rss

ہانگ کانگ کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
دفتر خارجہ کا بیان
28 مئی 2020

 

درج ذیل بیان کا متن امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ کی حکومتوں کی جانب سے  جاری کیا گیا۔

آغاز متن:

اس بیان پر دستخط کرنے والے فریق بیجنگ کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کا قانون مسلط کیے جانے کے فیصلے پر اپنی گہری تشویش کا اعادہ کرتے ہیں۔

ہانگ کانگ نے آزادی کے قلعے کی حیثیت سے ترقی پائی ہے۔ ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام میں عالمی برادری کا نمایاں اور دیرینہ مفاد رہا ہے۔ بنیادی قانون کے آرٹیکل 23 کے تحت ہانگ کانگ کے اپنے اداروں کے بجائے بیجنگ کے حکام کی جانب سے ہانگ کانگ پر قومی سلامتی کا قانون مسلط کیے جانے سے ہانگ کانگ کے لوگوں کی آزادیاں محدود ہو جائیں گی، اور اس سے ہانگ کانگ کی خودمختاری اور وہ نظام بڑی حد تک ختم ہو جائے گا جس نے اسے اس قدر خوشحال بنایا تھا۔

چین کی جانب سے ہانگ کانگ پر قومی سلامتی کا نیا قانون مسلط کرنے کا فیصلہ اقوام متحدہ میں مندرج چین ۔برطانیہ مشترکہ اعلامیے کے اصولوں کے تحت اس کی عالمی ذمہ داریوں سے براہ راست متصادم ہے۔ چین قانونی طور پر اس معاہدے پر عملدرآمد کا پابند ہے۔ اس مجوزہ قانون سے ایک ملک دو نظام کا فریم ورک کمزور پڑ جائے گا۔ اس اقدام سے یہ امکان بھی جنم لیتا ہے کہ اب ہانگ کانگ میں سیاسی جرائم کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی ہو گی اور اس سے ہانگ کانگ کے عوام کے حقوق کے تحفظ سے متعلق موجودہ وعدے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ان میں ایسے وعدے بھی شامل ہیں جو شہری و سیاسی حقوق پر عالمی معاہدے اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق سے متعلق عالمگیر اقرار نامے کا حصہ ہیں۔

ہمیں اس امر پر بھی انتہائی تشویش ہے کہ اس اقدام سے ہانگ کانگ کے معاشرے میں پہلے سے موجود گہری تقسیم میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس  قانون سے  ہانگ کانگ میں باہمی اتفاق رائے پیدا کرنے اور مفاہمت کے فروغ میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ ہانگ کانگ کے لوگوں سے کیے گئے وعدوں کے مطابق انہیں اپنے حقوق اور آزادیوں سے کام لینے کی اجازت دے کر معاشرے میں اعتماد کی فضا قائم کرنا ہی اس علاقے میں گزشتہ ایک سال سے نظر آنے والے  تناؤ اور بے چینی کے خاتمے کا واحد راستہ ہے ۔ حالیہ دنوں عالمگیر وبا پر دنیا کی توجہ حکومتوں اور عالمگیر تعاون پر  بھرپور اعتماد کا تقاضا کرتی ہے۔ بیجنگ کا یہ اقدام ایسا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اور اس سے مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ  ہے۔

چونکہ اس نئے قانون کے نفاذ سے ہانگ کانگ کا استحکام اور خوشحالی خطرے میں پڑ گئی ہے، اس لیے ہم چین کی حکومت سے کہتےہیں کہ وہ ہانگ کانگ ایس اے آر حکومت اور ہانگ کانگ کے لوگوں سے مل کر اس مسئلے کا باہم قابل قبول حل نکالے جو اقوام متحدہ میں مندرج  چین۔برطانیہ مشترکہ اعلامیے کے تحت چین کی عالمگیر ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتا ہو۔  


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں