rss

عالمگیر مذہبی آزادی سے متعلق 2019 کی رپورٹ کا اجرا وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
10 جون 2020

پریس بریفنگ روم
واشنگٹن، ڈی سی

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو صبح بخیر۔ آج آپ سبھی کے ساتھ موجودگی خوشی کی بات ہے۔ میں فخریہ طور پر ایک مرتبہ پھر یہاں آزادی اور آزاد معاشروں پر بات کرنے آیا ہوں۔ اگرچہ امریکہ ہر نقص سے پاک نہیں ہے، مگر ہم بہتری کی کوشش کرتے ہوئے خود کو مزید بے عیب ملک بنانے کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ہم تہذیبی تاریخ میں بدستور عظیم ترین ملک ہیں۔

موجودہ انتظامیہ میں ہمارے اچھے کاموں میں سے  ایک یہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اس پہلے انتظامی حکم پر دستخط کیے جو پوری امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کو ترجیح بنانے کی ہدایت کرتا ہے۔

میں یہاں دفتر خارجہ  میں اب تک دو مرتبہ مذہبی آزادی کے فروغ سے متعلق وزارتی اجلاس کا انعقاد کروا چکا ہوں۔ ہم نے عالمگیر مذہبی آزادی سے متعلق اتحاد بنایا ہے۔ ہم نے اپنی خارجہ ملازمت کے افسروں کو مذہبی آزادی سے متعلق مسائل کو مزید اچھی طرح سمجھنے کی تربیت دی ہے۔

آج مجھے مذہبی آزادی سے متعلق 2019 کی رپورٹ کا اجرا کرتے ہوئے فخر ہے۔ دنیا میں کوئی اور ایسا ملک نہیں ہے  جسے مذہبی آزادی کا اس قدر خیال ہو۔ ہم پوری دنیا سے مذہبی آزادی کا احوال جمع کرتے ہیں۔ یہ  رپورٹ اس بنیادی انسانی حق کا ایک غیرمعمولی اور جامع احوال ہے۔

میں گزشتہ سال مشاہدے میں آنے والی چند مثبت پیش ہائے رفت پر روشنی ڈالوں گا:

عالمگیر مذہبی آزادی سے متعلق اتحاد کے رکن دی گیمبیا نے روہنگیا باشندوں کے خلاف جرائم سے متعلق  مقدمے  کو دلیرانہ طور سے عالمی عدالت انصاف میں پیش کیا۔

مشرق وسطیٰ میں مذہبی آزادی کا دیرینہ حلیف متحدہ عرب امارات خطے میں چرچ آف جیسوس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کا معبد تعمیر کرنے کی اجازت دینے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

ازبکستان میں مذہبی آزادی کا ریکارڈ بہتر بنانے کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سال کے آغاز میں جب میں ازبکستان میں تھا تو وہاں میری مذہبی رہنماؤں سے بہت اچھی بات چیت ہوئی تھی۔

2019 میں ہمیں غیررجسٹرڈ مذہبی گروہوں کے اجلاسوں پر پولیس کے چھاپوں سے متعلق کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ 2018 میں 114 واقعات اور اس سے پہلے سال میں ایسے 240 واقعات پیش آئے تھے۔ یہ بہت بڑی کامیابیاں ہیں اور انہیں حقیقی پیش رفت کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے دفتر خارجہ کی ٹیم کی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔

تاہم اس حوالے سے دنیا کے کئی حصوں کی صورتحال کو تاریک بھی کہا جا سکتا ہے جہاں کسی مذہبی عقیدے سے وابستہ لوگوں کو تکالیف پہنچائی جاتی ہیں یا انہیں عبادت کا حق نہیں دیا جاتا۔

نکاراگوا کی حکومت مذہبی رہنماؤں اور عبادت گزاروں کو ہراساں کرتی اور دھمکاتی ہے اور عموماً اپنے آلہ کاروں کے ذریعے مذہبی مقامات کی توہین کرتی ہے۔

نائجیریا میں داعش اور بوکوحرام کے مسلمانوں اور عیسائیوں پر حملے جاری ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں داعش نے وہاں 10 عیسائیوں کا سر قلم کیا تھا۔

چین میں تمام مذاہب کے خلاف ریاستی معاونت سے ہونے والا جبر شدت اختیار کر رہا ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی اب مذہبی اداروں کو یہ حکم دے رہی ہے کہ وہ سی سی پی کی قیادت کا حکم مانیں اور اشتراکی اصولوں کو اپنی تعلیمات اور مذہبی رسومات میں شامل کریں۔ سنکیانگ میں ویغور باشندوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں جاری ہیں۔ تبتیوں، بدھ مت کے پیروکاروں، فالن گانگ فرقے سے تعلق رکھنے والوں اور عیسائیوں پر جبر بھی جاری ہے۔

میں سبھی کو آج جاری ہونے والی رپورٹ کا جائزہ لینے کی تجویز دیتا ہوں۔ یہ انسانی وقار کے تحفظ سے متعلق ہمارے عزم کی مضبوط شہادت ہے۔

سفیر براؤن بیک میرے ساتھ کھڑے ہیں جو میری بات چیت کے اختتام پر آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔

گزشتہ ہفتے مجھے تیان من سکوائر میں 31 سال پہلے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے قتل عام میں بچ رہنے والے متعدد لوگوں سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا۔

میں نے چین کی جانب سے اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل  کے لیے ہمارے ملک کی اندرونی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی مکروہ کوششوں سے متعلق بیان بھی جاری کیا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میں بہت سے لوگوں نے وہ بیان دیکھا ہو گا۔

دونوں حکومتوں میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی ہے جبکہ چین میں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں اظہار کی آزادی ہے اور ہم پُرامن احتجاج کی اجازت دیتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے۔ ہم مذہبی آزادی کا تحفظ کرتے ہیں جبکہ چین مذہب کے خلاف کئی دہائیوں سے اپنی جنگ جاری رکھے  ہوئے ہے۔

یہ تضاد نہایت واضح ہے۔ بہترین وقتوں میں بھی چین نے بے رحمانہ طریقے سے اشتراکیت مسلط کی ہے جبکہ امریکہ کو درپیش انتہائی مشکل مسائل میں بھی ہم نے سبھی لوگوں کے لیے آزادی کا تحفظ کیا ہے۔

آزادی کی بات کرتے ہوئے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مائیکل وائٹ کی بحفاظت وطن واپسی پر ہمیں کس قدر خوشی ہے۔ میں خصوصی نمائندے برائن ہُک کے زیرقیادت اپنی ٹیم کی زبردست سفارت کاری کا مشکور ہوں جس کی بدولت مائیکل کی رہائی ممکن ہوئی۔ میں سوئزرلینڈ کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اس کام میں ہماری مدد کی۔

ابھی یہ کام نامکمل ہے۔ امریکی شہری باقر نمازی، سیامک نمازی اور مراد طہباز تاحال ایرانی حکومت کی ناجائز قید میں ہیں۔ تہران کو چاہیے کہ انہیں فوری رہا کرے۔

مشرقی وسطیٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے میں لیبیا کے حوالے سے مختصراً بات کرنا چاہتا ہوں۔

اقوام متحدہ کے زیراہتمام سلامتی سے متعلق بات چیت میں دوبارہ شمولیت کے لیے جی این اے اور ایل این اے کے درمیان معاہدہ پہلا اچھا اور مثبت قدم تھا۔ جنگ بندی پر عملدرآمد اور اقوام متحدہ کے زیرقیادت لیبیا میں مختلف دھڑوں کے مابین سیاسی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے فوری اور نیک نیتی پر مبنی بات چیت درکار ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ لیبیا میں تمام فریق اس حوالے سے عملی قدم اٹھائیں تاکہ  روس یا کسی اور ملک کو اپنے فائدے کے لیے لیبیا کی خودمختاری میں مداخلت کا موقع نہ مل سکے۔

لیبیا کو معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے ملک  میں تیل کی تنصیبات کا تحفظ اور نیشنل آئل کارپوریشن تک موثر رسائی درکار ہے۔

اب میں عراق کی جانب آتا ہوں۔ عراقی حکومت نے کل شروع ہونے والے سٹریٹیجک ڈائیلاگ پر اتفاق کیا ہے جس کی تجویز اپریل میں دی گئی تھی۔ انڈر سیکرٹری ہیل محکمہ دفاع، خزانہ، توانائی اور دیگر اداروں کے نمائندوں کے ہمراہ اپنے عراقی ہم منصبوں کے ساتھ  ان مذاکرات کی قیادت کریں گے۔

ہمارے 2008 کے سٹریٹیجک فریم ورک معاہدے کی بنیاد پر ہونے والے گزشتہ ڈائیلاگ کی مطابقت سے یہ ڈائیلاگ بھی دونوں ممالک میں سیاسی، معاشی، سلامتی، ثقافتی اور توانائی سے متعلق امور سمیت باہمی مفاد کے ہر شعبے کا احاطہ کرے گا۔

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا، تیل کی قیمتیں گرنے اور بڑے بجٹ خسارے سمیت نئے خدشات کی موجودگی میں امریکہ اور عراق کا تزویراتی شراکت داروں کی حیثیت سے ملنا لازم ہے تاکہ دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ یہاں مغربی کرے میں آنے والی بہت بڑی تبدیلی برقرار رکھنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ کامیابی اس علاقے کو آزادی کے کرے میں تبدیل کرنا ہے جس پر ہم بات کر چکے ہیں۔

یہ کام دوطرفہ اور کثیرطرفی صورت میں جاری رہنا چاہیے۔ اسی لیے میں برازیل کے ماس  میڈیکو پروگرام میں کیوبا کے ڈاکٹروں کی جانب سے جبری مشقت میں سہولت دینے کے لیے پین امیریکن ہیلتھ آرگنائزیشن (پی اے ایچ او) کے کردار پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہوں۔ اس واقعے میں کیوبا کے 10 ہزار سے زیادہ طبی کارکنوں کو مبینہ طور پر ان کی مرضی کے خلاف ایک سے دوسری جگہ پہنچایا گیا۔

پی اے ایچ او کو وضاحت کرنا ہو گی کہ اس نے برازیل میں کیوبا کے طبی کارکنوں کے استحصال کے منصوبے میں کیونکر معاونتی کردار ادا کیا۔

پی اے ایچ او کو وضاحت دینی چاہیے کہ اس نے کاسترو کی قاتل حکومت کو 1.3 بلین ڈالر کیوں دیے۔

پی اے ایچ او کو واضح کرنا ہو گا کہ اس نے اس پروگرام میں اپنے کردار پر اپنی ہی ایگزیکٹو کونسل کی منظوری کیوں نہ لی۔

پی اے ایچ او واضح کرے کہ تنظیم  میں کس نے ممکنہ غیرقانونی معاہدے کی منظوری دی۔

اسے یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ جب اس نے یہ پروگرام شروع کروایا تو جمع ہونے والے 75 ملین ڈالر کہاں خرچ کیے۔

اسے دوبارہ ایسے واقعات روکنے کےلیے اصلاحات لانا ہوں گی۔

جیسا کہ ہم نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ کیا ہے ، ٹرمپ انتظامیہ امریکہ کے ٹیکس دہندگان سے مالی معاونت لینے  والے صحت کے تمام عالمی اداروں سے جواب طلبی کرے گی۔ ہماری رقم ایسی چیزوں پر صرف ہونی چاہیے جن سے اچھی اقدار جنم لیں اور جن سے ہماری اقدار کو تقویت ملتی ہو۔

امریکہ اس کرے میں بھی ہر جگہ جمہوری اقدار کے ساتھ ہے۔

ہم گیانا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے فوری اور معتبر نتائج کے منتظر ہیں۔

ہم سرینام میں قانون ساز ادارے کے لیے ہونے والے انتخابات کے شفاف اور قابل اعتبار نتائج کی توقع بھی رکھتے ہیں۔

ہم آزادی کی جستجو میں وینزویلا کے عوام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہمیں مادورو حکومت کے ہاتھوں امریکیوں کے نقصان کو نظرانداز نہیں کرنا۔ ہم ایک مرتبہ پھر مادورو حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ تیل کی صنعت سے تعلق رکھنے والے امریکہ کے چھ منتظمین کو رہا کرے جو کسی مقدمے کے بغیر ڈھائی برس سے زیرحراست ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان میں ہر ایک کو رہا کیا جائے۔

ہم روس سے بھی کہتے ہیں کہ وہ پال ویلن کو رہا کرے جنہیں اب آزاد ہونا چاہیے۔

بھروسہ رکھیے کہ سفیر سلوین اور ان کی ٹیم پال کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

امریکہ روس کی جانب  سے انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں پر بھی نظر رکھے گا۔ 2015 سے روس نے کرائمیا کے ہزاروں مردوں کو اپنی مسلح افواج میں بھرتی کیا اور اطاعت نہ  کرنے والوں کو مجرمانہ سزائیں دیں۔ روس اس قبضے کی مخالفت کرنے والوں پر جبر بند کرے، ناجائز طور پر قید میں ڈالے گئے  یوکرائن کے شہریوں کو رہا کرے اور جزیرہ نما کا مکمل اختیار یوکرائن کے حوالے کرے۔ کرائمیا یوکرائن کا حصہ ہے۔

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اوقیانوس کے اس پار گرین لینڈ کے علاقے نوک میں ہمارے قونصل خانے کا آج رسمی افتتاح ہو گیا ہے۔ مجھے اس پر خوشی ہے۔ اس پر بہت سا کام کرنا پڑا اور یہ ایک اچھی خبر ہے۔ یہ خطہ قطب شمالی سے ہمارے ربط کو مضبوط بنانے کے لیے امریکی انتظامیہ کی کوششوں کی تکمیل ہے اور اس کے لیے میں سفیر کارلا سینڈز اور کوپن ہیگن میں ان کی ٹیم کو بھرپور مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے یہ سب کچھ ممکن بنایا۔

ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کی جانب سے ٹھوس تعاون پر ان کے مشکور ہیں جس کی بدولت ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ برس مجھے اس خبر کا اعلان کرنے کے لیے وہاں جانے کی توقع تھی اور میں اب بھی امید کرتا ہوں کہ مجھے شمال کی جانب اس سفر کا موقع ملے گا۔ آپ تمام لوگ بھی اس دورے پر میرے ساتھ آنا چاہیں گے۔

میں یورپ کے حوالے سے ایک اور بات کرتا چلوں کہ میں البانیہ میں اصلاحاتی عمل کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے باہمی معاہدے کا بھی خیرمقدم کرتا ہوں جس سے جمہوریت مضبوط ہو گی اور البانیہ کے یورپی مستقبل کو بھی مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ ہم تمام فریقین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس سیاسی معاہدے کی تدوین کریں۔

اب افریقہ پر بات ہو جائے۔ امریکہ کانگو کی جانب سے ٹریزر موپوٹو کینکونڈے کی گرفتاری کا خیرمقدم کرتا ہے جو 2017 میں اقوام متحدہ کے ماہر مائیکل شارپ اور زیدہ کیٹالان کے قتل میں ملوث ہے۔ اس کی تلاش اور گرفتاری جمہوریہ کانگو میں قانون کی حکمرانی اور امریکی شہری کے قتل پر انصاف ممکن بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔

کچھ مزید اچھی خبریں بھی ہیں۔ ہم فرانس کو مبارک باد دینا چاہتے ہیں جس نے شمالی مالی میں القاعدہ اسلامک مغرب کے رہنما عبدالمالک دروکدل کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک بڑی فتح ہے۔ ہم نے القاعدہ کے ایک اور اعلیٰ سطحی رہنما کا میدان جنگ سے خاتمہ کر دیا ہے۔ یہ دہشت گرد دنیا بھر کے لیے خطرہ تھا۔

میں کوویڈ۔19 کے معاملے پر سیکرٹری جنرل ژی کی افریقہ کے رہنماؤں سے آئندہ ملاقات پر بھی مختصراً اظہار خیال کرنا چاہوں گا۔ چین اور نام نہاد نجی چینی اداروں کی جانب سے افریقہ میں دیے گئے معمولی مالی عطیات ہمارے علم میں ہیں۔

اس وبا سے نمٹنے کے لیے  چین کی فراہم کردہ مالی مدد وبا سے ہونے والے مالی اور انسانی نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ہمیں یہ خدشہ بھی ہے کہ چین اس وبا کو غیرشفاف قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کرے گا۔ بہت سے ممالک ان قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں اور اس حوالے سے پورے افریقہ میں مایوسی پائی جاتی ہے۔

امریکہ نے افریقہ میں غیرمعمولی طور سے اچھا کام کیا ہے اور اسے جاری رکے گا۔ ایڈز کے خلاف پیپفار پروگرام کی بدولت لاکھوں افریقیوں کی جانیں بچائی گئی ہیں اور امریکہ کوویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقہ میں بہت سے پروگراموں پر عمل پیرا ہے۔ ہم اپنے بہت سے افریقی دوستوں کے ایک قابل اعتبار، شفاف اور مستعد شراکت دار کی حیثیت سے یہ غیرمعمولی امدادی کام جاری رکھیں گے۔

آخر میں مجھے اس وبا سے متاثرہ ممالک اور لوگوں کے لیے امریکہ کی ثابت قدم مدد کے حوالے سے ایک اعلان کرنا ہے۔

سب سے پہلے میں مہاجرین اور غیرمحفوظ تارکین وطن کی امداد کے لیے مزید 14 ملین ڈالر کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔

دوسری بات یہ کہ صدر ٹرمپ کو دنیا بھر میں وینٹی لیٹرز کی فراہمی میں مدد دینے پر فخر ہے۔

آج ہم ان وینٹی لیٹرز کی خریداری اور ان پیچیدہ مشینوں کو چلانے کے لیے درکار تربیت اور مدد کے لیے قریباً 180 ملین ڈالر فراہم کر رہے ہیں۔

اب تک ہم نے 60 سے زیادہ ممالک  کو قریباً 15 ہزار وینٹی لینٹر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

سفیر براؤن بیک: شکریہ۔ شکریہ۔ آج یہاں موجودگی پر آپ سبھی کا شکریہ۔ میں وزیر خارجہ پومپیو کا مشکور ہوں۔ میں صدر ٹرمپ اور نائب صدر پنس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو مذہبی آزادی کے اس اہم معاملے میں  قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

میں جلدی سے ایک مختصر جائزہ پیش کروں گا۔ موجودہ انتظامیہ نے مذہبی آزادی کے موضوع پر بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں جن پر میں روشنی ڈالنا چاہوں گا۔ گزشتہ ہفتے آپ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مذہبی آزادی سے متعلق انتظامی حکم دیکھا ہو گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا میں کسی ملک کے سربراہ نے ایسا قدم اٹھایا ہے۔ صدر ٹرمپ دنیا کے وہ پہلے صدر اور پہلے سربراہ حکومت ہیں جنہوں نے گزشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مذہبی آزادی سے متعلق ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔

وزیر خارجہ نے مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے وزارتی اجلاسوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے ایسے دو اجلاس منعقد کیے ہیں۔ یہ دنیا میں مذہبی آزادی کے موضوع پر اپنی نوعیت کے سب سے بڑے اجلاس تھے اور انہیں ہم دفتر خارجہ کی جانب سے انسانی حقوق کے موضوع پر سب سے بڑی کانفرنسیں کہہ سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے مذہبی آزادی سے متعلق عالمگیر اتحاد شروع کیا۔ وہ امریکہ کے پہلے وزیر خارجہ ہیں جنہوں نے قومی قیادت کی سطح پر ایسا اتحاد منظم کیا جس کا مقصد دنیا بھر میں مذہبی آزادی سے متعلق امور پر کام کرنا ہے۔ گزشتہ برس ہم نے ابراہیمی عقائد سے متعلق اقدام کا آغاز کیا جس کا مقصد مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کی دینی امور سے متعلق اہم شخصیات کو اس مقصد میں شامل کر کے ان عقائد کے مابین امن کو فروغ دینا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے  تمام عقائد اور گروہوں کے لوگوں یا کسی بھی عقیدے کو نہ ماننے والوں کے لیے مذہبی آزادی کو فروغ دینے کی غرض سے ماضی کی کسی بھی امریکی انتظامیہ سے زیادہ کام کیا ہے اور کر رہی ہے۔

آج پاسٹر اینڈریو برنسن دوبارہ اپنے اہلخانہ سے آ ملے ہیں۔ دنیا نے چین کی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی  پامالیوں کا نوٹس لیا ہے اور اس پر آواز اٹھانے لگی ہے۔ آسیہ بی بی کو آزادی پائے ایک سال ہو چکا ہے۔ حالیہ بہتری کی بدولت سوڈان اور ازبکستان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے خاص تشویش کے حامل ممالک کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ بڑی کامیابیاں اور بڑی چیزیں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔

کوویڈ کی وبا سامنے آنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ برما نے 1000 سے زیادہ روہنگیا باشندوں پر الزامات ختم کر کے انہیں قید سے رہا کر دیا۔ ایران نے مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے چند درجن افراد کو ناجائز قید سے رہائی دے دی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے ہر جگہ اور ہر وقت تمام عقائد کے لوگوں کے لیے جدوجہد کی آواز پر لبیک کہا ہے۔ اس قدر غیرمعمولی عملے کے ساتھ کام کرنا اور دنیا کے ہر کونے میں مذہبی آزادی کے لیے کوشش کرنا میرے لیے نہایت اطمینان بخش کام ہے۔ تاہم اب بھی مذہبی آزادی کی صورتحال کو بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا، اس کے بجائے یہ صورتحال نہایت پریشان کن ہے۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں مذہبی آزادی کے بجائے مذہبی بنیاد پر جبر عام ہے اور اسی لیے آج ہم نے عالمگیر مذہبی آزادی سے متعلق 2019 کی رپورٹ جاری کی ہے۔

چین میں مذہبی اقلیتوں کا شمار ایسے گروہوں میں ہوتا ہے جو اپنے عقائد کی بنا پر شدید تکالیف جھیل رہے ہیں۔ ایران میں اقلیتی مذہبی گروہوں کے 109 ارکان محض اپنی مذہبی رسومات پر عمل کی پاداش میں قید ہیں۔ گزشتہ برس حکومت نے خدا کا انکار کرنے پر متعدد لوگوں کو موت کی سزا دی تھی۔ نائجیریا کی شمالی وسطی ریاستوں میں مسلم اکثریتی فولانی چرواہوں اور عیسائی کسانوں کے مابین تنازعات اور خونریزی جاری ہے۔

لہٰذا ہمارے سامنے اپنا کام واضح ہے۔ ہمیں ایسے ممالک کے ساتھ شراکتیں اور اتحاد قائم کرنا ہیں جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے ہم جیسے عزم کے حامل ہوں اور ہمیں برے کرداروں کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنا ہیں۔ ہمیں اپنی صلاحیت میں وسعت لانے کا کام بھی جاری رکھنا ہو گا۔ مذہبی آزادی کی اہمیت کے بارے میں مبالغہ نہیں ہو سکتا۔ اس کام کو ہماری خارجہ پالیسی کے تمام شعبوں تک وسعت دینا ہو گی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اسی لیے صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک نیا انتظامی حکم جاری کیا جس میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کی منصوبہ بندی ، اس پر عملدرآمد نیز بیرون ملک امداد کی فراہمی کے پروگراموں میں عالمگیر مذہبی آزادی کو ترجیحی طور پر مدنظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔

ہم تمام لوگوں کے لیے مذہبی آزادی کو فروغ دینے کے لیے اپنے عہد پر کاربند رہیں گے۔ ہم نے اب تک یہی کچھ کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ صدر اور نائب صدر  کی طرح وزیر خارجہ بھی اس کوشش میں غیرمعمولی قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں آپ اس حوالے سے مزید اقدامات دیکھیں گے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں