rss

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کا قانون نافذ کرنے کی تجویز

Español Español, English English, Português Português, العربية العربية, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
27 مئی 2020

 

گزشتہ ہفتے عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کی نیشنل پیپلز کانگریس نے ہانگ کانگ پر قومی سلامتی سے متعلق قانون کو یکطرفہ اور جبری طور پر مسلط کرنے کے ارادے کا اعلان کیا۔ بیجنگ کا یہ تباہ کن فیصلہ ایسے اقدامات کے سلسلے میں نیا اضافہ ہے جو ہانگ کانگ کی خودمختاری اور آزادیوں نیز چین۔برطانیہ مشترکہ اعلامیے کے تحت ہانگ کانگ کے لوگوں سے کیے گئے چین کے وعدوں کو بنیادی طور پر کمزور کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین اس معاہدے کا اقوام متحدہ میں بھی اندراج ہے۔

ہانگ کانگ پالیسی ایکٹ دفتر خارجہ سے اس علاقے کی چین سے خومختاری کا اندازہ لگانے کا تقاضا کرتا ہے۔ حالیہ مخصوص عرصہ میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لینے کے بعد میں نے آج کانگریس کے سامنے تصدیق کی کہ 1997 سے پہلے امریکہ کے قوانین کا ہانگ کانگ پر جس طرح اطلاق ہوتا تھا اب ویسی صورتحال نہیں ہے۔ آج کوئی معقول شخص زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ہانگ کانگ کو چین سے اعلیٰ درجے کی خودمختاری حاصل ہے۔

ہانگ کانگ اور اس کے متحرک، باہمت اور آزاد عوام نے دہائیوں تک آزادی کے قلعے کی حیثیت سے ترقی پائی ہے اور اس فیصلے سے مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ تاہم موثر پالیسی سازی کا تقاضا ہے کہ حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔ کبھی امریکہ کو توقع تھی کہ آزاد اور خوشحال ہانگ کانگ آمرانہ چین کے لیے ایک نمونہ ثابت ہو گا مگر اب یہ واضح ہے کہ چین ہانگ کانگ کو اپنے مطابق تبدیل کر رہا ہے۔

امریکہ ہانگ کانگ کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے جو سی سی پی کی جانب سے خودمختاری دینے سے انکار کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس خودمختاری کا چین نے خود وعدہ کیا تھا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں