rss

امریکہ کی جانب سے پیپلزلبریشن آرمی کی غیرتارک وطن ویزا پروگراموں کو امریکی ٹیکنالوجی اور انٹلیکچوئل پراپرٹی کے غیرقانونی حصول کے لیے استعمال کی استعداد محدود کرنے کا اقدام

中文 (中国) 中文 (中国), العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
یکم جون 2020

 

29مئی کو صدر ٹرمپ نے ایک اعلان جاری کیا جو پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی غیرتارک وطن طلبہ اور محققین کے ویزا پروگراموں کے ناجائز استعمال کی استعداد کو محدود کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) کے ساتھ شفاف اور دوطرفہ تعلقات کے لیے پرعزم ہے اور چین سمیت دنیا بھر سے طلبہ اور محققین کے اہم کام کی بدستور قدر کرتی ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ اپنی قومی و معاشی سلامتی کے تحفظ کا عہد بھی کیے ہوئے ہے۔ ہم  عوامی جمہوریہ چین  کی جانب سے عسکری مقاصد کی تکمیل کے لیے امریکہ کے تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز سے امریکی ٹیکنالوجی اور انٹلیکچوئل پراپرٹی کے غیرقانونی طور پر حصول کی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

صدر کا اعلان تعلیم یا تحقیق کے لیے ایف یا جے ویزا پر امریکہ آنے کے خواہش مند عوامی جمہوریہ چین کے ایسے تمام شہریوں کا داخلہ معطل کرتا ہے جن کی تعلیمی یا تحقیقی سرگرمیوں سے ممکنہ طور پر چین کے کسی ایسے ادارے کو مدد ملتی ہو جو چین کی کمیونسٹ پارٹی ( سی سی پی) کی ”سول۔ملٹری ایتلاف” کی حکمت عملی پر عملدرآمد کرتا اور اس میں مدد دیتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کا اطلاق ایسے طلبہ پر نہیں ہوتا جو امریکہ میں انڈرگریجوایٹ ڈگری کے لیے تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ جمعے کو اٹھائے گئے ہمارے اقدامات چین کی حکومتی پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہیں جن کے ذریعے مخصوص شعبے تک چین کے بعض ذہین ترین گریجوایٹ طلبہ اور محققین کی رسائی کو امریکی اداروں سے حساس ٹیکنالوجی اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی منتقلی اور چوری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور ہمارے کھلے اور شراکتی تعلیمی و تحقیقی ماحول سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس اقدام سے امریکہ کی قومی و معاشی سلامتی سے متعلق مفادات اور امریکی تحقیقی اداروں کی افادیت اور سلامتی کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

ہمیں چین کے عوام سے نہیں بلکہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور مخصوص لوگوں کے ضرررساں اقدامات پر خدشات ہیں۔ چین کی حکومت کی جانب سے جن گریجوایٹ طلبہ کو اپنے عسکری فائدے کے لیے ہدف بنایا گیا، منتخب کیا گیا اور جن کا استحصال کیا گیا ہے وہ امریکہ میں تعلیم و تحقیق کے لیے ویزے کی درخواست دینے والے چینی طلبہ کا قلیل سا حصہ ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ یہ نئی ویزا پالیسی پہلے سے بہتر، کھلے اور شفاف ماحول میں مددگار ہو گی جس میں امریکہ اور چین کے سکالر ایک دوسرے پر بھرپور اعتماد کے ساتھ اکٹھے کام کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ امریکہ اپنی ٹیکنالوجی اور اداروں کے تحفظ اور اپنی قومی و معاشی سلامتی کو محفوظ اور بیرونی مداخلت سے یقینی طور پر پاک رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کرتا رہے گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں