rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
20 مئی 2020
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو صبح بخیر۔ آج صبح مجھے آرلنگٹن قبرستان سے گزرنے کا اتفاق ہوا، چونکہ میموریل ڈے ویک اینڈ قریب آ رہا ہے تو میں اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو یاد کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔

وزیر خارجہ اور سابق فوجی اہلکار ہونے کے ناطے میں ہر وقت اپنی فوج کے ارکان کو نقصان سے بچاتے ہوئے آزادی کے تحفظ کے لیے امریکہ کی سفارتی طاقت استعمال کرنے کے لیے کام کرتا ہوں۔

میں اُن خاندانوں کی خدمات کا اعتراف اور ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے لیکسنگٹن سے خلیج لائٹے اور وادی فورج سے لا ڈرینگ تک اور تمام دیگر جنگوں کے میدانوں میں ملک کی خدمت کرنے والے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہر امریکی  اس غیرمعمولی قوم کے بارے میں سوچے گا جس کے لیے یہ جنگجو لڑے اور اپنی جان دی تاکہ ہم اس عظیم ملک میں رہ سکیں اور اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

آج میں چین کے بارے میں چند مشاہدات سے اپنی بات شروع کرنا چاہتا ہوں کیونکہ حالیہ وبا کے حوالے سے میڈیا کی توجہ مسئلے کے ایک اہم حصے سے چُوک سکتی ہے جس کا تعلق چین کی کمیونسٹ پارٹی سے ہے۔ سب سے پہلے میں ایک بنیادی حقیقت بیان کروں گا۔ چین پر ایک ظالم آمرانہ حکومت برسراقتدار ہے۔ یہ اشتراکی حکومت ہے جو 1949 سے چلی آ رہی ہے۔

کئی دہائیوں تک ہم یہ سوچتے رہے کہ تجارت، سائنسی تبادلے، سفارتی رسائی اور انہیں ترقی پذیر ملک ہونے کی حیثیت سے ڈبلیو ٹی او میں شامل کیے جانے سے چین کی حکومت ہم جیسا طرزعمل اختیار کرنا شروع کر دے گی۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ ہم نے نظریاتی اور سیاسی اعتبار سے بیجنگ کی آزاد اقوام کے بارے میں معاندانہ سوچ کا بڑی حد تک غلط اندازہ لگایا۔ اب پوری دنیا کو اس حقیقت کا ادراک ہو رہا ہے۔

تحقیقی ادارے پیو نے غالباً گزشتہ ہفتے رپورٹ دی ہے کہ 66 فیصد امریکی چین کے بارے میں غیرموافق خیالات کے حامل ہیں۔

یہ چین کی کمیونسٹ پارٹی  کی ترجیحات کا نتیجہ ہے جو اس حکومت کی فطرت کے زیراثر ہوتی ہیں۔ اس حکومت کی فطرت نئی نہیں ہے۔

اس بڑے مسئلے کے حوالے سے دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ووہان میں کوویڈ۔19 کی وبا پھوٹنے پر چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ردعمل نے ہمیں اشتراکی چین کو مزید حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنے میں مدد دی ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے وائرس کے نمونوں کا تبادلہ کرنے یا ہمیں انہیں محفوظ رکھنے میں مدد کے لیے کہنے کے بجائے انہیں تباہ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

چین کی پیپلز لیبریشن آرمی نے جنوبی چینی سمندر کے عالمگیر پانیوں میں مزید جگہوں پر اپنا حق جمایا ہے۔ اس نے ویت نام کی ماہی گیر کشتی ڈبو دی، زیرآب کان کنی کرنے والے ملائشیا کے جہاز کو دھمکایا اور سمندر میں ماہی گیری پر یکطرفہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔ امریکہ ایسے  غیرقانونی اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے آسٹریلیا کی جانب سے محض وائرس کے آغاز سے متعلق آزادانہ تحقیقات کے مطالبے پر اس کے خلاف معاشی کارروائی کی دھمکی دی۔

ہم آسٹریلیا اور 120 سے زیادہ ایسے ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں جنہوں نے وائرس کے آغاز سے متعلق تحقیقات کے لیے امریکہ کے مطالبے کا ساتھ دیا ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ کہاں غلطی ہوئی اور ناصرف اب بلکہ مستقبل میں بھی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل پر تائیوان کو اس ہفتے جنیوا میں ہونے والی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں شرکت کی اجازت نہ دینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔ مجھے علم ہے کہ ڈاکٹر ٹیڈروس کے بیجنگ کے ساتھ غیرمعمولی قریبی تعلقات موجودہ وبا سے بہت پہلے شروع ہوئے تھے اور یہ نہایت پریشان کن بات ہے۔

اس ہفتے صدر ژی نے دعویٰ کیا کہ چین نے ”کُھلا، شفاف اور ذمہ دارانہ” طرزعمل اختیار کیا۔ کاش ایسا ہی ہوا ہوتا۔ ووہان کے مرکزی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جانب سے سارس جیسے وائرس کے بارے میں اطلاع دیے اب 142 دن ہو چکے ہیں۔

آج بھی بیجنگ تحقیق کاروں کو متعلقہ جگہوں تک رسائی دینے سے انکاری ہے، اس نے زندہ وائرس کے نمونوں کو اپنے پاس روک رکھا ہے، چین میں وبا کے موضوع پر بات چیت کو سنسر کیا جا رہا ہے اور ایسے بہت سے دیگر اقدامات اٹھا جا رہے ہیں۔ اگر چینی کمیونسٹ پارٹی  واقعتاً کُھلے پن اور شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے تو وہ باآسانی پریس کانفرنس کر سکتی ہے جیسا کہ ہم کر رہے ہیں اور صحافیوں کو ہر وہ سوال پوچھنے کی اجازت دے سکتی ہے جو وہ پوچھنا چاہتے ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے چین کے اقدامات اس نقصان کے مقابلے میں بہت معمولی ہیں جو اس نے دنیا کو پہنچایا ہے۔

یہ وبا اب تک اندازاً 90 ہزار امریکیوں کی جان لے چکی ہے۔ مارچ سے اب تک 36 لاکھ  سے زیادہ امریکی اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں۔  دنیا بھر میں اس وبا سے تین لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور ہمارے اندازوں کے مطابق اس سے ہونے والا معاشی نقصان قریباً 9 ٹریلین تک پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کو یہ قیمت چین کی کمیونسٹ پارٹیوں کی ناکامیوں کے سبب چکانا پڑ رہی ہے۔

امریکہ نے وبا کے خلاف عالمگیر اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے قریباً 10 بلین ڈالر دیے ہیں۔ یہ امداد ویکسین پر تحقیق سے لے کر وبا کے مقابلے کی تیاری اور انسانی امداد تک ہر طرح کے کام میں دی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں چین کی جانب سے 2 بلین ڈالر امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کب وہ اس 2 بلین ڈالر امداد کا وعدہ پورا کرتے ہیں۔

امریکہ کے نجی کاروباروں، غیرمنفعی اداروں، خیراتی تنظیموں اور عام شہریوں نے بھی دنیا کی مدد کے لیے 4.3 بلین ڈالر مہیا کیے ہیں۔ کوئی ملک اس خوفناک وائرس کا مقابلہ کرنے کے اقدامات میں امریکہ کی ہمسری نہیں کر سکتا۔

آج مجھے بیرون ملک امداد کے لیے مزید 162 ملین ڈالر کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے۔ اس سے وبا کے آغاز سے اب تک ہماری اعلان کردہ امداد کا حجم ایک بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ دفتر خارجہ اور یوایس ایڈ نے یہی کچھ کیا ہے۔

مالی امداد کے علاوہ آج دفتر خارجہ، یوایس ایڈ اور انٹر امریکن فاؤنڈیشن وینزویلا کے ضرورت مند لوگوں کو بھی 200 ملین ڈالر سے زیادہ امداد دے رہے ہیں۔

ہم دنیا بھر میں یہی کچھ کرتے ہیں۔ ہم دنیا کو اس وبا سے نکلنے میں مدد دیں گے۔

میں ایک لحظہ تائیوان کے موضوع پر آؤں گا۔ میں صدر سائی کو ان کی حلف برداری پر مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ تائیوان میں جمہوری عمل دنیا کے لیے نمونے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ بیرون ملک سے زبردست دباؤ کے باوجود تائیوان نے لوگوں کو آواز اور انتخاب دینے کی دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔

جہاں تک ہانگ کانگ کا معاملہ ہے تو اسے چین سے اعلیٰ درجے کی خودمختاری کا حامل ہونے کی تصدیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ تاحال التوا میں ہے۔ ہم وہاں کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

اس ہفتے ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز قانون سازوں سے بدسلوکی کی گئی جو بیجنگ نواز قانون سازوں کی جانب سے ضابطے کی بے قاعدگی روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہانگ کانگ کے مارٹن لی اور جمی لائی جیسے جمہوریت نواز کارکنوں کو عدالت میں گھسیٹا گیا۔ ایسے اقدامات یہ بات سمجھنا مزید مشکل بنا دیتے ہیں کہ ہانگ کانگ چین سے ہٹ کر بدستور بڑی حد تک ایک خودمختار علاقہ ہے۔

وبا سے قطع نظر ہمیشہ کی طرح ہم انسانی حقوق سے متعلق صورتحال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اس ہفتے کے اختتام پر فرانس نے فیلیسین کابوگا کو گرفتار کیا جس پر روانڈا میں ہونے والی نسل کشی میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔

ہم برونڈی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں عوام آج ووٹ ڈال رہے ہیں۔ میں تمام فریقین پر زور دیتا ہوں کہ وہ اشتعال انگیزی سے پرہیز کریں اور تشدد سے پاک انتخابات کا انعقاد ممکن بنانے میں مدد دیں تاکہ ہر شہری کو اپنے جمہوری حقوق سے کام لینے کا موقع مل سکے۔

ہمیں نکاراگوا کی صورتحال پر بھی تشویش ہے جہاں بہت سی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں لاشوں کو دفنایا جا رہا ہے۔ یہ نکارا گوا کی حکومت کی جانب سے بیان کردہ حالات سے کہیں زیادہ سنگین صورتحال ہے۔

ہمیں تشویش ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں بشمول صحافیوں کو کوویڈ۔19 کے حوالے سے بیانات یا سرگرمیوں کی پاداش میں گرفتار کیا جا رہا ہے اور حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ امریکہ دنیا بھر میں وبا کی آڑ میں جبر کے ایسے ہتھکنڈوں کی مذمت کرتا ہے۔

اب بہتر خبروں کی جانب آتے ہوئے میں گزشتہ ہفتے حاصل ہونے والی تین سفارتی کامیابیوں پر بات کروں گا۔

پہلی خبر یہ ہے کہ امریکہ نے پہلی مرتبہ خام تیل بیلارس بھیج دیا ہے۔ چند ماہ پہلے میں نے وہاں دورہ کیا تھا اور اس دوران یہ وعدہ کیا کہ ہم اس منصوبے پر ان کے ساتھ کام  کریں گے تاکہ خام تیل کے حصول کے لیے ان کا ایسے ممالک پر انحصار کم ہو سکے جو دنیا کو قدرے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ اس معاہدے سے بیلارس کے لیے  اپنی ترسیلات میں تنوع لانا  اور آزاد ممالک سے خام تیل لینا ممکن ہو جائے گا۔ ہم دنیا میں سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرتے ہیں۔ اگر دنیا کے ممالک توانائی کے تحفظ کی صورتحال بہتر بنانا چاہتے ہیں اور ملکیتی حقوق، آزاد کاروبار اور قانون کی حکمرانی کے تحت معاہدے کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے بات کریں۔

دوسری بات یہ کہ امریکہ افغانستان میں صدر غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کی جانب سے سیاسی تصفیے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ہم دونوں رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس مثبت نتیجے سے کام لیتے ہوئے بین الافغان بات چیت میں حکومتی شمولیت کی رفتار تیز کریں۔ ہمیں طالبان سمیت تمام فریقین کی جانب سے بات چیت میں شمولیت درکار ہے۔ ہم تشدد میں کمی لانا چاہتے ہیں۔ ہم امن کے حصول اور افغانستان میں مفاہمت کے مقصد کو پانے کے لیے کڑی محنت کر رہے ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ مجھے دفتر خارجہ اور محکمہ تجارت کی ٹیم پر واقعتاً فخر ہے جنہوں نے ایریزونا میں ایک جدید چِپ فیکٹری کے لیے تائیوان کی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کارپوریشن کی جانب سے 12 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا حصول ممکن بنانے کے لیے کڑی محنت کی۔ ہماری قومی سلامتی میں خاص اہمیت رکھنے والی مائیکروچِپس اب دوبارہ امریکہ میں تیار ہونا شروع ہو جائیں گی۔

یہ معاہدہ کامیابیوں کے ایک سلسلے کا اہم حصہ ہے جسے ہم ”5 جی نیشنل سکیورٹی ٹرایفیکٹا” کہتے ہیں۔ ہم کچھ عرصہ سے اس پر کام کر رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے امریکہ نے ایک تکنیکی سقم کا خاتمہ  کیا جسے ہواوے کمپنی نے بیرون ملک سیمی کنڈکٹر بنانے کی منصوبہ بندی اور تیاری کے ذریعے برآمدی کنٹرول کو جُل دینے کے لیے استعمال کیا تھا۔

اس "ٹرائیفیکٹا” کا تیسرا حصہ وہ ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکاہوں۔ اس کا تعلق 5جی کے صاف راستے سے ہے۔ امریکہ کے سفارتی مراکز میں 5 جی ڈیٹا کو صرف قابل اعتماد آلات سے ہی گزر کر آنا ہو گا۔ اس حوالے سے میری وزیر دفاع ایسپر کے ساتھ اس ہفتے اچھی بات چیت ہوئی ہے جس میں ہمارے فوجی اڈوں کی 5جی کے حوالے سے اقدامات میں شرکت یقینی بنانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال ہوا۔

میں آپ کو اسلامی جمہوریہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کے بارے میں تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ ایران کو ایک ذمہ دار ملک جیسا طرزعمل اپنانے پر مجبور کرنے کے لیے میری مہم کو کل 24 مہینے یعنی دو سال مکمل ہو جائیں گے۔ ہم اپنے اس عزم پر کاربند ہیں۔

8 جون کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بحری جہازوں پر ہماری پابندیاں موثر ہو جائیں گی۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کی حکومت نےجہازرانی اور توانائی کی صنعتوں کو ایران کے ساتھ ایسی سرگرمیوں سے دور رہنے کے حوالے سے رہنمائی جاری کی تھی جن کے باعث ان کا پابندیوں کی زد میں آنے کا خدشہ ہو۔ شمالی کوریا اور شام کے حوالے سے بھی ایسی ہی رہنمائی دی گئی ہے۔ دنیا بھر میں جہازرانی سے متعلقہ شعبوں کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ ان ممالک کے جہازوں کے ساتھ تجارت کرنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

ہماری جانب سے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ ایران کی حکومت اپنے لوگوں سے احترام پر مبنی اور باوقار سلوک کرے۔ آج امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران سے تعلق رکھنے والے 13 افراد اور اداروں پر انسانی حقوق سے متعلق اختیارات کے تحت پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ پابندیوں کا سامنا کرنے والوں میں ایران کے موجودہ وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فاضلی  بھی شامل ہیں۔

ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی معقول وجہ موجود ہے کہ نومبر 2019 میں انہوں نے ہی ایرانی پولیس کو پُرامن مظاہرین پر مہلک طاقت استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان کے فاسقانہ احکامات کے باعث ایران کے بہت سے شہری ہلاک ہوئے۔ ہمیں ایران میں مرنے والوں اور خاموش کرا دیے جانے والوں کے لیے انصاف کی خاطر اپنی دسترس میں ہر ممکن قدم اٹھانے پر فخر ہے۔

آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ حال ہی میں پال اووربے کی افغانستان میں افسوسناک گمشدگی کو چھ برس ہو گئے ہیں۔ ایف بی آئی میں ہمارے ساتھیوں نے ان کی واپسی میں مددگار معلومات کی فراہمی کے بدلے دوبارہ ایک ملین ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ میری ٹیم ان کی بازیابی اور واپسی کے لیے سفارتی ذرائع سے کام لے رہی ہے۔ امریکی شہریوں کی بہتری اس صدر اور انتظامیہ کی پہلی ترجیح ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں بخوشی آپ سے چند سوالات لینا چاہوں گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں