rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی صحافیوں سے گفتگو

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی
7 اپریل 2020

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو صبح بخیر۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم سب اکٹھے ہیں، ہر شخص صحت مند اور اچھا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک دوسرے سے فاصلے پر، سبھی بہت اچھے ہیں۔

میں چند مختصر باتوں سے آغاز کرنا چاہتا تھا جن کی شروعات مغربی کرے  سے کروں گا۔

سب سے پہلے میں ان درجنوں ممالک کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے وینزویلا کے حوالے سے نئے لائحہ عمل کی حمایت کا اظہار کیا جس کا اعلان میں نے گزشتہ ہفتے یہاں کیا تھا۔ ہمارا مقصد مادورو کی غیرقانونی آمریت کو ایک قانونی عبوری حکومت سے تبدیل کرنا ہے جو آزادانہ و منصفانہ عام  انتخابات اور صدارتی انتخاب منعقد کرائے جن کے ذریعے وینزویلا کے تمام لوگوں کو حکومت میں نمائندگی مل سکے۔ مادورو کی رخصتی کا وقت آ گیا ہے۔

میں گیانا کی ہائی کورٹ کی بھی تعریف کرنا چاہوں گا جس نے ملک میں حالیہ قومی انتخابات کے نتائج کی ملک گیر دوبارہ گنتی کے لیے راہ ہموار کی۔ ہم ان کے انتخابی کمیشن اور عالمی مشاہدہ کاروں کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور قابل اعتماد انتخابی عمل یقینی بنایا جا سکے۔

یورپ کی جانب آتے ہوئے مجھے شمالی مقدونیہ کو مبارک باد دینا ہے جو نیٹو اتحاد کا 30واں رکن بن گیا ہے۔ اس کی شمولیت گزشتہ ہفتے ہمارے ورچوئل اجلاس کے موقع پر عمل میں آئی جس سے ہمارا اتحاد بے حد مضبوط ہو جائے گا۔ یہ اس امر کا مزید ثبوت ہے کہ ممالک کو اندازہ ہے کہ مغرب کی آزاد اقوام کے ساتھ اتحاد اپنے لیے سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے حصول کا بہترین طریقہ ہے۔

اب میں کرونا وائرس کی جانب آتا ہوں جو آجکل انتہائی تشویش کا حامل موضوع ہے۔ میں دنیا بھر سے امریکی شہریوں کو واپس لانے کے لیے دفتر خارجہ کی دن رات عالمگیر کوششوں کے بارے میں قدرے تفصیل سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ امریکی تاریخ کا ایک انتہائی  غیرمعمولی سفارتی مشن ہے۔ آج صبح تک ہماری ٹیم بہت بڑے ذاتی خطرات مول لیتے ہوئے 75 ممالک سے 460 سے زیادہ پروازوں کے ذریعے 45 ہزار سے زیادہ امریکی شہریوں کو وطن واپس لا چکی تھی۔

لوگوں کو وطن واپس لانے کے لیے ہماری ٹیم کی رفتار اور ثابت قدمی کی غیرمعمولی داستانیں  قریبا روزانہ مجھ تک پہنچتی ہیں۔ یہ ہالی وڈ کی کہانیوں جیسی ہیں۔ میں آپ کو ایسی چند داستانوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔

نیپال میں امریکی سیاح ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب اور ایسے دور دراز علاقوں میں بے یارومددگار تھے ۔ ہمارے سفارت خانے نے وہاں کی حکومت سے خطرناک پہاڑی علاقوں میں آنے جانے کے لیے 15 مسافر بردار پروازوں کی خصوصی اجازت حاصل کی۔ سفارت خانے کا عملہ بسوں کا انتظام کر کے سیکڑوں میل سفر کے بعد امریکی شہریوں تک پہنچا اور انہیں واپس کٹھمنڈو لا کر طیاروں پر سوار کرایا جو بالاآخر امریکہ پہنچ گئے۔ ہم نے ایک ایسی بیمار خاتون کی مدد بھی کی جس کی ادویات ختم ہو رہی تھیں۔ ہم نے اسے ابتدائی دو پروازوں کے ذریعے باہر نکالا جن میں قریباً 600 امریکی شہریوں اور یہاں مقیم لوگوں کو واپس لایا گیا۔

ارجنٹائن میں ہمارے لوگوں نے امریکی تبلیغی مشن کے ارکان کو مسلح فوجی چوکیوں سے گزرنے میں مدد دینے کے لیے وزارت خارجہ میں اپنے روابط کو استعمال کیا۔ انہوں نے ایک ایسے معمر جوڑے کو قرنطینہ سے نکلنے اور اپنے گھر پہنچنے میں مدد دی جس میں بیماری کی علامات موجود نہیں تھیں۔ ہماری ٹیموں نے ایک ایسے جوڑے کو بھی  بروقت امریکہ پہنچایا  جس کے ہاں بچے کی پیدائش متوقع تھی۔

ہمیں شکریہ کا ایک خط ملا جو ایسے بہت سے خطوط میں سے سے ایک ہے۔ یہ خط ایک خاتون کی جانب سے ہے جس کی والدہ کو ایکواڈور سے نکال کر امریکہ واپس پہنچایا گیا۔ اس خط کے کچھ مندرجات یوں ہیں: ”میں امریکی سفارت خانے کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جس نے میری والدہ اور ان کے شوہر کو اس قدر مہارت اور مستعدی سے گھر پہنچایا۔ تمام ایئرپورٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ اکیلے رہ گئے تھے ۔۔۔ اور آپ لوگ ان کی مدد کو آئے! آپ بہترین لوگ ہیں! خدا امریکہ پر رحمت کرے۔ مجھے امریکی  ہونے پر بے حد فخر ہے!”

میں چاہتا ہوں کہ امریکی عوام کو اس حیران کن انصرامی ربط اور تفصیل کا اندازہ ہو سکے جس سے ہم نے ایسی ہر انخلائی کارروائی میں کام لیا۔ یہ ناصرف دنیا بھر کے مختلف خطوں میں مصروف عمل ہماری ٹیموں کا بہترین کام تھا بلکہ اس میں ہر سطح پر محکمہ داخلی سلامتی، امریکی فوج اور ہمارے غیرملکی شراکت دار بھی شامل تھے جنہوں نے حکام، فضائی کمپنیوں اور طبی عملے کو ہر اس جگہ پہنچایا جہاں سے امریکیوں کو واپس لانے کی ضرورت تھی۔

ان لوگوں کو واپس لانے کے لیے ہماری ٹیمیں ہنگامی پاسپورٹ چھاپ رہی ہیں۔ ہم ہوٹلوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ امریکی شہریوں کے لیے ایسی جگہوں کا انتظام کریں جہاں وہ ایئرپورٹ سے قریب ہوں اور جب جہاز وہاں پہنچے تو انہیں لانے میں آسانی ہو۔ ہم امریکی شہریوں کو محفوظ راستوں تک رسائی کے لیے خطوط فراہم کر رہے ہیں۔ ان کاموں کی فہرست بہت طویل ہے۔ یہ امریکی حکومت کا امریکی عوام کے لیے واقعتاً بہت بڑا کام ہے۔

میں سبھی کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ امریکہ دنیا میں بدستور انسانی اچھائی کے حوالے سے رہنما کردار ادا کر رہا ہے اور اس عالمگیر وبا میں بھی اس کا یہ کردار برقرار ہے۔

اس وقت ہمارے اپنے ملک میں پی پی ای کی اشد ضرورت کے باعث ہماری توجہ اہم نوعیت کے طبی سازوسامان کی طلب پوری کرنے پر ہو گی۔ تاہم امریکہ دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کو اعلیٰ معیار کی شفاف اور بامعنی مدد فراہم کرتا رہے گا۔

ہم یہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہم اچھے اور فیاض لوگ ہیں۔ ہم یہ کام اس لیے بھی کرتے ہیں کہ وائرس سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتا۔ جب ہم بیرون ملک اپنے دوستوں کی مدد کرتے ہیں تو اس سے ہمیں اپنے ملک میں محفوظ رہنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

آج میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہم دنیا بھر میں اس بیماری کے خلاف اقدامات میں اضافے کے لیے صحت، امداد اور معاشی مدد کے ضمن میں مزید 225 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کرنے کو تیار ہیں۔ یہ اس 274 ملین ڈالر میں نیا اضافہ ہو گا جو ہم پہلے ہی دنیا بھر کے 64 ممالک کو مہیا کر رہے ہیں۔ کوئی اور ملک اس درجے فیاضی کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔

میں نے آج جس نئی امداد کا اعلان کیا ہے وہ وائرس کی تشخیص، روک تھام اور اس پر قابو پانے، نظام ہائے صحت کو بہتر بنانے، لیبارٹریاں تیار کرنے، طبی عملے کی تربیت، آگاہی میں اضافے اور مزید بہت سے کاموں  کے ذریعے اس بیماری کا پھیلاؤ محدود کرنے کے لیے استعمال ہو گی۔

دوسرے ممالک کی مدد کے ذریعے خود کو محفوظ رکھنے کی ہماری کوششوں کے اثرات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ ہم نے وائرس کا مقابلہ کرنے سے متعلق پی ایس اے کو قریباً 50 زبانوں میں ترجمہ کیا ہے۔ ہم نے گوئٹے مالا کو کوویڈ وبا کے مریضوں کے لیے اپنا سب سے بڑا ہسپتال قائم کرنے میں مدد دی۔ ہم کمبوڈیا میں بچوں کی آن لائن تعلیم میں مدد دے رہے ہیں جہاں سکول بند ہو چکے ہیں۔

ہمارے طویل مدتی امدادی اقدامات کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ 2019 میں یوایس ایڈ کے وظیفے پر گریجوایشن کرنے والی مصر کی ایک نرس اب اپنے ملک میں کوویڈ وبا کے مریضوں کا علاج کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”یوایس ایڈ کے سکالرشپ پروگرام کے ذریعے میری تعلیم اور دوسروں کی رہنمائی سے متعلق تربیت نے مجھے اس وقت کے لیے تیار کیا۔”

ہم ہمیشہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی طاقت میں اضافہ کرنے والا ایک انتہائی مضبوط شعبہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان ممالک کو اپنی مدد آپ کے قابل بنائیں۔

نائجیریا میں ہم نے ایئرٹیل نامی کمپنی کے ساتھ شراکت قائم کی تاکہ روزانہ دس لاکھ لوگوں کو فون پر آواز اور تحریری پیغامات کے ذریعے سماجی فاصلے، صحت و صفائی اور دیگر اقدامات کے بارے میں بتایا جا سکتے۔

صرف امریکی حکومت ہی ان خطوط پر مدد نہیں دے رہی بلکہ امریکی خیراتی ادارے بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ شکاگو سے تعلق رکھنے والی امریکی کمپنی ڈوکین آئی اے ایس نے چیک ریپبلک میں  رضاکارانہ طور پر اپنے کارخانے کا ایک حصہ کوویڈ وبا کے مریضوں کی مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والوں اور سماجی خدمات مہیا کرنے والوں کے لیے چہرے کے ماسک اور سینیٹائزر بنانے کے لیے وقف کر دیا ہے۔

تیونس میں سسکو نے حکومتی اداروں کو ویڈیو کانفرنس سے متعلق آلات عطیہ کیے تاکہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران دور بیٹھ کر بھی  اپنے کاموں کو جاری رکھ سکیں۔

امریکہ ایک خاص ملک ہے جس کا ہم سب حصہ ہیں۔ کوئی اور ملک اس قدر مدد نہیں دیتا۔

میں اسی حوالے سے ایک اور بات کروں گا۔ ایک اچھی خبر ہے۔ میں آپ کی توجہ ایبولا وائرس کی جانب دلانا چاہتا ہوں۔

آج سے قریباً دو سال پہلے امریکہ نے جمہوری کانگو میں اس خوفناک بیماری کے خلاف عالمگیر اقدامات کی قیادت کی تھی۔ وبا پھوٹنے سے ایک ماہ بعد امریکہ نے وہاں آفات میں مدد دینے والی ٹیم اور دیگر ماہرین کو تعینات کیا جنہوں نے ویکسینیشن مہمات، بیماری کے حوالے سے تشخیصی عمل، طبی معائنے  اور مریضوں کی تلاش میں مدد دی۔ ہم نے یہ وبا پھوٹنے کے بعد جمہوریہ کانگو اور ہمسایہ ممالک میں ایبولا کا مقابلہ کرنے کے لیے 569 ملین ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی۔

آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ہماری کوششوں کی بدولت متوقع طور پر 12 اپریل کو جمہوریہ کانگو اپنے ہاں اس وبا کے مکمل خاتمے کا سرکاری اعلان کرے گا۔ اس روز ایبولا کے آخری مریض کی مکمل صحت یابی اور اس کا ٹیسٹ منفی آنے کو 42 روز مکمل ہو جائیں گے۔ امریکہ کی فراہم کردہ مدد اور امریکی عوام کی اچھائی کی بدولت ہی  یہ فتح ممکن ہوئی۔ اس سے ہمیں کوویڈ۔19 وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں کے سلسلے میں تحریک ملتی ہے۔

آخر میں مجھے عراق کے حوالے سے ایک اعلان کرنا ہے۔

ملک میں اچھائی کی قوت اور عراق کا قریب ترین دوست ہونے کے ناطے امریکہ نے عراقی حکومت کے ساتھ ایک تزویراتی مکالمہ تجویز کیا ہے جس کا انعقاد جون کے وسط میں ہونا ہے۔

اب جبکہ دنیا بھر میں پھیلتی اور آمدنی میں کمی کا باعث بنتی کوویڈ۔19 سے عراقی معیشت منہدم ہونے کا خدشہ ہے تو ایسے میں یہ بات اہم ہے کہ دونوں حکومتیں ان فوائد کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے مل کر کام کریں جو ہم نے داعش کو شکست دینے اور ملک کو مستحکم بنانے کے لیے اپنی کوششوں کے ذریعے حاصل کیے ہیں۔

اس تزویراتی مکالمے کی قیادت میرے انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل کریں گے۔ دونوں ممالک کے مابین تمام تزویراتی امور اس ایجنڈے کا حصہ ہوں گے جن میں ملک میں موجود امریکی افواج کا مستقبل اور ایک آزاد اور خودمختار عراق کی مدد کے لیے بہترین طریقے کی نشاندہی بھی شامل ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں