rss

تشدد کے متاثرین کی حمایت میں عالمی دن

Français Français, English English, Español Español, Português Português, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ترجمان دفتر خاجہ مورگن اور ٹیگس کا بیان
26 جون 2020

 

تشدد کے متاثرین کی حمایت میں عالمی دن کے موقع پر ہم دنیا بھر میں  متاثرین اورایسے واقعات میں  بچ رہنے والوں کو تعظیم پیش کرتے ہیں۔ ہم یہ دن ہر سال اُس تاریخ کو مناتے ہیں جب تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیرانسانی یا رسوا کن سلوک یا سزا کے خلاف اقوام متحدہ کے زیراہتمام  معاہدہ عمل میں آیا تھا۔ اس وقت سے اب تک امریکہ سمیت دنیا کے 166 ممالک اس معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں۔ امریکہ ایسے افعال میں ملوث عناصر کے احتساب کو فروغ دینے کے لیے تمام دستیاب ذرائع سے کام لینے کا عہد کیے ہوئے ہے۔ ایسی سرگرمیوں سے متاثرین کی زندگی تباہ ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں بدستور دنیا بھر سے تشدد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ایرانی حکومت اپنے عوام کو دبانے اور انہیں سزا دینے کے لیے  تشدد کی سرکاری اور غیرسرکاری طور پر منظور شدہ  بہت سے اقسام سے کام لیتی ہے۔ تشدد کی سرکاری طور پر منظور شدہ اقسام میں کوڑے مارنا، آنکھیں نکالنا، سنگسار کرنا اور معذور کرنا شامل ہیں۔ غیرسرکاری طور پر ایرانی حکام نے جنسی تشدد سے بھی کام لیا ہے جس کی ہم انتہائی کڑے طور سے مذمت کرتے ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین کے صوبے سنکیانگ میں ویغور، قازق النسل، کرغیز اور دیگر مسلم اکثریتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جبراً نظربندی کیمپوں میں رکھا گیا ہے جہاں بہت سے لوگوں نے تشدد کی اطلاع دی ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت بھی اپنے حراستی مراکز میں خاص طور پر بیرون ملک سے جبراً واپس لائے گئے منحرفین بشمول بچوں پر تشدد کو معمول کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کر رہی  ہے۔

علاوہ ازیں ہم اسد حکومت کی جانب سے جبری قید اور تشدد کی مہم کی مذمت کرتے ہیں اور ناجائز و جبری طور پر قید تمام لوگوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں جن میں شامی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا واحد جرم یہ تھا کہ انہوں نے اصلاح اور تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ مزید براں ہم روس کے وفاقی حکام سے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چیچن جمہوریہ میں جبری حراستوں اور تشدد کے ذمہ داروں کو دی گئی کھلی چھوٹ کا خاتمہ کریں۔

اسی طرح ہم نکارا گوا اور کیوبا کی حکومتوں اور  وینزویلا میں مادورو کی ناجائز حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے تشدد کے استعمال سے باز رہیں اور انسانی حقوق و بنیادی آزادیوں پر آمرانہ جبر کا خاتمہ کریں۔ ہم سبھی کو یاد ہے کہ ایک سال پہلے ہائی کمشنر بیشلے وینزویلا کے عوام کے خلاف ظالمانہ تشدد کی تحقیقات کے لیے وہاں موجود تھیں۔ اس سے چند روز بعد کپتان اکوسٹا ایریویلو تشدد کے قابل مذمت اقدامات کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

مزید برآن  زمبابوے کی حکومت بھی  اپنے عوام کو دبانے کے لیے ریاستی سرپرستی میں تشدد سے کام لیتی ہے۔ اس میں سول سوسائٹی بشمول مزدور رہنماؤں اور حزب اختلاف کی شخصیات کو دبانے کے لیے لوگوں کا اغوا اور ان پر تشدد بھی شامل ہے۔ ہمیں حزب اختلاف کی تین خواتین رہنماؤں کے اغوا، بدسلوکی اور انہیں جنسی حملے کا نشانہ بنائے جانے پر  خاص تشویش ہے۔ ان میں جوآنا مامومبے، سیسیلیا چمبیری اور نیٹسائی مارووا شامل ہیں جنہیں ایک پُرامن مظاہرے سے اغوا کیا گیا تھا۔ یہ خواتین بدستور جیل میں ہیں جنہیں ضمانت پر رہائی دینے سے انکار کیا گیا ہے۔

یہ ممالک دنیا بھر میں ایسی بہت سی حکومتوں میں سے چند مثالیں ہیں جو اپنی مخالف آوازوں کو خاموش کرنے، اعتراف جرم پر مجبور کرنے اور ماورائے عدالت سزائیں دینے کے لیے تشدد سے کام لے رہی ہیں۔ ایسے افعال قانون کی حکمرانی سے متضاد ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت میں اس عالمی دن پر ہم تمام حکومتوں سے کہتے ہیں کہ وہ تشدد کو روکنے، تشدد کے متاثرین کو تلافی دینے اور ان کی بحالی نیز تشدد میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں