rss

صدر کے ہانگ کانگ سے متعلق اعلان پر وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان

العربية العربية, English English, हिन्दी हिन्दी

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
15 جولائی 2020

 

گزشتہ دو ہفتوں میں دنیا نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کو ہانگ کانگ کی آزادی کا گلا گھونٹتے دیکھا ہے۔ 1984 میں چین نے دنیا کے سامنے برطانیہ اور ہانگ کانگ کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ کو آزاد اور کھلا رکھے گا اور 2047 تک اس کی اعلیٰ درجے کی خودمختاری کو قائم رکھے گا۔ بیجنگ کی جانب سے ہانگ کانگ پر مسلط کردہ قومی سلامتی کے ظالمانہ قانون کے ذریعے چین نے بہت سے دوسرے وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی توڑ دیا ہے۔ یہ قانون چین کے سکیورٹی اداروں کو ہانگ کانگ میں بلاروک ٹوک کام کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

گزشتہ شب صدر نے اس حوالے سے امریکہ کا ردعمل جاری کیا جس میں ہانگ کانگ کے ساتھ امریکہ کے ترجیحی سلوک کو ختم کرنے کے اقدامات، امریکہ کے برآمدی کنٹرول سے متعلق ہانگ کانگ کو حاصل فوائد کا خاتمہ اور ہانگ کانگ کے ساتھ ہمارا تحویلی معاہدہ معطل کرنے کے اقدامات اٹھانے کی ہدایات شامل ہیں۔ ہانگ کانگ کی خودمختاری سے متعلق قانون امریکی انتظامیہ کو ہانگ کانگ کی آزادیاں ختم کرنے کے ذمہ داروں سے جواب طلبی کے لیے اضافی ذرائع فراہم کرے گا۔ صدر نے انتظامیہ کو یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ وہ  ہانگ کانگ میں رہنے والوں کو انسانی خدشات کی بنیاد پر امریکہ میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے داخلہ دینے پر خصوصی توجہ مرکوز کرے۔ اس سے زیرجبر لوگوں کی حمایت سے متعلق امریکہ کے مستقل عزم کا اظہار ہوتا ہے۔

یکم جولائی ہانگ کانگ کے لیے ایک افسوس ناک دن تھا ۔ اس علاقے  کی خودمختاری اور انسانی حقوق و بنیادی آزادیوں کے احترام سے متعلق تاریخ نے اسے ترقی پانے کا موقع دیا، مگر بیجنگ کےا قدامات نے ہمارے لیے کوئی اور راہ نہیں چھوڑی۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں