rss

تازہ ترین: کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات میں امریکہ کا قائدانہ کردار برقرار ہے

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
حقائق نامہ
یکم مئی 2020

 

امریکہ کے عوام کی فیاضی اور حکومت کے اقدامات کے ذریعے امریکہ کوویڈ۔19 سے نمٹنے کےلیے  عالمی سطح پر بدستور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ کئی ماہ سے اس وبا کے خلاف اندرون و بیرون ملک لڑتے ہوئے امریکہ بدستور دنیا بھر میں بیماری کے خلاف اقدامات کی کوششوں میں  سب سے زیادہ عطیہ دینے والا ملک ہے اور کئی دہائیوں سے تحفظ زندگی اور انسانی امداد کے شعبوں میں جاری  اپنے قائدانہ کردار کو آگے بڑھا رہا ہے۔

کوویڈ۔19 کی وبا پھوٹنے کے بعد امریکی حکومت نے ہنگامی صحت اور امدادی، معاشی و ترقیاتی شعبے میں معاونت کے لیے 775 ملین ڈالر سے زیادہ رقم مختص کی ہے جس کا مقصد حکومتوں، عالمی اداروں اور این جی اوز کو وبا کے خلاف لڑنے میں مدد دینا ہے۔ کانگریس کی جانب سے مہیا کردہ اس امداد کے ذریعے 120 سے زیادہ ممالک میں صحت عامہ کی تعلیم میں بہتری لانے، مراکزصحت  کو محفوظ بنانے، بیماری کے تجزیے کی صلاحیت میں اضافے، بیماری کی نگرانی اور فوری اقدامات کی صلاحیت بہتر بنا کر  زندگیوں کو تحفظ دیا جائے گا۔

اب تک دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کی جانب سے کوویڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے دی جانے والی امداد کی تفصیل کچھ یوں ہے:

وبائی بیماریوں کے حوالے سے عالمی سطح پر صحت سے متعلق ہنگامی صورتحال کے لیے یوایس ایڈ کے مخصوص فنڈ اور صحت کے عالمگیر پروگراموں کے اکاؤنٹ سے قریباً 200 ملین ڈالر مہیا کیے گئے ہیں۔ اس مالی معاونت کے ذریعے کوویڈ۔19 سے متاثرہ یا اس کے خطرے کی زد میں آنے والے ترقی پذیر ممالک میں وبا کے پھیلاؤ میں کمی لانے اور لوگوں کو بیماری کے خلاف تیاری میں ترجیحی بنیاد پر مدد دی جانا ہے۔

عالمی سطح پر آفات میں مدد کے لیے یوایس ایڈ کے اکاؤنٹ (آئی ڈی اے) سے انسانی امداد کے لیے قریباً 300 ملین ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ اس مالی معاونت سے موجودہ انسانی بحرانوں سے متاثرہ آبادیوں خصوصاً بے گھر لوگوں کو ترجیحی طور پر مدد مہیا کی جائے گی۔ ایسے لوگ انتہائی غیرمحفوظ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،  ان کے کیمپوں اور غیررسمی آبادیوں میں سنگین وبائیں پھوٹنے کا خطرہ زیادہ ہے اور ان آبادیوں میں متوقع طور پر غیر متناسب شرح سے اموات کا خدشہ ہے۔

اکنامک سپورٹ فنڈ (ای ایس ایف) سے 150 ملین ڈالر سے زیادہ امدادی  رقم فراہم کی گئی ہے۔ اس مالی معاونت سے بیماری میں تخفیف کی مختصر مدتی کوششوں اور طویل مدتی تناظر میں بہت سے شعبہ جات میں بیماری کے ثانوی  اثرات سے نمٹنے  کی کوششوں کے ذریعے  امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات کو فروغ دیا جائے گا۔

مہاجرت اور پناہ گزینوں کی امداد کے اکاؤنٹ (ایم آر اے) سے انسانی امداد کے لیے 130 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈ دفتر خارجہ میں آبادی، مہاجرین اور مہاجرت کے دفتر نے فراہم کیے ہیں۔ اس مالی معاونت  سے عالمی اداروں اور این جی او شراکت داروں کو مہاجرین اور بے گھر لوگوں اور ان کی میزبان آبادیوں میں وبا سے لاحق مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں اس امداد سے عالمگیر اور مقامی سطح پر امدادی کاموں میں دیگر مہاجرین اور غیرمحفوظ لوگوں کی مدد بھی ہو گی۔

یہ نئی امداد گزشتہ ایک دہائی میں ہی امریکہ کی جانب سے عالمی سطح پر صحت  کے شعبے میں 100 بلین ڈالر اور بیرون ملک انسانی امداد کے شعبے میں دیے گئے 70 بلین ڈالر میں نیا اضافہ ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے اس براہ راست امداد کے علاوہ ہمارے کُل امریکی طریق کار کے تحت امریکی نجی کاروباروں، غیر منافعی گروہوں، خیراتی اداروں، مذہبی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں اور عام لوگوں کی فیاضی کی بدولت  دنیا بھر کے لوگوں کو مدد مہیا کی  جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے امریکیوں نے مل کر حکومتی و غیرحکومتی عطیات کی صورت میں قریباً 6.5 بلین ڈالر مہیا کیے ہیں۔

انتہائی ہنگامی نوعیت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکی حکومت کے محکمے اور ادارے بیرون ملک امداد کو زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک کو درج ذیل مدد مہیا کر رہا ہے:

افریقہ:

  • انگولا: صحت کے شعبے میں 570000 ڈالر کی امداد سے انگولا کے اہم طبی مراکز کو بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، پانی، نکاسی آب اور وبا سے بچاؤ اور روک تھام کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔ یہ مدد انگولا کے لیے طویل مدتی امریکی مالی معاونت میں نیا اضافہ ہے جس کے تحت گزشتہ 20 برس میں اسے صحت کے شعبے کی بہتری  کے لیے 613 ملین اور مجموعی امداد کے طور پر 1.48 بلین ڈالر دیے جا چکے ہیں۔
  • بوٹسوانا: وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں 1.5 ملین ڈالر امداد مہیا کی گئی ہے۔ یہ نئی مالی معاونت گزشتہ 20 برس میں بوٹسوانا کو دی جانے والی 1.2 ارب ڈالر امداد میں نیا اضافہ ہے جس میں 1.1 ارب ڈالر صحت کے شعبے میں فراہم کیے گئے تھے۔
  • برکینا فاسو: صحت اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 6 ملین ڈالر سے زیادہ مالی امداد سے ہنگامی حالات میں معلومات کی فراہمی، پانی، نکاسی آب کی سرگرمیوں، طبی مراکز میں بیماریوں سے بچاؤ اور ان کی روک تھام، صحت عامہ کے حوالے سے پیغام رسانی اور دیگر  اقدامات میں معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس میں صحت کے شعبے میں  معاونت کے لیے 2.5 ملین، آئی ڈی اے کی انسانی امداد کے تحت  1.5 ملین اور ایم آر اے کی مہیا کردہ  انسانی امداد کے تحت قریباً 2.8 ملین ڈالر سے زیادہ رقم شامل ہو گی جس سے وبا کے دودران برکینا فاسو میں مہاجرین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں نیز ان کی میزبان آبادیوں میں صحت کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے برکینا فاسو میں صرف صحت کے شعبے میں 222 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 2.4 بلین ڈالر امداد دی ہے۔
  • برونڈی: ایم آر اے سے فراہم کردہ ایک ملین ڈالر سے زیادہ مالی معاونت کی بدولت غیرمحفوظ لوگوں کی صحت کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس کے دوران برونڈی کو مجموعی طور پر 997 ملین ڈالر امداد دی ہے جس میں 254 ملین ڈالر سے زیادہ صحت کے شعبے کی معاونت پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • کیمرون: صحت کے شعبے میں قریباً 8 ملین ڈالر کی معاونت سے اہم طبی مراکز میں بیماریوں پر قابو پانے، لیبارٹریوں اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے، مقامی سطح پر لوگوں کو بیماری سے مقابلے کے لیے تیار کرنے اور بیماری کے حوالے سے پیغام رسانی بہتر بنانے کے لیے مدد دی جا رہی ہے ۔ اس میں صحت اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد کے سلسلے میں 6.1 ملین ڈالر اور پناہ گزینوں، اندرون ملک بے گھر ہونے والوں (آئی ڈی پیز) اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے ایم آر اے کی انسانی امداد سے 1.9 ملین ڈالر شامل ہیں۔ یہ امداد گزشتہ 20 برس میں کیمرون کے لیے صحت کےشعبے میں  معاونت کے ضمن میں فراہم کیے گئے 390 ملین ڈالر اور مجموعی امداد کے 960 ملین ڈالر میں نیا اضافہ ہے۔
  • وسطی جمہوریہ افریقہ: امریکہ کی جانب سے  انسانی امداد کی مد میں 10 ملین ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں انسانی امداد کے لیے آئی ڈی اے کے فراہم کردہ  6.5 ملین ڈالر کے ذریعے بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، طبی مراکز میں وبائی بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے، پانی اور نکاسی آب کی سہولیات بہتر بنانے کے علاوہ انسانی امداد کے لیے ایم آر اے کے 3.5 ملین ڈالر سے جمہوریہ وسطی افریقہ میں وبا کے دوران مہاجرین، اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد اور ان کی میزبان آبادیوں کی صحت کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس میں جمہوریہ وسطی افریقہ کو مجموعی طور پر 822.6 ملین ڈالر دیے ہیں جن میں مالی سال 2019 میں صحت کے شعبے میں ہنگامی معاونت کے لیے دیے گئے 4.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔
  • کانگو: صحت کے شعبے میں 250000 ڈالرکی  مالی معاونت سے وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ امریکہ کئی دہائیوں سے جمہوریہ کانگو کی مدد کر رہا ہے اور گزشتہ 20 سال میں اسے ملنے والی امریکی امداد کا حجم 171.2 ملین ڈالر ہے۔ اس میں 36.8 ملین ڈالر صحت کے شعبے میں بہتری پر خرچ کیے گئے۔
  • چاڈ: 3.5 ملین ڈالر سے زیادہ انسانی امداد بشمول آئی ڈی اے کی جانب سے فراہم کردہ ایک ملین ڈالر کے ذریعے  طبی مراکز میں بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے، کوویڈ۔19 کے حوالے سے سماجی آگاہی بیدار کرنے اور صحت و صفائی کی سہولیات بہتر بنانے میں مدد دی جا رہی ہے۔ ایم آر اے کی فراہم کردہ قریباً 2.6 ملین ڈالر سے زیادہ انسانی امداد کے ذریعے چاڈ میں وبا کے دوران مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں میں صحت کے تحفظ میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ نئی امداد امریکہ کی جانب سے گزشتہ 20 برس کے دوران چاڈ کو مہیا  کردہ 2 بلین ڈالر  کی مجموعی امداد میں نیا اضافہ ہے۔ اس میں 30 ملین ڈالر سے زیادہ رقم صحت کے شعبے میں مدد کے لیے مہیا کی گئی ہے۔
  • آئیوری کوسٹ: وبا سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی جانب سے 16 ملین ڈالر مہیا کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے آئیوری کوسٹ میں میں طویل مدتی ترقی اور دیگر معاونت کے لیے 2.1 بلین ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی ہے۔
  • جمہوریہ کانگو: 26 ملین ڈالر سے زیادہ امداد بشمول صحت کے شعبے میں مالی معاونت اور آئی ڈی اے سے انسانی امداد کے لیے 15 ملین ڈالر کی مدد سے  طبی مراکز میں بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے اقدامات میں بہتری لانے اور کوویڈ۔19 کے حوالے سے آگاہی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس میں خطرات کے حوالے سے معلومات کی فراہمی کے لیے مذہبی رہنماؤں اور صحافیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی شامل ہے۔ ایم آر اے کی جانب سے فراہم کردہ 5 ملین ڈالر اضافی امداد سے جمہوریہ کانگو میں وبا کے دوران مہاجرین، اندرون ملک بے گھر افراد اور ان کی میزبان آبادیوں کو صحت کے تحفظ میں مدد فراہم کی جائے گی۔ ای  ایس ایف کے فراہم کردہ 5 ملین ڈالر سے کانگو کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے فاصلاتی اور متبادل تعلیم کی فراہمی کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث حفاظتی ضوابط پر عمل کرتے ہوئے تعلیم جاری رکھنا ممکن ہو سکے۔ یہ گزشتہ 20 برس کے دوران کانگو کے لیے 6.3 بلین ڈالرمالیتی  امریکی امداد میں نیا اضافہ ہے جس میں سے 1.5 بلین ڈالر صحت کی سہولیات میں بہتری کے لیے خرچ کیے گئے۔
  • جبوتی: امریکہ کی جانب سے وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں 500000 ڈالر امداد دی گئی ہے۔ امریکہ گزشتہ 20 برس کے دوران جبوتی میں مجموعی طور پر 338 ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
  • ایسواٹینی: امریکہ کی جانب سے وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں 750000 ڈالر امداد دی گئی ہے۔ اس رقم سے ایسواٹینی میں صحت سے متعلق ہنگامی اقدامات بہتر بنانے میں مدد ملے گی جن میں سازوسامان کی خریداری، بیماروں کا کھوج لگانا، لیبارٹری میں مرض کی تشخیص اور عوامی آگاہی بیدار کرنا شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ امداد گزشتہ 20 برس کے دوران امریکہ کی جانب سے ایسواٹینی کو دی جانے والی 529 ملین ڈالر کی مجموعی مدد میں نیا اضافہ ہے۔ اس رقم میں سے 490 ملین ڈالر صحت کے شعبے میں خرچ کیے گئے ہیں ۔
  • ایتھوپیا: کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کے لیے 20.5 ملین ڈالر سے زیادہ مالی معاونت بشمول صحت کے شعبے میں اور آئی ڈی اے کی جانب سے فراہم کردہ 10.9 ملین ڈالر کی بدولت بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، طبی مراکز میں بیماریوں کی ر وک تھام اور ان پر قابو پانے، بیماری کی نگرانی، مریضوں کا کھوج لگانے اور باہم رابطوں میں مدد ملے گی۔ ای ایس ایف کے فراہم کردہ 7 ملین ڈالر  سے بڑے صنعتی مقامات پر کام جاری رکھنے میں معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہاں ایک لاکھ 35 ہزار سے زیادہ نوکریاں برقرار ہیں۔ مہاجرین، اندرون ملک بے گھر ہونے والوں اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے ایم آر اے  کی انسانی امداد کے تحت قریباً 2.7 ملین ڈالر مہیا کیے گئے ہیں۔ یہ امداد ایتھوپیا کے لیے گزشتہ 20 برس میں فراہم کی جانے والی مالی معاونت میں نیا اضافہ ہے۔ اس دوران امریکہ نے صرف صحت کے شعبے میں 4 بلین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 13 بلین ڈالر سے زیادہ معاونت فراہم کی ہے۔
  • گھانا: امریکہ نے گھانا کو وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں امداد کے طور پر 1.6 ملین ڈالر دیے ہیں۔ یہ نئی امداد گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں گھانا کو دی گئی 3.8 ارب ڈالر کی امریکی معاونت میں نیا اضافہ ہے جس میں قریباً 914 ملین ڈالر صحت کے شعبے میں خرچ کیے گئے۔
  • گنی: امریکہ نے گنی کو وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں امداد کے طور پر 500000 ڈالر دیے ہیں۔ گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں گنی کے لیے امریکی امداد کا مجموعی حجم ایک بلین ڈالر رہا ہے جس میں 365.5 ملین ڈالر صحت کے شعبے میں خرچ ہوئے۔
  • کینیا: صحت اور انسانی امداد کے شعبے میں قریباً 4.5 ملین ڈالر بشمول طبی معاونت کی مد میں دیے گئے 3.5 ملین ڈالر سے بیماری کے بارے میں معلومات کی فراہمی، بیماری کا ممکنہ کیس سامنے آنے کی صورت میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام قائم کرنے اور ذرائع ابلاغ، طبی عملے اور مقامی سطح پر لوگوں میں صحت عامہ کے حوالے سے پیغام رسانی میں مدد دی جا رہی ہے ۔ مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں کی مدد کے لیے ایم آر اے سے 947000 ڈالر مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ کوویڈ۔19 کے حوالے سے یہ مخصوص امداد کینیا کے لیے گزشتہ 20 برس میں فراہم کردہ امریکی امداد میں نیا اضافہ ہے۔ اس سے امریکہ کی جانب سے گزشتہ 20 برس میں کینیا کو دی گئی امداد کا حجم 11.7 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ صرف صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ہی 6.7 بلین ڈالر دیے جا چکے ہیں۔
  • لیسوتھو: امریکہ کی جانب سے لیسوتھو کو وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اقدامات کے لیے 750000 ڈالر امداد دی جا رہی ہے۔ اس نئی امداد سے گزشتہ 20 سال میں لیسوتھو کے لیے امریکہ کی مالی معاونت کا حجم ایک بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا جس میں 834 ملین ڈالر سے زیادہ رقم صحت کے شعبے میں خرچ کی گئی ہے۔
  • لائبیریا: امریکہ کی جانب سے صحت کے شعبے میں مہیا کی جانے والی ایک ملین ڈالر امداد سے لائبیریا کے تمام 12 اضلاع میں ہنگامی طبی کارروائی کے مراکز کے قیام، تربیت، بیماری کا کھوج لگانے، ہسپتالوں کو بہتر بنانے اور مقامی سطح پر طبی خدمات کے علاوہ قرنطینہ سے متعلق کوششوں میں مدد دینے اور مقامی سطح پر مدد کی فراہمی  کے لیے ضروری اعانت میسر آئے گی۔ امریکہ کی جانب سے گزشتہ 20 برس میں لائبیریا  کو مجموعی طور پر 4 بلین ڈالر جبکہ صحت کے شعبے میں 675 ملین ڈالر دیے ہیں جس سے وہاں کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مضبوط بنیاد قائم ہو چکی ہے۔
  • مڈغاسکر: امریکہ نے مڈغاسکر کو وبا کے خلاف اقدامات کے لیے صحت کے شعبے میں 2.5 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ امریکہ گزشتہ 20 برس کے دوران مڈغاسکر کو  1.5 بلین ڈالر سے زیادہ مدد دے چکا ہے جس میں صرف صحت کے شعبے میں 722 ملین ڈالرکی  مالی معاونت شامل ہے۔
  • ملاوی: امریکہ نے ملاوی کو وبا کے خلاف اقدامات کے لیے صحت کے شعبے میں 4.5 ملین ڈالر امداد دی ہے۔ گزشتہ 20 سال میں ملاوی  کے لیے امریکہ کی مجموعی امداد کا حجم 3.6 بلین ڈالر رہا جس میں صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے 1.7 بلین ڈالر دیے گئے۔
  • مالی: امریکہ کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مالی کو 8.4 ملین ڈالر سے زیادہ امداد دے رہا ہے جس میں وبا سے متعلق معلومات کی فراہمی، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے اور طبی کارروائیوں میں ارتباط  کے لیے صحت کے شعبے میں دیے جانے والے اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد کے 4.4 ملین ڈالر اور وبا کے دوران مالی میں مہاجرین، اندرون ملک بے گھر ہونے والوں اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے ایم آر اے سے  انسانی امداد کے لیے  4 ملین ڈالر سے زیادہ رقم بھی شامل ہے۔ اس نئی امداد سے 20 برس میں امریکہ کی جانب سے مالی کو فراہم کردی مالی مدد کا حجم 3.2 بلین ڈالر ہو گیا ہے جس میں صحت کے شعبے میں فراہم کردہ 807 ملین ڈالر سے زیادہ رقم بھی شامل ہے۔
  • موریطانیہ: امریکہ وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اقدامات کے لیے 250000 ڈالر امداد دے رہا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس میں موریطانیہ کو مجموعی طور پر 424 ملین ڈالر مالی معاونت فراہم کی  ہے جس میں 27 ملین ڈالر صحت کے شعبے پر خرچ کیے گئے۔ اس طرح ملک میں وبا کے خلاف اقدامات اٹھانے کے لیے مضبوط بنیاد میسر آئی ہے۔
  • ماریشس: امریکہ ماریشس میں وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اقدامات کے لیے 50000 ڈالر دے رہا ہے۔ اس نئی امداد سے گزشتہ 20 برس میں ماریشس کے لیے امریکی مالی معاونت کا حجم 13 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا جس میں 838000 ڈالر صحت کے شعبے میں خرچ کیے گئے ہیں۔
  • موزمبیق: امریکہ کی جانب سے موزمبیق کے لیے  شعبہ صحت میں معاونت  اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد کے سلسلے میں فراہم کردہ  5.8 ملین ڈالر سے بیماری کے بارے میں معلومات کی فراہمی، پانی و نکاسی آب، اور اہم طبی مراکز میں بیماری سے بچاؤ اور روک تھام میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس میں موزمبیق کو صحت کے شعبے میں 3.8 بلین ڈالر جبکہ مجموعی ترقیاتی امداد کے طور پر قریباً 6 بلین ڈالر مہیا کیے ہیں۔
  • نمیبیا: وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اقدامات کی غرض سے نمیبیا کو 750000 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ اس نئی امداد سے گزشتہ 20 برس کے دوران نمیبیا  کے لیے امریکہ کی مجموعی مالی معاونت کا حجم 1.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں صحت کے متعلق طویل مدتی امداد کی صورت میں دیے گئے 970.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔
  • نائیجر: امریکہ کی جانب سے 4.6 ملین ڈالر سے زیادہ مدد فراہم کی جا رہی ہے جس میں بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے اور ربط کے سلسلے میں شعبہ صحت میں معاونت  اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد کے 2.8 ملین ڈالر اور وبا کے دوران نائیجر میں مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے ایم آر اے کی انسانی امداد کے 1.8 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس طرح گزشتہ 20 سال کے دوران نائیجر کے لیے امریکہ کی مجموعی امداد 2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس میں صرف صحت کے شعبے میں قریباً 233 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • نائیجیریا: امریکہ کی جانب سے نائیجیریا  کو 30 ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی جا رہی ہے جس میں بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، پانی و نکاسی آب کی سرگرمیوں، بیماری سے بچاؤ اور رابطے کی سرگرمیوں کے لیے شعبہ صحت کے لیے اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد سے قریباً 26 ملین ڈالر اور مہاجرین، اندرون ملک بے گھر ہونے والوں اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے ایم آر اے کے 4.1 ملین ڈالر شامل ہیں۔ اس سے پہلے گزشتہ 20 برس میں امریکہ نائیجیریا  کو صحت کے شعبے میں 5.2 بلین ڈالر سے زیادہ رقم مہیا کر چکا ہے جبکہ اس کے لیے مجموعی امدادی رقم کا حجم 8.1 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
  • روانڈا: امریکہ کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے روانڈا کو 2.2 ملین ڈالر سے زیادہ امداد دے رہا ہے جس میں صحت کےشعبے میں مدد کے لیے دیے جانے والے 1.7 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد سے وبا کے حوالے سے نگرانی اور مریضوں کی دیکھ بھال کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ روانڈا میں مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں میں کوویڈ۔19 کے خلاف یواین ایچ سی آر کے اقدامات میں معاونت کے لیے ایم آر اے کی امداد سے 474000 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ اس طرح گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں روانڈا کے لیے امریکی امداد کا حجم 2.6 بلین ڈالر تک پہنچ جاتا ہے جس میں 1.5 بلین ڈالر صحت پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • سینیگال: صحت کے شعبے میں 3.9 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی، پانی و نکاسی آب، بیماری سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے، صحت عامہ کے حوالے سے پیغام رسانی اور ایسے دیگر کاموں  میں مدد ملے گی۔ سینیگال میں امریکہ صرف صحت کے شعبے میں قریباً 880 ملین ڈالر امداد دے چکا ہے جبکہ گزشتہ 20 برس میں دی جانے والی مجموعی امداد کا حجم 2.8 بلین ڈالر ہے۔
  • سیرالیون: وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اقدامات کے لیے 400000 ڈالر مہیا کیے جا رہے ہیں۔ اس امداد سے گزشتہ 20 برس میں سیرالیون کے لیے امریکی مالی معاونت کا حجم 5.2 بلین ڈالر ہو جاتا ہے جس میں قریباً 260 ملین ڈالر صحت کے نظام کو بہتر بنانے پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • صومالیہ: کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے 16.5 ملین ڈالر امداد دی جا رہی ہے جس سے بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی، بیماری سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے، مریضوں کے انتظام و انصرام اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ یہ امداد گزشتہ 20 برس کے دوران صومالیہ کے لیے امریکہ کی 5.3 بلین ڈالر مجموعی امداد میں نیا اضافہ ہے۔ اس میں 30 ملین ڈالر صحت پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • جنوبی افریقہ: کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کے لیے صحت کے شعبے میں دی جانے والی قریباً 8.4 ملین ڈالر کی معاونت سے بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی، پانی و نکاسی آب، بیماری سے بچاؤ اور روک تھام، صحت عامہ کے حوالے سے پیغام رسانی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ امریکہ گزشتہ 20 برس میں جنوبی افریقہ میں صحت کے شعبے میں قریباً 6 بلین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 8 بلین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • جنوبی سوڈان: کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے امریکہ جنوبی سوڈان کو 19 ملین ڈالر امداد دے رہا ہے جس میں مریضوں کے علاج معالجے، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے، انتظام و انصرام، رابطے کی کوششوں، بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی اور پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کے پروگراموں کے لیے آئی ڈی اے سے انسانی امداد کے 13.4 ملین ڈالر اور وبا کے دوران جنوبی سوڈان میں مہاجرین، اندرون ملک بے گھر ہونے والوں اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے ایم آر اے کی انسانی امداد سے قریباً 5.6 ملین ڈالر شامل ہیں۔ اس مالی مدد سے جنوبی سوڈان کے علاقے میں گزشتہ 20 سال کے دوران امریکہ کی مجموعی امداد کا حجم 6.4 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس میں 405  ملین ڈالر سے زیادہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • سوڈان: امریکہ سوڈان کو 23.1 ملین ڈالر امداد دے رہا ہے جس سے بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، علاج معالجے، بیماری کی نگرانی، روک تھام اور اس پر قابو پانے، پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کے پروگراموں کے لیے آئی ڈی اے کے 16.8 ملین ڈالر شامل ہیں۔ کوویڈ۔19 سے بری طرح متاثرہ خاندانوں کو نقد امداد کے طور پر ای ایس ایف کے فنڈ سے 5 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اندرون ملک بے گھر ہونے والوں اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے ایم آر اے کی جانب سے انسانی امداد کے طور پر 1.3 ملین ڈالر مہیا کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ 20 سال کے دوران امریکہ نے سوڈان کو صحت کے شعبے میں 3 ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی ہے جبکہ اسے مجموعی طور پر 1.6 ارب ڈالر سے زیادہ مدد فراہم کی جا چکی ہے۔
  • تنزانیہ: صحت کے شعبے میں 1.4 ملین ڈالر کی معاونت سے بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی، پانی و نکاسی آب، بیماری سے بچاؤ اور روک تھام، صحت عامہ کے حوالے سے پیغام رسانی اور دیگر کاموں میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس میں صرف صحت کے شعبے میں تنزانیہ کو 4.9 ملین ڈالر مالی معاونت فراہم کی ہے جبکہ اس کے لیے مجموعی امدادی رقم کا حجم 7.5 بلین ڈالر ہے۔
  • یوگنڈا: امریکہ وبا کے خلاف صحت کے شعبے میں اقدمات کے لیے یوگنڈا کو 3.6 ملین ڈالر امداد دے رہا ہے۔ اس میں وبا کے دوران یوگنڈا میں مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں کی مدد کے لیے ایم آر اے کی جانب سے انسانی امداد کی مد میں فراہم کردہ 1.3 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس معاونت سے گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں یوگنڈا کے لیے امریکہ کی مجموعی امداد کا حجم 8 بلین ڈالر ہو جاتا ہے جس میں 4.7 بلین ڈالر صرف صحت کے شعبے میں  خرچ کیے گئے ہیں۔
  • زیمبیا: صحت کے شعبے میں 3.4 ملین ڈالر کی امداد سے بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی، پانی و نکاسی آب، بیماری سے بچاؤ اور روک تھام، صحت عامہ کے حوالے سے پیغام رسانی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ یہ زیمبیا کے لیے امریکہ کی مالی مدد میں نیا اضافہ ہے۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے یہاں صرف صحت کے شعبے میں 3.9 بلین جبکہ مجموعی طور پر 4.9 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ 
  • زمبابوے: صحت کے شعبے میں قریباً 3 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے حکومت کو بیماری کی تشخیص کے لیے بڑے پیمانے پر لیبارٹریاں قائم کرنے، انفلوائنزا جیسی بیماریوں کے مریضوں میں کوویڈ۔19 کا پتا چلانے کی سرگرمیوں اور ملک میں داخلے کے مقامات کے لیے صحت عامہ کے حوالے سے ہنگامی منصوبے پر عملدرآمد میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے زمبابوے کو صرف صحت کے شعبے میں 1.2 بلین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 3 بلین ڈالر امداد دی ہے۔
  • ساحل خطے میں علاقائی سطح پر امدادی کاوشیں : ای ایس ایف کے فنڈ سے 5 ملین ڈالر کی مدد سے شراکت دار حکومتوں اور سول سوسائٹی کو شفاف ابلاغ و اقدامات کے ذریعے کوویڈ۔19 سے نمٹنے میں مدد دی جائے گی۔ برکینا فاسو، نائیجر، دی گیمبیا، چاڈ اور مالی اس امداد سے استفادہ کریں گے۔
  • مغربی افریقہ میں علاقائی سطح پر امدادی کاوشیں : ای ایس ایف کے فنڈ سے 5 ملین ڈالر امداد کے ذریعے مقامی حکام اور لوگوں کے ساتھ اطلاعاتی مہمات چلانے اور مقامی گروہوں، ریڈیو سٹیشنوں اور مقامی میڈیا کو مقامی زبانوں میں مخصوص پیغام رسانی کے لیے تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس امداد کے ذریعے شہریوں میں مقامی سطح پر بیماری کے حوالے سے معلومات کے تبادلے اور مجموی سماجی طرزعمل میں تبدیلی کے لیے بھی کام لیا جائے گا۔ کیمرون، آئیوری کوسٹ، ٹوگو، بینن اور گنی اس امداد سے مستفید ہوں گے۔

ایشیا:

  • افغانستان: امریکہ کی جانب سے کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے فراہم کردہ 18 ملین ڈالر کی مجموعی امداد میں اندرون ملک بے گھر افراد میں کوویڈ۔19 کی نشاندہی اور علاج کے لیے صحت کے شعبے میں معاونت  اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد سے 5.6 ملین ڈالر نیز ملک واپس آنے والے افغانوں کے لیے ایم آر اے سے انسانی امداد کے طور پر دیے گئے  قریباً 2.4 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ نے موجودہ وسائل میں سے 10 ملین ڈالر افغانستان میں کوویڈ۔19 کے خلاف عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی منصوبے کو بھی منتقل کیے ہیں۔ ان وسائل سے بیماری کی نگرانی، لیبارٹریوں کی حالت بہتر بنانے، مریضوں کے انتظام و انصرام، بیماری سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے، مقامی لوگوں کو بیماری کے بارے میں آگاہی مہیا کرنے اور حکومت افغانستان کو تکنیکی معاونت مہیا کرنے میں مدد ملے گی۔
  • بنگلہ دیش: امریکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو 12.3 ملین ڈالر دیے جا رہے ہیں جن میں  صحت کے شعبے میں دی جانے والی مدد اور آئی ڈی اے کے وسائل سے قریباً 4.4 ملین ڈالر امداد بھی شامل ہے ۔اس امداد  سے علاج معالجے، بیماری کی نگرانی سے متعلق سرگرمیوں، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے، معلومات کی فراہمی اور پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کے پروگراموں میں مدد ملے گی۔ اس میں وبا کے دوران غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کے لیے ایم آر اے سے انسانی امداد کے لیے  8 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے بنگلہ دیش کو صرف صحت کے شعبے میں ایک بلین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 4 بلین ڈالر امداد دی ہے۔
  • بھوٹان: امریکہ کی جانب سے بھوٹان کو ایک ملین ڈالر امداد دی جا رہی ہے جس میں کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے  اکنامک سپورٹ فنڈنگ سے دیے جانے والے 5 لاکھ ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد کی بدولت کوویڈ۔19 سے متاثرہ افراد کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مالی معاونت مہیا کی جائے گی۔ لیبارٹریوں میں بیماری کی تشخیص کا عمل بہتر بنانے اور علاج معالجے، معالجین اور لیبارٹری کے عملے کو ورچوئل تربیت فراہم  کرنے اور بیماری سے متعلق آگاہی پر مبنی مواد کی فراہمی کے لیے 5 لاکھ ڈالر اس امداد کا حصہ ہیں۔ اس معاونت کے بعد گزشتہ 20 برس میں بھوٹان کے لیے امریکہ کی مجموعی امداد کا حجم 6.5 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس میں 847000 ڈالر صحت کے شعبے پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • برما: امریکہ کی جانب سے برما کو مجموعی طور پر 9.5 ملین ڈالر امداد دی جا رہی ہے جس میں صحت کے لیے مختص فنڈ سے قریباً 4.3 ملین ڈالر اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد سے 3 ملین ڈالر شامل ہیں جو مراکز صحت میں بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے، علاج معالجے، لیبارٹری کے نظام کو مضبوط بنانے، بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، طبی معاونت کے لیے  مقامی لوگوں کو ساتھ لینے، پانی اور نکاسی آب کی صورتحال بہتر بنانے بشمول اندرون ملک بے گھر لوگوں کی معاونت میں مدد ملے گی۔ اس میں غیرمحفوظ لوگوں اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے وبا کے دوران مدد کی غرض سے ایم آر اے کی انسانی امداد سے فراہم کردہ 2.2 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس طرح گزشتہ 20 برس میں امریکہ کی جانب سے برما کو صحت کے شعبے میں 176 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 1.3 بلین ڈالر امداد فراہم کی جا چکی ہے۔
  • کمبوڈیا: امریکہ کی جانب سے کمبوڈیا کو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مجموعی طور پر 8.5 ملین ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ اس میں گھروں کو واپس آنے والے مہاجرین سمیت غیرمحفوظ لوگوں کی مدد اور انہیں فنی تربیت دینے نیز انسانی خریدوفروخت سے نمٹنے اور بچوں کے تحفظ کی کوششوں کے لیے ای ایس ایف کے فنڈ سے 5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ صحت کے شعبے میں قریباً 3.5 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام قائم کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے کمبوڈیا کو صحت کے شعبے میں 730 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 1.6 بلین ڈالر امداد دی ہے۔
  • انڈیا: قریباً 5.9 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے انڈیا کو کوویڈ۔19 کے پھیلاؤ کی رفتار کم کرنے، متاثرین کی نگہداشت، مقامی سطح پر صحت عامہ کے حوالے سے ضروری پیغام رسانی، بیماروں کی تلاش ،  بیماری کی نگرانی اور اس وبا کے خلاف ہنگامی تیاری اور اقدامات کے لیے اختراعی مالیاتی طریقہ ہائے کار سے کام لینے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں انڈیا کے لیے امریکہ کی مالی معاونت میں یہ نیا اضافہ ہے۔ اس دوران امریکہ اسے صحت کے شعبے میں 1.4 بلین جبکہ مجموعی طور پر 2.8 بلین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • انڈونیشیا: امریکہ کی جانب سے انڈونیشیا کو دی جانے والی 5 ملین ڈالر امداد بشمول صحت کے شعبے میں 4.5 ملین ڈالر کی معاونت سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام قائم کرنے، مریضوں میں بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے ۔ اس میں ایم آر اے کے انسانی امداد سے متعلق وسائل سے دیے جانے والے 400000 ڈالر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ انڈونیشیا کو صحت کے شعبے میں ایک بلین جبکہ مجموعی طور پر 5 بلین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • قازقستان: صحت کے شعبے میں 1.6 ملین ڈالر سے زیادہ مالی معاونت کی بدولت لیبارٹریوں کا نظام قائم کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس کے دوران قازقستان میں صحت کے شعبے میں 86 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں جبکہ اس کے لیے مجموعی امریکی امداد کا حجم 2 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
  • کرغیز جمہوریہ: صحت کے شعبے میں قریباً 900000 ڈالر کی مالی معاونت لیبارٹریوں کا نظام قائم کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ کرغیزستان کو صحت کے شعبے میں 120 ملین ڈالر سے زیادہ مالی مدد دے چکا ہے جبکہ اس کے لیے مجموعی امریکی امداد کا حجم قریباً 1.2 بلین ڈالر ہے۔
  • لاؤس: صحت کے شعبے میں قریباً 3.5 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے ۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ لاؤس کو صحت کے شعبے میں قریباً 92 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 348 ملین ڈالر دے چکا ہے۔
  • ملائشیا: ایم آر اے کی انسانی امداد کے سلسلے میں فراہم کردہ 200000 ڈالر کی مالی معاونت سے ملائشیا میں مہاجرین اور پناہ کے خواہش مندوں کو کوویڈ۔19 سے تحفظ دینے کی کوششوں میں مدد مل رہی ہے ۔ اس امداد سے گزشتہ 20 سال  میں  ملائشیا کے لیے امریکی مالی معاونت کا حجم 228 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا جس میں صحت کے شعبے پر 3.6 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • مالدیپ: امریکہ کی جانب سے مالدیپ کو اکنامک سپورٹ فنڈنگ سے دی جانے والی 2 ملین ڈالر امداد سے مقامی سطح پر سول سوسائٹی کی تنظیموں کے زیرقیادت سماجی تحفظ کی خدمات کو وسعت دینے اور ان تنظیموں کو کوویڈ۔19 سے بحالی کی حکمت عملی بارے موثر معاونت  دینا ممکن ہو گا۔ اس امداد میں حکومت، نجی شعبے اور مالیاتی اداروں کے لیے تکنیکی معاونت بھی شامل ہے جس کی بدولت وبا کے اثرات سے بری طرح متاثرہ کاروبار دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی۔ 2004 کے بعد اب تک مالدیپ کے لیے امریکی امداد کا حجم 30 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
  • منگولیا: صحت کے شعبے میں قریباً 1.2 ملین ڈالر کی معاونت سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے ۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے منگولیا کو صحت کے شعبے میں قریباً 106 ملین ڈالر مالی معاونت فراہم کی ہے جبکہ مجموعی امداد کی مد میں اسے اب تک ایک بلین ڈالر دیے جا چکے ہیں۔
  • نیپال: امریکہ کی جانب سے نیپال کو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مجموعی طور پر 4.3 ملین ڈالر امداد دی جا رہی ہے جس میں اکنامک سپورٹ فنڈز سے 2.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس رقم سے مقامی حکومتوں اور آفات میں مدد دینے والی کمیٹیوں کو کوویڈ۔19 کے معاشی و سماجی اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اس امداد سے نجی شعبے اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو معاشی بحالی، غذائی عدم تحفظ میں کمی لانے اور غیرمحفوظ آبادیوں کی ضروریات پوری  کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ اس میں صحت کے شعبے میں دی جانے والی 1.8 ملین ڈالر امداد بھی شامل ہے جس سے حکومت کو مقامی  سطح پر بیماری سے متعلق معلومات کی فراہمی بہتر بنانے، لیبارٹریوں کے نظام کی تیاری، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی معاونت اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے نیپال کو صحت کے شعبے میں 603 ملین ڈالر سے زیادہ جبکہ مجموعی طور پر 2 بلین ڈالر امداد فراہم کی ہے۔
  • الکاہل کے جزائر: امریکہ کی جانب سے بحرالکاہل کے مختلف جزائر کو مجموعی طور پر 9.8 ملین ڈالر امداد دی جا رہی ہے۔ اس میں اکنامک سپورٹ فنڈز کے 5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں جن سے غیرمحفوظ اور پسماندہ گروہوں کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے غلط معلومات اور نفرت پر مبنی اظہار کے خلاف سول سوسائٹی کو مضبوط بنایا جائے گا۔ کوویڈ۔19 کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے مقامی اور قومی سطح پر چھوٹی امدادی رقومات کی دستیابی بھی ممکن بنائی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں حکومتوں کو 2.3 ملین ڈالر معاونت مہیا کی گئی ہے جس سے لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری سے بچاؤ اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ اس میں بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے، انتظام و انصرام، باہم ارتباط کے سلسلے میں کوششوں اور دیگر سرگرمیوں کے لیے آئی ڈی  اے کے انسانی امداد کی مد میں دیے گئے 2.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ گزشتہ دس برس میں امریکہ نے بحرالکاہل کے جزائر میں صحت کے شعبے میں مدد کے لیے 620 ملین ڈالر سے زیادہ رقم مہیا کی ہے۔ گزشتہ 20 سال میں جزائر کے لیے مجموعی امریکی امداد کا حجم 5.21 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
  • پاپوا نیوگنی: صحت کے شعبے میں 1.9ملین ڈالر کی معاونت سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری سے بچاؤ اور دیگر سرگرمیوں میں مدد دی جا رہی ہے ۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے پاپوا نیوگنی کو صحت کے شعبے میں 52 ملین ڈالر سے زیادہ مالی امداد فراہم کی ہے جبکہ مجموعی امریکی امداد کا حجم قریباً 108 ملین ڈالر ہے۔
  • پاکستان: پاکستان کو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مجموعی طور پر 15 ملین ڈالر کی نئی امداد فراہم کی گئی ہے جس میں کوویڈ۔19 سے متاثرہ 70 ہزار غیرمحفوظ لوگوں کو نقد مدد کی فراہمی کے حکومتی پروگرام کے لیے اکنامک سپورٹ فنڈ سے 5 ملین ڈالر دیے گئے ہیں۔ وبا کی نگرانی کا نظام بہتر بنانے اور لوگوں کو ممکنہ وباؤں کی نشاندہی کے لیے بہتر طور سے تیار کرنے کے لیےصحت کے شعبے میں 7 ملین ڈالر مہیا کیے گئے  ہیں۔ مزید برآں پاکستان کو اندرون ملک مہاجرین کو کوویڈ۔19 سے بچاؤ میں مدد دینے کے لیے ایم آر اے کی انسانی امداد سے 2.9 ملین ڈالر فراہم کیے جا  رہے ہیں۔ امریکہ نے پاکستا ن کو کوویڈ۔19 قومی منصوبے میں مدد دینے کے لیے موجودہ مالی وسائل میں سے بھی ایک ملین ڈالر مختص کیے ہیں جن سے طبی عملے کی تربیت اور دیگر فوری ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے پاکستان کو صرف صحت کے شعبے میں ہی 1.1 بلین ڈالر جبکہ مجموعی امداد میں 18.4 بلین ڈالر دیے ہیں۔
  • فلپائن: کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے فلپائن کو 15 ملین ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی جا رہی ہے جس میں اکنامک سپورٹ فنڈز سے 5 ملین ڈالر کی معاونت بھی شامل ہے۔ اس سے حکومت کو بحران پر قابو پانے، ضروری سازوسامان کی خریداری، عام لوگوں اور کاروباروں کی بحالی کی اہلیت بہتر بنانے کے لیے انضباطی ماحول کے قیام، بیماری سے بری طرح متاثرہ شعبوں کو امداد اور فنی تربیت کی فراہمی اور چھوٹے درجے کے کاروباروں کی قرض تک رسائی ممکن بنانے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں صحت کے شعبے میں 6.5 ملین اور آئی ڈی اے کی انسانی امداد سے فراہم کردہ 2.8 ملین ڈالر سے لیبارٹریوں اور بیماری سے متعلق نمونوں کی منتقلی کے نظام کو بہتر بنانے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے فلپائن کے اور عالمی ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے، ہاتھ دھونے اور صحت و صفائی سے متعلق آگاہی پھیلانے، بیماری کے خلاف مقامی سطح پر تیاری و اقدامات اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ ایم آر اے کی انسانی امداد سے فلپائن کو 875000 ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں جن سے وبا کے دوران غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ فلپائن کو صحت کے شعبے میں 582 ملین جبکہ مجموعی طور پر 4.5 بلین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • سری لنکا: امریکہ کی جانب سے سری لنکا کو مجموعی طور پر 5.8 ملین ڈالر امداد فراہم کی گئی ہے جس میں اکنامک سپورٹ فنڈز کے 2 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد کے ذریعے کوویڈ۔19 سے بری طرح متاثرہ علاقوں اور آبادیوں کے لیے سماجی خدمات میں اضافے اور سماجی ربط بڑھانے اور وبا کے منفی معاشی اثرات میں کمی لانے کے لیے مخصوص نزاعی خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اکنامک سپورٹ فنڈ کے 2 ملین ڈالر سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو دوبارہ مستحکم کرنے کے علاوہ خواتین کی معاشی شرکت میں اضافہ کیا جائے گا۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں دی جانے والی 1.3 ملین ڈالر امداد سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری سے بچاؤ اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ ایم آر اے سے انسانی امداد کے طور پر جاری کردہ 590000 ڈالر سے وبا کے دوران غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کی جانا ہے۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ سری لنکا کو صحت کے شعبے میں 26 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر ایک بلین ڈالر فراہم کر چکا ہے۔
  • تاجکستان: صحت کے شعبے میں قریباً 866000 ڈالر کی معاونت سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے تاجکستان کو صحت کے شعبے میں 125 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر ایک بلین ڈالر امداد دی ہے۔
  • تھائی لینڈ: صحت کے شعبے میں قریباً 2.7 ملین ڈالر سے زیادہ مالی معاونت کی بدولت حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ ایم آر اے سے جاری کردہ 730000 ڈالر امداد سے تھائی لینڈ اور برما کی سرحد پر برمی مہاجرین کے تمام نو کیمپوں میں بیماری کی نگرانی اور اس کے خلاف اقدامات کی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے تھائی لینڈ کو صحت کے شعبے میں 213 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر ایک بلین ڈالر امداد مہیا کی ہے۔
  • ٹیمور لیسٹے: صحت کے شعبے میں 1.1 ملین ڈالر کی معاونت سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ 2002 میں ٹیمور لیسٹے کی آزادی سے اب تک امریکہ اسے صحت کے شعبے میں 70 ملین جبکہ مجموعی طور پر 542 ملین ڈالر فراہم کر چکا ہے۔
  • ترکمانستان: صحت کے شعبے میں معاونت کے لیے قریباً 920000  ڈالر فراہم کیے گئے ہیں جس سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری  کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 سال کے دوران امریکہ نے ترکمانستان کی حکومت اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے دوطرفہ اور علاقائی پروگراموں پر عملدرآمد کے لیے مجموعی طور پر 201 ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی ہے۔ اس میں گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں صحت کے شعبے میں دی جانے والی 21 ملین ڈالر امداد بھی شامل ہے۔
  • ازبکستان: صحت کے شعبے میں قریباً 848000 ڈالر کی مالی معاونت سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ امریکہ گزشتہ 20 برس میں ازبکستان کو صحت کے شعبے میں 122 ملین ڈالر کی مالی معاونت مہیا کر چکا ہے جبکہ اس عرصہ میں اسے دی جانے والی مجموعی امداد ایک بلین ڈالر ہے۔
  • ویت نام: کوویڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے ویت نام کو مجموعی طور پر 9.5 ملین ڈالر امداد دی جا رہی ہے جس میں اکنامک سپورٹ  فنڈز سے دیے جانے والے 5 ملین ڈالر بھی  شامل ہیں۔ یہ امداد انتہائی ضروری وسائل کی فراہمی بشمول چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر وبا کے مالیاتی اثرات میں کمی لا کر نجی شعبے کی بحالی، ایسے کاروباروں کو درپیش غیرمالیاتی اثرات سے نمٹنے اور حکومت کے امدادی اقدامات میں اضافے کے لیے ویت نامی حکومت کے فریقین سے شراکت داری پر صرف ہو گی۔اس میں صحت کے شعبے میں مہیا کی جانے والی 4.5 ملین ڈالر امداد بھی شامل ہے جس کا اعلان پہلے کیا جا چکا ہے۔ اس امداد سے حکومت کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ ویت نام کو صحت کے شعبے میں 706 ملین جبکہ مجموعی طور پر 1.8 بلین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • ایشیا میں علاقائی سطح پر امدادی کاوشیں  : اکنامک سپورٹ فنڈز سے دی جانے والی 2 ملین ڈالر امداد سے وسطی ایشیا میں غیرمحفوظ مہاجرین کو ضروری خدمات مہیا کی جائیں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سرحدیں بند ہونے سے بے یارومددگار پڑے ہیں۔ اس امداد سے انہیں ان کی رضامندی کے مطابق محفوظ طور سے وطن واپس آنے میں مدد دی جائے گی۔ ان لوگوں کی واپسی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور مقامی حکومت کے تعاون سے ہو گی۔ علاوہ ازیں صحت کے شعبے میں 800000 ڈالر کی معاونت سے خطے میں حکومتوں اور این جی اوز کو لیبارٹریوں کا نظام تیار کرنے، مریضوں میں بیماری کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف ردعمل اور تیاری کےلیے ماہرین کی تکنیکی معاونت، بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ مزید برآں ایم آر اے سے انسانی امداد کی مد میں قریباً 2.8 ملین ڈالر سے جنوب مشرقی ایشیا میں غیرمحفوظ لوگوں کو مدد فراہم کی جائے گی اور 425000 ڈالر سے وبا کے دوران وسطی ایشیا میں ایسے لوگوں کو معاونت مہیا کی جانا ہے جو خطرات کی زد پر ہیں۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس میں ایشیائی ممالک کی انفرادی مدد کے علاوہ علاقائی سطح پر صحت کے شعبے میں معاونت کے لیے 226 ملین ڈالر مہیا کیے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 3 بلین ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی ہے۔

یورپ اور یوریشیا:

  • البانیہ: صحت کے شعبے میں 1.2 ملین ڈالر امداد سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، بیماری کے مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے البانیہ میں صحت کے شعبے میں 51.8 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ یہاں مجموعی امریکی امداد کا حجم  693 ملین ڈالر ہے۔
  • آرمینیا: صحت کے شعبے میں 1.7 ملین ڈالر امداد سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ 20 سال میں آرمینیا کو صحت کے شعبے میں قریباً 106 ملین ڈالر مالی معاونت فراہم کی ہے جبکہ مجموعی امداد کے طور پر اسے اب تک 1.57 بلین ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں۔
  • آزربائیجان: صحت کے شعبے میں 2.2 ملین ڈالر سے زیادہ مالی معاونت کی بدولت لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ ایم آر اے سے 565000 ڈالر انسانی امداد کے ذریعے وبا کے دوران غیرمحفوظ لوگوں اور ان کی میزبان آبادی کو مدد فراہم کی جائے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے آزربائیجان کو صحت کے شعبے میں 41 ملین  ڈالر امداد دی ہے جبکہ اس کے لیے مجموعی امدادی رقم کا حجم 894 ملین ڈالر ہے۔
  • بیلارس: صحت کے شعبے میں 1.3 ملین ڈالر امداد سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ یہ نئی مالی معاونت بیلارس کے لیے گزشتہ 20 برس میں امریکی امداد میں نیا اضافہ ہے۔ اس سے پہلے امریکہ یہاں صحت کے شعبے میں قریباً 1.5 ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر اسے 301 ملین ڈالر امداد دے چکا ہے ۔
  • بوسنیا ہرزیگووینا: صحت کے شعبے میں 1.2 ملین ڈالر کی معاونت سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ امریکہ گزشتہ 20 برس میں بوسنیا ہرزیگووینا کو صرف صحت کے شعبے میں 200000 ڈالر اور مجموعی طور پر 1.1 بلین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • بلغاریہ: امریکہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اقدامات کے لیے بلغاریہ کو 500000 ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ اس نئی امداد سے گزشتہ 20 برس کے دوران بلغاریہ کے لیے امریکہ کی دیرینہ امداد کا حجم 558 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گیا ہے جس میں 6 ملین ڈالر سے زیادہ رقم صحت کے شعبے میں فراہم کی گئی ہے۔
  • جارجیا: صحت کے شعبے میں 1.7 ملین ڈالر کی معاونت سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ جارجیا میں صحت کے شعبے میں قریباً 139 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 3.6 بلین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • یونان: ایم آر اے سے 500000 ڈالر انسانی امداد کے ذریعے یونان میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کو کوویڈ۔19 سے تحفظ دینے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ اس نئی امداد سے گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں یونان کے لیے امریکہ کی مجموعی امداد کا حجم 202 ملین ڈالر ہو گیا ہے جس میں صحت کے شعبے میں دیے جانے والے 1.8 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔
  • اٹلی: امریکہ کی جانب سے فراہم  کی جانے والی معاونت میں 50 ملین ڈالر کی معاشی مدد بھی شامل ہو گی جس پر یوایس ایڈ کے ذریعے عملدرآمد کرایا جائے گا تاکہ کوویڈ۔19 کے خلاف اٹلی کے اقدامات کو بہتر بنانے میں مدد دی جا سکے۔ یوایس ایڈ اٹلی میں وبا کے خلاف عالمی اداروں، غیرسرکاری تنظیموں اور مذہبی بنیاد پر کام کرنے والے گروہوں کے کام کو وسعت اور تکمیل دے گا اور سماجی سطح پر اس وبا کے اثرات میں کمی لانے کے لیے ان اداروں کے کام میں معاونت فراہم کرے گا۔ یوایس ایڈ صحت کے حوالے سے ایسا سازوسامان بھی خریدے گا جس کی امریکہ میں اندرون ملک ضرورت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ کوویڈ۔19 کے لیے طبی سازوسامان کی تیاری اور ترسیل میں مصروف اٹلی کی کمپنیوں کی مدد کے لیے کام بھی کرے گا۔
  • کوسوو: صحت کے شعبے میں 1.1 ملین ڈالر کی معاونت سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ امداد کوسوو کے لیے امریکی کی اب تک مالی معاونت میں نیا اضافہ ہے۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ اسے صحت کے شعبے میں 10 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 772 ملین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • مولڈووا: صحت کے شعبے میں 1.2 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ  20 برس میں امریکہ مولڈووا  کو صحت کے شعبے میں 42 ملین ڈالر امداد دے چکا ہے جبکہ اسے دی جانے والی مجموعی امدادی رقم کا حجم  ایک بلین ڈالر ہے۔
  • مونٹی نیگرو: وبا سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی جانب سے مونٹی نیگرو کو 300000 ڈالر امداد دی جا رہی ہے۔ اس نئی معاونت سے مونٹی نیگرو کے لیے اب تک مجموعی امریکی امداد 332 ملین ڈالر ہو گئی ہے جس میں ایک ملین ڈالر سے زیادہ رقم صحت پر خرچ کی گئی ہے۔
  • شمالی مقدونیہ: صحت کے شعبے میں 1.1 ملین ڈالر کی امداد سے لیبارٹری سسٹم کی تیاری، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی تکنیکی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ گزشتہ 20 برس کے دوران امریکہ شمالی مقدونیہ کو صحت کے شعبے میں قریباً 11.5 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 738 ملین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • رومانیہ: وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اقدامات کے لیے 800000 ڈالر مالی امداد دی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں امریکی حکومت نے جنوبی کوریا سے رومانیہ کے لیے پی پی ای کی نقل و حمل کے لیے نیٹو کی کارروائی کے مکمل اخراجات اٹھائے ہیں۔ نیٹو کی مدد سے تزویراتی فضائی منتقلی کی اہلیت کے ذریعے دو دیگر پروازوں سے پی پی ای کو رومانیہ پہنچانے کے عمل میں امریکی فوج کے اہلکار فضائی عملے کا حصہ تھے۔ گزشتہ 20 سال کے دوران رومانیہ کو امریکہ کی جانب سے قریباً 700 ملین ڈالر امداد دی جا چکی ہے جس میں 55 ملین سے زیادہ رقم صحت کے شعبے پر خرچ کی گئی ہے۔
  • سربیا: صحت کے شعبے میں 1.2 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے بیماری کے ٹیسٹ کی صلاحیت کو وسعت دینے، مریضوں کی تلاش اور واقعات کی بنیاد پر نگرانی، بیماری کے خلاف جوابی اقدامات اور تیاری کے لیے ماہرین کی اضافی تکنیکی مہارت دستیاب بنانے، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور مقامی لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے میں مدد  مل رہی ہے۔ علاوہ ازیں یوایس ایڈ/سربیا نے ملک میں معمر افراد سمیت بیماری کے مقابل  انتہائی غیرمحفوظ خاندانوں اور گروہوں کو خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے 150000 ڈالر بھی مہیا کیے ہیں۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے سربیا کو صحت کے شعبے میں 5.4 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر ایک بلین ڈالر امداد فراہم کی ہے۔
  • ترکی: ایم آر اے کی انسانی امداد سے فراہم کردہ 800000 ڈالر کی بدولت ترکی میں مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں میں کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ یہ نئی امداد ترکی  میں مقیم شامی مہاجرین کے لیے مہیا  کردہ 18 ملین ڈالر کی امداد کے علاوہ ہے جس کا اعلان 3 مارچ کو کیا گیا تھا۔ اس طرح گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں ترکی کے لیے امریکہ کی امداد کا حجم 1.4 بلین ڈالر سے زیادہ ہو گیا ہے جس میں 3 ملین ڈالر صحت کے شعبے میں مدد دینے پر خرچ کیے گئے ہیں۔ اس سے ترکی کو حالیہ وبا کے خلاف اقدامات کے لیے بنیاد قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
  • یوکرین: امریکہ کی جانب سے یوکرین کو مہیا کی جانے والی امداد کا مجموعی حجم 14.5 ملین ڈالر ہے جس میں صحت کے شعبے میں دی جانے والی امداد اور آئی ڈی اے سے انسانی امداد کی مد میں 12.1 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد سے مقامی ہسپتالوں کی صلاحیت بہتر بنائی جائے گی تاکہ بیماروں کی بہتر نگہداشت ممکن ہو سکے اور وبا کے پھیلاؤ کو کم رکھنے کے لیے ابلاغ عامہ میں اضافہ کرتے ہوئے کوویڈ۔19 کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس امداد سے وبا کے ثانوی اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ان میں غریب آبادیوں میں بیروزگاری اور سرکاری خدمات کے نقصان جیسے عوامل شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اس سے مشرقی یوکرین میں جنگ سے متاثرہ آبادیوں کی مدد بھی ممکن ہو گی۔ اس میں ایم آر اے سے انسانی امداد کی مد میں دیے جانے والے 2.4 ملین ڈالر بھی شامل ہیں جس سے وبا کے دوران غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے یوکرین  کو صحت کے شعبے میں 362 ملین ڈالر امداد دی ہے جبکہ اس کے لیے مجموعی امریکی امداد کا حجم 5 بلین ڈالر ہے۔
  • یورپ اور یوریشیا میں علاقائی سطح پر امدادی  کاوشیں: اکنامک سپورٹ فنڈ سے 5 ملین ڈالر امداد کے ذریعے سول سوسائٹی کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ وبا کے دوران جمہوری اداروں کی حفاظت ہو سکے اور شہریوں کے مطالبات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس امداد سے شہریوں کو کوویڈ۔19 کے خلاف اپنی حکومتوں کی کوششوں کی نگرانی کے قابل بنانے کے لیے سول سوسائٹی کے اداروں کی مدد بھی کی جائے گی۔

لاطینی امریکہ اور غرب الہند:

  • بیلیز: امریکہ نے وبا کا مقابلہ کرنے اور اس حوالے سے شعبہ صحت میں اقدامات کی اہلیت بہتر بنانے نیز علاج معالجے کے لیے بیلیز کو 300000 ڈالر امداد مہیا کی ہے۔ یہ معاونت گزشتہ 20 سال کے دوران بیلیز کے لیے امریکہ کی مالی معاونت میں نیا اضافہ ہے جس کا حجم اب 120 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں 12 ملین ڈالر صحت پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • بولیویا: کوویڈ۔19 کی تشخیص اور وبائی نگرانی بہتر بنانے کے لیے امریکہ کی جانب سے بولیویا کو 750000 ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ معاونت گزشتہ 20 سال کے دوران بولیویا کے لیے طویل مدتی امریکی امداد میں نیا اضافہ ہے جس کا حجم اب قریباً 2 بلین ڈالر ہو چکا ہے۔ اس میں 200 ملین ڈالر صحت کے نظام میں بہتری لانے پر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • برازیل: نئے اکنامک سپورٹ فنڈز سے برازیل کو 950000 ڈالر مہیا کیے جا رہے ہیں جس سے دیہی اور غیرمحفوظ شہری آبادیوں پر کوویڈ کے غیرطبی اثرات میں کمی لانے کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو تحریک دی جائے گی۔ یہ امداد گزشتہ 20 سال میں برازیل کے لیے امریکہ کی مالی مدد میں نیا اضافہ ہے۔ اس دوران امریکہ نے برازیل کو مجموعی طور پر 617 ملین ڈالر جبکہ صحت کے شعبے میں قریباً 103 ملین ڈالر مہیا کیے ہیں۔
  • غرب الہند: قبل ازیں اعلان کردہ 1.7 ملین ڈالر کی امداد سے مشرقی اور جنوبی غرب الہند کے 10 ممالک (انٹیگوا اینڈ بارباڈوا، بارباڈوز، ڈومینیکا، گرینیڈا، گیانا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوسیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈینز، سرینام، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو) کو اپنے ہاں بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی، پانی، نکاسی آب، بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے، کوویڈ۔19 کے مریضوں کے علاج، لیبارٹریوں کو بہتر بنانے اور وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی میں مدد مل رہی ہے۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ ان حکومتوں کو صحت کے شعبے میں 840 ملین ڈالر فراہم کر چکا ہے جبکہ انہیں ملنے والی مجموعی امریکی امداد کا حجم 236 ملین ڈالر ہے۔
  • کولمبیا: امریکہ کی جانب سے  کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے دی گئی قریباً 12.6 ملین امداد میں قبل ازیں آئی ڈی اے کے انسانی امداد کی مد میں اعلان کردہ 8.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد سے وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی، پانی اور نکاسی آب کی فراہمی، کوویڈ۔19 کا پھیلاؤ روکنے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ وبا کے دوران کولمبیا میں غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کے لیے ایم آر اے سے انسانی امداد کے لیے 4.1 ملین ڈالر مختصر کیے گئے ہیں اس میں کچھ امداد کا اعلان پہلے ہو چکا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس کے دوران کولمبیا میں صحت کا نظام بہتر بنانے پر قریباً 32.5 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ اسے مجموعی طور پر 12 بلین ڈالر امداد فراہم کی ہے۔
  • ڈومینیکن ریپبلک: کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے امریکہ کی جانب سے ڈومینیکن ریپبلک کو دی جانے والی امداد کا مجموعی حجم 3.4 ملین ڈالر ہے جس میں نئے اکنامک سپورٹ فنڈ سے فراہم کردہ 2 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد کے ذریعے غیرمحفوظ آبادیوں میں سماجی تحفظ، نفسیاتی مدد، تعلیم، پانی و نکاسی آب اور تحفظ خوراک کی اشد ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ نئی امداد وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں قبل ازیں اعلان کردہ معاونت 1.4 ملین ڈالر کے علاوہ ہے۔ اس امداد سے وبا کے تجزیے اور پیش گوئی، ایک سے دوسرے فرد میں وائرس کی منتقلی کی نشاندہی اور آئندہ اقدامات نیز وبا کی نگرانی میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں ڈومینیکن ریپبلک میں صحت و ترقی کے لیے ایک بلین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل خرچ کیے ہیں جن میں صحت کے شعبے پر سرمایہ کاری کا حجم 298 ملین ڈالر ہے۔
  • ایل سلواڈور: امریکہ کی جانب سے ایل سلواڈور کو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مجموعی طور پر 4.6 ملین ڈالر امداد مہیا کی جا رہی ہے جس میں نئے اکنامک سپورٹ فنڈز سے دیے جانے والے 2 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد سے ملک میں وبا کے ثانوی اثرات سے نمٹنے کے لیے نوکریاں پیدا کرنے اور قرض تک رسائی میں اضافے کے سلسلے میں مدد دی جائے گی۔ ایل سلواڈور سے امریکہ میں غیرقانونی مہاجرت روکنے کے لیے یہ دونوں اقدامات اہم ہیں۔ علاوہ ازیں اس وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں قریباً 2.6 ملین ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس امداد سے بیماری کی روک تھام، اس پر قابو پانے اور مریضوں کے علاج میں معاونت ملے گی۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے ایل سلواڈور میں صحت اور طویل مدتی ترقی پر 2.6 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں جس میں صحت کے شعبے میں 111 ملین ڈالر کے اخراجات بھی شامل ہیں۔
  • ایکواڈور: امریکہ کی جانب سے ایکواڈور کو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مجموعی طور پر 8 ملین ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں نئی آئی ڈی اے انسانی امداد کے 6 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد سے نقل و حمل اور انتظام و انصرام میں معاونت کے علاوہ بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی اور لوگوں تک رسائی کی کوششوں میں بھی مدد ملے گی۔ یہ امداد قبل ازیں صحت کے شعبے کے لیے اعلان کردہ 2 ملین ڈالر کے علاوہ ہے جس سے کوویڈ۔19 کے ٹیسٹ میں اضافے، بیماری کے بارے میں معلومات کی فراہمی، بیماری کی روک تھام سے متعلق سرگرمیوں اور علاج معالجے کا انتظام بہتر بنانے میں مدد میسر آئے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 سال کے دوران ایکواڈور کو مجموعی طور پر ایک بلین ڈالر سے زیادہ امداد دی ہے جس میں صحت کے شعبے میں دیے جانے والے 36 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد سے ایکواڈورمیں  صحت عامہ کو لاحق ذِکا اور ملیریا جیسے بڑے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔
  • گوئٹے مالا: امریکہ کی جانب سے قبل ازیں صحت کے شعبے میں فراہم کردہ 2.4 ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی بدولت کوویڈ۔19 کی روک تھام اور اس پر قابو پانے، بیماری کی نگرانی، بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی اور علاج معالجے میں مدد ملے گی۔ گوئٹے مالا میں صحت اور ترقی کے لیے امریکہ کی طویل مدتی امداد کا حجم گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں 2.6 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے۔ اس میں صحت کے شعبے پر 564 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • ہیٹی: صحت کے شعبے میں قبل ازیں اعلان کردہ 13.2 ملین ڈالر کی معاونت سے بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی کی کوششوں، پانی، نکاسی آب کی سہولتیں بہتر بنانے، بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے، کوویڈ۔19 کے مریضوں کے علاج، لیبارٹریوں کو بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس میں ہیٹی کو صحت کے شعبے میں 1.8 بلین ڈالر امداد دی ہے جبکہ اس کے لیے مجموعی امریکی امداد کا حجم قریباً 6.7 بلین ڈالر ہے۔
  • ہونڈوراس: امریکہ کی جانب سے صحت کے شعبے میں 2.4 ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی بدولت بیماری کے تجزیے کا نظام مضبوط بنانے، بیماری کی بہتر نگرانی اور علاج معالجے کی صورتحال میں بہتری کے ذریعے وبا کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں اس امداد سے مہاجرین کی وصولی کے علاقوں میں بھی وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے گزشتہ 20 برس میں ہونڈوراس  کو مجموعی طور پر 1.9 بلین ڈالر امداد دی ہے جس میں صحت کے شعبے پر 178 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • جمیکا: صحت کے شعبے میں قبل ازیں اعلان کردہ 700000 ملین ڈالر کی معاونت سے رابطہ کاری، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے، بیماری سے بچاؤ کے لیے انتظام و انصرام، معلومات کی فراہمی کی کوششوں اور بیماری کی نگرانی میں مدد مل رہی ہے۔ 20 سال میں امریکہ نے جمیکا کو صحت کے شعبے میں 87 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 619 ملین ڈالر امداد فراہم کی ہے۔
  • میکسیکو: 1.3 ملین ڈالر سے زیادہ انسانی امداد بشمول ایم آر اے سے فراہم کیے جانے والے 845000 ڈالر کی بدولت پناہ گزینوں اور غیرمحفوظ مہاجرین کو کوویڈ۔19 سے تحفظ دینے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ میکسیکو کے لیے امریکہ کی طویل مدتی مدد سے وہاں کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے۔ یہ مالی معاونت گزشتہ 20 سال میں میکسیکو کے لیے امریکہ کی مجموعی امداد میں نیا اضافہ ہے جس کا حجم اب 4.8 بلین ڈالر ہو چکا ہے۔ اس میں صحت کے شعبے میں معاونت پر 61 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔
  • پانامہ: صحت کے شعبے میں قبل ازیں اعلان کردہ 750000 ڈالر کی امداد سے امریکہ کے اس تزویراتی شراکت دار کو وبا سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اس امداد سے ملک میں کوویڈ۔19 کے مریضوں کی نگہداشت اور انتہائی خطرے کی زد میں آئے لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے نظام صحت کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔ امریکہ کی پانامہ میں صحت اور طویل مدتی ترقی میں مدد دینے کی طویل تاریخ ہے۔ گزشتہ  20 سال میں پانامہ کے لیے امریکہ کی مجموعی امداد 425 ملین ڈالر سے زیادہ جبکہ صحت کے شعبے میں معاونت 33.5 ملین ڈالر ہے۔
  • پیراگوئے: صحت کے شعبے میں 1.3 ملین ڈالر کی نئی امداد سے بیماری کے بارے میں اطلاعات کی فراہمی، پانی، نکاسی آب، بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے، کوویڈ۔19 کے مریضوں کے علاج، لیبارٹریوں کو بہتر بنانے اور وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی میں مدد ملے گی۔ امریکہ پیراگوئے کو طویل مدتی مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ گزشتہ 20 سال میں اسے صحت کے شعبے میں 42 ملین ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 456 ملین ڈالر دیے گئے ہیں۔
  • پیرو: کوویڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے پیرو کو 5.5 ملین ڈالر امداد مہیا کی گئی ہے جس میں نئے اکنامک سپورٹ فنڈ سے  3 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس رقم سے کوویڈ۔19 کے معاشی اثرات سے نمٹنے اور مشترکہ، اعلیٰ سطحی ترقیاتی امور اور سلامتی سے متعلق معاملات میں پیش رفت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ ان میں منشیات کی تجارت کے خلاف جدوجہد جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں صحت کے شعبے میں اعلان کردہ 2.5 ملین ڈالر سے بیماری کی نگرانی کے لیے تکنیکی معاونت اور تربیت، بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے ، بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی  اور مقامی سطح پر لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے میں مدد ملے گی۔ امریکہ کی جانب سے پیرو کو صحت اور طویل مدتی ترقی میں مدد دینے کی طویل تاریخ ہے جس سےوہاں  وبا کے خلاف اقدامات کے لیے مضبوط بنیاد میسر آئی ہے۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ پیرو کو مجموعی طور پر 3.5 بلین ڈالر جبکہ صحت کے شعبے میں 265 ملین ڈالر امداد دے چکا ہے۔
  • وینزویلا: وینزویلا کے عوام کے لیے دی گئی 12.3 ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی بدولت وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی، پانی اور نکاسی آب کی سہولیات کی فراہمی، کوویڈ۔19 کے مریضوں کے علاج اور دیگر سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔ وینزویلا میں امریکہ نے گزشتہ 20 سال میں صحت کے شعبے میں براہ راست 1.3 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں جبکہ اسے دی جانے والی مجموعی امریکی امداد کا حجم 278 ملین ڈالر ہے۔ گزشتہ سال امریکہ نے وینزویلا کو تحفظ زندگی اور ترقی کے لیے اضافی انسانی امداد فراہم کی تھی جو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے دی جانے والی امداد سے الگ ہے۔
  • لاطینی امریکہ اور غرب الہند میں علاقائی سطح پر امدادی کاوشیں : ایم آر اے سے فراہم کردہ قریباً 850000 ڈالر انسانی امداد کی بدولت وسطی امریکہ میں مہاجرت کے بحران پر قابو پانے کے لیے علاقائی کوششوں میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کا مقصد وبا کے دوران ایل سلواڈور، گوئٹے مالا اور ہونڈوراس میں غیرمحفوظ لوگوں کی مدد کرنا ہے۔

مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقہ:

  • الجزائر: امریکہ نے کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے اور بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی اور وبا کے خلاف تیاری اور اقدامات سے متعلق ”گو اے” منصوبے کے تحت مقامی سطح پر لوگوں سے رابطے کے ذریعے اس وبا کے اثرات کو کم کرنے کی غرض سے 500000 ڈالر مہیا کیے ہیں۔
  • عراق: امریکہ کی جانب سے عراق کو کوویڈ۔19 سے نمٹنے کے لیے قریباً 30 ملین ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی گئی ہے۔ اس میں صحت  کے شعبے میں اور آئی ڈی  اے کی انسانی معاونت کے ضمن میں 19.1 ملین ڈالر سے زیادہ مالی وسائل بھی شامل ہیں جن سے لیبارٹریوں کی تیاری، ملک میں داخلے کے مقامات پر صحت عامہ سے متعلق ہنگامی منصوبے پر عملدرآمد، مریضوں کی نشاندہی اور انفلوئنزا جیسی بیماریوں کی واقعات کی بنیاد پر نگرانی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ اس میں عراق غیرمحفوظ لوگوں کے لیے ایم آر اے کی 10.6 ملین ڈالر انسانی امداد بھی شامل ہے۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے عراق کو صرف صحت کے شعبے میں ہی 4 بلین ڈالر فراہم کیے ہیں جبکہ ملک کو مجموعی امداد میں اب تک 70 بلین ڈالر دیے جا چکے ہیں۔
  • اردن: امریکہ نے اردن کو قریباً 8.3 ملین ڈالر امداد مہیا کی ہے جس میں اردن میں موجود کمزور اور غیرمحفوظ آبادی کو کوویڈ۔19 سے تحفظ دینے کی کوششوں میں مدد کے لیے ایم آر اے کی انسانی امداد سے مہیا کردہ  د 6.8 ملین ڈالر اور صحت کے شعبے میں معاونت کے لیے 1.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں ۔اس  سے بیماری کی روک تھام اور اس کے پھیلاؤ پر قابو پانے سمیت ح  بڑے پیمانے پر کوویڈ۔19 کے ٹیسٹ کی اہلیت کے حصول میں مدد ملے گی۔ امریکہ اردن کی حکومت کے لیے عطیہ دہندگان کی مدد کا انتظام بھی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں تحفظ زندگی سے متعلق معاونت کو مربوط بنایا جائے گا اور بیماری کا خطرہ ابھرنے سے پہلے ہی اس کے خلاف مستعد اقدامات کے لیے مالی وسائل کی ترجیحات متعین کی جائیں گی۔ گزشتہ 20 سال میں امریکہ نے اردن میں مجموعی طور پر 18.9 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں جن میں 1.8 بلین ڈالر صحت کے شعبے کو دیے گئے ہیں۔
  • لبنان: امریکہ کی جانب سے لبنان کو 13.3 ملین ڈالر امداد مہیا کی گئی ہے۔ اس میں کوویڈ۔19 کے کے خطرے کی زد پر موجود لبنانیوں کو آئی ڈی اے کی انسانی امداد سے فراہم کردہ 5.3 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس سے مریضوں کی مناسب طریقے سے درجہ بندی، انتظام اور انہیں علاج کے  لیے منتقل کرنے، صحت کی بنیادی خدمات کی فراہمی کا تسلسل قائم رکھنے، بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی اور مقامی سطح پر لوگوں کی صحت کی سہولیات تک رسائی آسان بنانے نیز پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی تک رسائی میں اضافے میں مدد ملے گی۔ ایم آر اے کی انسانی امداد کے تحت  8 ملین ڈالر کی امداد سے لبنان میں موجود مہاجرین اور ان کی میزبان آبادی کو کوویڈ۔19 سے تحفظ دینے کی کوششوں میں مدد حاصل ہو گی۔ یہ امداد گزشتہ 20 سال کے دوران لبنان کو دی جانے والی 4.9 بلین ڈالر امداد میں نیا اضافہ ہے۔ اس میں صحت کے شعبے پر 187 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ اس امداد کے علاوہ امریکہ نے لبنان کو شامی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے انسانی امداد کی مد میں 2.3 ڈالر سے زیادہ امداد بھی مہیا کی ہے۔
  • لیبیا: امریکہ کی جانب سے لیبیا کو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے قریباً 12 ملین ڈالر امداد دی جا رہی ہے جس میں اکنامک سپورٹ فنڈز سے 3.5 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس امداد سے شہری انتظامیہ کو بحران سے نمٹنے کے اقدامات کو باضابطہ بنانے، ہنگامی انتظامی منصوبے تشکیل دینے  اور بحران میں ہنگامی اقدامات کے لیے ٹیموں کو تیار کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ مزید برآں اس امداد سے کوویڈ۔19 بحران کے دوران عوامی سطح پر آگاہی میں اضافہ کرنے، تعلیم اور رہنمائی پر مبنی پیغامات پھیلانے میں مدد ملے گی۔ اس میں آئی ڈی اے سے انسانی امداد کے سلسلے میں 6 ملین ڈالر کی فراہمی بھی شامل ہے جس سے بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، علاج معالجہ بہتر بنانے، کوویڈ۔19 کے خلاف موثر اقدامات کے لیے باہمی تعاون بہتر بنانے اور بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کی سہولیات میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔ ایم آر اے سے انسانی امداد کے طور پر 2.5 ملین ڈالر کی فراہمی  سے وبا کے دوران غیرمحفوظ لوگوں کو تحفظ دیا جائے گا۔
  • مراکش: کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے مراکش کو قریباً 5.7 ملین ڈالر مہیا کیے جا رہے ہیں جس میں ای ایس ایف کے 4 ملین ڈالر بھی شالم ہیں۔ اس امداد سے نقد مالی معاونت کے پروگرام کے ذریعے شہری اور دیہی علاقوں میں پسماندہ اور غیرمحفوظ آبادیوں کی سماجی و معاشی بحالی میں مدد ملے گی۔ صحت کے شعبے میں 1.7 ملین ڈالر کی معاونت سے لیبارٹری  نظام کی تیاری، مریضوں کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف اقدامات اور تیاری کے لیے تکنیکی ماہرین کی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 سال کے دوران امریکہ نے مراکش کو صحت کے شعبے میں 64.5 ملین ڈالر امداد دی ہے جبکہ اسے ملنے والی مجموعی امریکی امداد کا حجم 2.6 بلین ڈالر ہے۔
  • شام: امریکہ نے شام کو کوویڈ۔19 کے خلاف اقدامات کے لیے 31 ملین ڈالر سے زیادہ امداد مہیا کی ہے جس میں بیماری کے حوالے سے معلومات کی فراہمی، بیماری کی نگرانی، پانی، نکاسی آب اور صحت و صفائی کے پروگرام،  بیماری کی روک تھام اور اس پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یہ امداد امریکہ کی جانب سے سالہا سال تک شام کے عوام کی مالی مدد بشمول جنگ کے آغاز سے ہی شام کے لوگوں، شامی مہاجرین اور ان کی میزبان آبادیوں کے لیے 10 بلین ڈالر سے زیادہ مالی مدد میں نیا اضافہ ہے۔ انسانی امداد بشمول ادویات اور طبی سازوسامان شام بھر میں تمام موجودہ پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔
  • تیونس: صحت کے شعبے میں 600000 ڈالر معاونت سے لیبارٹری نظام کی تیاری، مریضوں کی نشاندہی اور واقعات کی بنیاد پر بیماری کی نگرانی، بیماری کے خلاف اقدامات اور تیاری کے لیے تکنیکی ماہرین کی مدد، اطلاعات کی فراہمی بہتر بنانے اور دیگر سرگرمیوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 سال کے عرصہ میں امریکہ نے تیونس کو صحت کے شعبے میں 7 ملین سے زیادہ مالی مدد فراہم کی ہے جبکہ اسے ملنے والی مجموعی امداد کا حجم 1.3 بلین ڈالر ہے۔
  • مغربی کنارہ/غزہ: عالمگیر سطح پر آفات میں مدد کے سلسلے میں قریباً 5 ملین ڈالر کی معاونت سے مغربی کنارے میں تحفظ زندگی کے حوالے سے ہنگامی نوعیت کی امداد  فراہم کی جا رہی ہے۔
  • یمن: امریکہ کی جانب سے 1.7 ملین ڈالر سے زیادہ انسانی امداد کی بدولت مہاجرین اور دیگر غیرمحفوظ اور کمزور لوگوں کو کوویڈ۔19 سے بچانے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔ گزشتہ 20 برس میں امریکہ نے یمن کی طویل مدتی ترقی کے لیے مجموعی طور پر قریباً 4 ارب ڈالر مہیا کیے ہیں جن میں صحت کے شعبے میں دی گئی امداد کا حجم قریباً 132 ملین ڈالر ہے۔
  • مشرق وسطیٰ میں علاقائی سطح پرامدادی  کاوشیں : وبا کے دوران غیرمحفوظ لوگوں کو مدد دینے کے لیے ایم آر اے سے 6 ملین ڈالر امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

عالمگیر امداد

  • عالمگیر اداروں اور این جی اوز کے ذریعے عالمی اور علاقائی سطح کے امدادی پروگراموں میں قریباً 35.5 ملین ڈالر مہیا کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سازوسامان کی ترسیل کے انتظام، نئی شراکتوں، نگرانی اور جائزے سمیت دیگر کاموں میں مدد دینے والے پروگرام شامل ہیں۔
  • مہاجرین، اندرون ملک بے گھر ہونے والے لوگوں اور ان کی میزبان آبادیوں کو وبا سے لاحق مسائل سے نمٹنے کے لیے ‘یواین ایچ سی آر’ کے تحت  کوویڈ۔19 کے خلاف عالمگیر اقدام کے لیے ایم آر اے کی انسانی امداد سے 8 ملین ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔
  • یوایس ایڈ میں جمہوریت، تنازعات اور انسانی امداد (ڈی سی ایچ اے) سے متعلق دفتر اکنامک سپورٹ فنڈ کے 5 ملین ڈالر سے شہری بہبود پر مرتکز حکمرانی کے فروغ، صحافیوں اور سی ایس اوز کو حاصل قانونی تحفظ کی نگرانی کے ذریعے صحافتی اور شہریوں آزادیوں کے احترام، جہاں کوویڈ سے متعلقہ ہنگامی قوانین کے ذریعے حقوق کو محدود کیا گیا ہو وہاں قانونی امداد کی فراہمی، صحت عامہ کے حوالے سے غیرامتیازی اقدامات یقینی بنانے اور کویڈ۔19 کے حوالے سے پسماندہ گروہوں پر الزام تراشی اور انہیں بدنام کرنے کی کوششوں کا جواب دینے، میڈیا کی دیانت داری اور کوویڈ۔19 کے حوالے سے ذمہ دارانہ طور سے اطلاعات کی فراہمی، غلط معلومات کا مقابلہ کرنے، میڈیا کے آزاد اداروں کا مالی  استحکام یقینی بنانے اور انسانی حقوق کے محافظوں کو اپنا اہم کام جاری رکھنے میں  مدد مہیا کرنے جیسے اقدامات کے لیے سول سوسائٹی کے اداروں (سی ایس اوز) کی مدد ممکن بنائی جائے  گی۔
  • یوایس ایڈ میں معاشی ترقی، تعلیم اور ماحول (ای 3) سے متعلق دفتر اکنامک سپورٹ فنڈ کے قریباً 4.3 ملین ڈالر سے تجارت کو وسعت دینے اور تعلیم تک رسائی ممکن بنانے میں مدد دے گا۔ یوایس ایڈ قریباً 750000 ڈالر سے کوویڈ۔19 کے خلاف تعلیمی اقدامات، بحران میں فاصلاتی تعلیم پر ایک عالمگیر ورکنگ گروپ کے قیام اور ترقی پذیر ممالک میں فاصلاتی تعلیم کے حوالے سے ایک ورچوئل سنٹر آف ایکسیلینس شروع کرنے کے لیے شراکت دارحکومتوں اور دنیا بھر میں یو ایس ایڈ کے مشن کو تکنیکی مدد فراہم کرے  گا اور ان کی صلاحیت میں بہتری لائے گا۔ یوایس ایڈ 3.5 ملین ڈالر سے ایک عالمگیر سرکاری۔نجی شراکت داری کی مدد کرے گا جس کا مقصد شراکت دار حکومتوں کو طبی آلات اور ٹیسٹ کٹ/آلات  پر تجارتی رکاوٹیں کم کرنے میں مددد دینا اور حکومتوں کو طبی آلات کے لیے عالمی معیار پر کاربند رہنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
  • یوایس ایڈ میں بحرانوں سے نکلنے کی استعداد اور غذائی تحفظ (آر ایف ایس) سے متعلق دفتر اکنامک سپورٹ فنڈز کے 8 ملین ڈالر سے دنیا بھر میں خوراک اور زراعت کے نظام کو وبا سے ہونے والے نقصان میں کمی لانے کی کثیرشراکتی کوشش میں مدد دے گا۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں وبا سے متعلق بعض پالیسی اقدامات پہلے ہی خوراک کے مقامی نظام پر منفی طور سے اثرانداز ہو رہے ہیں اور خوراک کے حوالے سے عدم تحفظ اور غذائی کمی بڑھتے ہوئے خدشات کا روپ دھار چکے ہیں۔ امریکہ دنیا بھر کے ممالک کو دوررس پالیسیوں پر عملدرآمد میں مدد دینے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے غذائی اور زرعی کاروباروں کو اپنا طریق کار تبدیل کرنے اور انتہائی شدید اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں تیزی سے یہ معلومات پھیلانے میں مدد دے گا کہ کوویڈ۔19 کے دوران خریدار محفوظ طریقے سے کیسے غذائی اور زرعی سرگرمیوں اور منڈیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یوایس ایڈ اس مقصد کے لے اعدادوشمار اور تجزیاتی معلومات سے کام لے گا۔ اس شراکت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے غذائی اور زرعی کاروباروں کے لیے مالی وسائل کی دستیابی ممکن بنانے کے لیے مالیاتی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے۔
  • ای ایس ایف میں 2 ملین ڈالر عالمگیر سطح پر خواتین کے امور (ایس/جی ڈبلیو آئی) سے متعلق وزیر خارجہ کے دفتر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد جی بی وی (صنفی بنیاد پر تشدد) سے متاثرہ خواتین کو ہنگامی مدد، بہتر تحفظ اور انصاف  تک رسائی دلانا  ہے۔ اس کا مقصد کوویڈ۔19 وبا کے تناظر میں جی بی وی کے معیشت، حکمرانی اور تحفظ سے متعلق صنفی اثرات سے متعلق وکالت اور آگاہی کی مہمات میں مدد دینا بھی ہے۔
  • امریکہ درجنوں عالمی اداروں بشمول یونیسف اور اقوام متحدہ میں امدادی امور کے رابطہ دفتر کو سب سے زیادہ مدد دینے والا اور سب سے زیادہ قابل اعتماد ملک ہے۔ امریکہ ان اداروں کی بنیادی کارروائیوں کے بجٹ میں نمایاں طور سے حصہ ڈالتا ہے۔ اس بجٹ کی بدولت ادارہ جاتی ڈھانچے کو قائم رکھنے اور ایسے کاموں میں مدد ملتی ہے جن کی بدولت عالمی سطح پر امدادی و ترقیاتی سرگرمیاں، قیام امن کی کارروائی اور دیگر اقدامات ممکن ہوتے ہیں۔

اس بحران کے خلاف اقدامات کے لیے امریکی حکومت کی مجموعی مالی امداد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے براہ مہربانی [email protected] پر رابطہ کیجیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں