rss

ایران کے جوہری پروگرام سے دنیا کی حفاظت

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
27 مئی 2020

 

آج میں ایران میں جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے تحت تمام بقیہ جوہری منصوبوں پر پابندیوں میں چھوٹ کے خاتمے کا اعلان کر رہا ہوں۔ ان میں آراک ری ایکٹر کنورژن، تہران ریسرچ ری ایکٹر کے لیے افزودہ یورینیم کی فراہمی، اور ایران میں ریسرچ ری ایکٹر کے صرف شدہ اور بچے کھچے ایندھن کی برآمد شامل ہے۔ ان سرگرمیوں پر پابندیوں میں چھوٹ 60 روزہ حتمی وقفے کے بعد ختم ہو جائے گی جس کا مقصد ایسی سرگرمیوں میں شامل دنیا بھر کی کمپنیوں اور اداروں کو اپنی کارروائیاں ختم کرنے کا موقع دینا ہے۔

میں ماجد آگاہی اور امجد سازگار کی انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے پابندیوں کے لیے نامزدگی کا اعلان بھی کر رہا ہوں۔ یہ قدم ان دونوں افراد کے وسیع پیمانے پر تباہی کا باعث بننے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں مادی طور پر مددگار سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا ملوث ہونے کی کوشش کرنے پر اٹھایا جا رہا ہے۔ سازگار ایران کی اٹامک انرجی  آرگنائزیشن کا مینجنگ ڈائریکٹر ہے۔ یہ ادارہ یورینیم کی افزودگی کے لیے گیس سنٹری فیوج مشینوں کی صنعتی پیمانے پر پیداوار کا ذمہ دار ہے۔ 2019 میں سازگار نے ایران کے  فورڈو فیول انرچمنٹ پلانٹ میں سنٹری فیوج نصب کرنے کے عمل کا اہتمام اور نگرانی کی تھی۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے سازگار نے ایران کی جانب سے جاری اشتعال انگیزی اور اپنی جوہری صلاحیتوں کو تخریبی مقاصد کے لیے وسعت دینے کے عمل میں مدد فراہم کی ہے۔ آگاہی بھی ایران کے  یورینیم کی افزودگی سے متعلق سینٹری فیوج کے معاملات میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے اور وہ ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن میں منتظم کے طور پر شامل ہے۔ یہ ادارہ ایران میں جدید ترین سینٹری فیوج پر تحقیق اور ان کی تیاری کا ذمہ دار ہے۔

ایران کی حکومت جوہری حوالے سے حساس سرگرمیوں کو وسعت دیتے ہوئے اپنی جوہری دہانہ گیری جاری رکھی ہوئے ہے۔ ایسے سنگین اقدامات ناقابل قبول ہیں اور میں ان کے نتیجے میں جوہری معاہدے سے متعلق ایسی سرگرمیوں پر پابندیوں پر چھوٹ میں تجدید کو جائز نہیں کہہ سکتا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری استحصال کے نتیجے میں اس پر مزید دباؤ آئے گا اور یہ عالمی برادری سے مزید دور ہو جائے گی۔ مزید برآں  ایران کے جوہری عملے کو ایک راستہ منتخب کرنا ہو گا، یا تو وہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث ایران کے اداروں کے لیے کام کریں اور پابندیوں کا خطرہ مول لیں، یا وہ  جوہری پھیلاؤ سے ہٹ کر اپنی صلاحیتیں ایران کے لوگوں کے لیے استعمال کریں۔

جوہری معاہدے سے متعلقہ سرگرمیوں پر پابندیوں میں چھوٹ کا خاتمہ کرتے ہوئے امریکہ بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کے یونٹ 1 کے لیے جاری عالمگیر معاونت پر چھوٹ میں 90 روز کی توسیع کر رہا ہے جس کا مقصد وہاں جاری کارروائیوں کے حوالے سے تحفظ کی صورتحال یقینی بنانا ہے۔  ہم ایران کے جوہری پروگرام میں ہونے والی تمام پیش رفت کی بغور نگرانی جاری رکھیں گے اور کسی بھی وقت چھوٹ دینے سے متعلق اس فیصلے میں ترمیم کر سکتے ہیں۔

ایسی حکومت جس نے چند ہی روز پہلے یہودیوں کے خلاف ”حتمی حل” کی بات کی ہو اور جو اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی متواتر دھمکیاں دیتی ہو، اس کے پاس جوہری ہتھیار کبھی نہیں ہونے چاہئیں۔ امریکہ عالمی برادری کی جانب سے ایران کیے حالیہ یہود مخالف بیانات کی وسیع پیمانے پر مذمت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ایرانی حکومت کی نفرت انگیز باتوں سے عالمی برادری کا اس سے لاحق خطرات سے نمٹنے کا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں