rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

English English, العربية العربية, Français Français, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Русский Русский, Español Español, 中文 (中国) 中文 (中国)

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
15 جولائی 2020
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس
پریس بریفنگ روم
واشنگٹن ڈی سی

 

وزیر خارجہ پومپیو: خوش آمدید۔ میں اپنی بات کے آغاز میں دو سالانہ مواقع کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا یہ کہ 11 جولائی کو امریکہ اور ویت نام نے باہم سفارتی تعلقات کے قیام کی 25ویں سالگرہ منائی۔ یہ واقعتاً ایک کامیابی ہے۔

دوسرا یہ کہ موجودہ ہفتہ ایران کی پشت پناہی میں سرگرم حزب اللہ کے دو دہشت گرد حملوں کی یاد دلاتا ہے۔ ان میں ایک 1994 میں بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی  سنٹر ‘اے ایم آئی اے’ میں ہونے والے بم دھماکے اور دوسرا 2012 میں بلغاریہ میں ہونے والا خودکش بم دھماکا ہے جس میں اسرائیلی سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ہم تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور تمام ذمہ دار ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ اس کام میں ہمارا ساتھ دیں۔

اب میں آج کے مواقع کی جانب آتا ہوں۔

گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ہانگ کانگ کی خودمختاری کے قانون پر دستخط کیے اور ایک صدارتی انتظامی حکم کے ذریعے اقدامات کے سلسلے کا اعلان کیا۔

جیسا کہ انہوں نے مئی میں کہا تھا، اگر چین ہانگ کانگ کو ایک ملک اور واحد نظام کے طور پر دیکھتا ہے تو ہمیں بھی یہی کرنا ہے۔ جنرل سیکرٹری ژی جن پنگ نے ہانگ کانگ کے حوالے سے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے وعدوں کی خلاف ورزی کا فیصلہ کیا جو اقوام متحدہ میں مندرج معاہدے میں کیے گئے تھے۔ انہیں ایسا نہیں کرنا تھا۔ انہوں نے خود یہ سب کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں چین کے ساتھ اپنی خواہش کے بجائے موجودہ صورتحال کے مطابق معاملہ کرنا ہے۔

دوسرے ممالک بھی اسی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں۔ آسٹریلیا اور کینیڈا نے ہانگ کانگ کے ساتھ اپنے تحویلی معاہدے معطل کر دیے ہیں۔

مجھے سوموار کو برطانیہ اور ڈنمارک کے مختصر دورے پر روانہ ہونا ہے اور مجھے یقین ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اور دنیا بھر میں آزاد لوگوں کو اس سے لاحق خطرہ اس دورے کے ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔

یقیناً ہم برطانیہ کی جانب سے اپنے 5 جی نیٹ ورکس میں ہواوے کے آلات  پر پابندی اور ان آلات کو اپنے موجودہ نیٹ ورکس سے ہٹانے کے قابل تعریف فیصلے پر بات چیت کے لیے بھی وقت نکالیں گے۔ برطانیہ امریکہ کے ساتھ ہے اور اب بہت سی دوسری جمہوریتیں بھی ”شفاف ممالک” کی فہرست میں شامل ہو رہی ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو ناقابل اعتماد 5جی فروخت کنندگان سے پاک ہیں۔ اسی طرح ٹیلی فونیکا، ٹیلکو اٹالیا اور این ٹی ٹی جیسی بہت سی بڑی ٹیلی کام کمپنیاں بھی ”شفاف آلات استعمال کرنے والے ادارے” بن گئی ہیں۔

لندن میں قیام کے بعد مجھے ڈنمارک میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کر کے بھی اتنی ہی خوشی ہو گی۔ یہ ایک نہایت عمدہ دورہ ہو گا۔

آج امریکہ کا ہواوے کے بارے میں ایک اپنا اعلان بھی ہے۔

دفتر خارجہ ہواوے جیسی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مخصوص ملازمین پر ویزے کی پابندیاں نافذ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں میں ملوث حکومتوں کو مادی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

چین کے حوالے سے آخری بات یہ کہ سوموار کو پہلی مرتبہ ہم نے بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے اپنی پالیسی بالکل واضح کر دی ہے۔ یہ چین کی سمندری قلمرو نہیں ہے۔ اگر بیجنگ عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور آزاد ممالک اس کا جواب نہیں دیتے تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) مزید علاقے پر قبضہ کر لے گی۔ گزشتہ امریکی انتظامیہ کے دور میں یہی کچھ ہوا تھا۔

ہمارے بیانات آسیان کے رہنماؤں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جنہوں نے قرار دیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کے تنازعات جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول سے نہیں بلکہ عالمی قانون کے مطابق حل ہونے چاہئیں۔

سی سی پی چین کے عوام کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے وہ خاصا برا ہے، مگر آزاد دنیا کو بیجنگ کا منفی طرزعمل برداشت نہیں کرنا چاہیے۔

اب میں دوسرے موضوعات کی جانب آؤں گا۔ آج دفتر خارجہ ‘سی اے اے ٹی ایس اے’ کے اختیارات کے حوالے سے عوامی رہنمائی کی تجدید کر رہا ہے جس کا مقصد نارتھ سٹریم 2 اور ترک سٹریم 2 کی دوسری صف کو بھی اس میں شامل کرنا ہے۔

اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ روس کی توانائی برآمدات کی پائپ لائنز سے متعلق سرمایہ کاری یا دوسری سرگرمیوں میں شرکت کرنے والوں کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ روس کے ضرررساں رسوخ سے متعلقہ منصوبوں میں مددگار اور انہیں معاونت فراہم کرنے والی کمپنیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ ایسے منصوبوں سے نکل جائیں یا نتائج بھگتنے کا خطرہ مول لیں۔

یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ یہ تجارتی منصوبے نہیں ہیں۔

یہ کریملن کے ایسے نمایاں ذرائع ہیں جن کی مدد سے وہ روس کی توانائی سے متعلق ترسیلات پر یورپ کے انحصار سے ناجائز فائدہ اٹھاتا اور اسے وسعت دیتا ہے۔ یہ وہ ذرائع ہیں جن کی مدد سے روس گیس کی ترسیل روک کر یوکرائن کو کمزور کرتا ہے اور اس سے بالاآخر ماورائے اوقیانوس سلامتی کمزور پڑ جاتی ہے۔

امریکہ اپنے یورپی دوستوں کو ان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ آج دفتر خارجہ میں توانائی کے وسائل سے متعلق شعبے کے اسسٹنٹ سیکرٹری فرینک فینن میرے ساتھ ہیں جو اس اقدام کے حوالے سے میری بات مکمل ہونے کے بعد آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔

اب میں روس سے متعلق ایک اور معاملے پر بات کروں گا۔ میں گزشتہ روز یوکرائن سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی طبی اہلکار کی ہلاکت پر امریکہ کی جانب سے دلی افسوس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔

ہم ڈونباس میں جاری روس کے زیرقیادت فورسز کی ظالمانہ جارحیت کی مذمت میں یوکرائن کے عوام کے ساتھ ہیں اور اپنی جمہوریت کے لیے لڑائی میں جان دینے اور زخمی  ہونے والے یوکرائن کے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

افریقہ کے بارے میں:

امریکہ اور کینیا نے 8 جولائی کو دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کے پہلے دور کا آغاز کیا۔ ہم کینیا کے ساتھ ایک جامع اور انتہائی اعلیٰ معیار کا معاہدہ چاہتے ہیں جو پورے براعظم کے لیے مثال ثابت ہو۔

قفقاز خطے میں امریکہ کو آرمیینا اور آزربائیجان کی بین الاقوامی سرحد پر حالیہ مہلک تشدد پر گہری تشویش ہے۔ ہم اس تشدد کے تمام متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم دونوں فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تناؤ کا خاتمہ کریں، دوبارہ بامعنی بات چیت شروع کریں اور منسک گروپ کے مشترکہ سربراہوں کی حیثیت سے بنیادی گفت وشنید  جاری رکھنے کے لیے جنگ بندی کریں۔

اب میں امریکہ کے قریبی خطے کی جانب آؤں گا۔آج میں گیانا میں جمہوریت کو کمزور کرنے کے ذمہ دار یا اس حوالے سے سازش میں ملوث افراد پر ویزوں کی پابندیوں کا اعلان کر رہا ہوں۔ ایسے لوگوں کے قریبی افراد خانہ بھی ان پابندیوں کا ہدف ہو سکتے ہیں۔ گرینگر حکومت جمہوری انتخابات کے نتائج کا احترام کرے اور اقتدار چھوڑ دے۔

چند ہفتے قبل، غالباً یہیں میں نے براعظم ہائے امریکہ کے ادارہ برائے صحت سے میئس میڈیکوز پروگرام کی تفصیلات ظاہر کرنے میں ناکامی پر بازپرس کی تھی جس نے ایک بلین ڈالر سے زیادہ رقم حاصل کرنے کے لیے کیوبا کے ڈاکٹروں کو غلامانہ تجارت کے انداز میں استعمال کیا تھا۔ آج میں ‘پی اے ایچ او’ کی جانب سے اس حوالے سے ایک غیرجانبدارانہ جائزہ شروع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

وینزویلا کے حوالے سے مجھے یہ کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو غیرقانونی مادورو حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی کُھلی خلاف ورزیوں کی ایک اور خوفناک شہادت ملی ہے جس میں صرف 2020 میں سیاسی وجوہات کی بنا پر 1300 سے زیادہ افراد کو ماورائے عدالت سزائے موت دیے جانے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ مادورو پر عالمی دباؤ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک وینزویلا کے عوام اپنی جمہوریت واپس نہیں لے لیتے۔

اب میں مغربی کرے کے بارے میں ایک آخری بات کروں گا۔امریکہ نے گزشتہ ہفتے جمعے کے روز براعظم ہائے امریکہ کی کانفرنس کی سربراہ ی باقاعدہ طور سے سنبھال لی ہے۔ ہم 2021 میں اس کانفرنس کے نوویں اجلاس کے انعقاد کے منتظر ہیں۔

میری آپ سے آخری بات کے بعد اب تک دفتر خارجہ نے کانگریس کو بیرون ملک قریباً 25 بلین ڈالر مالیت کے عسکری سازوسامان کی ممکنہ فروخت کے بارے میں مطلع  کیا ہے جس میں جاپان کو 105 ایف 35 ہلکے  لڑاکا جیٹ طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے جن کی مالیت 23 بلین ڈالر ہے۔ یہ امریکہ کی تاریخ میں ہتھیاروں کی فروخت کا دوسرا سب سے بڑا سودا ہے۔ یہ فروخت اور اس کے ساتھ دیگر سازوسامان کی فروخت سے امریکی کے ساتھ دفاعی شراکت داریوں کی بھرپور عالمی طلب کا اظہار  ہوتا ہے۔

ہم دیگر انداز میں بھی دنیا کی مدد کر رہے ہیں۔ آج ہم انتہائی غیرمحفوظ ممالک کو کوویڈ۔19 کی وبا پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے مزید 208 ملین ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں جس سے اس وبا کے آغاز کے بعد اب تک ہماری جانب سے مہیا کردہ امداد کا مجموعی حجم 1.5  ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ امریکہ کے عوام کی جانب سے دی جانے والی امداد کی غیرمعمولی مثال ہے۔

مگر کوئی امریکی برآمد اور کتنی ہی بڑی رقم ہماری اصولوں سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ کل میں فلاڈلفیا کے قومی دستوری مرکز کا دورہ کروں گا۔ اس موقع پر میں ناقابل انتقال انسانی حقوق سے متعلق دفتر خارجہ کے کمیشن کی رپورٹ پیش کروں گا۔

جیسا کہ میں نے گزشتہ برس کلیرمونٹ انسٹیٹیوٹ میں اور ایک مرتبہ پھر کنساس سٹیٹ یونیورسٹی میں لندن لیکچر کے دوران  واضح کیا تھا، موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی بنیاد امریکہ کے بنیادی اصولوں پر ہے۔ ہمارے لیے اپنے ناقابل انتقال حقوق کی تکریم سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہیں ہے۔ یہ ہر انسان کو خدا کے عطا کرہ بنیادی حقوق ہیں۔  

خواہ امریکہ کے لوگوں کو خطرات سے بچانا ہو، عالمگیر مذہبی آزادی کی حمایت کرنا ہو، یا دنیا کے ممالک کو قانون کی حکمرانی قائم کرتے ہوئے ملکیتی حقوق کی حفاظت کی جرات دلانا ہو، امریکہ ہر معاملے میں حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور دنیا میں اچھائی پر مبنی اقدامات اٹھاتا ہے۔ کل آپ کمیشن کی عمدہ سفارشات کے بارے میں میرے بعض خیالات سنیں گے جو اس رپورٹ کا حصہ ہیں۔ کمیشن اس پر نہایت تندہی سے اور طویل عرصہ سے کام کر رہا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں