rss

جوہری پھیلاؤ سے متعلق ایران کی حساس سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے امریکہ کی عدم پھیلاؤ کے اختیار کے تحت اہم ایرانی جہازراں اداروں پر پابندیاں

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
جوہری پھیلاؤ سے متعلق ایران کی حساس سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے امریکہ کی عدم پھیلاؤ کے اختیار کے تحت اہم ایرانی جہازراں اداروں پر پابندیاں
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
8 جون 2020

 

آج اسلامک ریپبلک آف ایران شپنگ لائنز (آئی آر آئی ایس ایل) اور شنگھائی سے تعلق رکھنے والے اس کے معاون ادارے ای۔سیل شپنگ کمپنی لمیٹڈ (ای سیل) کے خلاف پابندیاں موثر ہو گئی ہیں۔ چھ ماہ قبل میں نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ انتظامی حکم 13382 کی مطابقت سے ایسے اداروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یہ حکم وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والوں اور ان کے معاونین کو ہدف بناتا ہے۔ ایران کو انسانی ضروریات کا سامان برآمد کرنے والوں کو  اشیا کی ترسیل کے متبادل طریقے ڈھونڈنے کی غرض سے خاطرخواہ وقت دینے کے لیے ہم نے ان پابندیوں کے موثر ہونے کی تاریخ 180 یوم تک ملتوی رکھی۔ اب یہ فراخدلانہ التوا ختم ہو چکا ہے اور تجارت و جہازرانی کی صنعتوں میں جو افراد اور ادارے ایران کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں انہیں آئی  آر آئی ایس ایل یا ای۔سیل سے ہٹ کر سامان برداری یا جہازرانی کے طریقے اپنانا ہوں گے۔ کوئی بھی حکومت، ادارہ یا فرد جو آئی آر آئی ایس ایل اور/یا ای۔سیل کے ساتھ کام جاری رکھے گا اسے اب وسیع پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں سے متعلق امریکی پابندیوں کا خطرہ ہو گا۔

آئی آر آئی ایس ایل تواتر سے ایسے سامان کی منتقلی میں مصروف رہا ہے جس کا تعلق ایران کے بلسٹک میزائل پروگرام اور عسکری پروگراموں سے ہے اور یہ طویل عرصہ سے جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے حساس سازوسامان کی ترسیل میں بھی ملوث رہا ہے جن میں ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جنہیں نیوکلیئر سپلائرز گروپ نے غیرقانونی قرار دے رکھا ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار اور انہیں داغنے  کے نظام نہیں بنائے گا، تاہم ایران کی حکومت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے حساس اشیا کی تلاش اور حصول جاری رکھے ہوئے ہے۔ عالمی برادری کو ایران کی اس مسلسل دھوکہ دہی کا نوٹس لینا چاہیے۔ میں دنیا بھر میں جہازرانی کی صنعت اور حکومتوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ غیرقانونی جہازرانی اور پابندیوں سے بچنے کے ہتھکنڈوں سے متعلق 14 مئی 2020 کو جاری کردہ امریکی ہدایت نامے میں موجود معلومات کا جائزہ لیں اور اس پر غور کریں۔ اس ہدایت نامے میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ایران جہازرانی کے عالمگیر نظام کو اپنی ناجائز سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یہ نامزدگیاں ایک واضح انتباہ ہیں کہ آئی آر آئی ایس ایل یا ای۔سیل کے ساتھ کاروبار یا اس کی معاونت کرنے والوں کو ممکنہ پابندیوں کا خطرہ ہے اور ایسا کرنے والے وسیع پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کے ایرانی پروگراموں بشمول جوہری و میزائل پروگراموں کے مددگار قرار پائیں گے۔ ہم دنیا بھر میں سرکاری حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی بندرگاہوں اور سمندری حدود میں آئی آر آئی ایس ایل اور ای۔سیل کی تمام سرگرمیوں کی تحقیقات کریں اور انہیں روکنے کے لیے مناسب قدم اٹھائیں۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ ایران کو جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے ایسی حساس اشیا کے حصول سے روکنے کے لیے چوکس رہے اور عملی قدم اٹھائے جن سے علاقائی استحکام اور سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوتا ہو۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں