rss

پینچن لامہ کی گمشدگی کے 25 سال

English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
18 مئی 2020

 

دفتر خارجہ نے مذہبی آزادی کے فروغ اور تحفظ کو اپنی ترجیح بنایا ہے، خصوصاً چین کے حوالے سے یہ بات اور بھی اہم ہے جہاں ہر مذہب کے لوگوں کو شدید جبر اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اسی مقصد کے لیے 17 مئی کو ہم نے 11ویں پینچن لاما گیڈن چوئیکی نائیما کی گمشدگی کے 25 سال مکمل ہونے پر انہیں یاد کیا جو 1995 میں چھ سال کی عمر میں چین کی حکومت کے ہاتھوں اغوا کے بعد منظرعام پر نہیں آئے۔

پینچن لامہ کو تبتی بدھ مت میں انتہائی اہم شخصیت کا درجہ حاصل ہے جو روحانی طاقت کے اعتبار سے دلائی لامہ کا نائب ہوتا ہے۔ تاہم چین کی جانب سے پینچن لامہ پر مظالم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ کو چین کی جانب سے تبتی عوام کی مذہبی، لسانی اور ثقافتی شناخت ختم کرنے کے لیے جاری مہم بشمول عبادت گاہوں اور تحصیل علم کی جگہوں کو تباہ کرنے پر گہری تشویش ہے۔ لارنگ گور اور یاشن گور نامی بدھ اداروں کی تباہی اس کی نمایاں مثال ہے۔

تمام مذہبی برادریوں کے ارکان کی طرح بدھ مت کے تبتی پیروکاروں کو بھی اپنی روایات کے مطابق اور حکومتی مداخلت کے بغیر اپنے مذہبی رہنماؤں کو منتخب کرنے، انہیں تعلیم دینے اور ان کے احترام کی آزادی ملنی چاہیے۔ ہم چین کی حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ فوری طور پر لوگوں کو بتائے کہ پینچن لامہ کہاں ہیں اور تمام لوگوں کے لیے مذہبی آزادی کو فروغ دینے کے لیے اپنی آئینی اور عالمی ذمہ داریاں نبھائے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں