rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا ”ورچوئل کوپن ہیگن جمہوری کانفرنس” سے خطاب

Français Français, English English, Español Español, Português Português, العربية العربية, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا ”ورچوئل کوپن ہیگن جمہوری کانفرنس” سے خطاب
اورنج کاؤنٹی، کیلی فورنیا
19 جون 2020

 

وزیر خارجہ پومپیو: اینڈرز، آپ کا بہت شکریہ۔ اس قدر گرمجوش خیرمقدم پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ آج آپ سبھی کے ساتھ موجودگی میرے لیے بے حد خوشی کا باعث، کوپن ہیگن جمہوری کانفرنس کے تمام شرکا کو آداب۔ آپ لوگوں اور سیکرٹری جنرل راسموسِن کا ساتھ میرے لیے اعزاز ہے جو دنیا بھر میں آزادی سے پیار کرنے والے لوگوں کے دوست ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ یہ بات آپ سبھی لوگوں کے علم میں ہے یا نہیں، مگر جب بھی اوقیانوس سے پار تعلقات کو مضبوط کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو اینڈرز عملی طور پر متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بیٹے اور تین خوبصورت پوتے یہاں امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہ امریکہ کے شہری ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملانے کے لیے راسموسن کی اوقیانوس کی دونوں اطراف میں موجودگی خوش کن ہے۔ مجھے آج اس کانفرنس میں مدعو کرنے کا شکریہ۔

جب اینڈرسن نے مجھے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تو میں نے فوری ہاں کی۔ آپ ایسی بہت سی کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں جہاں اس موضوع پر بات ہوتی ہے کہ دنیا میں کیا کچھ غلط ہو رہا ہے۔ میں اس بات پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں کہ آج دنیا میں کیا کچھ اچھا ہو رہا ہے، ہم نے جو اچھی چیز پائی ہے وہ کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ جمہوریت ہے۔ ہمارے سامنے چیلنج یہ ہے کہ جمہوریت کو برقرار کیسے رکھا جائے۔ ہمارے سامنے اس سے زیادہ اچھا مقصد کوئی اور نہیں ہے۔

کئی دہائیاں پہلے میں نے نوجوان فوجی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی زندگی کے چند سال جرمنی میں گزارے تھے۔ اس دوران مجھے ”آئرن کرٹن” کے قریب  گشت کا موقع ملا۔ اس دوران میں نے جبر کا براہ راست مشاہدہ کیا اور میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے اپنے سابقہ کردار اور اب امریکہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے  اپنی موجودہ ذمہ داریوں میں بھی  غیرآزاد حکومتوں کے تمام طور طریقے دیکھ چکا ہوں۔

پہلا اصول: اپنے ہی مردوخواتین پر جبر کرنے میں کوئی بہادری یا دوربینی نہیں ہوتی۔ جمہوریت واحد نظام حکومت ہے جو انسانی وقار، نجی آزادی اور انسانیت کی ترقی کا احترام کرتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ سرمایہ داری تمام انسانی تاریخ میں سب سے بڑا غربت مخالف پروگرام  ثابت ہوا ہے۔

میں چند مختصر باتوں کے بعد آپ کے سوالات لینا چاہوں گا۔

پہلی بات اس موضوع سے متعلق ہے کہ یورپ امریکہ اور چین کے مابین کسی کا انتخاب کرنے پر مجبور ہے۔ میں اس پر قدرے تفصیل سے اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں۔

میرا دوسرا موضوع یہ غلط  مفروضہ ہے کہ اپنی اقدار پر سمجھوتہ کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

میں جہاں کہیں بھی جاتا ہوں وہاں اپنے ہم منصبوں اور اس کانفرنس جیسے ناظرین و سامعین سے دنیا میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت پر بات کرتا ہوں۔ ان میں چین میں ہونے والے واقعات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ میں نے یورپ  میں، قطب شمالی کے خطے میں، وسطی ایشیا میں، افریقہ میں اور الکاہل کے جزائر میں یہی بات کی ہے۔

سالہا سال تک مغرب نے یہ امید باندھی کہ ہم چین کی کمیونسٹ پارٹی کا طرزعمل تبدیل کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ چین کے عوام کی زندگیوں میں بھی بہتری لا سکتے ہیں۔ یہ ایک سودا تھا۔ یہ ایک جوا تھا۔

30 سال پہلے مشرقی یورپ اور سابقہ سوویت یونین میں ابھرنے والی جمہوریت کی لہر نے ہمیں یہ یقین دلایا اور شاید یہ سوچ معقول بھی تھی کہ ہر ملک میں آزادی پھیلنا ناگزیر ہے۔ چنانچہ ہم اس کام میں لگے رہے۔ ہم نے اپنے دروازے ایک ایسی آمر حکومت کے لیے کھول دیے جس کے بارے میں ہم جانتے تھے کہ وہ جمہوری اقدار کی مخالف ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بھی ایک جوا کھیلا۔ اس نے یہ داؤ سوچا کہ وہ ہمیں یہ یقین دلا کر ہماری خیرسگالی سے فائدہ اٹھا سکتی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ایک ساجھے تعلق کی خواہش رکھتی ہے۔ جیسا کہ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے کہا تھا ”اپنی طاقت چھپا لو اور اچھے وقت کا انتظار کرو۔”

میں اس موضوع پر بات کر چکا ہوں کہ ایسا کیوں ہوا۔ یہ ایک پیچیدہ داستان ہے۔ یہاں غلطی کا تذکرہ اہم نہیں ہے۔

کئی دہائیوں تک امریکہ اور یورپ کی کمپنیوں نے بے پایاں امیدوں کے ساتھ چین میں سرمایہ کاری کی۔ میں بھی ایک چھوٹا سا کاروبار کرتا تھا اور ہمیں بھی چین میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس دوران ہم شین ین جیسی جگہوں سے سامان منگوایا کرتے تھے۔ ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کو پی ایل اے سے وابستہ طلبہ کے لیے کھولا۔ ہم نے چین کی ریاستی مدد سے کی جانے والی سرمایہ کاری کا اپنے ممالک میں خیرمقدم کیا۔ اب ہم بری طرح مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود ہمیں ایسے حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم کس کے ساتھ اور کیا معاملہ کر رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اب یہ سب کچھ واضح دکھائی دے رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ پوری دنیا کے سامنے صورتحال روزبروز واضح ہوتی جا رہی ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے ہانگ کانگ میں آزادی کے خاتمے کا حکم نامہ جاری کیا ہے جو کہ اقوام متحدہ میں مندرج معاہدے اور اس کے اپنے ہی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایسے بہت سے عالمی معاہدوں میں سے ایک ہے جنہیں چینی کمیونسٹ پارٹی نے پامال کیا ہے۔

جنرل سیکرٹری ژی نے چینی مسلمانوں کے خلاف جبر کی ظالمانہ مہم شروع کرنے کی منظوری دی۔ یہ   انسانی حقوق کی اس قدر بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہے جس کی دوسری عالمی جنگ کے بعد کوئی اور مثال نہیں ملتی۔

چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے نئے  سرحدی تنازعات کو ہوا دی ہے۔ ہم انڈیا میں یہی کچھ دیکھ رہے ہیں جو دنیا کی انتہائی مقبول اور گنجان جمہوریت ہے۔ ہم نے جنوبی چینی سمندر کے معاملے پر بھی یہی کچھ دیکھا ہے جہاں چین غیرقانونی طور پر مزید علاقے پر دعویٰ کرتا ہے۔ اس اقدام سے اہم سمندری راستوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یہ چین کی جانب سے اپنا عہد توڑنے کی ایک اور مثال ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کا سرکش طرزعمل اپنی ہمسائیگی تک ہی محدود نہیں ہے۔ اگر ہمارا یہی خیال تھا تو اب اسے تبدیل ہونا چاہیے۔ اس سے ہم سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ چین نے کورونا وائرس کے حوالے سے جھوٹ بولا اور اسے دنیا بھر میں پھیلنے دیا۔ اس کے ساتھ چین نے عالمی ادارہ صحت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے طرزعمل پر پردہ ڈالنے کی مہم میں معاونت کرے۔ یہ شفافیت کے حوالے سے ناکامی ہے جو آج بھی جاری ہے۔ اب اس بیماری سے لاکھوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ حتیٰ کہ یہ وبا پھوٹنے سے کئی ماہ بعد بھی ہمیں تجزیے کے لیے زندہ وائرس تک رسائی نہیں ہے، ہمارے پاس چین میں موجود سہولیات تک رسائی نہیں ہے اور تاحال ووہان میں دسمبر میں سامنے آنے والے مریضوں کے حوالے سے معلومات بھی دستیاب نہیں ہیں۔

چین غلط معلومات اور عناد پر مبنی مہمات چلا رہا ہے جس کا مقصد ہماری حکومتوں کو کمزور کر کے امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں دراڑ پیدا کرنا اور دنیا کے ممالک کو قرض تلے دبا کر اور اپنا تابع بنا کر ان پر تسلط قائم رکھنا ہے۔

آپ یہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں۔ یہاں موجود ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی ممالک کو ہواوے کے ساتھ کاروبار کے لیے مجبور کرتی ہے جو کہ سی سی پی کے نگرانی کے پروگرام کا حصہ ہے۔ چین پائریئس سے ویلنشیا تک بندرگاہیں اور اہم نوعیت کا انفراسٹرکچر خرید کر یورپ کی خودمختاری پر کھلے حملے کر رہا ہے۔

ہمیں چین کے ساستھ تجارتی تعلقات کا خوش کُن پردہ ہٹانا ہو گا اور یہ ادراک کرنا ہو گا کہ چین کا مسئلہ ہمارے دروازوں تک نہیں پہنچا بلکہ یہ ہر دارالحکومت، ہر قصبے اور ہر صوبے میں موجود ہے۔

چینی ریاست کی ملکیتی ہر کاروبار کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کو شبے کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔

یورپ کو چین سے انہی مسائل کا سامنا ہے جن کا سامنا  امریکہ کو ہے اور جس طرح ہمارے جنوبی امریکی، افریقی، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے دوستوں کو بھی ہے۔

اس ہفتے سوموار کو مجھے یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں سے بات کا موقع ملا۔ میں جانتا ہوں کہ یورپ میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے یورپی ممالک امریکہ اور چین میں سے کسی ایک سے دوستی رکھیں۔

مگر ایسا نہیں ہے۔ دراصل یہ چینی کمیونسٹ پارٹی ہے جو یورپی ممالک کو اس انتخاب پر مجبور کر رہی ہے۔ یورپی ممالک کو امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا بلکہ انہیں آزادی اور جبر میں سے کسی ایک چیز کا چناؤ کرنا ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی یہ چاہتی ہے کہ ہم نے آزاد دنیا کا حصہ ہوتے ہوئے نیٹو اور دوسرے رسمی و غیررسمی اداروں کے ذریعے جو کامیابی پائی ہے اسے ترک کر دیں اور بیجنگ کی مرضی کے نئے اصول و ضوابط اختیار کر لیں۔

تاہم میں نہیں سمجھتا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی خالصتاً یورپی یا امریکہ طریقہ بھی ہے۔ ہمارے لیے اپنی اقدار سے دستبردار ہونے کے علاوہ اس صورتحال کو قبول کرنے کی کوئی اور راہ نہیں ہے۔ آمرانہ حکومتوں کی دست نگر جمہوریت کو جمہوریت نہیں کہا جا سکتا۔

دیکھیے، میرے یورپی دوست اس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان سب کے خیالات ایک سے نہیں ہیں اور مختلف ممالک کی جانب سے الگ الگ طرح سے بات کی گئی ہے۔ تاہم یہ ضرور دیکھنے کو ملا ہے کہ یورپی ممالک کو اس خطرے کا ادراک ہو رہا ہے۔ میں نے ان میں کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ آیا جمہوری طرز زندگی فتح یاب ہو سکتا ہے یا نہیں۔

بیجنگ ہماری اس غیریقینی کیفیت پر مسرور ہے۔ تاہم اسے اتنا پراعتماد نہیں ہونا چاہیے۔ ہم جیت رہے ہیں۔ میونخ میں میری بات پر آپ نے یہی کچھ کہا تھا۔

فرانس میں سی سی پی کے ایک سفارت کار نے حالیہ دنوں کہا ہے کہ ”مغرب میں بعض لوگ لبرل جمہوریت پر اعتماد کھونے لگے ہیں۔” اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”بعض (مغربی ممالک) نفسیاتی طور پر کمزور ہو چکے ہیں۔”

تاہم جمہوریت اتنی کمزور نہیں ہوتی جتنا اس کے بارے میں چینی کمیونسٹ پارٹی کا خیال ہے۔ جمہوریت مضبوط ہے۔ ہم نے فسطائیت کو شکست دی۔ ہم نے سرد جنگ جیتی ہے۔

دراصل آمریت کمزور ہوتی ہے۔ سی سی پی کی جانب سے پروپیگنڈا کرنے والے عناصر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی غرض سے اطلاعات اور اظہار پر تسلط جمانے کے لیے کڑی محنت کرتے ہیں۔ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ڈیجیٹل فائروال ہمارے ممالک تک نہیں پھیل جاتی۔ بعض طرح سے دیکھا جائے تو ایسا پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اینڈرز ہم اس پر قدرے تفصیل سے بات کر سکتے ہیں۔

جہاں میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ جمہوریت کمزور ہوتی ہے، وہیں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جمہوریت کو بالاحتیاط نگرانی اور مسلسل چوکسی کی ضرورت رہتی ہے۔ اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ نجی بات چیت میں یہ جان کر میری حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اس ہفتے ہماری بھرپور  بات چیت ہوئی ہے جس کا میں نے پہلے تذکرہ کیا ہے۔ ہم نے اس موضوع پر بحث کی کہ جمہوریتوں کو کیا کرنا ضروری ہے۔ ہمیں بالکل اسی طرح کا مباحثہ کرنا چاہیے۔ یہ اچھی ملاقات تھی اور ہم چین کے معاملے پر اپنے یورپی دوستوں سے بات چیت جاری رکھیں گے۔

اسی دوران بہت سے مثبت اقدامات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ چین کے معاملے پر بڑی تعداد میں یورپی رہنماؤں پر مشتمل نیا بین پارلیمانی اتحاد ایسا ہی اقدام ہے جس میں ہر ہفتے نئے ارکان کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈنمارک نے اپنے اخبارات کو سنسر کرنے کے حوالے سے سی سی پی کی کوششوں کے خلاف جراتمندانہ موقف اپنایا ہے۔ برطانیہ اپنے مواصلاتی نیٹ ورکس کو ہواوے سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ چیک ریپبلک چین کی جابرانہ سفارت کاری کے خلاف کھڑا ہے۔ سویڈن نے اپنی سرزمین پر تمام کنفیوشس ادارے بند کر دیے ہیں۔ ہمارے نیٹو اتحادیوں نے 2020 سے 2024 کے درمیان مجموعی دفاعی اخراجات کو 400 بلین ڈالر تک لے جانے کا عہد کیا ہے۔

برسلز میں اینڈرز کے جانشیں، جنرل سیکرٹری سٹولٹن برگ نے حال ہی میں ”آزادی اور جمہوریت کی  بنیادوں پر استوار دنیا کی حمایت” سے متعلق نیٹو اتحاد کے مینڈیٹ اور ایشیا۔الکاہل خطے میں چین کے ضرررساں اثرورسوخ سے نمٹنے کے بارے میں دوربینی پر مبنی بات کی ہے۔

میں یہاں اپنی گفتگو کا اختتام کروں گا تاکہ اینڈرزز بات کر سکیں۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ جمہوریت آسان نہیں ہوتی۔ اس میں بہت سی ابتری بھی پائی جاتی ہے۔ پوری دنیا دیکھ سکتی ہے کہ کیسے ہم ایک دوسرے سے تندوتیز بحث کرتے ہیں جیسا کہ اس وقت میرا ملک کر رہا ہے۔ تاہم یہ جدوجہد بنیادی اقدار کے بارے میں ہمارے عہد اور مزید بہتر اتحاد کے لیے ہماری مسلسل جستجو کا اظہار ہے۔ یہی ہمارا انداز ہے اور اپنے یورپی دوستوں کے ساتھ ہماری یہ اقدار مشترک ہیں۔

مجھے امید ہے کہ مجھے چین سے درپیش مسائل سے متعلق یورپ کی جانب سے عوامی سطح پر مزید بیانات سننے کو ملیں گے کیونکہ ہم سب ممالک کے لوگوں کو اس بارے میں آگاہی ملنی چاہیے۔ اس معاملے میں امریکہ آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ آئیے واضح طور پر بات کریں اور اس سے بھی اہم یہ ہے کہ فیصلہ کن اقدامات اٹھائے جائیں۔ ہمیں جبر اور آزاد  ی کے مابین انتخاب سے متعلق اپنی سوچ واضح رکھنی چاہیے۔ اینڈرز ، میں آپ کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کا منتظر ہوں۔ خدا آپ سب پر اپنی رحمت کرے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں