rss

خواتین، امن اور سلامتی کی حمایت میں امریکہ کی سفارتی قیادت

English English, Français Français, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
حقائق نامہ
11 جون 2020

 

دہائیوں سے امریکی سفارت کار دنیا بھر میں تنازعات کو روکنے، دہشت گردی اور متشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے خواتین کے رہنما کردار کی حمایت کرتے چلے آئے ہیں۔ 2017 میں امریکہ امن و سلامتی میں خواتین کے کردار پر جامع قانون وضع کرنے والی دنیا کی پہلی حکومت بنی۔ دفتر خارجہ خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق امریکی حکمت عملی پر عملدرآمد کے منصوبے کے ذریعے اس قانون کو مکمل طور سے عملی شکل دینے کا عزم رکھتا ہے۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی کوششوں میں بہت سے اقدامات شامل ہیں:

امن و سلامتی میں خواتین کے قائدانہ کردار کا فروغ

  • دفتر خارجہ افغانستان، عراق، اردن اور فلپائن میں دہشت گردی اور متشدد انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے مشرقی و مغربی افریقہ، جنوبی ایشیا اور مغربی بلقان میں ہونے والی علاقائی کوششوں میں بھی خواتین کے قائدانہ کردار کی حمایت کر رہا ہے۔ ایسے پروگراموں کے تحت معاشروں میں تبدیلی کے لیے رہنما کردار ادا کرنے کے سلسلے میں خواتین کی صلاحیت میں اضافے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اس میں پولیس اور سول سوسائٹی میں خواتین رہنماؤں کا متشدد انتہاپسندی (سی وی ای) کا مقابلہ کرنے کی پالیسی پر مقامی حکام کے ساتھ اور دہشت گرد بنیادپرستی کے تشدد میں تبدیل ہونے کی ابتدائی علامات کی نشاندہی اور اس پر کارروائی کرنے کے لیے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا شامل ہے۔ یہ پروگرام اور ایسے دوسرے پروگرام دہشت گردی کی تحقیقات اور اس حوالے سے عملی اقدامات کے لیے خواتین پولیس افسروں کی صلاحیت میں اضافہ بھی کر رہے ہیں۔
  • خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد انٹرنیشنل وزیٹر  لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی) کے ذریعے خواتین، امن، اور سلامتی سے متعلق منصوبوں میں شرکت کر رہی ہے۔ 2017 سے اب تک 1800 سے زیادہ خواتین متعلقہ موضوعات پر بنائے گئے منصوبوں میں شریک ہو چکی ہیں۔ ان شرکا نے ایسی صلاحیتیں حاصل کی ہیں جن کی بدولت انہیں سیاسی شرکت، صنفی بنیاد پر تشدد (جی بی وی) سے نمٹنے، انسانی حقوق کے حوالے سے قائدانہ کردار کے فروغ اور نظام انصاف میں وکالت سمیت بہت سے موضوعات پر توجہ دینے کا موقع ملا ہے۔
  • دفتر خارجہ قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشن کے اختیارات میں اضافے اور مشن کی رپورٹنگ میں صنفی حوالے سے تجزیے کو مزید موثر بنا کر سیاسی عمل، قیام امن کی کوششوں اور اس حوالے سے عملی کارروائیوں میں خواتین کی بامعنی شرکت میں اضافہ کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں خواتین کی تربیت کے لیے ہماری مدد سے دنیا بھر میں پولیس کے ذریعے قیام امن کی کارروائیوں میں مدد دینے کے پروگرام (آئی پی پی او ایس) اور عالمگیر امن کے لیے عملی کارروائیوں کے اقدام (جی پی او آئی) کے ذریعے قیام امن کی خواتین اہلکاروں کی تعیناتی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دو سال میں ہی جی پی او آئی کے شراکت داروں نے خواتین فوجیوں کی تعیناتی میں 17 فیصد اضافہ کیا ہے اور اس وقت اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں میں خواتین فوجیوں کی تعداد 78 فیصد ہو چکی ہے۔ 2017 سے اب تک آئی پی پی او ایس نے قیادت کی سطح پر 13 کورس مہیا کیے ہیں جن میں کسی امن مشن کے علاقے میں خواتین پولیس افسروں کی موجودگی کے مثبت اثرات کی اہمیت پر پہلے سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن میں شرکت کے لیے رکاوٹوں میں کمی لانے کی کوشش میں قیادت سے متعلق کورس میں اس بات پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے کہ مخلوط صنفی پولیس یونٹوں کو موثر طریقے سے کیسے منظم کیا جا سکتا ہے اور ان کی قیادت کیسے ممکن ہے۔

خواتین اور لڑکیوں کے لیے تحفظ، انسانی حقوق اور وقار کا فروغ

  • خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ، سلامتی اور انہیں انصاف تک رسائی میں مدد دینے کے لیے دفتر خارجہ بدسلوکی کا شکار خواتین کی زندگی بحال کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد دے رہا ہے۔ دفتر خارجہ خواتین، امن اور سلامتی کے حوالے سے عوامی سطح پر دستیاب ایسے اشاریوں کی تیاری میں مالی مدد دے رہا ہے جنہیں اس حوالے سے دنیا بھر میں فوری انتباہ کے نظاموں میں پیش گوئی کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے شامل کیا جا سکتا ہے۔ 2017 سے اب تک دفتر خارجہ کے زیراہتمام تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے کے اقدام نے صنفی بنیاد پر تشدد کے سنگین ترین واقعات کی 1000 سے زیادہ متاثرین کو ہنگامی مدد فراہم کی ہے۔
  • ”آغاز سے محفوظ” نامی اقدام کے ذریعے ہماری معاونت کی بدولت صنفی بنیاد پر تشدد کی سب سے پہلے اطلاع دینے والوں کی تیاری، تربیت اور رہنمائی نیز ایسے تشدد کے خدشے میں کمی لانے اور حفاظتی طریقہ ہائے کار سے متعلق پروگرام ترتیب دے کر امدادی نظام بہتر بنائے جا رہے ہیں۔ اس اقدام نے امدادی حوالے سے ہنگامی صورتحال کے آغاز میں ہی صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے موثر اور فوری اقدام کے لیے ادارہ جاتی ردعمل  ترتیب دیا ہے۔
  • دفتر خارجہ دوران جنگ جنسی تشدد کے حوالے سے عبوری انصاف و احتساب کے حوالے سے امریکہ کی تاریخی روایت برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ہم نے برما، گیمبیا، عراق، سوڈان، جنوبی سوڈان اور شام جیسے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کو دستاویزی شکل دینے میں مدد فراہم کی ہے اور قومی سطح پر عبوری انصاف اور تعزیری انصاف کے خاص طریقہ ہائے کار کے لیے عالمی حمایت جمع کی ہے۔ ان میں جنوبی سوڈان کے لیے افریقی یونین (اے یو) کی مخلوط عدالت، جمہوریہ وسطی افریقہ میں خصوصی تعزیری عدالت اور کمبوڈیا کی عدالتوں میں غیرمعمولی چیمبر شامل ہیں۔ ہم کولمبیا، گوئٹے مالا اور جمہوریہ کانگو میں جنسی تشدد کی متاثرین کی ضروریات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر ہونے والی کوششوں میں مدد دے رہے ہیں۔

اندرون ملک اہلیتوں میں اضافے کے ذریعے اثرپذیری میں بہتری

  • دفتر خارجہ تنازعات کی روک تھام، ان میں کمی لانے اور ان کے حل، شہریوں کو تشدد، استحصال اور انسانی خریدوفروخت سے تحفظ دینے، انسانی حقوق کے عالمگیر قانون اور عالمگیر امدادی قانون سے متعلق اپنے تربیتی مواد کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔ ہم ان پر حسب ضرورت نظرثانی کر رہے ہیں جس کا مقصد خواتین، امن اور سلامتی بشمول خواتین کی بامعنی شرکت یقینی بنانے کے لیے کوششوں پر مزید توجہ دینا ہے۔
  • 2019 میں شروع کردہ عدم استحکام کی نگرانی اور تجزیے کے پروگرام میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار شامل ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے تشدد کی پوری اطلاعات سامنے نہیں آتیں تاہم تجزیے میں دستیاب معلومات کو باقاعدہ طور سے شامل کرنے سے پالیسی سازوں کو یقینی طور پر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ جنگیں خواتین اور لڑکیوں کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
  • اس حوالے سے صورتحال میں استحکام لانے کی امریکی کوششوں میں نمایاں ترین کردار ادا کرنے والے وفاقی ادارے کی حیثیت سے دفتر خارجہ استحکامی تجزیے، منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے سلسلے میں خواتین کی ضروریات اور نقطہ نظر کو یکجا کر رہا ہے اور اس سلسلے میں جنگ سے متاثرہ ممالک میں استحکام لانے کی کوششوں میں خواتین کے تحفظ، انہیں بااختیار بنانے اور ان کی بامعنی شرکت سے مدد لی جا رہی ہے۔

عالمگیر تعاون اور شراکتوں میں وسعت

  • خواتین، امن اور سلامتی کے حوالے سے امریکہ کی پہلی دوطرفہ شراکت میں دفتر خارجہ کولمبیا کی حکومت  کو ‘ڈبلیو پی ایس’ پر ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے اور سول سوسائٹی کے ساتھ بھرپور تعاون میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں دفتر خارجہ کولمبیا میں امن معاہدے بشمول اس میں خواتین کو بااختیار بنائے جانے اور ان کی سیاسی شرکت کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے گاہ رہنے کے لیے کروک انسٹیٹیوٹ کو بھی مدد فراہم کر رہا ہے۔
  • دفتر خارجہ مشرق وسطیٰ میں امن عمل میں فیصلہ سازی، سلامتی کے اداروں اور بحالی کی کوششوں میں خواتین کی بامعنی شرکت کو ترجیح دینے کی کوشش کو فروغ دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں پولینڈ کی حکومت کے تعاون سے انسانی حقوق پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ سے مدد لی جا رہی ہے جس کا کام ‘مشرقی وسطیٰ میں سلامتی کے حوالے سے وارسا عمل’ کے تحت خواتین، امن اور سلامتی کے موضوعات پر توجہ دینا ہے۔ اس ورکنگ گروپ کے پہلے اعلیٰ سطحی اجلاس میں 50 سے زیادہ ممالک نے شرکت کی جس کا انعقاد 2019 میں واشنگٹن میں ہوا تھا۔ اس دوروزہ پروگرام میں شام اور یمن سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں سمیت امریکہ اور شراکت دار ممالک سے ارکان اور اعلیٰ سطحی حکام نے شرکت کی تھی۔ اس جلاس میں مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے تسلسل، معاشی اختیار اور سلامتی سے متعلق اقدامات کے تمام پہلوؤں میں خواتین کی بھرپور شمولیت کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
  • دفتر خارجہ کثیرطرفی روابط کے ذریعے دنیا بھر کی حکومتوں میں خواتین، امن اور سلامتی کے موضوعات پر عملی اقدامات اور تعاون جمع کر رہا ہے۔ خواتین، امن اور سلامتی کے حوالے سے پالیسیاں بنانے کے رحجان کو فروغ دے کر ہم اس حوالے سے بہترین طریقہ ہائے کار سامنے لائے ہیں اور خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق  گلوبل فوکل پوائنٹس نیٹ ورک، سلامتی اور تعاون سے متعلق یورپی ادارے (او ایس سی ای)، اقوام متحدہ کے اداروں اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے لیے وارسا عمل جیسے کثیرملکی اداروں سے اس بارے میں مزید قدم اٹھانے کو کہتے ہیں۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں