rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا داعش کی شکست کے لیے عالمگیر اتحاد کے وزارتی اجلاس سے خطاب

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
4 جون 2020

 

وزیر خارجہ پومپیو: وزیر خارجہ ڈی مایو، آپ کا شکریہ۔ لوئجی، میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ ہم آپ کے ملک کی کرونا وائرس سے تیزتر اور مستحکم طور سے بحالی کے لیے دعا گو ہیں۔ میں اجلاس میں شریک 31 نمائندوں کا مشکور ہوں۔ ناصرف آج ہونے والے اجلاس بلکہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران ایسی ملاقاتوں میں شرکت پر آپ کا شکریہ۔

میں آخر میں وزیراعظم قدیمی کو خاص طور پر خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں اور عراق میں نئی حکومت کے قیام اور اسے پُرامن انتقال اقتدار پر پورے اتحاد کی جانب سے آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ داعش کی دیرپا شکست کے لیے ہم سب آپ کا مخلصانہ طور سے ساتھ دے رہے ہیں۔ میں بات چیت کے سلسلے کے ذریعے عراق کے عوام اور حکومت کے ساتھ اپنی شراکت کو مزید مضبوط بنانے کا متمنی ہوں جس میں امریکہ۔عراق تزویراتی ڈائیلاگ خاص اہمیت رکھتا ہے جو اس ماہ کے آخر میں شروع ہو گا۔

داعش کی خلافت کی زمینی شکست کو ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔

یہ کامیابی اتحاد کی افادیت کو ثابت کرتی ہے اور مشترکہ فتوحات کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی رہنمائی کے لیے امریکہ کے عزم کو نمایاں کرتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنی تمام مہمات میں نتائج کی توقع رکھتی ہے۔ برطانیہ جتنے علاقے میں قریباً 80 لاکھ لوگوں کو آزاد کرایا گیا۔اس کے بعد بھی داعش کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے اور مطلوبہ نتائج کے حصول تک جاری رہے گی۔ ہم چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔

ہمیں داعش کے ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا اور عراق و شام میں آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لانے میں  مدد دینا ہے۔

ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ داعش اپنی دہشت گرد کاررائیوں میں کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔ گزشتہ ماہ ہی اس نے افغانستان میں ایک ہسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں قتل عام کیا جہاں اس نے ماؤں اور ان کے نومولود بچوں کو نشانہ بنایا۔ یہ داعش کے طریقہ کار کی نمایاں مثال ہے۔ ہم مغربی افریقہ اور دیگر علاقوں میں بھی داعش کے ایسے ہی حملے دیکھ چکے ہیں۔

لہٰذا ہم سب کو لڑائی جاری رکھنا ہے، ہم سب کو مل کر یہ کام کرنا ہے۔

امریکہ داعش کے خلاف اس کوشش میں عسکری محاذ پر اپنا مرکزی کردار جاری رکھتے ہوئے اپنے اس مشترکہ مقصد میں سب سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے اور ہم عراق کی فوری بحالی پر اٹھنے والے مالی بوجھ میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ گزشتہ برس ہی امریکہ نے عراق میں داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں استحکام لانے سے متعلق اتحاد کے مرکزی پروگرام کے لیے 100 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

یہ سچ ہے کہ وبا ہم سبھی ممالک کے مالی وسائل پر بے پایاں بوجھ ڈال رہی ہے مگر ہم آپ کے ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ 2020 تک 700 ملین ڈالر سے زیادہ رقم جمع کرنے کے ہمارے مقصد میں اپنا ڈالیں۔ اس رقم سے شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے کے لیے مقامی شراکت داروں کے ساتھ ہمارے کام میں مدد ملے گی۔

آئندہ برس کے لیے ہم شام اور عراق میں زیر حراست ہزاروں غیرملکی دہشت گردوں کو محفوظ اور انسانی طور سے قید میں رکھنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے لیے بھی اسی اتحاد پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ تمام ممالک کو ان قیدیوں کی واپسی کے حوالے سے اٹلی کی مثال پر عمل کرنا چاہیے اور داعش کے جنگجوؤں اور اس کے سہولت کاروں کا احتساب کرنے کے لیے جرمنی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

میں آخر میں یہ کہوں گا کہ امریکہ مغربی افریقہ میں داعش کے خلاف مربوط جنگ میں مدد دینے کے لیے اپنے اجلاس کے شیڈول میں تبدیلی کا منتظر ہے۔ ہمارے مشترکہ مقصد میں اپنا کردار ادا کرنے پر آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔ خدا کرے کہ اب تک حاصل ہونے والی بہت بڑی کامیابی ہمیں داعش کی حتمی اور دیرپا شکست کے لیے آگے بڑھنے کی  ہمت  دے۔

شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں