rss

انسانی حقوق پامال کرنے والی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مخصوص ملازمین پر امریکہ کی جانب سے ویزے کی پابندیوں کا نفاذ

中文 (中国) 中文 (中国), English English, العربية العربية, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
انسانی حقوق پامال کرنے والی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مخصوص ملازمین پر امریکہ کی جانب سے ویزے کی پابندیوں کا نفاذ
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
15 جولائی 2020

 

امریکہ طویل عرصہ سے دنیا کے انتہائی زیرجبر لوگوں کے لیے امید کی کرن اور اُن لوگوں کی آواز رہا ہے جنہیں خاموش کرا دیا گیا ہے۔ ہم چینی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاص طور پر آواز بلند کرتے رہے ہیں جن کا شمار دنیا میں حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ہوتا ہے۔

آج دفتر خارجہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اُن مخصوص ملازمین پر ویزے کی پابندیاں عائد کر رہا ہے جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث حکومتوں کو مادی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے سیکشن 212 (اے) (3) (سی) کے تحت اگر وزیر خارجہ کے پاس یہ یقین کرنے کی  معقول وجہ موجود ہو کہ کسی غیرملکی کا امریکہ میں داخلہ  ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ممکنہ طور پر سنگین نوعیت کے  نقصان دہ نتائج کا باعث ہو سکتا ہے تو وہ غیرملکی فرد  امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔

آج اٹھائے گئے اس اقدام سے متاثر ہونے والی کمپنیوں میں ہواوے بھی شامل ہے جو چین کے نگرانی کے نظام کا ایک حصہ ہے جس کے ذریعے سیاسی مخالفین کو خاموش کرایا جاتا ہے، سنکیانگ میں بڑے پیمانے پر نظربندی کیمپ چلائے جاتے ہیں اور اس کی آبادی کو جبری غلام بنا کر پورے چین میں بھیجا جاتا ہے۔ ہواوے کے مخصوص ملازمین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی چینی حکومت کو مادی مدد مہیا کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں ٹیلی مواصلات کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں اسے اپنے لیے تنبیہ سمجھیں کہ اگر وہ ہواوے کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں تو گویا وہ انسانی حقوق پامال کرنے والوں کے ساتھ کاروبار کر رہی ہیں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں