rss

شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرنے پر امریکہ کی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے کی تعریف

English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
9 جولائی 2020

 

امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے (او پی سی ڈبلیو) کی ایگزیکٹو کونسل کی ستائش کرتا ہے جس نے آج شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کے فیصلے کی  منظوری  دی ہے۔ اس فیصلے کی بدولت ہم شام کی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر جواب دہ ٹھہرانے کے لیے ایک قدم مزید آگے بڑھ آئے ہیں۔

آج لیا جانے والا یہ فیصلہ شامی حکومت کے لیے واضح اقدامات کا تعین کرتا ہے جن میں لطامنہ میں استعمال ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری، پیداوار، ذخیرے اور انہیں داغنے کے لیے محفوظ رکھنے کی جگہوں کو ظاہر کرنا، کیمیائی ہتھیاروں کے بقیہ ذخائر اور ان کی تیاری کے مقامات سامنے لانا اور اس کی جانب سے ابتدائی طور پر ظاہر کردہ معلومات سے متعلق باقیماندہ مسائل کا حل شامل ہیں۔ شامی حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات پر عملدرآمد میں ناکامی کے نتیجے میں او پی سی ڈبلیو کے پورے ادارے کو شام کے خلاف مزید اقدام کے لیے سفارش کی جائے گی جس میں تمام رکن ممالک شامل ہیں۔

اپریل 2020 میں او پی سی ڈبلیو کی جانب سے تفتیش اور نشاندہی کے مقاصد کے لیے بھیجی گئی ٹیم (آئی آئی ٹی) نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ ماننے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ شام کے حکام مارچ 2017 میں لطامنہ میں کیمیائی ہتھیاروں سے کیے جانے والے تین حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ یہ حملے قریبی علاقے خان شیخون میں سرن گیس ے کیے جانے والے ایک مزید مہلک کیمیائی حملے سے پہلے ہوئے تھے۔ یہ تینوں حملے اسد حکومت کی جانب سے دہشت پھیلانے کی طے شدہ مہم کا حصہ تھے۔ جیسا کہ وزیر خارجہ پومپیو نے ستمبر 2019 میں کہا تھا کہ بشارالاسد کی حکومت نے شام کے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کے نتیجے میں پانچ لاکھ لوگ ہلاک اور مزید ایک کروڑ دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

ایک جامع تفتیش میں ہر ممکنہ متبادل کا جائزہ لینے کے بعد او پی سی ڈبلیو آئی آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ کیمیائی حملے شام کی حکومت نے کیے تھے۔ او پی سی ڈبلیو کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن پر عملدرآمد میں اپنے کردار کے حوالے سے غیرجانبدارانہ، پیشہ وارانہ اور آزادانہ طور سے کام کرتی چلی آئی ہے۔

ایگزیکٹو کونسل نے اس فیصلے کے ذریعے اس امر کی ازسرنو توثیق کی کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے ذمہ داروں سے جواب طلبی کی جائے اور اس حملے کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ فیصلہ امریکہ کے اس موقف سے پوری مطابقت رکھتا ہے کہ کسی بھی وقت، کہیں بھی اور کسی بھی طرح کے حالات میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔ یہ قابل ستائش اقدام عالمی برادری کی جانب سے اسد حکومت اور اس کے شریک کاروں کو جوابدہ بنانے کے لیے اس سال اٹھائے گئے اقدامات میں تازہ ترین اضافہ ہے جن میں ایک سے دوسرے علاقے میں انسانی امداد کی فراہمی میں سست روی سے متعلق اقوام متحدہ کا تعین اور ادلب میں جنگی جرائم پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے قائم کردہ بورڈ آف انکوائری اور اقوام  متحدہ کے کمیشن کی انکوائری رپورٹ شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 میں بیان کردہ سیاسی عزم کے ذریعے ہی شامی تنازعے کا دیرپا حل ممکن ہے۔

مزید معلومات کے لیے براہ مہربانی [email protected] پر رابطہ کیجیے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں