rss

چین کے مزید میڈیا اداروں کی غیرملکی مشن کے طور پر نامزدگی

العربية العربية, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان
22 جون 2020

 

گزشتہ دہائی میں اور خاص طور پر جنرل سیکرٹری ژی جن پنگ کے دورِ حکومت میں چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) نے خبر رساں اداروں کے بھیس میں کام کرنے والے چین کے ریاستی پروپیگنڈہ اداروں کو ازسرنو منظم کیا اور انہیں مزید براہ راست کنٹرول میں لے لیا ہے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ ”پارٹی کے ملکیتی ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ پارٹی کی منشا پر چلیں، پارٹی کے اختیار کا تحفظ کریں اور ان کی سرگرمیاں پارٹی کے مقاصد سے پوری طرح ہم آہنگ ہوں۔” مختصر یہ کہ جہاں مغربی میڈیا سچائی کا پابند ہے وہیں چین کا میڈیا چینی کمیونسٹ پارٹی کے احکامات کی پیروی کرتا ہے۔

دفتر خارجہ بیرون ملک سفارتوں سے متعلق قانون کی مطابقت سے آج ایک نئے فیصلے کا اعلان کر رہا ہے جس کی روس سے چین کے مرکزی ٹیلی ویژن، چینی خبررساں ادارے، دی پیپلز ڈیلی اور گلوبل ٹائمز کو غیرملکی مشن قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 18 فروری کو خبررساں ادارے ژنہوا، چینی گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک، چائنا ریڈیو انٹرنیشنل، چائنا ڈیلی ڈسٹری بیوشن کارپوریشن اور ہے تیان ڈویلپمنٹ یو ایس اے کو بھی غیرملکی مشن کے طور پر نامزد کیا جا چکا ہے۔

یہ نو ادارے غیرملکی سفارتوں سے متعلق قانون کے تحت غیرملکی مشن کی تعریف پر پورا اترتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ادارے بڑی حد تک کسی غیرملکی حکومت کی ملکیت یا  موثر طور سے اس کے زیراثر ہیں۔ حالیہ معاملے میں ان اداروں پر چین کی حکومت کا موثر کنٹرول ہے۔

ان اداروں کی یہ نامزدگی ان کی جانب سے کسی طرح کا خبری مواد جاری کرنے پر عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی امریکہ میں ہوتے ہوئے ان کی جانب سے نشروشائع کی جانے والی اطلاعات پر کوئی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد محض ان اداروں کی اصل شناخت سامنے لانا ہے۔

غیرملکی مشن کے طور پر نامزد اداروں کے لیے مخصوص انتظامی شرائط کی پابندی ضروری ہے جن کا اطلاق امریکہ میں غیرملکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر بھی ہوتا ہے۔

یہ فیصلہ چین کے پروپیگنڈہ اداروں کی  غیرملکی مشن کے طور پر شناخت کرتا ہے اور امریکہ میں چینی کمیونسٹ پارٹی اور چینی حکومت کی میڈیا سے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے  شفافیت میں اضافہ کرتا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں