rss

اسد حکومت کے پارلیمانی انتخابات

Русский Русский, English English, हिन्दी हिन्दी, العربية العربية, Français Français

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
اسد حکومت کے پارلیمانی انتخابات
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان
20 جولائی 2020

 

گزشتہ روز اسد حکومت نے شام میں نام نہاد پارلیمانی انتخابات منعقد کیے۔ بشارالاسد اپنے مشکوک انتخابات کو فرضی مغربی سازش کے خلاف کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر حقیقت میں یہ اسد کی جانب من گھڑت اور غیرآزادانہ انتخابات  کے طویل سلسلے کی محض ایک اور کڑی ہے جن میں شام کے عوام کو حقیقی طور سے اپنے نمائندوں کے انتخاب  کا موقع نہیں ملتا۔

اسد کی بعث پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد شام میں کوئی آزاد اور شفاف انتخابات نہیں ہوئے اس سال بھی یہی صورتحال تھی۔ ہمیں ایسی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ انتخابی عملے نے پہلے سے ہی بعث پارٹی کے امیدواروں کے حق میں پُر کیے گئے ووٹ رائے دہندگان کو دیے۔ شہریوں پر بعث پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے دباؤ کی عام اطلاعات موصول ہوئیں اور رائے دہندگان کے اخفا کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ مزید برآں ملک سے باہر رہنے والے شامیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں تھی جو قبل از انقلاب شام کی آبادی کا قریباً ایک چوتھائی ہیں۔ حقوق سے محروم کی گئی اس آباد ی میں 50 لاکھ سے زیادہ ایسے مہاجرین بھی شامل ہیں جو اسد حکومت کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر بے رحمانہ جنگ کے باعث ملک سے باہر جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے مطابق شام میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ”آزادانہ اور شفاف” انتخابات ہونے چاہئیں جن میں ”تمام شامیوں” کو شرکت کا موقع ملے۔ ان میں دنیا بھر میں بکھرے ایسے شامی شہری بھی شامل ہیں جو حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ جب تک اسد حکومت ان شرائط کی پابندی نہیں کرتی اس وقت تک عالمی برادری ایسے دھاندلی زدہ انتخابات  کو اپنے لیے جھوٹا جواز گھڑنے اور اُس سیاسی عمل کو لاگو کرنے سے گریز کی ایک اور کوشش سمجھے گی جس کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 میں تقاضا کیا گیا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں