rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

English English, Français Français

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ، ڈی سی
22 اپریل 2020

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو صبح بخیر۔ آپ میں جو لوگ ایسے علاقوں میں ہیں  جہاں جمعرات ہے انہیں رمضان مبارک ہو۔

میں آغاز میں تین باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

سب سے پہلے آج  ہم ان لوگوں کو یاد کر رہے  ہیں جو ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں مارے گئے تھے۔ یہ واقعہ ایک سال پہلے پیش آیا تھا۔

دوسری بات یہ  کہ اس ہفتے امریکی انتظامیہ ہولوکاسٹ کی یاد مناتی ہے۔ اس سال ان بہت سے نازی نظربندی کیمپوں سے لوگوں کی آزادی کو 75 برس ہو گئے ہیں جہاں بہت سے معصوم لوگوں کو قتل کیا گیا جن میں 60 لاکھ یہودی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر ہم ان کی داستانوں کی تصدیق کرتے ہیں تاکہ ایسے ناگوار واقعات دوبارہ کبھی نہ ہونے پائیں۔

تیسری بات  یہ کہ آج کرہ ارض کا عالمی دن ہے اور خاص طور پرآج صبح  سیکرٹری جنرل گوتیخش کی جانب سے وبا  کے بعد دنیا کی  بحالی کو درست سمت میں  عمل کے حقیقی موقع میں تبدیل کرنے سے متعلق جاری کردہ پیغام کی روشنی میں مجھے سبھی کو یہ یاد دہانی کرانا ہے کہ نجی شعبے کی اختراع اور آزاد منڈی کی مسابقت کو پُراثر بنانا ہی دنیا کے لیے سبز، صاف اور روشن مستقبل کے حصول کی درست راہ ہے۔ ہم نے امریکہ میں یہی کچھ کیا ہے اور ہم ہر طرح کی گیسوں کے  اخراج کو محدود کرنے کے معاملے میں دنیا میں سب سے آگے ہیں۔

اس حوالے سے میں کچھ سادہ اعدادوشمار پیش کروں گا: حالیہ ترین اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو 2005 سے 2018 تک امریکہ میں ماحول کے لیے مضر اثرات کی حامل گیسوں کے اخراج میں 10 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی حالانکہ اس دوران ہماری معیشت میں 25 فیصد تک ترقی ہوئی۔ اس سے برعکس چین 2006 سے اب تک ایسی گیسوں کے اخراج کے معاملے میں سب سے بڑا ملک رہا ہے اور توقع ہے کہ 2030 تک اس کے ہاں یہ اخراج جاری رہے گا۔ اس طرح دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے عالمگیر سطح پر گیسوں کے اخراج کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت بیکار جاتی ہے۔ میں سیکرٹری گوتیخش پر زور دوں گا کہ وہ یہ امر یقینی بنائیں کہ ہمارے پاس درست اعدادوشمار ہوں اور اس حوالے سے درست حقائق موجود ہوں کہ دراصل کون سا ملک ان معاملات میں اچھا کام کر رہا ہے جو ہمارے لیے اہم ہیں۔ کرہ ارض کے عالمی دن کی 50ویں سالگرہ پر میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ خاص طور پر اہم ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب آتے ہوئے میں امریکی عوام کو ان مسائل کی بابت آگاہ کرنے میں چند منٹ صرف کرنا چاہتا ہوں جنہیں ہم دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے دو بنیادی کام ہیں۔ پہلا یہ کہ اس کا نگران اور مشاورتی کردار ہے اور اس میں صحت کے حوالے سے ہنگامی صورتحال اور انسانی امداد سے متعلق کارروائی سب سے اہم ہے۔

2003 میں پہلی سارز وبا پھیلنے کے بعد امریکہ کے زیرقیادت ڈبلیو ایچ او میں اصلاحات لائی گئیں۔ یہ اصلاحات ڈبلیو ایچ او کے قوانین سے متعلق تھیں جن کے تحت ممالک صحت عامہ کو لاحق خطرات کی اطلاع دیتے ہیں۔ اس طرح بڑے پیمانے پر اصلاحات کی کوشش 2003 میں ہوئی۔

ان قوانین کو صحت کے عالمگیر ضوابط کہا جاتا ہے جو 2007 سے موثر ہوئے۔ ہم نے ڈبلیو ایچ او کے حوالے سے نہایت واضح توقعات متعین کر دی تھیں۔ دنیا نے نہایت واضح طور سے تعین کر دیا کہ عالمگیر صحت کے تحفظ کے لیے کیسے ہر ملک کو معلومات ظاہر کرنا ہیں۔

مثال کے طور پر آئی ایچ آر کا آرٹیکل 6 یہ کہتا ہے کہ ”ہر ریاستی فریق ایسے تمام واقعات کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کو 24 گھنٹے میں آگاہ کرے گا جو اس کے علاقے میں صحت عامہ سے متعلق عالمگیر تشویش کی حامل ہنگامی صورتحال بن سکتے ہوں ۔۔۔”

انہی قوانین کے دوسرے ملحق میں کہا گیا ہے کہ ممالک صحت عامہ کے حوالے سے سارز جیسے کسی بھی غیرمعمولی یا غیرمتوقع واقعات کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کو آگاہ کریں گے۔ سارز جینیاتی طور پر کوویڈ۔19 کا باعث بننے والے وائرس سے قریب ہے۔

ان قوانین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیسے دنیا بھر کے ممالک کو یہ تخمینہ لگانا چاہیے کہ نامعلوم وجوہات یا ذرائع سے جنم لینی والی بیماریوں کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کو کیسے مطلع کرنا ہے۔

ہمیں پورا یقین ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے نئے کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے پر عالمی ادارہ صحت کو بروقت طور سے آگاہ نہیں کیا۔

آئی ایچ آر کا آرٹیکل انہی اصلاحات کا حصہ تھا جس میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی فریق، جس میں چین بھی شامل ہے، صحت عامہ کے حوالے سے معلومات کے بارے میں ڈبلیو ایچ او سے بروقت، درست اور خاطرخواہ طور سے بات کریں گے۔۔۔”

سی سی پی کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کو کروناوائرس کی وبا کے بارے میں مطلع نہ کیے جانے کے بعد بھی چین نے اپنے پاس موجود تمام معلومات کا تبادلہ نہیں کیا۔

اس کے بجائے چین نے بیماری سے لاحق خطرات پر پردہ ڈالا۔ اس نے بیماری کی ایک سے دوسرے انسان کو منتقلی کے بارے میں ایک ماہ تک کوئی اطلاع نہ دی یہاں تک کہ یہ چین میں ہر جگہ نہ پھیل گئی۔ جن لوگوں نے دنیا کو خبردار کرنا چاہا انہیں خاموش کرا دیا  گیا ۔ چین نے  بیماری کے نئے نمونوں کے معائنے روکنے کا حکم دیا اور موجودہ نمونوں کو تباہ کر دیا۔

سی سی پی نے تاحال چین سے کسی مریض کا نمونہ بیرونی دنیا کو نہیں دکھایا اور یوں بیماری کے ارتقا کا پتا چلانے کا عمل ناممکن بنا دیا۔

میں چین کی آئی ایچ آر سے وابستگی کے حوالے سے قانونی تعین نہیں کر رہا، مگر عالمی ادارہ صحت کا انضباطی حصہ اس وبا کے دوران واضح طور سے ناکام رہا۔

میں یہ بھی کہوں گا کہ 2007 میں جب دنیا بھر کے ممالک نے ان نئے قوانین کو اختیار کیا تو ہم نے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں کہا کہ جب کوئی ملک ان قوانین کی پاسداری نہ کرے تو وہ دنیا کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر اس معاملے میں ایسا کچھ نہ ہوا۔

یہی وجہ ہے کہ  ہم اصرار کر رہے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او کے قوانین کی رو سے یہ شفافیت اور کھلے پن کا تقاضا ہے اور ڈبلیو ایچ او کی ذمہ داری ہے کہ وہ آج ان قوانین کا نفاذ ممکن بنائے۔ شفافیت اور درست سمت میں عمل کرنا آج اور مستقبل میں زندگیوں کے تحفظ کے لیے لازمی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک منٹ کے لیے میں انسانی امداد کے حوالے سے بات کروں گا۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ فیاض ملک ہے، گزشتہ تین سال کے دوران اس نے انسانی امداد کے معاملے میں سب سے زیادہ فیاضی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس سال بھی ایسا ہی کرے گا۔

امریکہ کے ٹیکس دہندگان کی کاوشوں سے ہم نے گزشتہ دو دہائیوں میں عالمگیر صحت کے لیے 140 بلین ڈالر سے زیادہ امداد دی ہے۔

آج میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ امریکہ اس وائرس کے مقابلے میں انتہائی خطرے سے دوچار ممالک  کی مدد کے لیے قریباً 270 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا وعدہ کر رہا ہے۔ اس طرح آج تک ہماری مجموعی امداد کا حجم 775 ملین ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔

ہم یہ سب کچھ بہت سے طریقوں سے کرتے ہیں۔ ہم کثیرملکی اداروں کے ذریعے یہ کام کرتے ہیں۔ ہم مہارتوں کے تبادلے سے اپنے شراکت داروں کی مدد کرتے ہیں۔ آج سی ڈی  سی کے حکام 59 ممالک میں تعینات  ہیں اور انہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران دنیا بھر میں وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے ہزاروں لوگوں کو تربیت دی ہے جن کا علم انتہائی قابل قدر کام کر رہا ہے۔

آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس نے ان ممالک کی مدد کی ہے اور وہاں زندگیاں بچائی ہیں مگر یہ عالمگیر وبا ہے اور بیرون ملک اس کام سے ہمیں امریکہ میں تحفظ ملتا ہے۔

گوئٹے مالا میں کوویڈ کا پہلا مریض سامنے آنے سے چند ہفتے پہلے یوایس ایڈ نے وہاں وزارت صحت کو ایک بڑے ہسپتال کو سہولیات سے آراستہ کرنے میں مدد دی تاکہ ابتدائی بیماروں کی نگہداشت شروع ہو سکے۔

امریکہ آج انڈونیشیا میں 70 ہزار سے زیادہ دواسازوں کو تربیت دے رہا ہے تاکہ وہ لوگوں کو اچھا مشورہ دے سکیں اور علاج کے لیے درست جگہ پر بھیج سکیں۔

امریکہ کی فیاضی امریکی حکومت کی جانب سے آنے والی براہ راست امداد تک ہی محدود نہیں ہے۔ ہمارے کاروبار، ہماری این جی اوز، خیراتی ادارے اور مذہبی گروہ کُل امریکہ طریق کار کا حصہ ہیں جس کا مقصد دنیا بھر میں زندگیاں بچانا اور اندرون ملک ہماری حفاظت کرنا ہے۔

ہمارا اندازہ ہے کہ امریکی عوام نے اس مخصوص وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عطیات اور امداد کی مد میں قریباً 3 بلین ڈالر دیے ہیں۔

عالمگیر صحت کے حوالے سے امریکی وعدے  بدستور قائم ہیں۔

چند آخری نکات کی جانب آتے ہوئے میں ان دو طریقوں پر روشنی ڈالنا چاہوں گا جن کے ذریعے چین کی کمیونسٹ پارٹی اپنا اشتعال انگیز طرزعمل جاری رکھتے ہوئے کوویڈ۔19 سے دنیا کی توجہ ہٹا نے کی کوشش کر رہی ہے۔

پہلی بات یہ کہ، ہم نے کانگ کانگ کی صورتحال پر تبصرہ کیا تھا جہاں بیجنگ کی جانب سے خودمختاری کے خاتمے کی سرتوڑ کوششوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 81 برس کے مارٹن لی سمیت جمہوریت نواز کارکنوں کو گرفتار کیا۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ چین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے اور جیسا کہ میں  نے اس سے پہلے وائرس کے بارے میں بات کی ہے، چین کو چاہیے کہ وہ قوانین کی پاسداری کرے جن پر اس نے خود دستخط کر رکھے ہیں۔ ہم انہیں کہیں گے کہ وہ ہانگ کانگ کے معاملے میں بھی قانون کی پاسداری کریں۔

آپ یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ چینی کمیونسٹ پارٹی تائیوان پر عسکری دباؤ ڈال رہی ہے اور جنوبی چینی سمندر میں اپنے ہمسایوں پر جبر کر رہی ہے یہاں تک کہ اس نے ویت نام کا مچھلیاں پکڑنے والا جہاز بھی ڈبو دیا ہے۔

امریکہ چین کی غنڈہ گردی کی کڑی مخالفت کرتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی اس سے جواب طلبی کریں گے۔ آج رات میں ٹیلی فون پر لاؤس کے وزیر خارجہ کے ساتھ آسیان ممالک تمام ارکان سے بات کروں گا۔

میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ امریکہ میں ہواوے کے استعمال اور دیگر ناقابل اعتماد فروخت کنندگان پر پابندی کے لیے 2019 کے این ڈی اے ای قانون کی رو سے عملدرامدی پالیسیوں کی تیاری کے لیے ہم نے اچھی پیشرفت کی ہے۔

امریکی تنصیبات میں آنے والا ڈیٹا صاف راستے سے گزرے گا اور صرف قابل اعتماد نظام کے ذریعے ہی یہاں عبوری اور مستقل طور سے رکھا جائے گا۔ ہم اس بارے میں جلد مکمل تفصیلات مہیا کریں گے۔

میں نے یہاں کھڑے ہو کر تواتر سے کہا ہے کہ وینزویلا کے معاملے میں ہم مادورو حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وینزویلا کے عوام کو انسانی امداد بھی پہنچانا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ روز محکمہ خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ مخصوص کمپنیوں کو وینزویلا کے ساتھ کام کی اجازت دینے والا عمومی لائسنس آج ختم ہو گیا ہے۔

محکمہ خزانہ نے سات ماہ کے لیے ایک نیا اور محدود اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کی بدولت وہاں موجود کمپنیاں اپنا کام سمیٹ سکیں گی۔

اس کے ساتھ ہی میں آپ کے سوالات کی جانب آتا ہوں۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے، بہت اچھا۔ نِک۔

سوال: شکریہ مورگن۔ جناب وزیر خارجہ، پریس کانفرنس کے لیے شکریہ۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے ایران اور چین کے بارے میں بات کرنا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے آج بتایا ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ فوجی مقاصد کے لیے ایک مصنوعی سیارہ زمینی مدار میں چھوڑا ہے۔ کیا یہ ٹیکنالوجی بین البراعظمی بلسٹک میزائلوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے؟ ہم نے ایران کی وسیع جوہری صلاحیت، عراقی ملیشیا کے راکٹ حملے اور حالیہ دنوں بحریہ کے ایک جہاز کو دھمکانے کے واقعات دیکھے ہیں۔ سلیمانی پر حملے کے بعد قوت مزاحمت کا توازن دوبارہ قائم کرنے کی بات ہوئی تھی۔ کیا آپ یہ خدشہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ توازن بگڑ گیا ہے؟

چین کے حوالے سے مجھے کہنا ہے کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے پی پی ای سے متعلق خریدی گئی لاکھوں اشیا چین میں پھنسی ہوئی ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں اس کا سبب ضابطے کی کارروائیاں ہیں، چین کی جانب سے اشیا کا معیار بہتر رکھنے کے لیے یہ تاخیر ہو رہی ہے یا وہ انہیں امریکہ کو دینے کے بجائے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے؟ شکریہ۔

وزیر خارجہ پومپیو: جہاں تک آپ کے دوسرے سوال  کا تعلق ہے تو اس کا جواب میں ان اشیا اور ان کی ترسیل سے متعلق نائب صدر کی ٹاسک فورس پر چھوڑتا ہوں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چین یہ وسائل مہیا کر رہا ہے۔ بعض اوقات ایسی چیزیں وہاں موجود امریکی کمپنیوں کےذریعے آتی ہیں مگر ہم نے اس معاملے میں کامیابی دیکھی ہے۔ نائب صدر اور ان کی ٹیم نے چین سے امریکی عوام کو اشیا کی ترسیل کے لیے فضائی رابطے پر بات کی ہے اور ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔ ہم چین پر بھروسہ کر رہے ہیں کہ وہ ہمیں یہ معاونت فراہم کرنے اور ان اشیا کی فروخٹ  کےلیے اپنے معاہدے سے متعلق اور عالمی ذمہ داریاں پوری کرے۔ بیشتر اوقات یہ تجارتی سودے ہوتے ہیں اور اسے عالمگیر تجارتی قوانین کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس نے گزشتہ رات راکٹ لانچ کیا ہے۔ ایرانی تواتر سے کہتے چلے آئے ہیں کہ ان میزائل پروگراموں کا ان کی فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ خالصتاً تجارتی منصوبے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کا واقعہ اس تمام عرصہ میں امریکہ کے موقف کو درست ثابت کر دیتا ہے۔ نامزد دہشت گرد تنظیم پاسداران انقلاب نے آج ایک میزائل لانچ کیا ہے۔ میں اس بارے میں تفصیلات کا بیان محکمہ دفاع پر چھوڑوں گا۔ جب آپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے بارے میں بات کرتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ ہر ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں جائے اور یہ دیکھے کہ آیا یہ واقعہ سلامتی کونسل کی قرارداد سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اس پر اس سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔ اب انہوں نے ایسے عسکری ادارے کے ذریعے مصنوعی سیارہ زمینی مدار میں بھیجنے کی کوشش کی ہے جسے امریکہ دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

آپ نے بحریہ کے جہازوں کی بات کی۔ آپ نے آج صبح صدر کا بیان دیکھا ہو گا۔ صدر نے نہایت واضح طور سے محکمہ دفاع کو اور کُھل کر دفتر خارجہ کی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ یہ امر یقینی بنانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائیں کہ ہمیں دنیا بھر میں اپنے حکام، اپنے فوجی حکام اور سفارت کاروں کا تحفظ کرنا ہے اور ان کی سلامتی اور حفاظت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ انہوں نے آج صبح جو کچھ کہا اور انہوں نے حکومت میں ہم سب کو جو کچھ بتایا ہے وہ یہ کہ اپنے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ محکمہ دفاع بھی امریکیوں کی حفاظت کے حوالے سے صدر کی بات پر اقدامات اٹھائے گا۔

آخر میں آپ نے قوت مزاحمت کے توازن کی بات کی ہے۔ اس بارے میں دو خیالات ہیں۔ پہلا یہ کہ ایران کی حکومت نے دنیا بھر میں اس وائرس کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائی ہیں۔ انہوں نے ایک بات یہ کی ہے کہ ہمیں اپنے ہاں وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے۔ اسی دوران وہ مصنوعی سیارے بھی لانچ کر رہے ہیں اور خلیج عرب میں امریکی بحریہ کے جہازوں کو بھی دھمکا رہے ہیں۔ وہ بدستور شیعہ ملیشیاؤں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور حزب اللہ کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز یا اس سے ایک دن پہلے میرے ایرانی منصب دمشق میں قتل و غارت کے لیے بات کرنے کی غرض سے شام میں موجود تھے۔

میں امید کرتا ہوں کہ ایران کی حکومت ایرانی عوام کی جانب سے حکومتی وسائل دنیا میں دہشت کی مہم پر خرچ کرنے کے بجائے لوگوں کی صحت، سلامتی اور حفاظت پر صرف کرنے کو ترجیح دینے کے مطالبات پر عمل کرے گی۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ تاحال اپنی روش پر قائم ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے پاس اب بھی وسائل موجود ہیں۔ آپ یہ بات مدنظر رکھیں کہ ایران میں کوویڈ وائرس پھیلنے کی ابتدائی خبروں پر ہی ہم نے ایران کے عوام کےلیے انسانی امداد کی پیشکش کی تھی۔ ایران کی حکومت نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ یہ پیشکش اب بھی برقرار ہے۔ ہم نے ایرانی عوام کو انسانی مدد پہنچانے کے لیے دوسرے ممالک کی معاونت کی ہے۔ کاش ایرانی حکومت بھی اپنے لوگوں کا اتنا ہی خیال رکھتی جتنا کہ باقی دنیا نے اپنے لوگوں کا خیال رکھا ہے۔

مس اورٹیگس: باربرا۔

سوال: جناب وزیر خارجہ آپ کا شکریہ۔ ہم یہ بات سن رہے ہیں کہ شمالی کوریا میں افراتفری پھیل رہی ہے۔ کیا آپ کے پاس ایسی کوئی معلومات ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ کم جونگ ان کی خراب صحت سے متعلق اطلاعات کو دیکھا جائے تو کیا امریکہ نے کسی طرح کی معلومات کے لیے پیانگ یانگ سے رابطہ کیا ہے اور اگر کیا ہے تو کیا جواب ملا؟

اس کے بعد اجازت ہو تو مجھے چین کے حوالے سے پوچھنا ہے۔ آپ یہ کیسے کہیں گے کہ چین کے اس طرزعمل یعنی غلط اطلاعات پھیلانے سے امریکہ کے ساتھ اس کے طویل مدتی تعلقات کس طرح متاثر ہوئے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان تعلقات کو نمایاں طور سے نقصان ہو گا؟

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ باربرا۔ میرے پاس شمالی کوریا کے حوالے سے کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ جیسا کہ صدر نے گزشتہ شام کہا، ہم وہاں کی صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم میرے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جن سے آپ کو آگاہ کروں۔

جہاں تک چین کا معاملہ ہے تو جو ممالک عالمی منظرنامے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچائی پر مبنی معلومات فراہم کریں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات کا تبادلہ کریں اور اس معاملے میں شفاف طرزعمل اختیار کریں۔ ہم ہر ملک سے یہی توقع رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ غلط معلومات کا حوالہ دے رہی تھیں۔ ذمہ داری دوسروں کے سر منڈھنے کی کوشش کرنا یا دنیا کو صورتحال جاننے کے لیے حقائق تک رسائی نہ دینا، آپ کو یاد ہونا چاہیے کہ یہ تجربہ گاہیں چین میں اب بھی کھُلی ہیں جہاں پیچیدہ جرثومے موجود ہیں جن پر تحقیق ہو رہی ہے۔ یہ صرف ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کا معاملہ نہیں ہے۔ چین میں بہت سی تجربہ گاہوں میں ایسے کام ہو رہے ہیں۔ ایسے مواد پر محفوظ طریقے سے کام ہونا چاہیے تاکہ یہ حادثاتی طور پر باہر نہ نکلنے پائے۔

امریکہ میں اس کام کے لیے ہمارے پاس ایک مفصل نظام موجود ہے۔ بہت سے دیگر ممالک میں بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارے پاس بہت سے نظام ہیں، میں جوہری تناظر میں آپ کو اس کی ایک مثال دوں گا جہاں دنیا جوہری تنصیبات کا معائنہ کرتی ہے تاکہ یہ امر یقینی بنایا جا سکے کہ وہاں درست انداز میں کام ہو رہا ہے۔ امریکہ دوسروں کو جوہری مواد کے حوالے سے احتیاط برتنے کی تربیت دینے کے لیے بہت سی رقم خرچ کرتا ہے۔ ہمیں یہ امر یقینی بنانا ہے کہ چینی حکومت ناصرف ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں بلکہ ہر جگہ ایسے مواد پر احتیاط سے کام کر رہی ہے۔ چنانچہ یہ چینی حکومت کے ساتھ عالمی ادارہ صحت کی بھی ذمہ داری ہے جس کا کام قوانین سے مطابقت یقینی بنانا ہے۔

مجھے امید ہے کہ میں نے آپ کو ان باتوں سے بور نہیں کیا ہو گا مگر یہ بات سمجھنے کے لیے ان کی اہمیت ہے کہ ایسے بہت سے عالمگیر ضوابط ہیں جن پر چینی کمیونسٹ پارٹی نے اتفاق کر رکھا ہے۔ یہ امریکہ کے قوانین نہیں ہیں بلکہ یہ قوانین و ضوابط ہیں جن پر چین کی حکومت نے دستخط کر رکھے ہیں اور عالمی ادارہ صحت کی مسلسل ذمہ داری ہے کہ وہ آج ان قوانین پر اس انداز میں عملدرآمد یقینی بنائے جس سے ناصرف اس جاری وبا میں بلکہ مستقبل میں بھی ہمیں تحفظ مل سکے۔

مس اورٹیگس: مائیکل۔

سوال: جناب وزیر خارجہ آپ کا بے حد شکریہ ۔۔۔

وزیر خارجہ: جی جناب۔

سوال: کیا آپ نے صدر کا انتباہ ایران کو براہ راست پہنچا دیا ہے؟ دوسری بات یہ کہ آیا آپ کو خدشہ ہے کہ تیل کی قیمتوں سے خلیجی ممالک اور خطے میں آپ کے شراکت داروں کی سلامتی اور استحکام پر منفی اثر پڑے گا؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں باہمی بات چیت پر کبھی تبصرہ نہیں کرتا، میری مراد اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت سے ہے۔ اسی لیے میں آپ کے پہلے سوال کا جواب نہیں دوں گا۔

جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے تو صدر تیل کی طلب میں بڑے پیمانے پر حالیہ کمی کے ہوتے ہوئے توانائی کی مزید مستحکم منڈی بنانے پر غیرمعمولی توجہ دے رہے ہیں۔ آپ دیکھ چکے ہیں کہ گزشتہ کئی ہفتوں میں خام تیل کی طلب میں 20 سے 35 فیصد کمی ہوئی ہے اور آپ نے اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی دیکھا ہو گا۔ چند روز پہلے چند ہفتوں کے لیے مستقبل کے سودوں کے حوالے سے تیل کی قیمت منفی 37 ڈالر تک آ گئی تھی۔ صدر نے چند ہفتے پہلے جو کچھ کیا اور وہ آج کل جس کام میں مصروف ہیں اس کے دو حصے ہیں۔ پہلا، اندرون ملک توانائی کے وسائل سے کام لینے کی صلاحیت یقینی طور پر برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا اور توانائی کی منڈیوں میں استحکام لانا تاکہ آپ کو وہ قیمت ملے جو حقیقی طلب سے مطابقت رکھتی ہو اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ عالمی معیشت  کو دوبارہ کھڑا کیا جائے۔

ایک اہم عنصر جو قیمتوں کے ان معاملات پر انتہائی نمایاں طور سے اثرانداز ہو گا اور جو توانائی کی صنعت میں فراہمی کے سلسلوں کو متاثر کرے گا، اس کا تعلق طلب کو اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2019 کی سطح پر لانا ہے۔

امریکہ کی موجودہ معیشت ملکی تاریخ میں مضبوط ترین سمجھتی جاتی ہے۔ جب دنیا ان سطحوں پر واپس آ جائے گی تو ایسی حکومتیں جن کی آمدنی کا بڑی حد تک انحصار تیل پر ہوتا ہے وہ آج کی نسبت بہتر حال میں ہوں گی۔ یہاں ایک حقیقی نوعیت کا خدشہ ہے۔ کم قیمتوں اور طلب کے حجم میں کمی کے باعث ان ممالک کو مالیاتی مسائل کا سامنا ہو گا اور ہم ان میں بہت سے ملکوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کہ مل جل کر اس خلا کو کیسے پاٹا جا سکتا ہے۔

مس اورٹیگس: رچ ۔

سوال: جناب وزیرخارجہ ۔۔۔

وزیر خارجہ پومپیو: رچ، آپ کیسے ہیں؟

سوال: میں ٹھیک ہوں، آپ کا کیا حال ہے؟

وزیر خارجہ: میں بھی ٹھیک ٹھاک ہوں۔

سوال: چین کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کو بروقت مطلع کرنے میں ناکامی کو دیکھا جائے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ چینی حکومت ممالک یا افراد کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی پابند ہے؟ یہ بھی بتائیے جیسا کہ آپ نے چین میں بہت سی تجربہ گاہوں کا ذکر کیا تو چین کی جانب سے ایسے خطرناک مواد کو سنبھالنے کے حوالے سے آپ کا کیا اندازہ ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں خاطرخواہ انتظامات کر رکھے ہیں؟

وزیر خارجہ پومپیو: میں اس معاملے میں احتساب کے حوالے سے کسی اور دن بات کروں گا کہ ہم کیسے ذمہ داری عائد کرتے ہیں اور کیسے دوسرے ممالک کو جوابدہ ٹھہراتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے قوانین کی رو سے یہ ادارہ اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں یا نہیں اور یہ قوانین اس کے ڈائریکٹر جنرل کو ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والے ممالک کے حوالے سے بہت زیادہ اختیارات تفویض کرتے ہیں۔ ہم عالمی ادارہ صحت کے ہر رکن ملک  اور ڈبلیو ایچ او کی قیادت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان قوانین پر عملدرآمد ممکن بنائیں گے۔ اسی لیے ہم انہی پر انحصار کر رہے ہیں۔ ناصرف ماضی کے حوالے سے ہمارا ان پر انحصار ہے بلکہ آج بھی ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔

رچ، آپ کا دوسرا سوال کیا تھا؟

سوال: آپ نے چین میں بہت سی تجربہ گاہوں کا تذکرہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ پومپیو: جی، میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ میں اتنا ہی کہوں گا کہ آپ کے اس سوال کے جواب کی بابت جاننا ہمیشہ بہت آسان رہا ہے کہ  آیا یہ تجربہ گاہیں ناصرف ضوابط کے معاملے میں قوانین کے مطابق چل رہی ہیں، اور کیا وہاں اس مواد کو موزوں اور محفوظ طریقے سے برتا جا رہا ہے اور کیا دنیا کو ان جگہوں تک رسائی مل سکتی ہے۔ اور کیا وہ ان معلومات کا کھلے اور شفاف طریقے سے تبادلہ کرتے ہیں۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ابتدا میں اس معاملے میں کیا ہو رہا تھا، ہم نے ابتدا ہی میں عالمی ادارہ صحت کے ساتھ وہاں جانے کی کوشش کی، اگر مجھے درست یاد ہے تو یہ جنوری کی بات ہے۔ ہمارے پاس اب بھی وائرس کا نمونہ نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کو چین کی تنصیبات اور ووہان میں دوسری جگہوں تک رسائی ہے جو اس وائرس کا نکتہ آغاز ہو سکتی ہیں۔

مس اورٹیگس: سید

سوال: شکریہ مورگن، جناب وزیر خارجہ آپ کا شکریہ۔ نئی اسرائیلی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ یہ نیتن یاہو اور جنرل گانٹز کی اتحادی حکومت ہے اور انہوں نے یکم جولائی سے مغربی کنارے کے حصوں کا اسرائیل سے الحاق کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ کیا آپ اس پر کچھ کہیں گے۔

مجھے حال ہی میں آپ کی جانب سے جاری کردہ امداد کے بارے میں بھی پوچھنا ہے۔ آپ نے فلسطینی اتھارٹی کو کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کے لیے 5 ملین ڈالر جاری کیے ہیں (1)۔ انہیں مزید امداد کی ضرورت ہے۔ کیا انہیں مزید امداد بھی دی جانا ہے؟ شکریہ جناب۔

وزیر خارجہ پومپیو: دونوں اچھے سوال ہیں۔ دوسرے سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا ہے کہ ہمیں فلسطینیوں کو 5 ملین ڈالر امداد مہیا کرنے کی خوشی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ درست جگہ پر خرچ ہو گی۔ فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی کے حوالے سے ہمارا خدشہ، قبل ازیں انہیں امداد کی فراہمی روکنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ وسائل اس جگہ نہیں پہنچ رہے تھے جہاں انہیں ہونا چاہیے۔ یہ امداد فلسطینی عوام تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ رقم، یہ 5 ملین ڈالر وہاں پہنچیں گے جہاں جہاں انہیں پہنچنا چاہیے۔ یہ امداد فلسطینی عوام کو ملنی چاہیے۔ میں آپ کے نکتے سے اتفاق کرتا ہوں کہ فلسطینی عوام کو مزید بہت سی  امداد درکار ہے۔ ہم تخمینہ لگائیں گے کہ آیا اس 5 ملین کا فائدہ ہوا ہے یا نہیں اور یہ کہ کیا ایسے مزید وسائل بھی موجود ہیں اور کیا انہیں اس انداز میں مہیا کیا جا سکتا ہے کہ یہ واقعتاً فلسطینی عوام تک پہنچ جائیں۔

آپ کا پہلا سوال انتخابات سے متعلق تھا۔

سوال: حکومت۔

وزیرخارجہ پومپیو: ہمیں اس کی خوشی ہے، ایک نئی حکومت بن گئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ چوتھا انتخاب اسرائیل کے بہترین مفاد میں نہ ہوتا مگر ہم یہ معاملہ انہی پر چھوڑتے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ دنیا کے بہترین مفاد میں نہیں ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اب اسرائیل میں مکمل حکومت بن گئی ہے۔

جہاں تک الحاق کا معاملہ ہے کہ تو اسرائیلی ہی حتمی طور پر یہ فیصلے کریں گے۔ یہ اسرائیل کا فیصلہ ہے اور ہم اس بارے علیحدہ طور سے انہیں اپنے خیالات سے آگاہ کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

مس اورٹیگس: مجھے وزیر خارجہ کو ان کی اگلی ملاقات کے لیے لے جانا ہے، مگر اس بریفنگ کو جاری رکھنے کے لیے ہمارے پاس دو خاص مہمان موجود ہیں اس لیے ۔۔۔

وزیر خارجہ پومپیو: بہت اچھا۔ آپ سبھی کا شکریہ۔ میرے ساتھ موجودگی پر آپ کا شکریہ۔ سبھی کو صبح بخیر۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔ اب پہلے جان بارسا اور پھر جم رچرڈسن بات کریں گے۔ اس کے بعد ہم دوبارہ سوال وجواب کا سلسلہ شروع کریں گے۔ جان۔

مسٹر بارسا: صبح بخیر۔ ہمیں یہاں لانے کا شکریہ۔ میں آپ میں جن لوگوں سے تاحال نہیں ملا ان کی سہولت کے لیے بتانا چاہوں گا کہ میرا نام جان بارسا ہے۔ میں یوایس ایڈ کا نیا قائم مقام منتظم ہوں اور اس عہدے کے لیے منتخب کیا جانا واقعتاً میرے لیے اعزاز ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی حمایت اور اس عہدے پر تعیناتی کے لیے مجھ پر اعتماد کے اظہار پر میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں صدر، نائب صدر پنس، وزیرخارجہ پومپیو اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ کام کا منتظر ہوں۔ آج ہم امریکی حکومت کی ایک بہترین افرادی قوت کی قیادت کر رہے ہیں۔

ہم یہاں اس موضوع پر بات کرنے کے لیے موجود ہیں کہ کیسے امریکہ عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کو کوویڈ۔19 وبا کا مقابلہ کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ کانگریس کی جانب سے مہیا کردہ 2.7 بلین ڈالر اضافی ہنگامی امداد کے ساتھ یو ایس ایڈ دفتر خارجہ اور سی ڈی سی کے ساتھ مل کر صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مدد کی فراہمی، ہنگامی امدادی ضروریات پوری کرنے اور وائرس کے پھیلاؤ سے ہونے والے نقصان دہ معاشی اثرات کو محدود رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

آج وزیر خارجہ کے اعلان کے ساتھ دنیا بھر میں عالمگیر وبا کے خطرات کا سامنا کرنے والے 100 سے زیادہ ممالک کے لیے ہماری امداد کا حجم 775 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ میں آپ کو اس رقم کے حوالے سے قدرے مزید تفصیلات سے آگاہ کروں گا۔ اس میں قریباً 103 ملین ڈالر اکنامک سپورٹ فنڈ کے اکاؤنٹ سے لیے گئے ہیں جو غیرسرکاری ادارے لوگوں اور ممالک کی مدد کے لیے بہت سے اقدامات میں استعمال کریں گے۔ ہم یوایس ایڈ میں عالمگیر سطح پر آفات میں امداد سے متعلق اکاؤنٹ سے بھی 100 ملین ڈالر انسانی امداد کے لیے دیں گے۔ یہ رقم بحران سے متاثرہ علاقوں میں تحفظ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے کام آئے گی۔  مہاجرین اور پناہ گزینوں کی امداد کے لیے 667 ملین ڈالر (2) سے بے گھر آبادیوں کو مدد مہیا کی جائے گی جنہیں اس وبا سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

دنیا کے ہر کونے میں امریکہ ایسے ممالک کی مدد کر رہا ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسے بہت سے ممالک کو ہم باقاعدگی سے مدد فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے امدادی کردار کی دیگر ممالک تک وسعت اس بحران کی غیرمعمولی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

مثال کے طور پر 11 اپریل کو امریکہ نے یوایس ایڈ کے ذریعے اٹلی کے لیے انتہائی ضرورت امداد کا وعدہ کیا جس کا مقصد اس وبا سے صحت کے نظام میں بڑے پیمانے پر جنم لینے والے انتشار کو محدود کرنا اور ملکی معاشی صورتحال کو مستحکم بنانے میں مدد دینا ہے۔ اس امداد سے وبا کے دوران اٹلی کے شہریوں کی صحت کی بنیادی سہولیت تک رسائی میں بہتری آئے گی اور اٹلی کی بحالی میں مدد ملے گی۔

امداد کی فراہمی کے اس تازہ ترین مرحلے میں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ اس وبا کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ بعض ممالک کو مدد مہیا کریں گے۔ ان ممالک میں الجزائر، بیلیز، بھوٹان، بولیویا، بوٹسوانا، بلغاریہ، جمہوریہ کانگو، جبوتی، ایل سلواڈور، ایکواڈور، ایسواٹینی، گھانا، گوئٹے مالا، گنی، ہنڈوراس، اردن، لبنان، مڈغاسکر، ملاوی، ملائشیا، مالی، مونٹی نیگرو، مراکش، موریطانیہ، ماریشس، میکسیکو، لیسوتھو، لائبیریا، پانامہ، نمیبیا، نائیجر، رومانیہ، سیرالیون، ترکی، یوگنڈا، مغربی کنارہ اور یمن شامل ہیں۔

مس اورٹیگس: بہت اچھے۔

مسٹر بارسا: میں نے جلدی سے یہ فہرست بیان کی ہے، کیا آپ کو یہ مکمل یاد ہو گئی ہے؟ (قہقہہ)

جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان میں بہت سے ممالک میں ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے کے لیے ہم عالمی اداروں اور این جی اوز کے ذریعےکام کرتے ہیں۔ آپ میرے بیان کردہ ممالک کی فہرست سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کون کون سی جگہوں پر مدد فراہم کر رہے ہیں، یقیناً ان ممالک کا تعلق دنیا کے مختلف خطوں سے ہے۔ اپنی فراہم کردہ امداد کو زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنانے کے لیے ہماری مدد ہر ملک کی صلاحیت اور ضروریات کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔ یہ امداد مریضوں کے علاج معالجے کی صورتحال بہتر بنانے، بیماری کی نگرانی اور صحت عامہ کی جانچ کے شعبوں میں بہتری لانے پر خرچ ہو گی۔ ہماری امداد بیماری کی روک تھام کے عمل کو بہتر بناتی ہے اور طبی مراکز کی کارکردگی میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ بیماری کے تجزیے کی صلاحیت میں اضافے، آگاہی پھیلانے کے لیے ابلاغ کو بہتر کرنے، پانی اور نکاسی آب تک رسائی میں اضافے اور بہت سے دیگر کاموں میں مدد دیتی ہے۔

امریکہ عالمی سطح پر صحت اور امدادی سرگرمیوں میں رہنما کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی عوام نے اپنی بے مثل فیاضی کے ذریعے بے شمار جانیں بچائیں، بیماری کے شدید خطرے کی زد پر موجود لوگوں کو تحفظ دیا، طبی ڈھانچہ تعمیر کیا اور معاشروں اور ممالک کے استحکام کو بہتر بنایا ہے۔ امریکہ نے نزاع، شورش اور غیریقینی کے ادوار میں ہمیشہ دنیا کی قیادت کی ہے اور حالیہ وبا میں بھی ایسا ہی ہو گا۔

اپنی بات کے اختتام پر میں صدر ٹرمپ، نائب صدر پنس اور وزیر خارجہ پومپیو کا تذکرہ کروں گا جو اس بحران کے موقع پر دنیا میں غیرمعمولی قیادت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ بہترین ٹیم اور ٹرمپ انتظامیہ میں شامل دیگر لوگ اندرون و بیرون ملک وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں اور ہمیں ان کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے۔ آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔

مس اورٹیگس: جم۔

مسٹر رچرڈسن: شکریہ مورگن۔ میں جم رچرڈسن ہوں اور دفتر خارجہ میں بیرون ملک امداد کے شعبے میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرتا ہوں۔ جیسا کہ جان نے کہا، میں بھی سب سے پہلے اپنی قیادت کے کام کا اعتراف کرنا چاہوں گا جس میں صدر، نائب صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ دنیا بھر میں دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی باصلاحیت ٹیمیں شامل ہیں۔ ہم کوویڈ۔19 کو شکست دیننے کےلیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ کوویڈ۔19 جیسی وبائیں قومی سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتیں، اسی لیے ہمارا ردعمل، امریکی حکومت کا ردعمل بھی سرحدوں سے ماورا ہے۔

صحت اور امداد کے شعبے میں کئی دہائیوں تک عالمی سطح پر قائدانہ کردار کی بدولت ہم جانتے ہیں کہ امریکی عوام کی صحت اور تحفظ برقرار رکھنے کے اپنے بنیادی مقصد کے لیے نپے تلے اور تزویراتی اقدامات اہم ہیں۔ ہم اندرون و بیرون ملک وبا کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ہمیں کرنا ہو گا۔ اس میں کسی ایک فریق کی ہار جیت نہیں ہو گی بلکہ اس میں سبھی کا مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔

امریکی عوام کی فیاضی کے ذریعے دفتر خارجہ اس وبا کے مقابلے میں عالمی سطح پر رہنما کردار ادا کر رہا ہے۔ درحقیقت، یہ حقیقت وزیر خارجہ کی جانب سے کچھ ہی دیر پہلے امدادی سرگرمیوں اور معاشی تحفظ کے لیے اعلان کردہ 270 ملین ڈالر کی اضافی امداد سے واضح ہو جاتی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں 100 سے زیادہ ممالک کے لیے ہماری امداد کا مجموعی حجم 775 ملین ڈالر ہو گیا ہے۔ ان میں قریباً تمام ممالک کے نام جان نے بتا دیے ہیں۔ ہم ایک تزویراتی اور کُل امریکی طریق کار کے ذریعے اس امدادی سرگرمی پر عملدرآمد کریں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ ناصرف آج بلکہ مستقبل میں بھی دنیا وبائی بیماریوں سے محفوظ رہے۔

ہماری جانب سے اب تک دی گئی امداد کی بات ہو تو پہلے میں چند اہم موضوعات پر کچھ کہنا چاہوں گا کہ مجھے یقین ہے آپ لوگ اس بارے میں مجھ سے سوالات کریں گے۔ سب سے پہلے اٹلی کی بات ہو جائے۔ ہم نے اٹلی کو معاشی امداد کے طور پر 50 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ اٹلی ہمارے ان قریب ترین اتحادیوں اور دوستوں میں شامل ہے جو کوویڈ کے خلاف اگلی صفوں میں لڑ رہے ہیں۔ اس امداد سے اٹلی کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے گی اور اُن عالمی اداروں اور این جی اوز بشمول مذہبی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کی معاونت ہو گی جو پہلے ہی وہاں زندگیاں بچانے کا کام کر رہی ہیں۔

دوسری بات، امریکہ مغربی کنارے اور غزہ میں وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطینی ہسپتالوں کو 5 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ امریکہ کوویڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین جاری تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کوشش میں مدد دینے کے لیے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور غزہ میں اشیا اور سازوسامان کی فراہمی میں سہولت دینے کے اقدام کو سراہتا ہے۔

تیسری بات یہ کہ میں شمالی تکون یعنی ایل سلواڈور، گوئٹے مالا اور ہنڈوراس کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہم انہیں اس وبا سے نمٹنے کے لیے 7 ملین ڈالر مہیا کر رہے ہیں۔ یہ ان تین ممالک کے لیے مخصوص امداد کے لیے وزیر خارجہ  کی جانب سے اعلان کردہ 258 ملین ڈالر میں نیا اضافہ ہیں۔ اس امداد سے امریکہ اور ہمارے اہم اتحادیوں دونوں کو فائدہ ہو گا۔ جن ممالک سے مہاجرین کی بڑی تعداد آتی ہے انہیں معاشی امداد دے کر ان کے لوگوں کو اپنے ہی ملکوں میں روکنے اور امریکہ میں غیرقانونی مہاجرت کے خلاف اقدامات میں مدد ملے گی۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں گزشتہ ہفتے صدر نے اعلان کیا تھا کہ ہم آئندہ 60 سے 90 روز کے لیے عالمی ادارہ صحت کی مالی مدد معطل کر رہے ہیں اور اس دوران ادارے کی ناکامیوں اور اس کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ میں یہ بتا دوں کہ اس التوا سے دنیا بھر میں کوویڈ کا مقابلہ کرننے کے ہمارے عزم پر  کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہماری توجہ نتائج پر ہے اور ہم دنیا بھر میں اپنے دوسرے شراکت داروں بشمول گروہی اور مذہبی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مل کر مصروف عمل ہیں۔

دیکھا جائے تو جیسا کہ وزیر خارجہ نے بتایا ہے امریکہ کی جانب سے دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں دی جانے والی امداد کا صرف 4 فیصد ڈبلیو ایچ او کو جاتا ہے۔ بہت سے اعلیٰ معیار کے ادارے دنیا بھر میں ان پروگراموں پر عملدرآمد کروا رہے ہیں اور اس معاملے میں کوئی ادارہ یا ملک امریکی عوام کی ایک پائی کا بھی مقروض نہیں ہے۔ ہم یہ  امداد فیاضانہ جذبے کے تحت اور امریکہ کے مفاد میں دیتے ہیں۔ اس کے بدلے میں امریکی عوام کا کم از کم یہ حق ضرور ہے کہ ہم جن اداروں، این جی اوز، ٹھیکہ داروں اور کثیرملکی اداروں کو مدد فراہم کرتے ہیں انہیں شفاف، جوابدہ اور نتائج دینے والا ہونا چاہیے اور صدر کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کے جائزے میں یہی کچھ دیکھا جائے گا۔

آخر میں یہ سب کچھ کرنے کا مقصد بیوروکریسی کو بچانے کے بجائے زندگیاں بچانا ہونا چاہیے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ  سے امریکہ دنیا بھر میں تحفظ صحت کے شعبے میں سب سے زیادہ مدد دیتا چلا آیا ہے۔ عالمگیر نظام صحت جس بنیاد پر قائم ہے وہ ہم نے ہی کھڑی کی تھی۔ ہمارے ملک نے عالمگیر صحت کے لیے 140 بلین ڈالر سے زیادہ مدد دی ہے۔ کوویڈ۔19 کے مقابلے میں ہماری عالمگیر قیادت کا تسلسل قائم رہے گا اور وزیرخارجہ نے جو اعلان کیا ہے اس سے یہ بات اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم آپ کے سوالات لینے کے لیے تیار ہیں۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے، آپ نے ابھی کوئی سوال نہیں کیا ناں ، ایسا ہی ہے؟ ٹھیک ہے، بات کیجیے۔ میں سی بی ایس والوں سے کہوں گی کہ کیا آپ نے بھی سوال کرنا ہے، میرا خیال ہے کہ ابھی آپ نے سوال نہیں کیا، ایسا ہی ہے ناں؟ ٹھیک ہے۔

سوال: ٹھیک ہے، مجھے نہیں علم کہ اس کا جواب کون دے گا تاہم میں سوال کرتا ہوں اور آپ فیصلہ کر لیں کہ اس کا جواب کسے دینا ہے۔ جہاں تک عالمی ادارہ صحت کی مالی امداد ملتوی ہونے کا معاملہ ہے تو یہ تعین کیسے ہو گا کہ انہیں آئندہ امداد ملے گی یا نہیں اور یہ جائزہ کس کی قیادت میں ہو رہا ہے؟

مسٹر رچرڈسن: جان، آپ بات کیجیے۔

مسٹر بارسا: جیسا کہ صدر نے کہا ہے یہ 60 سے 90 روز کا التوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت میں بہت سے عناصر یہ جائزہ لیں گے۔ اندرونی جائزے کے عمل سے متعلق فی الحال ہمارے پاس بتانے کو کچھ نہیں ہے کہ یہ کام کیسے ہو گا۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ ڈبلیو ایچ او سے رابطہ رکھنے والے ادارے جائزے کے اس عمل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

سوال: ٹھیک ہے، مگر اس جائزے میں کیا دیکھا جا رہا ہے؟ عالمی ادارہ صحت کو اپنی مالی معاونت بچانے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟

مسٹر بارسا: جیسا کہ صدر نے کہا اور وزیر خارجہ نے بھی آج صبح بتایا ہے، عالمی ادارہ صحت کے انتظام سے متعلق بہت سے سوالات سامنے آئے ہیں کہ وہ کیسے کام کر رہے ہیں اور رکن ممالک کے افعال پر ان سے کیسے جواب طلبی ہو رہی ہے۔ چنانچہ اس جائزے میں ادارے کے انتظام اور اس کی کارروائی سے متعلق سامنے آنے والے سوالات سے متعلق تمام چیزیں شامل ہوں گی۔

سوال: وزیر خارجہ نے یہ بات بھی کی تھی کہ عالمی ادارہ صحت نے اس حقیقت کو واضح نہیں کیا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ جب اسے کرونا کی وبا کا علم ہوا تو اس وقت وائرس کے بارے میں وہ کیا کچھ جانتی تھی۔ کیا آپ لوگ اسی بارے میں جاننا چاہتے ہیں؟

مسٹر بارسا: میں اس وقت جاری تحقیقات یا گفت و شنید پر کوئی بات نہیں کروں گا۔ میں یہ کہوں گا کہ ہمیں حتمی جائزے تک انتظار کرنا ہو گا۔

مس اورٹیگس: آپ کوئی اور بات کہنا چاہتے ہیں؟

مسٹر رچرڈسن: نہیں۔

مس اورٹیگس: نہیں؟ ٹھیک ہے، سی بی ایس۔

سوال: مجھے ویکسین کی تیاری کے حوالے سے باہمی تعاون کی بابت پوچھنا ہے۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے۔

سوال: ٹھیک ہے۔

مسٹر رچرڈسن: یہ غالباً ۔۔۔۔

مسٹر بارسا: ویکسین کی تیاری۔ بات کیجیے۔

مس اورٹیگس: بات کیجیے، اپنا سوال پوچھیے۔

سوال: جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بہت سے ممالک ویکیسن پر کام کر رہے ہیں اور ڈبلیو ایچ او کی مالی مدد روکی جا چکی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس سے ڈبلیو ایچ او کے رکن ممالک کے مابین ویکسین کے بارے میں معلومات کے تبادلے سے متعلق تعاون پر منفی اثر پڑے گا؟ یا امریکہ ویکسین کی تیاری کے معاملے میں ممالک کے مابین تعاون میں سہولت دینے کے لیے کوئی  قدم اٹھائے گا؟

مسٹر بارسا: ٹھیک ہے۔ اس معاملے میں چند چیزوں پر غور کی ضرورت ہے۔ پہلی یہ کہ ہمیں صحت کے شعبے میں دی جانے والی امداد کے حجم کو دیکھنا چاہیے۔ جیسا کہ وزیر خارجہ نے بتایا ہے، گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ نے دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں کام کے لیے 140 بلین ڈالر سے زیادہ امداد دی ہے۔ یاد رہے کہ 2018 میں صحت کے شعبے میں امریکہ کی جانب سے دنیا بھر میں دی گئی امداد کا 4 فیصد ڈبلیو ایچ او کو ملا۔ ہم نے 96 فیصد مدد دوسرے اداروں کو مہیا کی تھی۔ چنانچہ اس التوا کے دوران یوایس ایڈ اور دیگر ادارے اس اہم کام کو جاری رکھنے کے لیے متبادل شراکت داروں سے رجوع کر رہے ہیں۔ لہٰذا یہ ویکسین کا معاملہ ہو، پولیو ہو یا صحت سے متعلق کوئی اور مسائل ہوں، ہم پولیو کے خاتمے یا کوویڈ ویکسین کی تیاری کے لیے اپنی کوششیں بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم عالمی ادارہ صحت سے ہٹ کر جاری پروگراموں کی مدد کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مختلف شراکت داروں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

مس اورٹیگس: روبن۔

سوال: مجھے اس پر کچھ وضاحتیں درکار ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کیا ڈبلیو ایچ او کی امداد روکے جانے سے پولیو جیسے پروگراموں پر صرف ہونے والے مالی وسائل میں کمی واقع ہو گی۔ آپ کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا، تو کیا آپ کسی اور ادارے کو پولیو اور صحت کے دیگر پروگرام چلانے کو کہیں گے؟ اس کے بعد مجھے چند دیگر سوالات بھی پوچھنا ہیں۔ کیا آپ اس سوال کا جواب پہلے دینا چاہیں گے؟

مسٹر بارسا: ٹھیک ہے، میں اس سوال کے جواب سے آغاز کروں گا۔ اس وبا سے پہلے بھی یوایس ایڈ نئے شراکتی اقدامات پر کام کر رہا تھا تاکہ علاقائی سطح پر دیگر شراکت داروں کو بھی ساتھ ملا کر یہ پروگرام چلائے جائیں۔ میں آئندہ ہفتے مزید رسمی انداز میں نئے شراکتی اقدامات کو وسعت دینے کا منتطر ہوں۔ مگر ہم اس وقت جو کچھ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم پولیو یا صحت کے دیگر مسائل پر مختلف شراکت داروں یا دیگر اداروں، مقامی سطح پر کام کرنے والے اداروں، مذہبی بنیاد پر سرگرم تنظیموں اور ایسے دیگر گروہوں کو دیکھ رہے ہیں جو یہ کام جاری رکھ سکیں۔ چنانچہ 60 سے 90 روز کے عرصہ میں لیے جانے والے اس جائزے کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اس کام کو انجام دینے کے لیے نئے شراکت داروں کی دستیابی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

آپ نے ان پروگراموں کے حوالے سے دیگر شراکت داروں کے بارے میں پوچھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بارے اندازہ لگانا بھی اس جائزے کا حصہ ہے۔ ہم یہ اندازہ لگانے میں مصروف ہیں۔ ہمارے مشن اور ہمارے گلوبل ہیلتھ بیورو میں لوگ یہ کام کر رہے ہیں۔ ہم اس وقت نئے شراکت داروں کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ اچھی حکومت ہے۔

سوال: صرف ۔۔۔

مس اورٹیگس: میں سبھی سے سوال لینا چاہتی ہوں، (ناقابل سماعت)

سوال: مجھے جلدی سے صرف ایک اور سوال پوچھنا ہے۔

مس اورٹیگس: ٹھیک ہے، ایک اور (ناقابل سماعت)

سوال: ڈبلیو ایچ او میں امریکی ماہرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ آپ کے ماہرین صحت بدستور وہاں کام کر رہے ہیں۔ کیا امریکہ  ڈبلیو ایچ او کے ساتھ یہ تعاون بھی ختم کر دے گا؟ کیا آپ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ تعاون صرف مالی صورت میں ختم کر رہے ہیں یا رابطے اور تعاون کی شکل میں بھی اسے ختم کر دیا جائے گا؟

مسٹر بارسا: آپ کا سوال اس جائزے کے حتمی نتیجے سے متعلق ہے۔ ہم آپ کو یہ نہیں بتا سکتے کہ جائزے کے اختتام پر کیا فیصلہ لیا جانا ہے۔ جیسا کہ صدر نے بتایا ہے، 60 تا 90 روز کے اس جائزہ دور میں ہم عالمی ادارہ صحت کے تمام کاموں کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ چنانچہ آپ جو سوالات پوچھ رہے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے سوالات ہم اس وقفے کے دوران خود اٹھا رہے ہیں۔

مس اورٹیگس: (ناقابل سماعت)

مسٹر رچرڈسن: جی، ذرا مجھے  ۔۔۔اسی لیے میں یہ کہوں گا کہ یہ وقفہ ڈبلیو ایچ او کے ذریعے مدد مہیا کرنے کے نئے فیصلوں کے لیے ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ بہت سے ایسے موجودہ معاہدے ہیں جن کے تحت ہم وہاں کام کرنے والے افراد کو ادائیگی کے لیے چیک بھیج چکے ہیں۔ ہم اس موقع پر رقم کی واپسی کے لیے نہیں کہہ رہے۔ جہاں تک استثنیات اور ایسی دوسری چیزوں کی بات ہے تو صدر نے کہا ہے کہ ہم ہر طرح کی مالی مدد 60 سے 90 دن کے لیے روک رہے ہیں۔ اگر صدر نے اس کے بعد کوئی اعلان کیا تو ہم اس کی وضاحت انہی پر چھوڑیں گے۔

مس اورٹیگس: نک، بات کیجیے۔

سوال: مجھے شراکت داروں کے حوالے سے وضاحت درکار ہے۔ کیا آپ وہ رقم نئے شراکت داروں کو دیں گے جو آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران ڈبلیو ایچ او کو دی جانا تھی؟ یا آپ یہ رقم روک رہے ہیں تاکہ اصلاحات کو دیکھتے ہوئے اسے دوبارہ ڈبلیو ایچ او کو دیا جا سکے؟ کیا میں آئی ایچ آر کے حوالے سے بھی یہی بات پوچھ سکتا ہوں، آپ مجھے میرے سوال کے پہلے حصے کا جواب دے دیجیے پھر ہم ۔۔۔

مسٹر بارسا: جیسا کہ وزیر خارجہ نے کہا ہے، ہم نے صرف اس وبا میں ہی 775 ملین ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ چنانچہ جب ہم نئے شراکت داروں کو دیکھیں گے تو یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کون سے شراکت دار ان ممالک کی مخصوص ضروریات کے لیے یہ رقم استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ہر ملک میں کام کا طریق کار مختلف ہو گا۔ اسی لیے ہم ہر ملک میں مسائل پر الگ الگ طور سے قابو پانے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔

سوال: ٹھیک ہے، مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو رقم ڈبلیو ایچ او کو دی جانا تھی وہ نئے شراکت داروں کو ملے گی؟ یا ڈبلیو ایچ او کو دی جانے والی رقم روک لی گئی ہے تاکہ ممکنہ طور پر اسے مستقبل میں دوبارہ جاری کیا جا سکے؟

مسٹر بارسا: میں ایک بار پھر بتا دوں کہ اس وقفے کا تعلق نئی امداد سے ہے۔ جیسا کہ ڈائریکٹر رچرڈسن نے اعلان کیا، جو رقم ڈبلیو ایچ او کو دی جا چکی ہے وہ واپس نہیں لی جائے گی۔ اسی لیے ان میں بعض معاہدے اور موجودہ کام جاری ہے۔

سوال: ٹھیک ہے، اور پھر عالمی ۔۔۔۔

مس اورٹیگس: کیا آپ نے کوئی بات ۔۔۔ (ناقابل سماعت)

مسٹر رچرڈسن: جی، مجھے ذرا ۔۔۔ جی، یہ وبا جائزے کا انتظار نہیں کر سکتی۔ چنانچہ دنیا بھر میں ممالک کو دی جانے والی ہماری امداد جاری ہے۔ ہر مرتبہ جب ہم دنیا میں کسی ملک کو امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ آیا ہمیں یہ مدد کسی کثیر ملکی ادارے کے ذریعے فراہم کرنا ہے؟ کیا اس مقصد کے لیے ہم کسی این جی او سے کام لیں؟ کیا اس کے لیے مذہبی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیم بہتر رہے گی؟ کیا ہمیں کسی کو اس کام کا ٹھیکہ دینا چاہیے؟ یوایس ایڈ کی مہارت یہی کام کرتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں کون سا طریقہ اختیار کر کے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

چنانچہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم صرف ڈبلیو ایچ او کے لیے نئی امداد روک رہے ہیں اور دیگر اداروں کو معاونت کی فراہمی جاری رہے گی تاکہ وہ اپنا کام کر سکیں۔ ہمارا نظام انتظار نہیں کر سکتا۔ ہم آنے والے برسوں میں اس وبا کے خلاف اقدامات کے لیے عالمگیر صحت کے شعبے میں بہت سے وسائل خرچ کریں گے۔ کانگریس پہلے ہی اضافی 2 بلین ڈالر مہیا کر چکی ہے، چنانچہ ہم آئندہ کئی ماہ میں مالی مدد کے حوالے  سے مزید اعلانات جاری رکھیں گے۔

سوال: اس کے بعد مجھے آئی ایچ آر یعنی صحت سے متعلق عالمگیر ضوابط کے بارے میں پوچھنا ہے۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں ان ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی حقیقی طریق کار موجود نہیں ہے۔ وزیر خارجہ نے خاص طور پر ادارے کی قیادت کے ان ضوابط پر عملدرآمد کرانے کی اہلیت کے بارے میں بات کی ہے۔ کیا آپ عملدرآمد کے طریق کار سے متعلق کسی طرح کی اصلاحات میں اضافے کی بات کر رہے ہیں یا آپ سمجھتے ہیں کہ عملدرآمد کا طریق کار پہلے سے ہی موجود ہے اور اس طرح یہ ضابطے کی نہیں بلکہ قیادت کی ناکامی ہے؟

مسٹر بارسا: ہم آپ کو اس کی تفصیلات بتا دیں گے۔ اس وقت میں کسی اندازے کے نتائج کی بابت پہلے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

مس اورٹیگس: سید، بات کیجیے۔

سوال: مجھے جلدی سے ایک بات پوچھنا ہے۔

مس اورٹیگس: یقیناً۔

سوال: کیا مغربی کنارے میں اور ہسپتالوں کو دی جانے والی امداد براہ راست وہاں پہنچائی جائے گی؟ میں نے یہ اس لیے پوچھا ہے کہ میرے خیال میں یوایس ایڈ مغربی کنارے میں اب کام نہیں کر رہا۔

مسٹر رچرڈسن: نہیں، عام طور پر ہم دنیا بھر میں عملدرآمدی شراکت داروں کو استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ہم ٹھیکہ داروں، این جی اوز اور کثیرملکی اداروں سے کام لیتے ہیں جو دنیا بھر میں بیشتر جگہوں پر ہمارے لیے کام کرتے ہیں۔ ہم آئندہ چند روز میں یہ اعلان کریں گے کہ وہاں اس امداد کی تقسیم کس عملدرآمدی شراکت دار کے ذریعے ہو گی۔

مس اورٹیگس: کسی اور نے کوئی سوال پوچھنا ہے؟ رچ؟

سوال: مجھے وزیر خارجہ اور پھر نک کی بات پر ایک سوال پوچھنا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے کہا ہے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس ضوابط کی پامالی کرنے والوں کی تادیب کے لیے بہت سی طاقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کے پاس اس مقصد کے لیے کون سی طاقت یا اختیار ہے؟

مسٹر بارسا: جیسا کہ وزیر خارجہ نے بتایا ہے، ادارے کے پاس ایک مخصوص طریق کار ہے جس کی رو سے رکن ممالک کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوتی ہے۔ ہم جو جائزہ لے رہے ہیں اس میں یہ بھی دیکھا جانا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی قیادت کے پاس کون سے اختیارات ہیں۔ کیا وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہیں اور ارکان کو ضوابط پر عملدرآمد کا پابند بناتے ہیں؟ چنانچہ آپ جو سوال پوچھ رہے ہیں وہی ہمارے جائزے کا مرکزی نکتہ ہے کہ آیا عالمی ادارہ صحت کا انتظام ویسے ہی چلایا جا رہا ہے جیسے اسے چلایا جانا چاہیے؟

مس اورٹیگس: مجھے آپ کے اور نک کی جانب سے کیے گئے سوالات پر یہ کہنا ہے کہ ان موضوعات پر غالباً ایمبیسڈر بریمبرگ یا آئی او سے کسی دوسری شخصیت سے بریفنگ لینا بہتر ہو گا۔ نک، مجھے علم ہے کہ آپ ایسا ہی چاہتے تھے اس لیے ہم اس کا اہتمام کریں گے اور میرا خیال ہے کہ ہم اینڈریو یا آئی او کے ذریعے اس بارے میں مزید تفصیلات جان سکیں گے۔ ٹھیک ہے؟

سوال: کیا میں جان سے مزید ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟

مس اورٹیگس: بات کیجیے۔

سوال: آپ نے بتایا ہے کہ نئے شراکت داروں کی نشاندہی کے لیے یوایس ایڈ کو بہت سا کام کرنا ہے۔ آپ یہ سب کچھ کیسے کریں گے؟ کیا یوایس ایڈ کو نئے لوگ بھرتی کرنا ہوں گے؟ آپ کی ٹیم کیسی ہو گی؟

مسٹر بارسا: نہیں، میں ایک مرتبہ پھر بتا دوں کہ اس وبا سے پہلے ہی ہم جانتے تھے کہ عملدرآمدی شراکت داروں کی بنیاد کو متنوع بنانا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ اس وقت ادارے کے منتظم مارک گرین کی قیادت میں ہم نے ‘نئے  شراکتی اقدام’ کے نام سے ایک ابتدائی پروگرام شروع کیا تھا۔ ہم نے 14 ممالک سے اس کا آغاز کیا۔ چنانچہ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ صرف چند عملدرآمد کنندگان اور شراکت داروں پر انحصار کرنا درست نہیں ہے اور اسی لیے ہم پہلے ہی اپنی افرادی قوت کے ذریعے یہ کام کر رہے ہیں۔ ہمارا ابتدائی پروگرام نہایت کامیاب رہا، چنانچہ میں  آئندہ ہفتے دنیا بھر میں اس پروگرام کو وسعت دینے کے حکمنامے پر دستخط کروں گا۔ یہ ایسا کام ہے جو وبا کی غیرموجودگی میں بھی ہونا تھا۔

لہٰذا ہم وبا سے پہلے ہی نئے شراکت داروں کے ساتھ کام شروع کر چکے تھے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ واشنگٹن یا بیرون ملک سفارتوں میں نیا عملہ رکھنا پڑے۔ اس مقصد کے لیے ہم اپنے عملے کو رہنمائی دے رہے ہیں کہ وہ دیگر شراکت داروں کو دیکھے اور ان کے بارے میں غور کرے۔ انہیں یہ دیکھنا ہے کہ آیا کسی ملک میں ایسی این جی اوز، مذہبی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیمیں اور مقامی سطح پر کام کرنے والے مستحکم ادارے موجود ہیں؟ چنانچہ یہ کام عملدرآمد یا وبا کے مسئلے سے ہٹ کر بھی جاری تھا۔ لہٰذا یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم پہلے ہی انہی خطوط پر سوچ رہے تھے اور اب کسی اضافی خرچ یا عملے کو بھرتی کیے بغیر ہی اپنا کام انجام دے سکتے ہیں۔

مس اورٹیگس: آپ لوگوں کا بے حد شکریہ۔

  • یوایس ایڈ مغربی کنارے میں کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے ایک عملدرآمدی شراکت دار کو آفات سے متعلق عالمگیر فنڈ سے 5 ملین ڈالر مہیا کر رہا ہے۔ یہ فنڈ فلسطینی اتھارٹی کو نہیں دیے جا رہے۔
  • دفتر خارجہ بے گھر آبادیوں کی مدد کے لیے مہاجرت اور پناہ گزینوں کی معاونت میں 67 ملین ڈالر مہیا کر رہا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں