rss

قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری، بیورو برائے جنوبی و وسطی ایشیا ئی امور سفیر ایلس جی ویلز کی صحافیوں سے گفتگو

English English, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجراء
20 مئی 2020

 

نگران: ہیلو، میں صحافیوں کو آج بیورو برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور میں قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری، سفیر ایلس ویلز کے ساتھ ورچوئل پریس بریفنگ میں خوش آمدید کہنا چاہوں گا۔ سفیر ویلز، آج ہمارے ساتھ موجودگی پر آپ کا شکریہ۔ اب میں ابتدائی کلمات کے لیے آپ کو گفتگو کی دعوت دوں گا۔

سفیر ویلز: اس کال میں شمولیت پر آپ کا اور سبھی لوگوں کا شکریہ۔ سوالات لینے سے پہلے میں 10 منٹ میں گزشتہ تین سال کے دوران حاصل ہونے والی چند بڑی کامیابیوں کا جائزہ پیش کرنا چاہوں گی۔ یہ وہ عرصہ ہے جب میں بیورو برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کی سربراہ رہی ہوں۔ میں اپنی بات کا آغاز افغانستان سے کروں گی۔

صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی واضح کر دیا تھاکہ  ہمیں افغانستان میں امریکی موجودگی کے لیے ادا کی جانے والی قیمتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہمیں ناصرف اپنے ٹیکس دہندگان کی ادا کردہ  رقم کو دیکھنا تھا بلکہ اپنی افواج کے ارکان کو لاحق خطرات کو بھی مدنظر رکھنا تھا۔ افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے انہوں نے جو اولین  اقدامات اٹھائے ان میں  اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا بھی شامل تھا جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکہ کی حکمت عملی سامنے آئی جس کا اعلان انہوں نے 2017 کے موسم گرما میں کیا تھا۔ اس اعلان سے تین سال بعد اس حکمت عملی کے بنیادی اصول بدستور ہماری رہنمائی کر رہے ہیں یعنی اس جنگ کا خاتمہ  لڑائی کے میدان میں نہیں بلکہ سیاسی تصفیے کی صورت میں ہونا ہے، ہماری پالیسی زمینی حالات کے مطابق ہو گی، پاکستان کو جنگجو گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنا ہو گا اور انڈیا افغانستان کی ترقی میں ایک اہم شراکت دار ہے۔

سفیر خلیل زاد کی قیادت میں طالبان کے ساتھ ایک سال تک براہ راست بات چیت کے بعد ہم نے اس سال فروری میں امریکہ۔طالبان معاہدے پر  دستخط کیے جس میں طالبان نے وعدہ کیا کہ افغانستان دوبارہ کبھی عالمی دہشت گردی کا مرکز نہیں بنے گا۔ اب امریکہ اپنے فوجی دستوں کو وطن واپس لاتے ہوئے اپنے وعدوں پر کاربند ہے اور طالبان کے اقدامات پر بغور نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران جب ضرورت ہو امریکہ افغان سکیورٹی فورسز کے دفاع میں اقدامات بھی اٹھا رہا ہے۔

سیاسی مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں پیش رفت مشکل رہی ہے۔ آپ سن چکے ہیں کہ سفیر خلیل زاد نے اس معاملے کو براہ راست دیکھا ہے۔ تشدد کی موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے اور یہ طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تشدد میں نمایاں طور سے کمی لائیں۔ صدر غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کی جانب سے جامع حکومت کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہم ان کے باہمی معاہدے پر فوری عملدرآمد اور بین الافغان بات چیت کے لیے جلد از جلد  اقدامات اٹھائے جانے کے منتظر ہیں۔ افغان حکومت اور طالبان کو کوویڈ۔19 وبا اور داعش۔خراسان جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف متحد ہونا چاہیے جن کے بے رحمانہ اور فاسقانہ حملوں کا ہم نے گزشتہ ہفتے المناک طور سے مشاہدہ کیا ہے۔

جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکہ کی حکمت عملی پاکستان کے حوالے سے امریکہ کی سوچ میں بنیادی تبدیلی لائی ہے۔ اس میں پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں اور جنگجو گروہوں کی موجودگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس حکمت عملی میں واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کو ان گروہوں کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان میں خاص طور پر ایسے عناصر شامل ہیں جو افغانستان میں جنگ چاہتے ہیں اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ جولائی 2018 میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی دفاعی امداد معطل کرنا ہمارے اسی عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہم نے پاکستان کی جانب سے تعمیری اقدامات دیکھے جس نے افغان امن عمل آگے بڑھانے کے لیے طالبان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ پاکستان نے دوسرے دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کرنے کے لیے بھی ابتدائی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان گروہوں سے خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ ایسے اقدامات میں لشکر طیبہ کے رہنما حافظ سعید کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی نیز  دہشت گردی کی مالی معاونت کے ڈھانچوں کو منہدم کرنا شامل ہے۔ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے اقدامات میں اضافے کے ساتھ ہم امریکہ۔پاکستان تعلقات خصوصاً تجارت کے شعبے میں بھی ترقی ہوتی دیکھ رہے ہیں۔

اب میں انڈیا کی بات کرنا چاہوں گی۔ انڈیا ناصرف ہماری جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی حکمت عملی بلکہ خطہ ہندوالکاہل کے بارے میں ہمارے وژن کا بھی اہم ترین کردار ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ وژن نومبر 2017 میں پیش کیا تھا۔ اب ہم نے انڈیا کے ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے ابھرنے  کا خیرمقدم کیا ہے جو خطے میں سلامتی قائم رکھنے والا ایک اہم ملک ہے اور ہم امریکہ۔انڈیا تزویراتی شراکت کو مزید مضبوط  کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم اپنے مشترکہ عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ تعاون کر رہے ہیں۔ آپ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ، چار ملکی طریق کار کی بحالی، مشترکہ مشقوں کے ذریعے عسکری تعاون میں اضافے، دفاعی تجارت میں بڑھوتری، انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے مشترکہ ورکنگ گروپ اور ہوم لینڈ سکیورٹی ڈائیلاگ کے ذریعے علاقائی سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے اور خلا میں باہمی تعاون کو وسعت دینے جیسے اقدامات کی صورت میں اس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ 2017 میں اور گزشتہ برس وزیراعظم مودی کا دورہ امریکہ اور اس برس فروری امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ انڈیا ہمارے رہنماؤں اور ممالک کے مابین قربت کا حقیقی اظہار تھا۔

گزشتہ تین سال کے دوران امریکہ۔بنگلہ دیش تعلقات میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے کو ملی۔ بنگلہ دیش روہنگیا مہاجرین کے بحران میں اپنی حکومت اور عوام کی جانب سے فیاضانہ اقدامات اور عالمی امدادی شراکت داروں کے ساتھ تعاون پر بجا طور سے تعریف کا حقدار ہے۔ امریکہ روہنگیا بحران میں سب سے زیادہ امداد مہیا کرنے والا ملک ہے مگر بنگلہ دیش نے مہاجرین کا میزبان ملک ہونے کے ناطے اس سے بھی کہیں بڑھ کر کام کیا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس نے گزشتہ دہائی میں متاثر کن معاشی ترقی کی ہے جس کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی کے میدان میں بھی اس نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بنگلہ دیش کا بحرہند کے خطے میں اہم کردار ہے اور سلامتی کے شعبے میں ہمارا باہمی تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ہم بنگلہ دیش پر زور دیتے ہیں کہ وہ جمہوری اداروں اور حکومتی ڈھانچے کے حوالے سے اپنے وعدوں کا ازسرنو جائزہ لے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے مشترکہ اقدار پر مبنی ہمارے دوطرفہ تعلقات مزید ترقی پائیں گے۔

سری لنکا خطہ ہندوالکاہل میں بدستور ہمارا ایک قابل قدر شراکت دار ہے۔ 2019 میں ایسٹر سنڈے کے موقع پر دہشت گردی کے ہولناک حملوں کے بعد یہ شراکت واضح ہو کر سامنے آئی جب امریکہ نے ان واقعات کے ذمہ داروں کی تلاش، ملک میں طویل مدتی تعمیر نو اور انسداد دہشت گردی کے لیے پائیدار کوشش کے لیے سری لنکا کو اپنی مکمل حمایت کی پیشکش کی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سری لنکا کی حکومت کی جانب سے انصاف، احتساب، مفاہمت اور انسانی حقوق کو فروغ دینے سے اس کے طویل مدتی استحکام اور خوشحالی میں اضافہ ہو گا۔

قدرے مزید جنوب مغرب کا رخ کرتے ہوئے میں سبھی کو 2018 میں مالدیپ میں ہونے والے غیرمعمولی انتخابات یاد دلانا چاہوں گی جب ووٹ ڈالنے کی اہل 90 فیصد آبادی نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ اصلاحات پسند صدر صالح کے انتخاب کے بعد ہم نے مالدیپ کے لیے اپنے تعاون اور امداد میں ڈرامائی اضافہ کیا کیونکہ اب مالدیپ نے اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن بنایا، اپنے جمہوری اداروں کو بحال  کیا اور دہشت گردوں کے خلاف اپنی کوششوں کو دگنا کر دیا ہے۔

ہم نے ہمالیہ خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات بھی مضبوط کیے ہیں۔ ہم نیپال کی مکمل آئینی وفاقی جمہوریہ میں تبدیلی کی حمایت میں اقدامات کر رہے ہیں۔ 2019 کے موسم گرما میں سابق نائب وزیر خارجہ سلوین نے سلطنت بھوٹان کا تاریخی دورہ کیا۔ یہ دو دہائیوں کے عرصہ میں بھوٹان میں امریکی انتظامیہ کے کسی اعلیٰ عہدیدار کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔

میں نے جس تیسری رہنما حکمت عملی کی تیاری اور اس پر عملدرآمد میں مدد دی، وہ وسطی ایشیا کے لیے امریکی انتظامیہ کی نئی حکمت عملی ہے۔ وسطی ایشیا کے بارے میں ہماری حکمت عملی وسطی ایشیائی ریاستوں کی خودمختاری، زمینی سالمیت اور آزادی کے لیے امریکہ کے مضبوط عزم کی توثیق کرتی ہے۔ یہ حکمت عملی وسطی ایشیا میں بڑے پیمانے پر باہمی ربط اور تعاون نیز اس خطے کے افغانستان کے ساتھ تاریخی تعلقات کی بحالی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہم وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ناصرف دوطرفہ طور پر کام کر رہے ہیں بلکہ C5+1 کی صورت میں بھی مصروف عمل  ہیں۔ وزیر خارجہ کا فروری میں قازقستان اور ازبکستان کا دورہ اور C5+1 کے دو اجلاسوں میں شرکت نیز انڈر سیکرٹری ہیل کی میزبانی میں ان کے ازبک اور افغان ہم منصبوں کے ساتھ آئندہ اجلاس سے شراکت داری، امن اور مشترکہ خوشحالی کے بارے میں ہمارے پائیدار عزم کا اظہار ہوتا ہے۔

آپ کے سوالات لینے سے پہلے میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہوں گی کہ کوویڈ۔19 وبا سے چھٹکارا پاتے ہوئے امریکہ خطے کے ممالک کی معاشی بحالی میں مدد کے حوالے سے قابل اعتماد شراکت دار ثابت ہو گا۔ ہم نے خطے کو کوویڈ سے متعلقہ معاونت کے سلسلے میں 96 ملین ڈالر سے زیادہ امداد فراہم کی ہے، مگر اس سے پہلے گزشتہ دو دہائیوں میں ہم اس خطے میں صحت عامہ کے شعبے میں بہتری کے لیے 6 بلین ڈالر امداد دے چکے ہیں۔ ہم خطے اور دنیا بھر سے اٹھنے والی ان آوازوں کے حامی ہیں جو چین سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت نقصان دہ  قرضوں میں شفاف رعایت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ چین سے یہ قرضے لینے والے ممالک اب ان کے منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارے نجی شعبے  نیز عالمی مالیاتی  اداروں جیسا کہ عالمی بینک، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی کے ساتھ ہماری شراکت داری سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ دنیا کے ممالک مستحکم بنیادوں پر اس بحران سے نکلیں اور ہم دوسرے ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھی اس عالمگیر کوشش میں ہمارا ساتھ دیں۔

اب میں آپ کے سوالات لینا چاہوں گی۔ آج کی اس بریفنگ میں شمولیت پر آ پ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔

نگران: سفیر ویلز، آپ کا شکریہ۔ ہمارا پہلا سوال افغانستان میں” پژواک افغان نیوز ”کے کاروخیل دانش کی جانب سے پیشگی جمع کرایا گیا تھا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ”پاکستان اور افغانستان کے ساتھ طویل اور کڑی محنت کے بعد آپ کس نتیجے پر پہنچے ہیں؟ کیا پاکستان افغان امن عمل میں مدد دے گا؟”

سفیر ویلز: امن عمل کو آگے بڑھانا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ میں سمجھتی ہوں جیسا کہ پاکستانی رہنما کہتے ہیں، افغانستان کے بعد علاقائی استحکام اور امن سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو پہنچے گا۔ چنانچہ ہم نے گزشتہ برس سفیر خلیل زاد اور پاکستان کی سول و فوجی قیادت میں ٹھوس تعاون کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستان نے طالبان پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں حصہ لیں۔ یقیناً امریکہ۔پاکستان مضبوط شراکت داری کی بنیاد میں بہتری فروغ امن کے لیے ہماری مل جل کر تعمیری طور سے کام کرنے کی صلاحیت پر استوار ہے۔

نگران: شکریہ۔ ہمارا اگلا سوال براہ راست ہے۔ یہ نوید اکبر ہیں۔ نوید، براہ مہربانی کیا آپ سوال کرنے سے پہلے اپنے ادارے کا نام بتا سکتے ہیں۔

سوال: جی، میں سفیر ایلس ویلز سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ پاکستان۔چین اقتصادی راہداری کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟ امریکہ اس اقتصادی راہداری کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ اس حوالے سے اب امریکہ کا موقف کیا ہے اور یہ راہداری خطے اور بڑی حد تک پاکستان کے لیے کس قدر مفید ثابت ہو سکتی ہے؟

سفیر ویلز: جہاں تک سی پیک اور کسی بھی دوسرے ترقیاتی منصوبوں کی بات ہے تو امریکہ ایسی سرمایہ کاری کا حامی  ہے جو عالمگیر معیارات کے مطابق ہو، جس میں ماحولیات اور محنت کے حوالے سے معیارات کا کو مدنظر رکھا گیا ہو، جو پائیدار ہو اور جس سے خطے کے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ میں سی پیک پر اپنے اور امریکہ کی حکومت کے خدشات گِنوا چکی ہوں۔ ان کا تعلق منصوبوں میں شفافیت کے فقدان، چین کے نیم ریاستی اداروں کو غیرمنصفانہ شرح سے دیے جانے والے بھاری منافعے کی ضمانت، پاکستان کی معیشت میں توڑپھوڑ اور چین کے ساتھ پاکستان کی موجودہ تجارت میں بڑے پیمانے پر عدم توازن سے ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ ایسے وقت میں جب کوویڈ جیسے بحران کے سبب دنیا معیشت کے بڑے حصوں کی بندش کے منفی نتائج کا سامنا کر رہی ہے، یہ واقعتاً چین پر واجب ہے کہ وہ پاکستان پر اس نقصان دہ ، ناپائیدار اور غیرمنصفانہ قرضے کا بوجھ کم کرے۔

اسی لیے ہم امید کرتے ہیں کہ چین یا تو قرضے میں چھوٹ دے گا یا پاکستانی عوام کے لیے ایک منصفانہ اور شفاف معاہدے کےلیے ان قرضوں کی شرائط پر ازسر نو مذاکرات کرے گا۔

نگران: سوال کے لیے شکریہ؛ ہمارا اگلا سوال انڈیا میں ”اکنامک ٹائمز” کی نمائندہ سیما سروہی کی جانب سے آیا ہے۔ وہ پوچھتی ہیں کہ ”سفیر ویلز، آپ انڈیا اور چین کی سرحد پر تناؤ کی حالیہ کیفیت کو کیسے دیکھتی ہیں؟”

سفیر ویلز: میرے خیال میں سرحد پر ہونے والی جھڑپیں یہ یاد دہانی کراتی ہیں کہ چین کی جارحیت ہمیشہ زبانی کلامی نہیں ہوتی۔ خواہ یہ جنوبی چینی سمندر ہو یا انڈیا کے ساتھ سرحد، ہم چین کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی اور پریشان کن طرزعمل کا مشاہدہ کرتے ہیں جس سے یہ سوال جنم لیتے ہیں کہ چین اپنی بڑھتی ہوئی طاقت سے کیسے کام لینا چاہتا ہے۔

اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہم خیال ممالک خواہ یہ آسیان ہو یا دیگر سفارتی گروہ بندی، امریکہ، جاپان اور انڈیا کا سہ فریقی گروہ ہو یا ان کا آسٹریلیا کے ساتھ چار رکنی اکٹھ ہو، عالمی سطح پر ہمیں یہ سننے کو مل رہا ہے کہ ہم دوسری جنگ عظیم کے بعد وضع کیے جانے والے معاشی اصولوں کا دوبارہ اطلاق کیسے کر سکتے ہیں جن کی بدولت آزاد اور کھلی تجارت میں مدد ملی اور جس سے  چین سمیت سبھی ممالک کو فائدہ پہنچا۔

ہم ایک ایسے عالمگیر نظام کے خواہاں ہیں جس سے سبھی ممالک کو فائدہ پہنچے۔ ہم ایسا نظام نہیں چاہتے جس میں چین کی بالادستی ہو۔ اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ ایسے سرحدی جھگڑے چین کی جانب سے لاحق خطرے کی یاددہانی کراتے ہیں۔

نگران: جواب کے لیے شکریہ۔ ہم اگلا سوال وسطی ایشیا سے لیں گے۔ ازبکستان میں ”کورسپونڈنٹ” کے اختیار رخمان نے یہ سوال پوچھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ازبکستان میں اصلاحات کے عمل کی کامیابی اور اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کے بارے میں کیا کہتی ہیں۔ آپ اس عہدے پر رہتے ہوئے گزشتہ تین سال کے عرصہ میں ازبکستان میں اصلاحاتع عمل کے بارے میں کیا نتیجہ اخذ کرتی ہیں؟

سفیر ویلز: اجازت ہو تو میں ماضی میں چند سال پیچھے جا کر بات کرنا چاہوں گی۔ میں نے تاجکستان میں پہلا امریکی سفارت خانہ کھولا تھا اور میں نے اپنے پورے کیرئر میں وسطی ایشیا کے ممالک کو ترقی کرتے دیکھا اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ ان تمام ممالک کا اپنی خودمختاری، زمینی سالمیت اور آزادی برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہونا ایک غیرمعمولی بات ہے۔ آج سے 27 یا 28 سال پہلے ان ممالک کے آغاز کو دیکھا جائے تو یہ ایسی کامیابی نہیں جسے نظرانداز کیا جا سکے۔

چنانچہ امریکہ کی جانب سے ایسے پروگراموں پر کام کرنا میرے لیے واقعتاً اعزاز تھا جن کی بدولت ان ممالک کی آزادی برقرار رکھنے میں مدد ملی، خواہ یہ معاشی ترقی کے پروگرام ہوں، عالمی تجارتی تنظیم میں داخلے کے لیے ان ممالک کی مدد کرنا ہو، انہیں تکنیکی امداد فراہم کرنا ہو یا حکومت، غیرسرکاری تنظیموں، میڈیا، عدلیہ یا ایسے اداروں کو مدد دینا ہو جو کسی بھی ملک کی جمہوری ترقی کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

تاہم میں واضح طور پر سمجھتی ہوں کہ گزشتہ تین سال کے عرصہ میں ازبکستان میں صدر مرزیویو کا اقتدار میں آنا اس خطے میں انقلابی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ ان کی جانب سے شروع کردہ اصلاحاتی پروگرام حیرت انگیز ہے اور اس نے باہمی تعاون اور ترقی کے نئے در وا کیے ہیں۔ اس نے خطے کو افغانستان، پاکستان اور پُرامید طور سے انڈیا کے ساتھ بڑے پیمانے پر ربط کے لیے کھولا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس اقدام سے مواقع سامنے آئے ہیں۔ اس سے 30 ملین سے زیادہ آبادی والے اس ملک کی حقیقی صلاحیتیں سامنے آئی ہیں جو روایتی طور پر وسطی ایشیا میں مرکزی اہمیت کا حامل ملک رہا ہے۔

چنانچہ ہم اصلاحات کے امکانات بارے بے حد پرجوش ہیں۔ جیسا کہ میں نے اس سے پہلے کہا تھا، اصلاحات کا عمل مشکل ہوتا ہے۔ اصلاحات کرنے والوں کو ہمیشہ مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں آپ دو قدم آگے بڑھاتے ہیں تو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ امریکہ ازبکستان میں مزید جمہوری اور کُھلے معاشرے کے قیام کے لیے اس طویل مدتی، باضابطہ طریق کار کی حمایت میں پُرعزم ہے۔

نگران: شکریہ۔ اب ہم پاکستان سے ایک براہ راست سوال لیں گے۔ پاکستان کے ”ایکسپریس نیوز ٹی وی” سے خالد محمود ہمارے ساتھ ہیں۔ جی بات کیجیے۔ یہ خالد محمود ہیں۔ آپ کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ براہ مہربانی اپنا سوال کیجیے۔ ٹھیک ہے، ہم دوبارہ وسطی ایشیا کی جانب آتے ہیں۔ ممکن ہے کچھ دیر کے بعد خالد سے ہمارا رابطہ ہو جائے۔

خبررساں ادارے زیکون۔کے زیڈ سے اوکسانا ساکیبان ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ وہ جنوبی و وسطی ایشیا میں خواتین کے حقوق کی بابت پوچھ رہی ہیں۔ ان کا سوال یہ ہے کہ ”آپ ان خطوں میں صنفی پالیسیوں کو کس طرح دیکھتی ہیں اور آپ کی رائے میں ایشیا کے کون سے ممالک نے خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ پیش رفت کی ہے؟”

سفیر ویلز: خواتین کی ترقی اور رسمی معاشیات میں ان کی شرکت کی اہلیت کسی بھی معاشرے کی ترقی میں حقیقی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم نے امریکہ میں یہی کچھ دیکھا ہے جہاں خواتین اب افراد ی قوت کا نمایاں حصہ ہیں اور میرے ملک کے جی ڈی پی اور کاروباری اہلیت میں اہم  کردار ادا کر رہی ہیں۔ چونکہ ہم خواتین کے کردار کے بارے میں بے حد پُرعزم ہیں اور چونکہ ہم اس بات پر بھرپور یقین رکھتے ہیں کہ خواہ جنگ ہو یا امن، خواتین کی آواز لازمی اہمیت رکھتی ہے، اسی لیے ہم نے خواتین کی تین کونسلیں  بنائی ہیں۔ ان میں امریکہ۔افغان، امریکہ۔پاکستان، اور امریکہ۔انڈیا خواتین کونسل شامل ہیں جہاں ہم مزید مواقع تخلیق کرنے کے لیے نجی شعبے سے کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں خواہ اس کا مقصد خواتین کی رہنمائی ہو، انہیں تربیت فراہم کرنا ہو، انہیں نوکری کے مزید مواقع دینا ہو یا خواتین کی ملازمتوں کی راہ میں حائل قانونی اور بعض ثقافتی رکاوٹوں کا خاتمہ یقینی بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ کام کرنا ہو۔

ایسی بعض سماجی و ثقافتی رکاوٹوں یا خواتین کے کام کرنے پر پابندیوں کا خاتمہ کرنا مشکل کام ہے۔ ثقافتی اقدار کی اہمیت ہوتی ہے اور اس کا اظہار پورے سماج میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے انڈیا جیسے ملک میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کئی برسوں میں رسمی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ چنانچہ خطے میں ہر ملک کو اس مسئلے کا سامنا ہے حتیٰ کہ انتہائی متحرک اور کھلی معیشتیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اس موضوع پر ممالک کا باہمی تقابل کرنا بہت مشکل ہے اس لیے میں یہ نہیں کرنا چاہتی کیونکہ خطے میں ہر ملک الگ پس منظر کا حامل ہے۔

مگر ہم نے جس پالیسی کو بھی فروغ دیا ہے اسے ہم صنفی پیمانے سے بھی دیکھتے ہیں۔ افغان امن عمل اس کی مثال ہے جہاں یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ خواتین کی آواز سنی جانی چاہیے۔ جن خواتین نے افغانستان میں 19 سال بعد بالاآخر سکولوں اور افرادی قوت تک رسائی پائی ہے، ان کا کردار، ان کی آواز اور ان کے حقوق ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔ اسی لیے آپ نے امریکہ کو مذاکراتی ٹیم میں خواتین کی شمولیت کی حمایت کرتے دیکھا ہو گا۔ آپ نے ہمیں خواتین مذاکرات کاروں کی تربیت کرتے، انہیں تکنیکی مدد فراہم کرتے دیکھا ہے۔ یہ افغانستان میں صرف خواتین کی ترقی کے لیے ہماری جانب سے دی گئی 2 بلین ڈالر امداد میں نیا اضافہ ہے۔

نگران: جواب کے لیے شکریہ۔ اگلے سوال کے لیے ہم انڈیا میں ”سی این بی سی۔ٹی وی 18” کے نمائندے پریکشت لوتھرا سے بات کریں گے۔ پریکشت، براہ مہربانی سوال کیجیے۔

سوال: بریفنگ کے اہتمام پر سفیر ویلز کا شکریہ۔ میرا سوال انڈیا۔امریکہ تجارتی تعلقات کے بارے میں ہے۔ حال میں انڈیا کی حکومت نے اپنی صنعت کی مدد کے لیے ایک معاشی پیکیج دیا ہے۔ آپ اسے کیسے دیکھتی ہیں؟ کیا آپ کو توقع ہے کہ انڈیا۔امریکہ تجارتی معاہدہ اس سال طے پا جائے گا خواہ یہ محدود نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو؟ کیا آپ اس بارے میں پُرامید ہیں؟

سفیر ویلز: امریکہ۔انڈیا شراکت میں تجارت کی بے حد اہمیت ہے۔ انڈیا کے ساتھ ہماری دوطرفہ تجارت کا حجم گزشتہ برس 150 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا جو ایک ریکارڈ ہے۔ ہم باہمی تجارتی تعلقات بشمول توانائی کے شعبے میں نمایاں ترقی دیکھی ہے۔ گزشتہ برس اس ترقی کی شرح 24 فیصد تک تھی۔ یقیناً صدر ٹرمپ نے تجارتی تعلقات پر خاص توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور ہمارا خدشہ یہ ہے کہ انڈیا بدستور ایک تحفظ یافتہ منڈی ہے جو مشکل ہو سکتی ہے اور اس کے ہوتے بعض اوقات غیرملکی کمپنیوں کو کاروبار کے لیے یکساں مواقع میسر نہیں آتے۔ اسی لیے امریکی تجارتی نمائندہ ‘یو ایس ٹی آر’ اور انڈیا ایک تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میں یہ پیش گوئی نہیں کر سکتی کہ آیا اس برس کوئی معاہدہ طے پا جائے گا یا نہیں، مگر تجارتی معاہدے کے لیے اسی رفتار سے کام ہو رہا ہے جس کی ضرورت ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ بعد از وبا تشکیل پانے والے ماحول میں جب دنیا کے ممالک میں قدرے غیرعالمگیری سوچ جنم لے رہی ہے تو ایسے میں اشیا کے ترسیلی سلسلوں کو متنوع بنانے کے لیے بھرپور کوشش ہو رہی ہے۔ یہ انڈیا کے لیے حقیقی موقع ہے کہ وہ مزید کھلی پالیسیاں تشکیل دے اور اس کے لیے مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کرے تاکہ انڈیا کی صنعتیں عالمگیر ترسیلی سلسلوں کا حصہ بن سکیں۔ اشیا کے ترسیلی سلسلوں کے معاملے یہ ایک دوسرے کے ساتھ قابل اعتماد تعلقات قائم کرنے کی غرض سے ہمیں نادر موقع ہاتھ آیا ہے۔ انڈیا ادویہ سازی، جینیرک ادویات اور ویکسین کی تیاری کے حوالے سے دنیا میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے جو وبا سے چھٹکارا پانے کے لیے دنیا کے علاج معالجے اور صحت میں اہم ترین کردار ادا کرے گا۔ اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ یہ واقعتاً ہمارے لیے اس بات پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ہو گا کہ ہر طرح کے کاروبار، ہر طرح کے تجارتی اور عوامی تعلقات کو دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے کیسے کام میں لایا جائے؟

نگران: جواب کے لیے شکریہ۔ ہمارے پاس دنیا بھر میں کرونا وائرس کے حوالے سے امریکی امداد کی بابت چند سوالات ہیں۔ میں ایسے چند سوالات کو ایک ہی سوال کی صورت میں دہراؤں گا۔ ازبکستان میں ”24 ریڈیو چینل” کے نمائندے عبدالوالی سیبنازارو پوچھتے ہیں کہ اس وبا کے بعد امریکہ کی حکومت ازبک میڈیا کی کتنی مدد کر رہی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں ”سنگ باد سنگستھا” کے نمائندے تنظیم انور نے سوال کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں کرونا وائرس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی حکومت بنگلہ دیش کی مدد کیسے کرے گی تاکہ امریکہ کے لیے اس کا برآمدی ترسیلی سلسلہ قائم رہے اور ترقی پائے۔

سفیر ویلز: مجھے اپنی بات مزید وسیع طور سے کوویڈ کے خلاف امریکی امداد سے شروع کرنے کی اجازت دیجیے کیونکہ میں سمجھتی ہوں یہ یہ امریکہ کے عوام کی فیاضی کی دلیل ہونے کے ساتھ عالمگیر صحت عامہ کے حوالے امریکی حکومت کے عزم کا اظہار بھی ہے۔ امریکی حکومت اور عوام نے مل کر امداد اور عطیات کی صورت میں 6.5 بلین ڈالر دیےے ہیں اور یہ وبا کے خلاف مجموعی عالمی کوششوں کا 60 فیصد بنتا ہے۔ اس سے خطے کے لیے امریکہ کے تاریخی عہد کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا 6.5 ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں، معاف کیجیے، گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ نے عالمگیر صحت عامہ کے لیے 140 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اسی لیے جنوبی و وسطی ایشیا میں کوویڈ۔19 وبا پھوٹنے کے بعد آپ نے دیکھا ہے کہ امریکہ نے صرف انہی خطوں میں ہی 98 ملین ڈالر امداد دی ہے خواہ یہ تکنیکی صورت میں ہو، پی پی ای یا اس بحران سے نمٹنے میں حکومتوں کو درکار کسی اور طرح کی امداد ہو۔ جونہی امریکہ اس وبا سے چھٹکارا پائے گا، ہم اپنے شراکت داروں کی مزید معاونت کے لیے مزید بہتر طور سے تیار ہوں گے۔

تاہم میں سمجھتی ہوں کہ یہ حقیقت ہمارے لیے بے حد باعث فخر ہے کہ صرف امریکی حکومت ہی نہیں بلکہ امریکہ کے عوام بھی بڑھ چڑھ کر امداد دے رہے ہیں، خواہ یہ مذہبی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیمیں ہوں، نجی شعبے کے کاروبار ہوں، بوئنگ، پیپسی یا کوکاکولا ہو، اس بحرانی کیفیت میں ایک اچھی کاروباری ذمہ داری کا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میں یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ  امریکہ اس بحران کے تمام اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا کے ساتھ کھڑا ہو گا، خواہ یہ طبی اثرات ہوں یا معاشی، امریکہ ان پر قابو پانے  کے لیے دوطرفہ طور سے، جی 20 اور جی 7 کے ذریعے، او ای سی ڈی کے ذریعے اور قرضہ دینے والے کثیرملکی اداروں کے ذریعے یہ کام کرے گا۔

بنگلہ دیش ایک متحرک کاروباری معاشرہ ہے جہاں سماجی اشاریے کامیابی، وزیراعظم شیخ حسینہ کی قیادت اور خواتین کی حالت میں نمایاں بہتری کی ایک حقیقی داستان سناتے ہیں۔ اس ملک میں ہم اس بیماری کے تباہ کن اثرات کا مشاہدہ کر رہے ہیں جہاں اشیا کے ترسیلی سلسلے تباہ ہو گئے ہیں اور ریڈی میڈ گارمنٹس کے شعبے میں انتشار کے نتیجے میں منڈیوں کو نقصان ہوا ہے۔

ہم پہلے ہی اس صورتحال سے نمٹنے کی راہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم بنگلہ دیشی صنعتکاروں اور امریکی صارفین کے مابین رابطے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اہم نوعیت کی طبی ترسیلات کی فراہمی ممکن ہو سکے کہ بنگلہ دیشی فیکٹریاں نئی منڈیاں ڈھونڈ رہی ہیں۔ ہم دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے ضمن میں تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تمام مواقع سے کام لینے کے متمنی ہیں۔

امریکہ بنگلہ دیش کے لیے سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے یا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی معاشی صحت میں امریکہ کا نہایت اہم کردار ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اب جبکہ چین کی جانب سے کاروباری خطرات میں کمی لانے کا وقت اور عالمگیر ترسیلی سلسلوں میں تنوع لانے کا موقع ہے تو ایسے میں یہ نہایت تکلیف دہ وقت بنگلہ دیش کے لیے خاص موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

نگران: جواب کے لیے شکریہ۔ یاد دہانی کے بتاتے چلیں کہ ہمارے پاس بہت سے سوالات ہیں اس لیے براہ مہربانی وہی سوال کریں جو آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اہم ہو۔ افغانستان میں ”ٹی وی 1” کے حامد حیدرانی براہ راست سوال کریں گے۔ حامد حیدرانی، براہ مہربانی بات کیجیے۔

جناب سفیر، آپ کا بے حد شکریہ۔ سب سے پہلے مجھے گزشتہ برسوں میں افغانستان کے لیے تمام تر مدد پر آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ یقیناً افغانستان کے عوام آپ کو یاد رکھیں گے۔ میرا پہلا سوال افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کے بارے میں ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی طالبان کے خلاف حملے کا حکم دیا ہے۔ ایسے میں آپ امن عمل کے مستقبل کو کیسے دیکھتی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان یہ سمجھتے ہیں کہ شاید امن عمل پر آئندہ پانچ سال کے لیے عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتی ہیں؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ آج کل داعش کی جانب سے تشدد کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کابل اور صوبہ غور میں خودکش حملے کیے ہیں۔ یہ تشدد امن عمل کو کس قدر متاثر کرے گا خاص طور پر امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ آپ کا بے حد شکریہ۔

سفیر ویلز: میرا کامل یقین ہے کہ پانچ سال کے اندر ہی افغانستان میں امن عمل ہو گا اور یہ جس قدر جلد ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ میرا مطلب ہے کہ یقیناً ہم بین الافغان بات چیت شروع کرانے کے لیے کڑی محنت کر رہے ہیں جس میں طالبان، افغان حکومت، افغان سیاسی شخصیات اور سماج کے مختلف طبقات ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کریں۔ یہ تمام فریقین جس قدر جلد مذاکرات کی میز پر آئیں گے، یہ جس قدر جلد تشدد میں کمی اور قیدیوں کی رہائی کے ذریعے باہم اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے اقدامات اٹھائیں گے اتنا ہی بہتر ہو گا۔ مجھے کوئی ایسا افغان نہیں ملا جو امن نہ چاہتا ہو اور امن جس کی ترجیح نہ ہو۔

اسی لیے موجودہ سطح کا تشدد بالکل ناقابل قبول ہے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ سفیر خلیل زاد دوحہ میں طالبان کے ساتھ انہی سوالات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ مگر ہم یہ بات بھی سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی امن عمل بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ یہی سوچا ہے کہ اس کام میں بہت سی مشکلات آئیں گی جن پر ہمیں قابو پانا ہو گا۔ موجودہ حالات میں امن عمل کے تمام فریقین نے اس کے فوری آغاز کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔

یہ حوصلہ ہارنے کا وقت نہیں ہے۔ یہ اپنی کوششیں دگنی کرنے کا وقت ہے ، جیسا کہ آپ نے درست طور سے کہا کہ اب افغانستان میں داعش جیسے گروہ جڑ پکڑ رہے ہیں جنہیں افغانوں کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ ایک قومی ریاست کے طور پر  افغانستان کو اہمیت نہیں دیتے، ان کے دل میں افغانستان کے مذہب کا کوئی احترام نہیں ہے، انہوں نے تشدد کے انتہائی گھٹیا افعال کا ارتکاب کیا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ان کی کارروائیاں اس درجہ گری ہوئی ہیں کہ انہیں یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ انہیں زچہ بچہ ہسپتال پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔

چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کو داعش جیسے گروہوں کے خلاف متحدہ ہونا چاہیے۔ آپ ایک ایسے امن معاہدے پر پہنچ کر ہی اس انتہائی فاسق دہشت گرد گروہ کو شکست دے سکتے ہیں جس میں اس اور اس جیسی دوسری دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے خطرے کا متحدہ اور مکمل جواب ہو۔

نگران: شکریہ۔ اگلا سوال انڈیا میں ”دی ہندو” کے نمائندہ سوہاسنی حیدر کریں گے۔ وہ پوچھتے ہیں ”آپ نے کہا ہے کہ طالبان نے عالمی دہشت گردی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے مگر امریکہ۔طالبان معاہدے میں صرف انہی گروہوں کا تذکرہ ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہدف بناتے ہیں۔ یہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے گروہوں کو افغانستان میں کام کرنے سے روکنے کا وعدہ نہیں ہے۔ کیا آپ طالبان کے ساتھ بات چیت شروع نہ کرنے کے حوالے سے انڈیا کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتیں؟”

سفیر ویلز: طالبان نے عالمی دہشت گردی روکنے کے وعدے کیے ہیں اور میں اس معاہدے اور بات چیت پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گی۔ مگر امریکہ کا عزم یہ امر یقینی بنانا ہے کہ افغانستان دوبارہ کبھی بیرون ملک دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو سکے اور اس کی سرزمن سے ہمارے خلاف، خطے میں اور ہمارے دوستوں اور شراکت داروں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں نہ ہوں۔ یہ انڈیا پر منحصر ہے کہ وہ بہتر طور سے امن عمل کی کیسے حمایت کرتا ہے۔ یقیناً انڈیا کا افغانستان میں اہم کردار ہے جو افغانستان کو 3 بلین ڈالر امداد دے رہا ہے جو واقعتاً اس کے ہر صوبے میں پہنچے گی۔

انڈیا کی جانب سے افغانوں کو روایتی طور پر سفارتی اور سیاسی حمایت ملتی رہی ہے۔ انڈیا افغانستان کے حوالے سے ایک اہم کردار ہو گا اور ہے اور اسی لیے آپ نے دیکھا کہ سفیر خلیل زاد کوویڈ لاک ڈاؤن کے دوران بھی انڈیا گئے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے مابین بات چیت اور مشاورت کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ ہم یہ انڈیا پر چھوڑتے ہیں کہ آیا وہ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت میں شامل ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔ تاہم ایسے حالات میں جہاں ہم طالبان کو سیاسی حکومتی ڈھاناچے کا حصہ بنانے کے لیے ایک مذاکراتی سیاسی تصفیے سے کام لے رہے ہیں، وہاں انڈیا کے ساتھ حکومت کا تعلق قریبی نوعیت کا ہونا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خوشحال افغانستان کے لیے اس کا انڈیا کے ساتھ اچھا تعلق ہونا ضروری ہے۔

نگران: شکریہ: اب ہم نیپال میں ”ریپبلکا” کے مہابیر پوڈیال کا سوال لیں گے۔

سوال: نمستے، عزت مآب۔ بریفنگ کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ مجھے آپ سے چند سوالات کرنا ہیں۔ ہندوالکاہل کے حوالے سے حکمت عملی اس وقت نیپال میں موضوع بحث ہے جس کے بارے میں نیپالی عوام کو 2018 میں ریپبلکا کے ساتھ آپ کے انٹرویو کے ذریعے علم ہوا تھا۔ اسے اب خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی بہت سی تشریحات اور غلط تشریحات بھی ہو رہی ہیں۔ خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے امریکہ کی حکمت عملی سے منسلک میلینیم چیلنج کارپوریشن گرانٹ (ایم سی سی) کے بعد کٹھمنڈو میں سیاسی تقسیم پائی جاتی ہے۔ حکمران جماعت کے بعض رہنما ایم سی سی  کی منظوری دینے کے مخالف ہیں جبکہ بعض اس کے حق میں ہیں۔

نیپال میں یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ چین ایم سی سی کی منظوری نہیں چاہتا اور اسی لیے حکمران جماعت کے بعض دھڑوں کی جانب سے اس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ نیپال میں ایم سی سی، چین اور خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر آپ کیا تبصرہ کریں گی؟ اسی لیے (ناقابل سماعت)۔

سفیر ویلز: میں اس سوال پر آپ کی شکرگزار ہوں۔ میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ نیپال کے لیے امریکہ کی امداد کے بارے میں بہت سی غلط معلومات پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر میلینیم چیلنج کارپوریشن کا قیام 2004 میں عمل میں آیا تھا۔ اس کا آزاد اور کُھلے خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے تصور سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسی غلط معلومات سے یہ حقیقت بالکل مبہم ہو جاتی ہے کہ یہ پروگرام خاص طور پر کانگریس نے بنایا تھا جس کا مقصد ملک میں ایسے معاشی پروگراموں پر عملدرآمد کی صلاحیت پر اعتماد بحال کر کے غربت میں کمی لانا ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ نیپال میں ایم سی سی پروگرام کے لیے حکومت نے 500 ملین ڈالر کے علاوہ مزید 130 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ پروگرام پن بجلی کی ترسیل بشمول اس کی سرحد پار فروخت کے لیے بنایا گیا ہے۔ شاہراہوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانا بھی اس پروگرام کا حصہ ہے تاکہ آپ کی معیشت کُھلے اور ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔ چونکہ یہ قرضے کے بجائے امداد ہے اس لیے اس پر سیاسی کھینچا تانی پریشان کن ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے کہ نیپال کے وزیر خارجہ نے ایم سی سی کے حق میں موثر طور پر بات کی ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ نیپال کی حکومت خودمختار ہے اور یہ چین سے ہدایات نہیں لیتی اور اسی لیے یہ اپنے عوام کی معاشی بہتری کے لیے ایسے فیصلے کرے گی جو ملک کے بہترین مفاد میں ہوں گے۔

مگر ہمیں اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ ایم سی سی ناصرف آزادانہ طور سے کام کرنے والا ترقیاتی پروگرام ہے بلکہ یہ امریکہ کے ایسے بہت سے پروگراموں میں سے ایک ہے جن کی بدولت امریکہ نیپال کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترقی دے رہا ہے اور نیپال کو ترقی کی راہ پر مدد فراہم کر رہا ہے، خواہ یہ ہر سال ہماری جانب سے مہیا کردہ 120 ملین ڈالر معاشی امداد ہو، خواہ یہ انسانی امداد ہو، خواہ یہ امن کور ہو، خواہ یہ ثقافتی مقامات محفوظ رکھنے کے لیے دی جانے والی امداد ہو جسے ہم زلزلے کے بعد نیپال کے آثار قدیمہ کی تعمیرنو کے لیے مہیا کرتے ہیں۔ ہم نیپال کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں پرعزم ہیں۔

چنانچہ میں مختصراً یہ کہوں گی کہ ہم نے ایم سی سی کے حوالے سے جو تازہ ترین مباحثہ دیکھا ہے اس کا تعلق نیپال کی اندرونی سیاست سے ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ کی ملکی قیادت جس نے اس معاہدے پر مذاکرات کیے تھے اور تین سال کے عرصہ میں اس معاملے پر مذاکرات میں تمام بڑی سیاسی جماعتیں بھی شریک تھیں، اس پر آپ کے ملکی رہنما نیپال کے عوام کا ساتھ دیں گے اور ایم سی سی کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

نگران: اگلے سوال کے لیے ہم کرغیزستان میں ”اے کی آئی پریس نیوز ایجنسی” کے نمائندے اسلان سیدکوو کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ”ہم امریکہ اور چین میں مسابقت کو بڑھتا  دیکھ رہے ہیں، آپ کے خیال میں اس کا وسطی ایشیا پر کیا اثر پڑے گا؟”

سفیر ویلز: وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے تعلقات آزادانہ طور سے قائم ہیں۔ ہم وسطی ایشیائی ممالک بشمول کرغیزستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ خطے کے تمام ممالک سے متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات قائم رکھیں گے۔ وسطی ایشیا کے ساتھ امریکہ کے تعلق کا مقصد اس خطے کو دنیا کے لیے کھولنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ وسطی ایشیا کو اپنے جمہوری ادارے بنانے اور انہیں مضبوط کرنے کے لیے درکار خودمختاری، آزادی اور زمینی سالمیت میسر رہے۔

کرغیزستان کی آزادی سے ہی ہماری اس کے ساتھ بہت زبردست شراکت داری رہی ہے۔ ہمارا ساتھ اس وقت سے ہے جب کرغیزستان نے تیزی سے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو اپنایا تھا۔ ہم نے ناصرف آپ کے میڈیا اور غیرسرکاری شعبے کی ترقی میں مدد دی ہے بلکہ مختلف وزارتوں میں تربیتی پروگراموں کو بھی معاونت فراہم کی ہے۔ ہم نے ڈبلیو ٹی او میں شمولیت کے لیے کرغیزستان کے عزائم کی حمایت کی ہے۔ چنانچہ میں سمجھتی ہوں کہ دونوں ممالک میں بھرپور تعلقات قائم ہیں جس میں امریکہ کی جانب سے کرغیز دارالحکومت میں ناردرن ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک، مناس بیس کا قیام بھی شامل ہے جس سے افغانستان میں استحکام لانے کی کوششوں میں مدد ملی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس دوطرفہ تعلق سمیت ہمارے C5 تعلقات میں بھی ہمیں اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ معاشی خوشحالی، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کیونکر ممکن ہے اور بین علاقائی ربط بشمول جنوب سے افغانستان کی جانب روابط کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی لیے ہم نے کرغیز حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط قائم کیے ہیں جن میں اس سال فروری میں وزیر خارجہ پومپیو کا دورہ بھی شامل ہے۔

نگران: جواب کا شکریہ۔ ہمارے پاس بہت سے سوالات ہیں مگر بدقسمتی سے وقت ختم ہو رہا ہے۔ آئیے ایک اور سوال لیتے ہیں۔ یہ سوال تاجکستان میں ”ریڈیو اوزودی” کے نمائندے کیرومون باکوئیوا کریں گے۔

سوال: ہیلو، یوں لگتا ہے کہ تاجکستان میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے  سے تاجک حکام کا اس وبا کے حوالے سے حقیقی طرزعمل بے نقاب ہو گیا ہے۔ تاجک حکومت نے 30 اپریل کو تسلیم کیا کہ ملک میں کرونا وائرس موجود ہے۔ کیا آپ کو کرونا وائرس کی وبا کے بارے میں تاجک حکام سے بات کرنے کا موقع ملا ہے؟

مجھے ایک اور سوال بھی پوچھنا ہے۔ گزشتہ برس ہم امریکی حکومت پر بہت سی تنقید ہوتی سن رہے تھی کہ یہ تاجکستان میں آمرانہ حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ سول سوسائٹی کے بہت سے کارکنوں، این جی اوز اور آزاد میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حالیہ برسوں میں انہیں 21 ویں صدر کے ابتدائی برسوں کی نسبت بہت کم مدد ملی ہے۔ کیا آپ ان خدشات پر کچھ کہیں گی؟ شکریہ۔

سفیر ویلز: میرا خیال ہے کہ دوشنبے میں ہمارے سفارت خانے کی حکومت کے ساتھ کوویڈ اور اس کے خلاف اقدامات سمیت تمام امور پر بات چیت ہوئی ہے۔ ہم نے تاجکستان کی حکومت کو اس حوالے سے امداد بھی مہیا کی ہے۔ ہم اس بحران سے نکلنے کے بعد مزید مدد دینے کا عہد بھی کیے ہوئے ہیں۔ ہمیں تاجکستان میں حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ایسے اقدامات پر تشویش تھی اور ہے جو وہاں میڈیا کے لیے کھلے اور شفاف ماحول میں مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں امریکہ کی حکومت نے اوزودی کی منظوری کے لیے موثر طور سے آواز اٹھائی تھی۔ علاوہ ازیں تاجکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے انتہائی پریشان کن واقعات پر بھی امریکہ نے کڑا ردعمل ظاہر کیا تھا۔ خاص طور پر اس بحرانی کیفیت میں میڈیا کی جانب سے شفاف معلومات سامنے لائی جانا ضروری ہے تاکہ لوگوں کو علم ہو سکے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور انہیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے حقائق اور معلومات تک رسائی ہو۔ اسی لیے ہم پوری جانفشانی سے میڈیا کی آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے۔

جہاں تک مدد اور وقت کے ساتھ فراہم کی جانے والی مدد کا معاملہ ہے تو یقیناً تاجکستان آزادی کے بعد بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ اب وہ پروگرام بھی تبدیل ہو چکے ہیں جن سے ہم ماضی میں کام لیتے تھے۔ مگر اب بھی ہم تاجکستان کو مدد دینے والا بڑا ملک ہیں۔

تاجکستان کے دورے میں مجھے سرحد پر جانے کا موقع ملا جہاں میں نے 30 ملین ڈالر سے زیادہ مالیتی حالیہ سرحدی امداد کا مشاہدہ کیا خواہ یہ خصوصی گاڑیوں یا سرحدی چوکیوں کی شکل میں ہو یا جدید ریڈار کے ذریعے نگرانی کی ٹیکنالوجی کی صورت میں ہو۔ دونوں ممالک میں تبادلے کے متحرک پروگرام جاری ہیں۔ میرا خیال ہے کہ حال ہی میں تاجکستان سے تعلق رکھنے والے تعلیمی تبادلے کے پروگرام کے 47 شرکا کو وطن واپس بھیجا گیا ہے جو وبا کے باعث امریکہ میں پھنس گئے تھے۔ مگر ہم ایسے  پروگراموں کو بھرپور اہمیت دیتے ہیں جن کی بدولت دونوں ممالک کو طلبہ کی صورت میں  ایک دوسرے کے ہاں بہت سے سفیر میسر آتے ہیں۔ چنانچہ میں نہیں سمجھتی کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں کوئی کمی آئی ہے۔ تاجکستان نے افغان جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کیا ہے اس لیے علاقائی استحکام کے لیے ہم تاجکستان کو نہایت اہم فریق گردانتے ہیں۔

نگران: سفیر ویلز آپ کا شکریہ۔ مجھے افسوس ہے کہ ہم بہت سے مزید سوالات نہیں لے سکے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس وقت باقی نہیں رہا۔ سفیر ویلز، گفتگو کے لیے وقت نکالنے پر ہم آپ کے بے حد مشکور ہیں۔ کیا آپ آخر میں کچھ کہنا چاہیں گی؟

سفیر ویلز: شکریہ۔ کوویڈ وبا کے باعث آج ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے مگر تین سال اس عہدے پر رہنے کے بعد مجھے اس خطے میں امریکہ کی شراکتوں کی قوت اور باہم مل کر سفارتی، معاشی اور سلامتی کے مسائل کا مقابلہ کرنے کی اپنی اہلیت  پر اعتماد ہے۔ اب ہمارے سینئر عہدیدار ٹام وجڈا اس بیورو کی نہایت قابلیت سے قیادت انجام دیں گے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ میں سمجھتی ہوں امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں اس خطے کی خاص اہمیت ہے اور افغانستان میں علاقائی امن کے حصول، وسطی ایشیا کی آزادی، زمینی سالمیت اور خودمختاری کی توثیق اور تجارت و اقدار کا ایک آزاد اور کُھلا نظام یقینی بنانے کے لیے صدر ٹرمپ کی نہایت اہم کوششوں کے نتیجے میں خطہ ہندوالکاہل میں ہونے والی پیش ہائے رفت کے ثمرات اگلی نسل تک پہنچنا چاہئیں۔ لہٰذا ہمیں بہت سا کام کرنا ہے اور عالمی سطح پر انتہائی عدم استحکام کا باعث بننے والی اس وبا کے نتیجے میں ہمارے پاس اس مقصد کے لیے ذرائع، عزم اور ضرورت موجود ہے۔ آپ کا بے حد شکریہ اور مجھے امید ہے کہ آپ سبھی اور آپ کے اہلخانہ محفوظ ہوں گے۔ الوداع۔

نگران: شکریہ، بدقسمتی سے ہمارے پاس آج اتنا ہی وقت تھا۔ سوالات کے لیے آپ کا شکریہ، میں سفیر ویلز کا بھی مشکور ہوں جو ہمارے ساتھ گفتگو میں شامل ہوئیں۔ ہم اس بریفنگ کی ریکارڈنگ کے لنک بہت جلد اپنے شرکا صحافیوں کو بھیجیں گے اور جونہی بریفنگ کا مسودہ دستیاب ہوا اسے آپ تک پہنچایا جائے گا۔ ہمیں آپ کی آرا سن کر بھی خوشی ہو گی۔ آپ [email protected] پر کسی بھی وقت ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ بریفنگ میں شمولیت پر آپ کا ایک مرتبہ پھر شکریہ۔ ہمیں امید ہے کہ آپ آئندہ بھی بریفنگ کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں