rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Español Español, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
پریس بریفنگ روم، واشنگٹن ڈی سی
یکم جولائی 2020

 

میں ٹھیک ٹھاک ہوں۔ یہ مدنظر رکھتے ہوئے کہ اب جولائی کی چار تاریخ آنے کو ہے یا تیزی سے قریب آ رہی ہے تو میں نے سوچا کہ آج امریکہ کے بنیادی اصولوں کے بارے میں چند خیالات کا اظہار کروں۔ امریکہ دنیا کا پہلا ملک تھا جس کی ابتدا اس بات سے ہوئی تھی  کہ حکومت ہمیں خدا کے دیے ناقابل انتقال حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ میں آنے والے چند ہفتوں میں اس بابت کچھ مزید باتیں کہوں گا۔

یہ انقلابی نظریہ تھا۔ خارجہ پالیسی کے ان پیچیدہ امور پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے۔ عوام کی حکومت عوام کے ذریعے کا نظریہ پہلے بھی اہم تھا، اب بھی ہے اور یہ ایک منفرد نظریہ تھا۔ ہم بحیثیت قوم ہمیشہ پہلے سے بہتر طور پر متحد ہونے کی جستجو کرتے چلے آئے ہیں۔ ہم اس حوالے سے ہمیشہ کامیاب نہیں رہے مگر ہم خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی بے مثل طاقت سے اندرون و بیرون ملک انسانی حقوق کے تحفظ کا کام لیتے ہیں۔ آپ سب اور آپ کے اہلخانہ کو چار جولائی کی پیشگی مبارک باد۔

اب میں اپنے آج کے موضوع کی طرف آتا ہوں اور دنیا میں ایک انتہائی غیرآزاد ملک کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔

گزشتہ روز چینی کمیونسٹ پارٹی نے ہانگ کانگ پر اپنا قومی سلامتی کا ڈریکولائی قانون مسلط کیا جو کہ اس کی جانب سے ہانگ کانگ کے عوام اور برطانیہ سے اقوام متحدہ میں مندرج معاہدے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام ہانگ کانگ کے شہریوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو پامال کرتا ہے۔

آزاد ہانگ کانگ دنیا کا ایک انتہائی مستحکم، خوشحال اور متحرک شہر تھا۔ اب یہ اشتراکی حکومت کے زیراہتمام چلایا جانے والا ایک اور شہر بن جائے گا جہاں کے عوام پارٹی کی اشرافیہ کی خواہشات کے غلام ہوں گے۔ یہ افسوسناک صورتحال ہے۔

درحقیقت یہ سب کچھ پہلے سے ہی ہو رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز پہلے ہی آزادانہ طور سے بولنے اور سوچنے کی پاداش میں ہانگ کانگ کے شہریوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔ قانون کی حکمرانی سلب ہو چکی ہے اور ہمیشہ کی طرح چینی کمیونسٹ پارٹی اپنے ہی لوگوں کے لیے کسی بھی دوسری شے سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

امریکہ کو ہانگ کانگ میں لائے گئے قانون کی بے جا شرائط اور امریکیوں سمیت اس علاقے میں رہنے والے سبھی لوگوں کے تحفظ کی بابت سنگین تشویش لاحق ہے۔

چین کا منشا نئے قانون کے آرٹیکل 38 کا ہانگ کانگ سے باہر ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہونے والے جرائم پر بھی اطلاق کرنا ہے جو ہانگ کانگ کے رہائشی نہیں ہیں۔ ممکنہ طور پر  ایسے لوگوں میں امریکی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ ایک ظالمانہ فیصلہ اور تمام ممالک کی توہین ہے۔

جمعہ کو ہم نے ہانگ کانگ میں کریک ڈاؤن کے ذمہ داروں پر ویزے کی پابندیوں کا نفاذ کیا۔ سوموار کو ہم نے اعلان کیا کہ ہم امریکہ میں تیار کردہ دفاعی سازوسامان اور دہرے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی ہانگ کانگ کو برآمدت بند کر دیں گے۔

ہم ہانگ کانگ کے خصوصی درجے کے خاتمے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر عمل کریں گے۔

اس کام میں ہمارے وفاقی ادارے بھی شامل ہیں۔ میں ایف سی سی کے چیئرمین اجیت پائی کی ستائش کرتا ہوں جنہوں نے ہواوے اور زیڈ ٹی ای کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

ہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ویغور باشندوں کے انسانی حقوق سے متعلق امریکی حکمت عملی کے قانون پر دستخط کے بعد اس پر عملی اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آج امریکی دفتر خارجہ محکمہ خزانہ، تجارت اور ڈی ایچ ایس کے ساتھ مل کر ایسی کمپنیوں کے لیے کاروباری صلاح جاری کر رہا ہے جو سنکیانگ اور چین بھر میں جبری مشقت اور انسانی حقوق کی دیگر پامالیوں میں ملوث اداروں کے ساتھ کاروباری روابط رکھتی ہیں۔

ایسی کمپنیوں کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ اس نوٹس کا بغور مطالعہ کریں اور انسانی وقار پر ایسے حملوں کی حمایت میں پوشیدہ خطرات سے خبردار رہیں جن سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور انہیں معاشی و قانونی اعتبار سے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

میں حالیہ قابل اعتبار اور انتہائی پریشان کن نئی اطلاعات کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کے مطابق چینی کمیونسٹ پارٹی مغربی چین میں ویغور اور دیگر اقلیتوں کو جبری بانجھ کاری اور اسقاط حمل پر مجبور کر رہی ہے۔

یہ دہشت انگیز خبر افسوسناک طور سے سی سی پی کی جانب سے انسانی زندگی کے تقدس بارے سنگدلانہ بے اعتنائی سے مطابقت رکھتی ہے جو وہ کئی دہائیوں سے برتتی چلی آ رہی ہے۔ میں دنیا بھر کے ممالک، خواتین کے حقوق کے حامیوں، مذہبی گروہوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے کہتا ہوں کہ وہ چینی عوام کے بنیادی انسانی وقار کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے وحشیانہ طرزعمل سے بقیہ دنیا بھی منفی طور سے متاثر ہو رہی ہے۔

ہم انڈیا کی جانب سے ایسی مخصوص موبائل ایپس پر پابندی کا خیرمقدم کرتے ہیں جو سی سی پی کے نگرانی کے نظام کا حصہ ہیں۔ انڈیا کی جانب سے صاف ستھری ایپس کو ہی قبول کرنے کی سوچ سے اس کی خودمختاری کو تقویت ملے گی۔ جیسا کہ انڈیا کی حکومت نے خود کہا ہے، اس سے انڈیا کی سالمیت اور قومی سلامتی کو بھی فائدہ ہو گا۔

آج کینیڈا کے قومی دن کی خوشیاں سی سی پی کی جانب سے مائیکل کوورگ اور مائیکل سپیور کے خلاف جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کے حالیہ فیصلے سے ماند پڑ گئی ہیں۔

سی سی پی کے پروپیگنڈا کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ کینیڈا کے ان دو شہریوں کو یرغمال بنایا گیا ہے اور انہیں کینیڈا کی جانب سے ہواوے کے عہدیدار کی جائز گرفتاری کے بدلے میں زیرحراست رکھا گیا ہے۔ چین کی اس عہدیدار کے خلاف کینیڈا کے محکمہ انصاف نے بینک فراڈ، رقم کی ترسیل میں دھوکہ دہی سے کام لینے اور بینک فراڈ کی سازش کے جرم میں قانونی کارروائی کی ہے۔

میں کینیڈا کی حکومت کی ثابت قدمی اور اپنے آزاد قانونی نظام کی حمایت پر اسے سراہتا ہوں۔ سیاسی فوائد کے لیے لوگوں کو یرغمال بنانے سے چین بھی ایران اور وینزویلا کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ دونوں مائیک اب وطن واپس آنے چاہئیں۔

اب میں مشرق وسطیٰ کی جانب آتا ہوں۔

گزشتہ روز شام کے موضوع پر چوتھی برسلز کانفرنس کے موقع پر امریکہ نے شام کے ضرورت مند شہریوں اور بیرون ملک بے گھر ہونے والوں کی مدد کے لیے انسانی امداد کے طور پر قریباً 700 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح نو سال پہلے شام میں جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک اس کے لیے ہماری امداد کا حجم 11.3 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

میں عراق کے معاملے میں وہاں کی حکومت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں جس نے تمام مسلح گروہوں کو اپنے کنٹرول میں لیا ہے جن میں ایسے گروہ بھی شامل ہیں جو عراقی حکومت کے مراکز پر راکٹ حملے کرتے رہے ہیں۔ ایسے لاقانون کرداروں کی موجودگی ملک کے لیے مزید امداد یا معاشی سرمایہ کاری کی راہ میں واحد سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کی مدد لینے کے لیے عراق  کو سب سے پہلے اپنی مدد کرنا ہو گی۔ بغداد کے حالیہ اقدامات درست سمت میں اٹھائے گئے ہیں اور ہم ان کی ستائش کرتے ہیں۔

میں ایران میں غیرت کے نام پر قتل کے تین وحشیانہ واقعات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ ان واقعات میں 14 سالہ رومینہ اشرفی، 19 سالہ فاطمہ بارہی اور 22 سالہ ریحانہ امیری کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں دو کے سر قلم کیے گئے اور ایک کو اس کے رشتہ داروں نے آہنی سلاخ سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔

ایران کے بدعنوان رہنماؤں نے 40 سال سے قتل کی چھوٹ دیے رکھی، خواتین سے غیرانسانی سلوک کیا اور انصاف کے لیے  اٹھنے والی آوازوں کو نظرانداز کیا ہے۔ وہ انسانی وقار پر یہ ناقابل بیان فاسقانہ حملہ کب بند کریں گے؟

ایران کے بارے میں مجھے مزید بات کرنا ہے۔ جیسا کہ آپ میں بہت سے لوگوں نے گزشتہ روز دیکھا ہو گا کہ میں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر  زور دیا کہ وہ ایران پر اسلحے کی 13 سالہ پابندی برقرار رکھے۔ جوہری معاہدے کی ناکامی کے نتیجے میں ایران پر یہ پابندیاں اکتوبر میں ختم ہو رہی ہیں۔

اگر ایران کو چین اور روس جیسے ممالک سے اسلحہ خریدنے کی اجازت مل جاتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں مزید لوگ اس حکومت اور اس کے آلہ کاروں کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ یہ سیدھی سی بات ہے۔ تہران دنیا میں مادورو اور اسد جیسے لوگوں کے لیے اسلحے کا بیوپاری بن جائے گا۔ حماس اور حزب اللہ جیسے اسرائیل کے صریح دشمنوں کو خطرناک اسلحہ میسر آ جائے گا اور یورپی ممالک خطرات سے دوچار ہو جائیں گے۔

ہماری ٹیم نے ایک چھوٹی سی ویڈیو تیار کی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران پر اسلحے کی پابندی برقرار رہنا کیونکر اہم ہے۔ میں یہ ویڈیو آپ لوگوں کو دکھانا چاہوں گا۔

(ویڈیو چلائی گئی)

جب آپ تمام لوگ قانونی احتیاطوں اور پیچیدگیوں کے بارے میں سنتے ہیں اور آپ کا واسطہ عالمی سطح پر ایسی اختلافی باتوں سے پڑتا ہے کہ درست اقدام کون سا ہے تو یہ سوچیں کہ اگر ایران پر اسلحے کی پابندی اٹھا لی گئی تو دنیا کے ساتھ کیا ہو گا۔ آخر میں یہی بات اہم رہ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس یہ یقینی بنانے کی صلاحیت ہے کہ ایسا نہ ہونے پائے۔ میں آپ کو گزشتہ امریکی انتظامیہ کی بات یاد دلانا چاہتا ہوں جس میں اس نے یہ حقیقت بتائی تھی کہ امریکہ کو یہ صریح حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ملک کی رضامندی کے بغیر ہی یہ یقینی بنائے کہ ایران پر  پابندی برقرار رہے گی۔ موجودہ انتظامیہ ناصرف امریکی عوام کو محفوظ رکھنے بلکہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام میں کمی لانے کے لیے بھی ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

اب میں ایران سے قدرے شمال کا رخ کروں گا۔

ہم جمہوریہ جارجیا میں اس ہفتے ہونے والی آئین اصلاحات کو سراہتے ہیں۔ ہم جارجیا کی پارلیمان سےکہتے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر تجویز کردہ انتخابی اصلاحات کی منظوری اور ان پر عملدرآمد کے ذریعے جارجیا کے عوام کی خواہش اور جارجیا کے حکام کے وعدوں کا احترام کرے۔

گزشتہ روز ایک سال سے بھی کم عرصہ میں مجھے  تیسری مرتبہ C5+1 کانفرنس میں قازقستان، کرغیز جمہوریہ، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ہم نے بہت سے مشترکہ مقاصد بشمول افغانستان میں قیام امن، تجارت، توانائی اور سلامتی کے شعبے میں علاقائی تعلقات مضبوط بنانے اور ان تمام ممالک میں مضبوط معیشتیں کھڑی کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ کی جانب سے حقیقی شراکتیں قائم کرنے کی علامت کے طور پر ہماری ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کے سی ای او ایڈم بولر آج سفیر خلیل زاد کے ساتھ علاقائی دورے پر ہیں جس کا مقصد سرمایہ کاری کے ایسے مواقع کھوجنا ہے جہاں امریکہ کاروبار کامیاب ہو سکیں اور ان مممالک کو خودمختار اور آزاد بنانے میں مدد دی جا سکے۔

جموریہ کانگو کے لیے مبارک باد۔ ایک بے نظیر فیصلے میں صدر شیسیکیڈی کے چیف آف سٹاف کو بدعنوانی کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے۔ کوئی خواہ کسی بھی عہدے پر ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔

گزشتہ ہفتے ملاوی کے عوام نے لازیرس چکویرا کو اپنا اگلا صدر منتخب کیا۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ افریقہ میں عدالت نے بے قاعدگیوں پر صدارتی انتخاب کالعدم قرار دیا اور یہ پہلا موقع ہے جب دوبارہ انتخاب میں حزب اختلاف کی جماعت کا امیدوار کامیاب ہوا۔ یہ واقعتاً اس ملک کے عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکہ اور روس نے جوہری اسلحے پر کنٹرول سے متعلق بات چیت کے دوسرے دور کا انعقاد کیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے ویانا میں ملاقات کی۔ اس دودران مثبت اور تفصیلی بات چیت ہوئی جس میں بہت سے موضوعات بشمول چین کی جانب سے خفیہ جوہری سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ بیجنگ نے افسوسناک طور سے اس بات چیت کا بائیکاٹ کیا اور یوں اخفا اور کثیرملکی اقدام کو رد کرنے کی اپنی روش برقرار رکھی۔

سوموار کو دفتر خارجہ میں توانائی کے وسائل سے متعلق دفتر نے امریکہ۔یونان سٹریٹیجک ڈائیلاگ میں ایک بین الاداری ورکنگ گروپ کی قیادت کی جہاں ہم جنوب مشرقی یورپ میں توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے، باہم ملک کر توانائی کے وسائل کو ترقی دینے اور توانائی کے شعبے میں علاقائی سلامتی کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

میں آخر میں اپنے کرے کی بات کروں گا۔

گزشتہ ہفتے او اے ایس کے تمام 21 رکن ممالک نے مادورو حکومت کی جانب سے وینزویلا میں آزاد سیاسی جماعتوں کو دبانے کی کوششوں کی مذمت میں ووٹ دیا۔ ہمارے خطے نے ایک جعلی اور مادرو نواز حزب اختلاف تخلیق کرنے کی کوششوں کو قطعی طور پر مسترد کیا ہے۔

امریکہ انتخابات کے انعقاد اور نئی قومی اسمبلی کو پرامن طور سے اقتدار کی منتقلی پر سرینام کے عوام کو بھی مبارک باد دینا چاہتا ہے۔ ہم نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں۔

دوسری جانب گیانا میں انتخابات کے انعقاد کو اب چار ماہ ہو چکے ہیں۔ وہاں اقتدار کی پرامن طور سے منتقلی کا طویل عرصہ سے انتظار تھا۔ کیریکوم اور او اے ایس نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں سامنے آنے والے نتائج کی تصدیق کر دی ہے۔ اب وہاں آگے بڑھنے کا وقت ہے۔

میں نے اپنے محکمے کو ہدایت دی ہے کہ وہ گیانا کی جمہوریت کو کمزور کرنے والوں کو یقین دلائیں کہ ان سے جواب طلبی ہو گی۔

آج ‘یوایس ایم سی اے’ بھی روبہ عمل ہے۔ اس سے امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے کاروباروں اور صارفین کے لیے نئے مواقع کھلیں گے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے۔

میں آخر میں ایک اور سالگرہ پر بات کروں گا۔ یکم جولائی کو فُل برائٹ تھائی لینڈ کو 70 برس مکمل ہو جائیں گے۔ امریکہ کے تعلیمی اور ثقافتی پروگرام آزادی، جمہوریت، شائستگی اور انسانی حقوق سے متعلق اس کے احترام کو واضح کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں بخوشی آپ کے سوالات لینا چاہوں گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں