rss

امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مکمل تعاون نہ کرنے والے مصدقہ ممالک

Español Español, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مکمل تعاون نہ کرنے والے مصدقہ ممالک
13 مئی 2020

 

گزشتہ روز دفتر خارجہ نے کانگریس کو مطلع کیا کہ اسلحے کی برآمد پر کنٹرول کے قانون کے سیکشن 40A (a) کے تحت ایران، شمالی کوریا، شام، وینزویلا اور کیوبا کی ایسے ممالک کے طور پر تصدیق کی گئی ہے جو 2019 میں انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکہ کی کوششوں میں ”مکمل طور سے تعاون نہ کرنے” کے مرتکب ہوئے ہیں۔ 2015 کے بعد یہ پہلا سال ہے جب کیوبا کے حوالے سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ وہ اس معاملے میں مکمل طور سے تعاون نہیں کر رہا۔ یہ تصدیق دفاعی شعبے سے متعلق اشیا اور خدمات کی فروخت یا ایسی چیزوں کی برآمدگی کا اجازت نامہ جاری کرنے کی ممانعت کرتی ہے اور امریکی عوام اور عالمی برادری کو اطلاع دیتی ہے کہ یہ ممالک انسداد دہشت گردی کے حوالے سے امریکہ کی کوششوں میں پوری طرح تعاون نہیں کر رہے۔

ایران: 2019 میں ایران حزب اللہ، فلسطینی دہشت گرد گروہوں، اور پورے مشرق وسطیٰ میں سرگرم دیگر دہشت گرد گروہوں کی مدد کرتے ہوئے بدستور دنیا میں ریاستی سطح پر دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست رہا۔ 2019 میں ایران نے کتائب حزب اللہ (کے ایچ)، حرکت النجابہ (ایچ اے این)، اور عصائب اہل الحق (اے اے ایچ) سمیت عراق سے تعلق رکھنے والے متعدد شیعہ دہشت گرد گروہوں کی مدد جاری رکھی۔ غیرملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں براہ راست ملوث ہے اور اس نے امریکی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔  دہشت گردی کی عالمگیر مہم کی رہنمائی اور انجام دہی میں ملوث ایرانی حکومت کے آلہ کار اداروں میں پاسداران انقلاب کا بہت بڑا کردار ہے جس نے بڑی حد تک یہ کام اپنی قدس فورس کے ذریعے کیا ہے۔

شمالی کوریا: 2019 میں وہ چار جاپانی افراد بدستور شمالی کوریا میں مقیم تھے جنہوں نے 1970 میں جاپان ایئر لائن کی فلائٹ کو ہائی جیک کرنے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ گزشتہ برس جاپانی حکومت نے اُن 12 جاپانی شہریوں کی قسمت بارے مکمل تفصیلات کی تلاش جاری رکھی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں شمالی کوریا کے ریاستی اداروں نے اغوا کر لیا تھا۔

شام: شام نے دہشت گرد گروہوں کے لیے اپنی سیاسی و عسکری حمایت جاری رکھی جس میں حزب اللہ کو ہتھیاروں اور سیاسی حمایت کی فراہمی بھی شامل ہے۔ 2019 میں اسد حکومت کے حزب اللہ اور ایران کے ساتھ تعلقات میں مزید مضبوطی آئی جب شامی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف جنگ اور علاقوں پر قبضے کے لیے بیرونی کرداروں پر زیادہ انحصار کرنے لگی۔ پاسداران انقلاب اور اس کی پشت پناہی میں سرگرم ملیشیا فورسز صدر بشارالاسد کی اجازت سے ملک میں بدستور موجود و متحرک ہیں۔

وینزویلا: 2019 میں مادورو اور وینزویلا میں اس کی سابقہ حکومت کے ارکان نے خطے کے دہشت گردوں کو اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے کھلی چھوٹ دیے رکھی۔ اگرچہ اس عرصہ میں مادورو وینزویلا کا تسلیم شدہ صدر نہیں تھا مگر ملک پر اس کے تسلط نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں امریکہ کے ساتھ تعاون کو موثر طور سے روکے رکھا۔ کولمبیا کی انقلابی مسلح فورسز (فارک) کے منحرفین (جو امن معاہدے کے باوجود دہشت گردی پر یقین رکھتے ہیں) اور نیشنل لبریشن آرمی (ای ایل این) بدستور ملک میں موجود تھے۔ امریکی محکمہ انصاف مادورو اور اس کی سابقہ حکومت کے چند مخصوص ارکان پر  گزشتہ 20 برس سے فارک کے ساتھ منشیات و دہشت گردی کی شراکت پر مجرمانہ عمل کی فردجرم عائد کر چکا ہے۔

کیوبا: 2017 میں کولمبیا کی حکومت کے ساتھ امن بات چیت کے لیے ہوانا جانے والے ”ای ایل این” کے ارکان 2019 میں بھی کیوبا میں موجود تھے۔ کیوبا نے امن بات چیت کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے ہوانا میں مقیم ”ای ایل این” کے دس رہنماؤں کو حوالے کرنے کی کولمبیا کی درخواست مسترد کر دی۔ اس گروہ نے جنوری 2019 میں بگوٹا کی پولیس اکیڈمی میں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جن میں 22 افراد ہلاک اور 60 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ امریکہ کی کولمبیا کے ساتھ سلامتی کے شعبے میں دیرپا شراکت داری ہے اور وہ ”ای ایل این” جیسی تنظیموں کا مقابلہ کرنے سے متعلق انسداد دہشت گردی کے اہم مقصد میں حصہ دار ہے۔ ایسے میں کیوبا کی جانب سے کولمبیا کی حکومت کے ساتھ مفید بات چیت سے انکار اس امر کا اظہار ہے کہ وہ کولمبیا کی منصفانہ اور پائیدار امن و سلامتی کا قیام اور اپنے لوگوں کے لیے مواقع ممکن بنانے کی کوششوں میں مدد کے لیے  امریکہ کے کام میں تعاون نہیں کر رہا۔

کیوبا امریکہ میں انصاف سے بھاگے ہوئے بہت سے ایسے ملزموں کی پناہ گاہ ہے جن پر سیاسی تشدد کے الزامات ہیں اور ان میں بہت سے لوگ کئی دہائیوں سے کیوبا میں مقیم ہیں۔ مثال کے طور پر کیوبا کی حکومت نے جوآن چیسیمارڈ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا ہے جو 1973 میں نیوجرسی کے ریاستی پولیس اہلکار ورنر فورسٹر کے قتل کا مجرم ہے۔ کیوبا کی حکومت ایسے افراد کو رہائش، خوراک کی راشن بُک اور طبی نگہداشت مہیا کرتی ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں