rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف اسلحے کی پابندی کے معاملے پر خطاب

Español Español, English English, Português Português, العربية العربية, Français Français, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
واشنگٹن ، ڈی سی
30 جون 2020

 

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ نکولس۔ میرے لیے انگریزی میں تعارفی کلمات پر شکریہ۔ میں اس کی قدر کرتا ہوں۔

سبھی کو صبح بخیر۔ جناب سیکرٹری جنرل، آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ روزمیری، آراء کے اظہار پر میں آپ کا مشکور ہوں۔ میں آپ سے ایران میں انسانی امداد سے متعلق کچھ باتیں کرنا چاہوں گا۔ امریکہ نے ایران میں کوویڈ کی موجودگی پر اس کے لیے امداد میں سہولت مہیا کرنے کی کوشش کی۔ درحقیقت ہم نے ایرانیوں کو امریکی مدد کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ لہٰذا میرے خیال میں یہ کہنا زمینی  حقیقت کے بارے میں غلط فہمی کے مترادف ہو گا کہ ہماری پابندیوں کے باعث ایران کو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیش آئی ہے۔

گزشتہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ناقص انداز میں جوہری معاہدہ طے کرنے کے باعث دنیا کی انتہائی وحشیانہ حکومت پر عائد اسلحے کی پابندی 18 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔ اس میں اب محض چار ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ چار ماہ۔

اس چیمبر کو فیصلہ کرنا ہے کہ یا تو عالمگیر امن اور سلامتی کے لیے کھڑا ہوا جائے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے بانیوں نے چاہا تھا، یا اسلامی جمہوریہ ایران پر اسلحے کی پابندی ختم ہونے دی جائے اور یوں اقوام متحدہ کے مقصد اور اس کے عمدہ ترین آدرشوں سے غداری کی جائے جن کی پاسداری کا ہم سب نے عہد کر رکھا ہے۔

اگر آپ اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھانے میں ناکام رہتے ہیں تو ایران روسی ساختہ لڑاکا جیٹ خریدنے کے لیے آزاد ہو گا جو 3000 کلومیٹر کے دائرے میں حملہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح ریاض، نئی دہلی، روم اور وارسا ایران کے نشانے پر ہوں گے۔

اسلحے کی پابندی ختم ہونے کی صورت میں ایران عالمگیر جہاز رانی اور آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے مزید خطرات پیدا کرنے کے لیے اپنی آبدوزوں کے بیڑے کو جدید بنانے اور وسعت دینے کے لیے آزاد ہو گا۔

ایران مشرق وسطیٰ بھر میں اپنے آلہ کاروں اور شراکت داروں بشمول حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کے لیےنئی اور جدید ٹیکنالوجی خریدنے کے لیے آزاد ہو گا۔

ایسے میں ایران کے ہاتھ گویا ڈیموکلیس کی تلوار آ جائے گی جو وہ مشرقی وسطیٰ کے معاشی استحکام پر لہرائے گا اور یوں روس اور چین جیسی معیشتوں کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا جو توانائی کی مستحکم قیمتوں پر انحصار کرتے ہیں۔

ایران اسلحے کا سرکش بیوپاری بننے کے لیے آزاد ہو گا اور وینزویلا سے شام اور افغانستان میں دوردراز تک تنازعات کی آگ بھڑکانے کے لیے اسلحے کی ترسیل کرے گا۔

گزشتہ سال نومبر میں صدر روحانی نے خود کہا تھا کہ ”آئندہ سال جب پابندی ہٹ جائے گی تو ہم باآسانی ہتھیار خرید اور فروخت کر سکیں گے۔” ہمیں ان کے الفاظ پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔

ایران آسٹریلیا یا انڈیا جیسی ذمہ دار جمہوریت نہیں ہے۔ ہم یہ بات پہلے سے جانتے ہیں۔ اگر تہران کو مزید ہتھیار خریدنے کی صلاحیت مل جائے تو وہ خریدے گا۔

سیکرٹری جنرل کی ‘یواین ایس سی آر 2231’ رپورٹ پر غور کریں جس پر آج ہم تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ ستمبر 2019 میں سعودی عرب پر حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار ایرانی ساختہ تھے۔ رپورٹ میں یہ تصدیق بھی کی گئی ہے کہ نومبر 2019 اور فروری 2020 میں یمن کے ساحل سے قریب ہتھیاروں کی جو کھیپ روکی گئیں وہ ایرانی ساختہ تھے۔

ایران اسلحے کی پابندی ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تصور کیجیے کہ اگر ممالک کے اس گروہ کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں تو کیا ہو گا۔

ایرانی حکومت اس کے علاوہ جو کچھ کر رہی ہے اسے دیکھنے کے لیے ہمیں سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ جنوری میں ایران نے اپنے ہاں تیار کردہ جدید میزائلوں سے عراق میں اتحادی فورسز پر حملہ کیا۔

حتیٰ کہ ایران آج بھی کتائب حزب اللہ جیسے شیعہ ملیشیا گروہوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ یہ وہ گروہ ہیں جنہوں نے گزشتہ برس کے اواخر سے امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف درجنوں راکٹ حملے کیے ہیں۔ یہ وہ افواج ہیں جو داعش کے خلاف اہم مہم میں مصروف کار ہیں۔

ایران نے خلیج اومان میں تجارتی بحری جہازوں پر زیرآب بارودی سرنگوں کے ذریعے حملے شروع کر دیے ہیں جیسا کہ اس نے گزشتہ برس مئی اور جون میں کیا تھا۔

قریباً تمام ممالک کے پاس اسلحہ ہے۔ بالغ نظر اقوام اسے دفاعی مقاصد اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

مگر اسلامی جمہوریہ ایران کی یہ روش نہیں ہے۔

اسے محض میرا یا امریکہ کا مسئلہ مت سمجھیں۔ اس خطے کے ممالک کی بات سنیں۔ اسرائیل سے خلیج تک ایران کی غارت گری سے بری طرح متاثر مشرق وسطیٰ کے ممالک یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ: اسلحے پر پابندی میں توسیع کریں۔

اس کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ممالک کی بات سنے۔

امریکہ کی غالب ترجیح یہ ہے کہ انسانی زندگی کی حفاظت، اپنی قومی سلامتی کو تحفظ دینے اور آپ کی سلامتی محفوظ بنانے کے لیے اسلحے پر پابندی میں توسیع کے لیے اس کونسل کے ساتھ کام کیا جائے۔

ہم نے 13 برس تک تہران پر مختلف انداز میں اسلحے کی پابندیاں عائد کی ہیں جن کا خاطر خواہ اثر ہوا ہے۔

2007 میں جب ہم نے متفقہ طور پر سلامتی کونسل کی قرارداد 1747 منظور کی تو کونسل میں برطانیہ کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ”ایران کی جانب سے اسلحے کے پھیلاؤ کی راہ کو عالمی برادری قبول نہیں کر سکتی۔” سلامتی کونسل کی یہ قرارداد دیگر اقدامات کے علاوہ ایران کو اسلحے کی منتقلی کی ممانعت کرتی ہے۔

میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے بیانات کا خیرمقدم کرتا ہوں جنہوں نے حال ہی میں یہ تسلیم کیا ہے کہ اسلحے کی پابندی اٹھائے جانے سے علاقائی سلامتی اور استحکام پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

میں امریکی کانگریس کے قریباً 400 ارکان کی حمایت کا بھی مشکور ہوں۔ آپ میں جو لوگ ان ارکان کی تعداد سے واقف نہیں ہیں انہیں بتاتا چلوں کہ یہ تعداد 435 ہے۔ ان میں قریباً 400 ارکان نے اس پابندی میں توسیع کے حوالے سے میری سفارت کاری کی حمایت کی ہے۔ ہمارا خدشہ جانبدارانہ سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

ہم جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایران کے اقدامات سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں  کہ جب ہم پابندیاں اٹھاتے ہیں یا جوابدہی کے عمل میں نرمی کرتے ہیں تو ایرانی حکومت اپنا طرزعمل بہتر نہیں بناتی۔اس کے بجائے  یہ متضاد رویہ اختیار کرتی ہے۔

ایران بدستور معاہدے پر کاربند ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنے تخریبی جوہری اقدامات کی شدت میں کوئی کمی نہیں لایا۔ یہ حقیقت اس کے اپنے اعترافات اور آئی اے ای اے کی تصدیق سے عیاں ہوتی ہے۔

ایران خطرناک معلومات بھی اکٹھی کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ برس کے اواخر میں ایران نے اعلان کیا کہ اس کے سائنس دان ایک نئے سینٹری  فیوج ‘آئی آر۔9’ پر کام کر رہے ہیں جس کی بدولت اسے ‘آئی آر۔1’ سینٹری فیوج کی نسبت 50 گنا زیادہ تیزی سے یورینیم افزودہ کرنے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران کو صرف ‘آئی آر۔1 ‘سینٹری فیوج  رکھنے کی اجازت ہے۔

ایران ایسی تحقیق میں بھی مصروف ہے جس کی بدولت وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار یورینیم تک قبل از وقت رسائی پا سکتا ہے۔ اس نے آئی اے ای اے کو ایسی جگہوں پر معائنے کی اجازت بھی نہیں دی جس کا وہ جوہری معاہدے کے تحت پابند ہے۔

ایران کے حوالے سے ناقابل تردید حقائق کو دیکھا جائے تو سلامتی کونسل محض یہ امید نہیں رکھ سکتی کہ ایران کے اقدامات نیک نیتی پر مبنی ہیں۔

کونسل ایران سے جواب طلبی کرے۔ ہم سب کے پاس یہ قدم اٹھانے کا نادر موقع ہے۔

اس کے ساتھ ہی میں اپنی بات ختم کروں گا۔ اس موقع پر میں اپنے عظیم تر مقصد کے لیے اپیل پر اپنی بات کا اختتام کروں گا۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 1 یہ کہتا ہے کہ اقوام متحدہ کا مقصد ”امن کو لاحق خطرات کی روک تھام اور ان کے خاتمے کے لیے موثر مجموعی اقدامات بروئے کار لانا ہے۔”

اس نمایاں شہادت پر غور کیجیے جس کی تفصیل میں نے آج بیان کی ہے۔ یہ ہمارے پاس موجود ثبوتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اگر ایران امن کے لیے ایسا خطرہ نہیں ہے جو مجموعی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے تو پھر میں نہیں جانتا کہ ہمیں کس سے خطرہ ہے۔

کونسل جبر پر مبنی سفارت کاری کو مسترد کرے۔ صدر روحانی  نے حال ہی میں کہا ہے کہ ”اگر تہران پر اسلحے کی پابندی میں توسیع ہوئی تو ایران دندان شکن جواب دے گا۔”

ایران کی جانب سے دہشت گردی اور تشدد سے کام لینے کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو شاید ہمیں اس خطرے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ ایران کے وزیر خارجہ آج خطاب کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ وہ ہمیں بتائیں گے کہ وہ کسے کچلنا چاہتے ہیں اور کیسے کچلیں گے۔

پابندی کی تجدید سے ایران پر ذمہ دار ملک جیسا برتاؤ کرنے کے لیے مزید دباؤ آئے گا۔

دنیا کو اسی کی ضرورت ہے۔ طویل عرصہ سے مصائب جھیلنے والے ایرانی عوام کو یہی کچھ درکار ہے۔

پچھتر سال پہلے اقوام متحدہ کے بانی دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد اکٹھے ہوئے تھے جن کا مقصد یہ بات یقینی بنانا تھا کہ دنیا کو دوبارہ ایسے خوفناک حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ہمیں خود کو درپیش مسئلے سے محض اس بات پر نہیں گھبرانا کہ ہمارے سامنے مشکل راستہ ہے۔

آئیے عالمگیر امن اور سلامتی کو اسلامی جمہوریہ ایران سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے اس ادارے کے مقصد پر کاربند رہیں۔

آئیے اسلحے پر پابندی میں توسیع کر کے اس کونسل کے نام پر عملی قدم اٹھائیں۔

مجھے آج یہاں خطاب کی دعوت دینے پر آپ سبھی کا شکریہ۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں