rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

العربية العربية, English English, Português Português, Español Español, Français Français, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
29 اپریل 2020

پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ، ڈی سی

 

وزیر خارجہ پومپیو: جی، سبھی کو صبح بخیر۔ آج کا دن کیسا گزر رہا ہے؟ کیا آپ سب محفوظ، صحت مند اور ٹھیک ٹھاک ہیں؟ سب سے پہلے میں ان تمام امریکیوں اور دنیا بھر کے لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس ہولناک وائرس کے باعث اپنے پیاروں کو کھونے کا دکھ جھیلا ہے۔

بہت سے امریکی شہری معاشی مسائل کے سبب بھی تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ کام پر واپس جانا چاہتے ہیں۔ میں اس ہفتے کنساس میں بعض دوستوں سے بات کر رہا تھا۔ وہ اپنی ویسی زندگی کی طرف واپس جانے کے لیے فکرمند ہیں جیسی نومبر، دسمبر میں تھی، اور مجھے یقین ہے کہ ہم ہرممکن طور سے جلد از جلد انہیں واپس لے جانے کے قابل ہو جائیں گے۔

میں اس کام کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جو ہم یہاں دفتر خارجہ میں کر رہے ہیں۔ ہم اس وائرس کی وبا کے خلاف کام کر رہے ہیں جس کا آغاز چین میں ووہان سے ہوا تھا اور اس کا بھرپور مقابلہ کرنے میں مصروف ہیں ۔ ہم اپنے لوگوں کو وطن واپس لانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ اب تک ہم 129 ممالک سے قریباً 72,000 لوگوں کو واپس ان کی زندگیوں میں اور اہلخانہ کے پاس لا چکے ہیں۔

تاہم اس وبا کا مقابلہ کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ، صدر ٹرمپ یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھیں۔ اس وائرس کے مسئلے سے نبردآزما ہوتے ہوئے بھی ہماری اپنے کام پر پوری توجہ ہے۔ آج میں آپ کے ساتھ اسی موضوع پر بات کروں گا۔

سب سے پہلے مجھے دنیا میں بعض انتہائی غیرمستحکم علاقوں میں استحکام لانے میں ہماری مدد سے متعلق بات کرنا ہے۔ مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہے کہ وینزویلا میں جمہوریت بحال کرنے کی کثیرملکی کوشش میں تیزی آ رہی ہے۔ میں نے اپنی ٹیم سے کراکس میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کے منصوبوں کی بابت تازہ ترین صورتحال بتانے کو کہا ہے تاکہ ہم وہاں جانے کے لیے تیار ہو سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ مادورو کے اقتدار چھوڑتے ہی ہم کراکس میں دوبارہ اپنا جھنڈا لہرائیں گے۔

میں دنیا کو مادورو حکومت کے اسلامی جمہوریہ ایران سے رابطے کے بارے میں بھی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ چند روز میں ماہان ایئر سے تعلق رکھنے والے بہت سے طیاروں نے مادورو حکومت کو نامعلوم مدد پہنچائی ہے۔ یہ دونوں ایک جیسی حکومتیں ہیں۔ یہ وہی دہشت گرد فضائی کمپنی ہے جسے ایران مشرق وسطیٰ بھر میں ہتھیار اور جنگجو لے جانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ پروازیں بند ہونی چاہئیں اور دنیا بھر کے ممالک نے جس طرح پابندی کے لیے نامزد اس فضائی کمپنی کو اپنے ہاں اترنے کے حقوق دینے سے انکار کیا ہے اسی طرح اسے اپنی فضائی حدود کے استعمال سے روکنے کے لیے بھی  اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یمن کی صورتحال پر بھی ہماری توجہ ہے۔ میں نے یکطرفہ جنگ بندی میں توسیع پر سعودی عرب کی ستائش کی ہے۔ اس جنگ بندی کو اب ایک ماہ ہو چکا ہے۔

سعودی عرب اور یمنی حکومت نے جنگ روکنے، وبا کے خلاف تحفظ پر توجہ مرکوز کرنے اور اسے شکست دینے کی خاطر ہتھیار رکھ دینے کے لیے خصوصی نمائندے کے مطالبے کو تسلیم کیا ہے۔ ہم ایران کی پشت پناہی میں سرگرم حوثیوں سے بھی یہی کچھ کرنے کو کہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اسی کی ضرورت ہے۔ تمام فریقین جنگ زدہ علاقوں میں امداد اور یمنی حکومت اور یمنی حکومت کے اداروں کو  رسائی میں سہولت دیں اور یمن کے اتحاد اور زمینی سالمیت کا احترام کریں۔

عراق میں ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جہاں نامزد وزیراعظم مصطفیٰ خدامی کو اپنی حکومت تشکیل دینے کی کوشش میں تیسرا ہفتہ شروع ہو گیا ہے۔

عراقی عوام کو ایسی حکومت کی ضرورت اور اس کا حق ہے جو ملک کو بیرونی جبر سے نجات دلائے، عراق کے لوگوں کی خوشحالی کو ترجیح دے اور عراق کو درپیش بڑے مسائل پر قابو پائے۔ عراقی رہنماؤں کو فرقہ وارانہ کوٹہ سسٹم چھوڑ کر ایسے سمجھوتے کرنا ہوں گے جن سے عراقی عوام اور امریکہ عراق شراکت داری کی بہتری کے لیے حکومت کی تشکیل ممکن ہو سکے۔

عراق کی حکومت بھی عراقی معاشرے کے بہت سے عناصر کی بات پر توجہ دے جو تمام مسلح گروہوں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کو کہہ رہے ہیں ۔  ہم گزشتہ ایام میں اس سمت میں اٹھائے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں انسانی حقوق اور آزادی کا تحفظ ہمارا مقصد ہے۔ گزشتہ ہفتے میں  نے اس بارے میں مختصراً بات کی تھی۔ ہم ہانگ کانگ کی حکمرانی میں مداخلت کے حوالے سے  بیجنگ کی بڑھتی ہوئے کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس معاملے میں ہماری تشویش بڑھ رہی  ہے۔ ہانگ کانگ کی آزادیوں کو محدود کیا جانا ان وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتا جو چینی کمیونسٹ پارٹی نے ایک ملک دو نظام کے تحت خود کیے تھے۔

ہانگ کانگ پر قومی سلامتی کے سفاکانہ قانون کے نفاذ کی کوئی بھی کوشش بیجنگ کے وعدوں کے خلاف ہو گی اور اس سے وہاں امریکہ کے مفادات متاثر ہوں گے۔

اپنے خطے کی صورتحال کی جانب واپس آتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے ہوانا کی حکومت نے کیوبا کے طبی کارکنوں کے استحصال کے لیے کوویڈ۔19 کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ ہم برازیل، ایکواڈور، بولیویا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کی ستائش کرتے ہیں جنہوں نے کیوبا کی حکومت کی ان کارروائیوں سے صرف نظر کرنے سے انکار کیا۔ ہم تمام ممالک بشمول جنوبی افریقہ اور قطر سے بھی کہتے ہیں کہ وہ بھی یہی کچھ کریں۔

ہمیں اپنے طبی کارکنوں کو تحفظ دینے کی جتنی ضرورت اب ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ کیوبا کے ڈاکٹروں کو اپنے ہاں کام کی اجازت دینے والی حکومتوں کو چاہیے کہ  وہ انہیں براہ راست ادائیگی کریں۔ بصورت دیگر جب یہ رقم کیوبا کی حکومت کو ادا کی جائے گی تو گویا یہ ملک کیوبا کی حکومت کی مدد کر رہے ہوں گے تاکہ وہ انسانی خریدوفروخت سے فائدہ اٹھائے۔ تیسری قسم کی کوششوں میں ہم بڑھتی ہوئی اہمیت کی حامل جگہوں پر امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ ہم 1953 کے بعد پہلی مرتبہ موجودہ موسم گرما میں گرین لینڈ کے دارالحکومت نُک میں اپنا قونصل خانہ دوبارہ کھولیں گے۔ اس اقدام سے گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہمارے دوستوں کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی میں اضافہ ہو گا اور قطب شمالی کے ممالک کے ساتھ  ہماری شراکت داری مضبوط ہو گی۔ یہ قطب شمالی  کی بہتری  کے حوالے سے امریکی عہد سے متعلق بیان ہے کیونکہ ایسے ممالک جو قطب شمالی کا حصہ نہیں ہیں وہ اپنے مفادات کے لیے خطے کے دیگر ممالک سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ برس آرکٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے میں نے اس حوالے سے خبردار کر دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ  ہم 5 جی کے صاف راستے سے متعلق ‘2019 این ڈی اے اے’ کی شرائط پر عملدرآمد کے معاملے میں اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ میں نے اس لیے صاف راستے سے متعلق بات کی تھی تاکہ امریکیوں کو علم ہو کہ جس طرح ٹرمپ انتظامیہ نے ہماری مادی سرحدوں کے دفاع کے لیے بے نظیر اقدامات کیے ہیں اسی طرح ہم امریکہ کی سائبر سرحدوں کا بھی دفاع کر رہے ہیں۔

آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ 5 جی نیٹ ورکس میں امریکہ کے سفارتی نظام میں داخل ہونے والی موبائل ڈیٹا ٹریفک اگر ہواوے کے آلات سے گزرے گی تو اسے نئی اور کڑی شرائط پر عمل کرنا ہو گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آئی ٹی سے متعلق ناقابل اعتماد فروخت کنندگان کو امریکی دفتر خارجہ کے نظام تک رسائی نہ مل سکے۔ ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے قانون کی پیروی کریں گے کہ ہمیں اپنی تمام تنصیبات میں آنے والی تمام 5 جی نیٹ ورک ٹریفک کے لیے صاف راستہ میسر آئے۔ ہم اپنی اہم معلومات اور نیٹ ورکس کو چینی کمیونسٹ پارٹی سے محفوظ رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے۔

آخر میں آپ سے چند سوالات لینے سے پہلے میں ان ممالک کے لیے صحت اور امدادی شعبے میں امریکہ کی معاونت کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال بیان کرنا چاہتا ہوں جو اپنے ہاں وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ حال ہی میں ہماری ٹیم نے ‘کائزر فیملی فاؤنڈیشن’ اور ‘کینڈڈ’ نامی بہبودی ادارے سے کچھ معلومات حاصل کی ہیں۔

ان  معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں نے کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے والے ممالک کی مدد کے لیے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر قریباً 6.5 بلین ڈالر مختص کیے ہیں ۔۔ 6.5 بلین۔ یہ اب تک کسی ایک ملک کی جانب سے دی جانے والی سب سے بڑی امداد ہے اور اس کا حجم چین کی مشترکہ امداد سے 12 گنا زیادہ ہے۔

خطہ ہندوالکاہل میں ہمارے کام پر مجھے خاص طور پر فخر ہے۔ امریکہ کی حکومت نے بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک میں کوویڈ۔19 کے مقابلے میں مدد دینے کے لیے 32 ملین ڈالر سے زیادہ امداد مہیا کی ہے۔ ہم برما ، بشمول وہاں غیرمحفوظ آبادیوں میں کوویڈ۔19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے برما کی حکومت ، اقوام متحدہ، این جی اوز اور دیگر اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ عالمگیر معیشت  کو آگے بڑھانے کا آغاز کرتے ہوئے ہم معلومات اور نتیجہ خیز طریقہ ہائے کار کے تبادلے کے لیے آسٹریلیا، انڈیا، جاپان، نیوزی لینڈ، جمہوریہ کوریا اور ویت نام میں اپنے دوستوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے یقیناً ہماری بات چیت میں اشیا کی فراہمی کے عالمگیر سلسلے، انہیں رواں رکھنا اور اپنی معیشتوں کی پوری طاقت بحال کرنا نیز آئندہ ایسے حالات سے بچنے کے لیے ان سلسلوں کی تعمیر نو پر غوروفکر بھی شامل ہے۔ ہمارے اکٹھے کام کرنے کی ایک مثال انڈیا ہے۔ اس نے اہم نوعیت کے طبی سازوسامان پر پابندیاں اٹھا لی ہیں جس میں کوویڈ۔19 کے بعض مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات بھی شامل ہیں۔

چند روز پہلے میں نے ‘ورلڈ فوڈ بینک’ کے ڈیوڈ بیسلے سے بات کی تھی۔ وہ ادارے میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ امریکی عوام نے اپنی بے مثال فیاضی سے کام لیتے ہوئے ورلڈ فوڈ پروگرام کے 42 فیصد سالانہ وسائل پورے کیے۔ اس پروگرام کے ذریعے دنیا بھر میں قریباً 100 ملین لوگوں کی خوراک کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ کوویڈ۔19 کے باعث   دنیا بھر میں اشیا کی ترسیل کے عالمگیر سلسلوں یمں خلل پیدا ہو گیا ہے۔ ایسے میں  ہم دنیا بھر میں خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امداد کی فراہمی  جاری رکھیں گے۔

آج میں ایک پیغام دہرانا چاہتا ہوں: اگر آپ اس وقت امریکہ کے شہریوں کو ناجائز قید میں رکھے ہوئے ہیں اور ایسے میں اگر وہ کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے تو ہم آپ کی حکومت کوسختی  سے اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ ناجائز طور سے گرفتار کیے گئے تمام امریکیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے۔ مورگن، اب میں بخوشی چند سوالات لوں گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں