rss

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی عالمی ادارہ صحت سے جواب طلبی

Français Français, English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجراء
15 اپریل 2020

 

صدر ڈونلڈ  جے ٹرمپ کی عالمی ادارہ صحت سے جواب طلبی

ڈبلیو ایچ او نے ثابت کیا ہے کہ وہ وبائی بیماری کے ایسے سنگین بحران کی روک تھام، اس کا کھوج لگانے اور وبا کے خلاف اقدامات کے لیے تیار نہیں تھا ۔

”میں امریکی عوام کی زندگیوں صحت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کوئی بھی ضروری اقدامات اٹھانے سے نہیں ہچکچاؤں گا۔ میں ہمیشہ امریکہ کی بہتری کو مقدم رکھوں گا۔” ۔۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

امریکی ٹیکس دہندگان کی خاطر جواب طلبی: صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ امریکہ کی جانب سے مالی معاونت روک کر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے جواب طلبی کر رہے ہیں۔

  • صدر ٹرمپ کرونا وائرس کی وبا کے حوالے سے بدانتظامی کی تحقیقات تک ڈبلیو ایچ او کے لیے ہر طرح کی مالی معاونت روک رہے ہیں۔
  • امریکی ٹیکس دہندگان ہر سال ڈبلیو ایچ او کو 400 سے 500 ملین ڈالر تک مالی معاونت مہیا کرتے ہیں مگر ڈبلیو ایچ او نے انہیں ناکام کیا ہے۔
  • دوسری جانب چین امریکہ کے مقابلے میں محض دس فیصد مالی مدد دیتا ہے۔
  • امریکی عوام ڈبلیو ایچ او کی جانب سے بہتر سلوک کے حقدار ہیں اور اس کی بدانتظامی ، حقائق چھپانے  اور ناکامیوں کی تحقیقات تک اسے مزید مالی معاونت فراہم نہیں کی جائے گی۔
  • صدر ٹرمپ کرونا وائرس کی وبا کا مقابلہ جاری رکھیں گے اور عالمگیر صحت کے لیے دی جانے والی امداد کو اس جنگ میں براہ راست طور سے شامل دیگر فریقین کی جانب منتقل کریں گے۔

ڈبلیو ایچ او کے ناکام ردعمل کی تحقیقات: کرونا وائرس   کی وبا کے خلاف ڈبلیو ایچ او کا ردعمل ایک کے بعد دوسرے غلط قدم اور حقیقت چھپانے سے عبارت  ہے۔

  • اس حقیقت کے باوجود کہ چین نے امریکہ کے مقابلے میں محض چھوٹی سی رقم مہیا کی ، ڈبلیو ایچ او نے چینی حکومت کے لیے خطرناک طرفداری کا مظاہرہ کیا۔
  • ڈبلیو ایچ او نے تواتر سے چینی حکومت کے دعووں کو دہرایا کہ کرونا وائرس  انسانوں میں نہیں پھیلتا جبکہ ڈاکٹروں اور صحت کے حکام نے انتباہ کیا تھا کہ یہ وائرس ایک سے دوسرے انسان کو لاحق ہو جاتا ہے۔
  • تائیوان نے کرونا وائرس کی ایک سے دوسرے انسان کو منتقلی کے بارے میں اطلاعات دیکھ کر 31 دسمبر کو ڈبلیو ایچ او سے رابطہ کیا مگر ڈبلیو ایچ و نے عوام سے یہ بات چھپائی۔
  • ڈبلیو ایچ او نے جنوری کے پورے مہینے میں چینی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی اور دعویٰ کیا کہ یہ وائرس انسان سے انسان کو منتقل نہیں ہوتا ، حالانکہ ووہان میں ڈاکٹر خبردار کر رہے تھے کہ یہ وائرس ایک سے دوسرے انسان  کو متاثر کرر ہا ہے۔
  • ڈبلیو ایچ او نے 22 جنوری کو فیصلہ کیا کہ کرونا وائرس صحت عامہ کے حوالے سے عالمگیر تشویش کی حامل ہنگامی صورتحال نہیں ہے اور اس دوران اس نے چین کی ستائش جاری رکھی۔
  • ڈبلیو ایچ او نے سفری پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے زندگی کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر سیاسی مصلحت کو ترجیح دی۔
  • ڈبلیو ایچ او نے چین اور دوسرے ممالک سے سفر پر پابندیوں کی مخالفت کرکے تباہ کن فیصلہ لیا جس کے نتیجے میں یہ وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا۔ تاہم اس نے چین کے اندر سفری پابندیوں کو سراہا۔

ساختی مسائل اور ضروری اصلاحات: ڈبلیو ایچ او میں دیرینہ ساختی مسائل موجود ہیں جنہیں حل ہونا چاہیے تاکہ ادارے پر اعتماد بحال ہو سکے۔

  • ڈبلیو ایچ او نے ثابت کیا ہے کہ وہ وبائی بیماری کے ایسے سنگین بحران کی روک تھام، اس کا کھوج لگانے اور وبا  کے خلاف اقدامات کے لیے تیار نہیں تھا ۔
  • ڈبلیو ایچ او کے پاس  رکن ممالک کی جانب سے درست اطلاعات اور شفاف معلومات کا تبادلہ یقینی بنانے سے متعلق بنیادی ڈھانچے  کا فقدان ہےجس کے نتیجے میں یہ ادارہ غلط اطلاعات اور سیاسی اثرورسوخ کے سامنے کمزور ثابت ہوا ہے۔
  • امریکہ چاہتا ہے کہ ڈبلیو ایچ او بیماری کے خلاف تیاری، ردعمل اور فریقین کے باہمی رابطے سے متعلق اپنے بنیادی مقاصد پورے کرنے پر توجہ مرکوز رکھے۔
  • امریکہ شفافیت اور معلومات کے تبادلے کے فروغ، رکن ممالک کو صحت کے حوالے سے عالمگیر ضوابط کی پابندی کے لیے جوابدہ بنانے، ادویات تک رسائی میں اضافے اور ادارے پر چین کے غیرمعمولی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے اصلاحات کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں