دیگر سوالات بھی ہیں ۔۔۔۔

مس اورٹیگس: جی، ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم اس کا جواب نہیں دیں گے۔ ہم نے کل رات جو بیان دیا تھا اس کے علاوہ ہمارے پاس اس بارے میں کہنے کو مزید کچھ نہیں ہے۔

سوال: ٹھیک ہے، ایمبیسڈر براؤن بیک، کیا آپ گزشتہ ہفتے داعش کے حملے کے بعد افغان سکھوں کو کسی طرح کی مدد کی پیشکش کر رہے ہیں؟ وہاں کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جو دوبارہ آبادکاری وغیرہ کی بات کر رہے ہیں۔

مجھے عراق میں مذہبی اقلیتوں کو امداد کی فراہمی کے بارے میں بھی پوچھنا ہے۔ کیا یہ امداد جاری ہے؟ کیا وبا اور اربیل میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر امریکی قونصل خانے میں عملے کی تعداد کم کیے جانے کے سبب اس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے؟

ایمبیسڈر براؤن بیک: ہم اس حوالے سے اجلاس کرتے رہے ہیں، ہمارے دفتر نے کابل میں ہونے والے اس ہولناک حملے کے بارے میں سکھ برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے جس میں اس موضوع پر بات چیت ہوئی۔ یقیناً اس میں بہت سے ادارے شامل ہوں گے۔ میں نے براہ راست سکھ نمائندوں سے ملاقات کی، میں بہت جلد سکھ نمائندوں سے ٹیلی فون پر بھی بات کروں گا۔ مجھے شمالی عراق میں امداد کی ترسیل کے نظام کی بابت کوئی علم نہیں ہے کہ آیا اس میں خلل آیا ہے یا نہیں۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ہر چیز ہی تہ و بالا ہو گئی ہے، تاہم میرے پاس اس حوالے سے معلومات نہیں ہیں۔

مسٹر ہیروٹونیئن: کیا ہم اگلے سوال کے لیے رچ ایڈسن سے بات کر سکتے ہیں؟

سوال: کوویڈ وبا کے دوران حکومتیں اپنے لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کر رہی ہیں۔ کیا آپ کو اس حوالے سے کافی زیادہ اقدامات دکھائی دیتے ہیں، یا جب مذہبی اقلیتوں کے خلاف کارروائی کی بات ہو تو آپ کو ایسے اقدامات کس حد تک نظر آتے ہیں، باالفاظ دیگر حکومتیں کوویڈ کی آڑ میں  مذہبی اقلیتوں سے امتیازی سلوک یا انہیں ہدف بنانے کے لیے کس حد تک جا رہی ہیں؟

ایمبیسڈر براؤن بیک: میں یہ کہوں گا کہ خوش قسمتی سے ہم دیکھ رہے ہیں بیشتر حکومتیں ایسا نہیں کر رہیں اور بعض کا رویہ مذہبی اقلیتوں کے لیے پہلے سے زیادہ نرم ہو گیا ہے اور وہ ان سے معاندانہ سلوک کے بجائے دوسرے لوگوں جیسا ہی برتاؤ کر رہی ہیں۔ مگر یہ وہ اطلاعات ہیں جو ہم تک پہنچی ہیں۔ بہت سی جگہوں سے ہمیں اس حوالے سے مصدقہ معلومات نہیں مل سکیں اور ہم لوگوں کے غیررسمی نیٹ ورکس کے ذریعے درست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ ایک اچھی بات ہے، اگر آپ اچھی بات دیکھنا چاہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ اس وبا کے دوران انسان ایک دوسرے سے کہیں زیادہ قریب آ گئے ہیں۔ اس وبا کا سامنا سبھی کو ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ انسانیت پر اس حملے کا نشانہ سبھی لوگ ہیں۔ ایسے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک دوسرے کو مزید قبول کیا جا رہا ہے اور ہم کہہ رہے ہیں کہ ایسے طرزعمل کو مزید فروغ ملنا چاہیے۔ ان حکومتوں کو مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ ان کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور معلومات سامنے آ سکیں۔

بیشتر اوقات ترقی پذیر ممالک میں مذہبی برادری معلومات کی فراہمی اور امدادی کاموں میں سب سے زیادہ منظم دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا ہمیں ان برادریوں کے ذریعے کام کرنے کی ضرورت ہے خواہ آپ ان کے عقیدے سے متفق ہوں یا نہیں۔ ہم اس ضمن میں  بہت سے ممالک میں قدرے کشادگی پیدا ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ ہر جگہ یہ صورتحال مختلف ہے مگر میں اس حوالے سے مزید حوصلہ افزا رحجانات دیکھ رہا ہوں۔ میں خاص طور پر پُرامید ہوں کہ ہم مذہبی بنیاد پر قید بہت سے لوگوں کو جیلوں سے باہر لا سکتے ہیں جس کے لیے میں کئی سال سے آواز اٹھا رہا ہوں۔ ان میں سے کسی کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے اور ان سب کو پُرامن طور سے اپنے عقیدے پر عمل کی آزادی ہونی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومتوں کے لیے ایسے اقدامات اٹھانے کا بہترین موقع ہے۔

مسٹر ہیروٹونیئن: نِک ویڈہیمز اگلا سوال کریں گے۔

سوال: کال کا اہتمام کرنے پر آپ کا بے حد شکریہ۔ ایمبیسڈر براؤن بیک، مجھے اس حقیقت کی بابت سوال پوچھنا تھا کہ دنیا بھر میں مذہبی گروہ سماجی فاصلے سے متعلق ہدایات اور بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعی پر پابندی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ کیا مذہبی گروہوں کو ایسے وقت میں اپنی مذہبی رسومات کا انعقاد کرنا چاہیے؟ آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ شکریہ۔

ایمبیسڈر براؤن بیک: اس حوالے سے میرا یہ کہنا ہے کہ مذہبی گروہوں کو سماجی فاصلہ قائم رکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ سب  کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ میں کئی ہفتوں سے کسی اجتماع میں نہیں گیا یہ میری اب تک طویل ترین غیرحاضری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ  لوگوں کو بھی وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ بیشتر مذہبی برادریاں اس وبا کو روکنے کے لیے عالمگیر رہنما اصولوں پر عمل کر رہی ہیں۔ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ سب کچھ نہیں کر رہے۔ تاہم میرے خیال میں بڑی حد تک مذہبی برادریاں نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں آپ دیکھیں گے یہ مذہبی طبقہ لوگوں کی مدد کر رہا ہے اور آپ امداد اور معلومات کی فراہمی کے لیے مذہبی برادری پر زیادہ انحصار کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو قابل اعتراض اقدامات کر رہے ہیں مگر بیشتر لوگوں کا طرزعمل ذمہ دارانہ ہے۔

مسٹر ہیروٹونیئن: اب ہم جوئیل گیریکے کا سوال لیں گے۔

سوال: ہیلو، کال کے لیے شکریہ۔ میرے پاس دو سوال ہیں۔ میرا پہلا سوال غالباً میٹ لی کے سوال سے ملتا جلتا ہے جو انہوں نے کچھ دیر پہلے کیا تھا۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ مذہبی بنیاد پر قید ایسے لوگوں کی تعداد کتنی ہے جنہیں کرونا وائرس لاحق ہونے کا شدید خطرہ ہے؟ آپ نے شمالی کوریا کا نام لیا مگر کیا سنکیانگ یا کہیں اور ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں لوگوں کو یہ وائرس لاحق ہونے کا خاص طور پر شدید خطرہ ہو؟

چین میں کرونا وائرس کی صورتحال دیکھی جائے تو کیا دنیا کے ممالک کے مابین سنکیانگ کے حالات پر بھی کوئی سفارتی بات چیت ہو رہی ہے؟ مجھے علم ہے کہ بعض ممالک اس صورت حال کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ دوسروں سے زیادہ قریبی طور سے مصروف عمل ہیں۔

ایمبیسڈر براؤن بیک: آپ نے اچھا سوال کیا ہے۔ میرے ذہن میں جو شدید نوعیت کا خطرہ آ رہا ہے وہ ایران سے متعلق ہے۔ اس کی سیدھی سادی وجہ یہ ہے کہ وہاں  ابتدا میں ہی اس وبا نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ وہاں بہت سے بدنام قید خانے ہیں جن میں بہت سے لوگ بھرے ہوئے ہیں اور حفظان صحت کی صورتحال بھی اچھی نہیں ہے۔ یہ باتیں ہمیں ان لوگوں نے بتائی ہیں جو ان جگہوں پر مذہبی قیدی کے طور پر قید کاٹ چکے ہیں۔ اسی طرح شمالی کوریا میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ وہاں سے باہر آنے والوں نے ان جگہوں کی ہولناک منظرکشی کی ہے۔ کسی بھی گنجان جگہ پر یہ وائرس بہت تیزی اور آسانی سے پھیلتا ہے۔

جہاں تک چین اور سنکیانگ کے حوالے سے تبدیل ہوتے نکتہ نظر کی بات ہے تو میں نے تاحال کوئی مختلف چیز نہیں دیکھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سبھی کی تمام تر توجہ وبا پر ہے اور اس وقت یہی سب سے بڑا معاملہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ لوگوں کو شفافیت، اطلاعات کے آزادانہ بہاؤ اور آزاد صحافت کی ضرورت کا احساس ہو رہا ہے۔ لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ درست معلومات تمام دنیا کے سامنے آنی چاہئیں اور دنیا کو اسی کی ضرورت ہے۔

مسٹر ہیروٹونیئن: اگلے سوال کے لیے ہم جینیفر ہینسلر کی کال لیں گے۔

سوال: ہیلو، شکریہ۔ کیا آپ بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کی صورتحال پر کچھ کہیں گے۔ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ برما کی مسلح افواج نے دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں اور غالباً یہ سب کچھ کوویڈ کی آڑ میں ہو رہا ہے۔ کیا آپ کی برما کے حکام سے اس بارے میں کوئی بات ہوئی؟ کیا انہیں کوئی انتباہ وغیرہ جاری کیا گیا ہے؟ شکریہ۔

ایمبیسڈر براؤن بیک: ہم نے ایسا نہیں کیا، میں نے نہیں کیا، شاید دوسری جگہوں سے برما کی فوج کے لیے کوئی انتباہ جاری کیا گیا ہو۔ روہنگیا کی صورتحال ہولناک ہے۔ میں وہاں دورہ کر چکا ہوں۔ جب ہم پُرہجوم جگہ کی بات کرتے ہیں تو اگر وہاں کوویڈ کو راہ مل جائے تو وہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گی۔

مغربی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہولناک ہے۔ ہم ترقی پذیر ممالک کے لیے امدادی کوششیں کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہاں اس طرح کے وائرس پھیلنا شروع ہو جائیں تو ان میں بہت سی جگہوں پر جوابی اقدامات کی صلاحیت ہی بے حد مشکل اور محدود ہو گی۔ نائجیریا میں ایک کارڈینل یورپ کی صورتحال دیکھ کر کہہ رہا تھا کہ اگر یہ وبا نائجیریا کو نشانہ بنائے تو ہمارے پاس اس سے نمٹنے کے لیے اتنے وسائل اور صلاحیت ہی نہیں ہے جو مغربی دنیا کے پاس ہے اور وہ بھی ان حالات میں مدد کے لیے کہہ رہی ہے۔

میرے پاس مزید کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ برما کی فوج اس خاص وقت میں یہ حملے کر رہی ہے۔ ہمیں روہنگیا کے معاملے پر ایک متفقہ عالمگیر کوشش کی ضرورت ہے تاکہ ان لوگوں کو اپنے آبائی ملک واپس جانے اور محفوظ رہنے میں مدد دی جا سکے۔

مس اورٹیگس: روبن، کیا ہمارے پاس ۔۔۔ اوہ کیا ہمارے پاس مزید ایک سوال کے لیے وقت ہے؟ ٹھیک ہے۔ شاید روبن سے ہمارا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ سوالات کرنے والوں کی قطار میں اگلی باری سید کی تھی۔ سید اریکات۔

سوال: شکریہ۔ جی۔ شکریہ مورگن۔ سوال لینے کا شکریہ۔ جناب، آپ نے بہت سے ممالک کا تذکرہ کیا۔ آپ نے ضمیر کے قیدیوں کی بات بھی کی۔ میرے پاس دو سوال ہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ آپ نے مصر کا ذکر کیا ہو اور ان لوگوں کا جو وہاں قید میں ہیں۔ انہیں اخوان المسلمون کا رکن ہونے کی بنا پر قید میں رکھا گیا ہے۔ میں آپ سے یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بھی اسی درجے میں آتے ہیں، خصوصاً جو نابالغ ہیں۔ وہاں واقعتاً ہزاروں ایسے قیدی ہیں جنہیں کئی سال پہلے رہا ہونا تھا۔ کیا آپ اس پر کچھ کہیں گے؟ شکریہ۔

ایمبیسڈر براؤن بیک: جی، مصر میں، ہمارے پاس اس حوالے سے بھی معلومات ہیں۔ مصر میں سیاسی کارکن قید میں ہیں اور ہم وہاں حکومت پر زور دیں گے کہ وہ انہیں رہا کرے۔ ایسے بہت سے حالات میں لوگ کہتے ہیں کہ دیکھیں، آپ انہیں مذہبی قیدی کہتے ہیں جبکہ ہم انہیں سیاسی کارکن کہتے ہیں اور بعض اوقات انہیں دہشت گرد بھی کہا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم اکثر ان مسائل پر حکومتوں سے بحث کر رہے ہوتے ہیں اور مجھے مذہبی آزادی سے متعلق امور کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر فرد کو اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ ایسے میں اگر کوئی یہ کام جہادی بن کر یا حملے اور عمارتوں کو بم دھماکوں سے اڑا کر کرنا چاہتا ہے تو پھر حکومتوں کو انہیں قید میں رکھنے کا حق ہے۔ ہم امریکہ میں بھی یہی کچھ کرتے ہیں اور جب میں کنساس کا گورنر تھا تو میں نے خود ایسے اقدامات کیے ہیں۔

لہٰذا میں ان لوگوں کے ساتھ تنازع میں نہیں پڑوں گا۔ میں ان افراد کی بات کر رہا ہوں جو پُرامن طور سے اپنے عقیدے پر عمل کر رہے ہیں اور انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے کیونکہ وہ پُرامن طور سے اپنے عقیدے کی بات کرتے ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں پڑوں گا کہ آیا کسی کو کسی اور درجے میں رکھا گیا ہے۔ اگر انہوں نے واقعتاً جرم کیے ہیں تو میرا خیال ہے کہ حکومتیں بڑے پیمانے پر لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے یقیناً قانونی اقدامات اٹھاتی ہیں۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ پُرامن طور سے اپنے مذہبی عقیدے پر عمل کرنے والوں  کو رہا کیا جانا چاہیے۔

مسٹر ہیروٹونیئن: اب ہم للت جھا سے آخری سوال لیں گے۔ للت؟ میرا خیال ہے کہ وہ لائن پر موجود نہیں ہیں۔

مس اورٹیگس: جی۔ روبن، کیا کوئی اور سوالات کی قطار میں موجود ہے؟

مسٹر ہیروٹونیئن: کوئی نہیں ہے۔

مس اورٹیگس: آپ سبھی لوگوں کا بے حد شکریہ۔ ہم آپ کی موجودگی کی قدر کرتے ہیں۔ ایمبیسڈر ،بریفنگ کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔

ایمبیسڈر براؤن بیک: شکریہ مورگن۔ تمام لوگوں کا شکریہ۔ الوداع۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں