rss

چین میں ایرانی ایئرلائن ماہان ایئر کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کی امریکی پابندیوں کے لیے نامزدگی

العربية العربية, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
امریکی پابندیوں کے لیے نامزدگی
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
19 مئی 2020

 

عوامی جمہوریہ چین تیزی سے کم ہوتے ایسے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ماہان ایئر کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دے رکھی ہے جو ایران کے لیے دنیا بھر میں ہتھیار اور دہشت گرد ایک سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام کرتی ہے۔ ایسے تعاون کے نتائج بھگتنا ہوتے ہیں۔

آج امریکہ نے چین سے تعلق رکھنے والی کمپنی شنگھائی لاجسٹکس لمیٹڈ کو پابندی کے لیے نامزد کیا ہے جو ایران کی خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد ایئرلائن کے لیے جنرل سیلز ایجنٹ کی خدمات مہیا کرتی ہے۔ امریکہ نے ماہان ایئر کو ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس (آئی آر جی سی۔کیو ایف) کو مادی مدد فراہم کرنے پر انسداد دہشت گردی کے اختیار کے تحت 2011 میں پابندیوں کے لیے نامزد کیا تھا اور پھراس کی جانب سے  ایران کو اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوع قرار دیے گئے میزائل اور جوہری اشیا پہنچانے پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق اختیار کے تحت 2019 میں دوبارہ یہ نامزدگی عمل میں آئی تھی۔

حال ہی میں ایران کی حکومت نے وینزویلا میں غیرقانونی سابق مادورو حکومت کی مدد کرنے اور توانائی کی پیداوار میں اضافے کے لیے اس کی مایوسانہ کوششوں میں معاونت کی غرض سے وہاں سامان بھجوانے کے لیے ماہان ایئر سے کام لیا۔ وینزویلا میں مادورو حکومت کی جانب سے کھلی بدانتظامی کے باعث توانائی کی پیداوار گر چکی ہے۔ یہ بات بھی اتنی ہی پریشان کن ہے کہ ماہان ایئر بظاہر وینزویلا سے سونا ایران لا رہی ہے اور یوں وینزویلا کے لوگوں کو اپنی معیشت کی تعمیرنو کے لیے درکار وسائل سے محروم کر رہی ہے۔ ہمیشہ کی طرح آمرانہ حکومتیں اپنے لوگوں کی ضروریات سے زیادہ اپنی بقا میں دلچسپی رکھتی ہیں ۔

امریکہ کو خوشی ہے کہ گزشتہ دو سال میں یورپ، مشرقی وسطیٰ اور ایشیا میں حکومتوں اور کمپنیوں نے دانشمندانہ طور سے ماہان ایئر کے ساتھ اپنے تعلقات توڑ لیے ہیں۔ یہ نامزدگی اس بات کی ایک اور یقین دہانی ہے کہ چین یا کسی بھی جگہ سے تعلق رکھنے والی ایسی کمپنیوں کو امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا خطرہ ہے جو تاحال ماہان ایئر کو خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ 


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں