rss

”اشتراکی چین اور آزاد دنیا کا مستقبل”

Русский Русский, English English, العربية العربية, Français Français, Português Português, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
23 جولائی 2020
تقریر

”اشتراکی چین اور آزاد دنیا کا مستقبل”
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا رچرڈ نکسن صدارتی لائبریری اور میوزم میں خطاب
رچرڈ نکسن صدارتی لائبریری اور میوزیم
یوربا لنڈا، کیلی فورنیا
24 جولائی 2020

 

گورنر ولسن: کرس،  آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ نے نہایت دریا دلی کا مظاہرہ کیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کے دادا مجھے پہچان پاتے۔

مجھے آپ سبھی کا نکسن کی جائے پیدائش اور لائبریری میں خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی ہے۔ میں ایک غیرمعمولی امریکی سے آپ کا تعارف کراتے ہوئے بے حد خوشی محسوس کر رہا ہوں  جو آج یہاں اس غیرمعمولی موقع پر موجود ہیں۔ تاہم اپنے معزز مہمان کا خیرمقدم کرنے میں مزے کی بات یہ ہے کہ میں انہیں صرف نکسن لائبریری میں ہی نہیں بلکہ ان کے گھر اورنج کاؤنٹی میں بھی  خوش آمدید کہہ رہا ہوں۔ (تالیاں) ٹھیک ہے۔ مائیک پومپیو اورنج میں پیدا ہوئے تھے۔ (تالیاں)

انہوں نے فاؤنٹین ویلی میں ایمیگوز ہائی سکول میں تعلیم پائی جہاں وہ ایک غیرمعمولی طالب علم اور کھلاڑی تھے۔ درحقیقت میں لوبو باسکٹ بال کے عروج کے دور میں اس کے ایک پرستار کی حیثیت سے اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ جب بھی ”پومپیو” کا نام لیا جاتا تھا تو ہجوم پر مودبانہ سکوت طاری ہو جاتا تھا۔ (قہقہہ)

وزیر خارجہ ویسٹ پوائنٹ میں اپنی جماعت میں اول آئے۔ انہوں نے انتہائی نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹ کا اعزاز جیتا۔ انہوں نے انجینئرنگ مینجمنٹ میں اعلیٰ ترین کارکردگی کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ انہوں نے فوج میں فرائض انجام دیتے ہوئے مغربی جرمنی میں وقت گزارا اور جیسا کہ وہ بتاتے ہیں، اس دوران انہیں دیوار برلن گرنے سے پہلے ‘آئرن کرٹن’ کے ساتھ گشت کرنے  کا موقع بھی ملا۔

1988 میں، معاف کیجیے، کپتان کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے ہاورڈ لا سکول میں داخلہ لیا جہاں وہ ‘لا ریویو’ کے مدیر تھے۔ 1988 میں وہ اپنی آبائی ریاست کنساس میں واپس آ گئے اور ایک بھرپور کامیاب کاروباری کیریئر شروع کیا۔ وہ 2011 میں کنساس سے کانگریس کے رکن منتخب ہوئے جہاں جلد ہی انہوں نے ہاؤس آرمز، معاف کیجیے، ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے ایک انتہائی مستعد اور زیرک رکن کی حیثیت سے بے حد عزت پائی۔

2017 میں صدر ٹرمپ نے انہیں سنٹرل انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر نامزد کیا۔ 2018 میں ان کی ہمارے 70ویں وزیر خارجہ کی حیثیت سے توثیق کی گئی۔

آپ کو ماننا ہو گا کہ یہ خاصا متاثر کن تعارف ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ صرف ایک چیز نہ ہونے سے یہ کیریئر کا ایک مکمل خلاصہ نہیں بن سکتا اور وہ یہ کہ مائیک میرین نہیں رہے۔ (قہقہہ) مگر فکر کی کوئی بات نہیں، اس کے باوجود بھی وہ اُتنے ہی موثر ہوں گے۔

مائیک پومپیو اپنے خاندان سے وفادار ہیں۔ وہ ایمان دار، بہت بڑے محب وطن اور انتہائی اعلیٰ اصولوں کے حامل شخص ہیں۔ دفتر خارجہ میں ان کا ایک سب سے اہم اقدام ‘ناقابل انتقال حقوق سے متعلق کمیشن’ کا قیام ہے جہاں ماہرین علم، فلاسفہ اور دینیات کے ماہرین انہیں انسانی حقوق سے متعلق مشاورت دیتے ہیں۔ یہ وہ حقوق ہیں جن پر امریکہ کے بنیادی اصولوں کی عمارت استوار ہے اور یہی اصول 1948 میں طے پانے والے انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے کا حصہ ہیں۔

آج وہ ایک خاص وجہ سے یہاں آئے ہیں۔ صدر نکسن کے مرقد کے کتبے پر لکھی تحریر ان کے پہلے افتتاحی خطاب سے لی گئی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ”تاریخ کسی انسان کو جو سب سے بڑا اعزاز دے سکتی ہے وہ ‘صلح جُو’ کا ہے”۔ رچرڈ نکسن کو بھی یہ اعزاز ملا تھا۔ انہیں یہ عزت صرف اس لیے نہیں ملی تھی کہ ان کے ناقدین بھی انہیں خارجہ پالیسی کا ایک ذہین حکمت کار مانتے ہیں بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے یہ اعزاز محنت کر کے پایا تھا۔ انہوں نے کانگریس کے رکن، سینیٹر، صدر اور  اس کے بعد عام شہری کی حیثیت سے روزانہ یہ سیکھا کہ محض دستاویزات پر دستخط کرنے سے امن حاصل نہیں ہوتا۔ اس سے برعکس، وہ جانتے تھے کہ امن ایک مسلسل عمل ہے۔ انہیں علم تھا کہ امن کے لیے لڑنا پڑتا ہے اور ہر نسل میں نئے سرے سے یہ جدوجہد کرنا ہوتی ہے۔

یہ صدر نکسن کی سوچ، لگن اور ہمت تھی جس نے چین کے لیے امریکہ اور مغربی دنیا کے دروازے کھولے۔ صدر کی حیثیت سے اور پھر اپنی پوری زندگی  میں رچرڈ نکسن نے چین کے ساتھ دوطرفہ فوائد پر مبنی تعلقات قائم کرنے کے لیے کام کیا جن کی بنیاد ایسے اصولوں پر ہو جو امریکہ کے مضبوط قومی مفادات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

آج ہمیں یہ جانچنا ہے کہ آیا ایسے تعلقات کے لیے صدر نکسن کی محنت اور امیدوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں یا نہیں۔

اسی لیے یہ نہایت اہم بات ہے کہ ہمارے معزز مہمان، وزیر خارجہ پومپیو نے چین کے حوالے سے ایک بڑا پالیسی بیان دینے کے لیے نکسن لائبریری کا انتخاب کیا۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ یہ پوری طاقت اور یقین سے جاری کردہ ایک مکمل طور سے واضح بیان ہو گا کیونکہ اس کی خاص اہمیت ہے۔

خواتین و حضرات یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز اور خوشی کی بات ہےکہ میں اس سٹیج پر اور اِن سامعین کے سامنے اپنے معزز مہمان، امریکہ کے وزیر خارجہ، قابل احترام اور واقعتاً غیرمعمولی شخصیت مائیکل آر پومپیو کا خیرمقدم کر رہا ہوں۔ (تالیاں)

وزیر خارجہ پومپیو: شکریہ۔ آپ سبھی کا شکریہ۔ جناب گورنر، اس قدر عمدہ تعارف پر میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ یہ حقیقت ہے۔ جب لوگ اُس جمنازیم میں جاتے اور ”پومپیو” کا نام سنتے تھے تو ایک سرگوشی سنائی دیتی تھی۔ میرا ایک بھائی تھا۔ اس کا نام مارک تھا اور وہ واقعتاً باسکٹ بال کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔

بلیو ایگلز کی آنر گارڈ اور  سینئر ایئرمین کائلا ہائی سمتھ اور ان کے شاندار انداز میں قومی ترانہ پڑھنے کے لیے بھی تالیاں بجانے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ (تالیاں)

پُراثر دعا پر پاسٹر لاری کا بھی شکریہ۔ میں اس اہم امریکی ادارے میں خطاب کی دعوت دینے پر ہیو ہیوٹ اور نکسن فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ایئرفورس سے تعلق رکھنے والے فرد کے منہ  اپنے لیے ترانہ سننا اور ایک میرین کی جانب سے تعارف بیحد خوشی کی بات ہے جنہوں نے ایک فوجی کو نیوی اہلکار کے گھر کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ (قہقہہ) یہ سب بہت اچھا ہے۔

یہاں یوربا لنڈا میں آنا میرے لیے اعزاز ہے جہاں نکسن کے والد نے گھر بنایا تھا جس میں وہ پیدا ہوئے اور پلے بڑھےتھے ۔

مجھے نکسن سنٹر میں بورڈ اور عملے کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے میرے اور میری ٹیم کے لیے آج اس پروگرام کا اہتمام ممکن بنایا۔ موجودہ حالات میں یہ مشکل کام ہے۔

ہمارے سامعین میں بعض غیرمعمولی طور سے خاص لوگ موجود ہیں جن میں کرس بھی شامل ہیں جنہیں میں کرس نکسن کے نام سے جانتا ہوں۔ میں ٹریسیا نکسن اور جولیا نکسن آئزن ہاور کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میری یہاں موجودگی میں مددگار کردار ادا کیا۔

میں بہت سے بہادر چینی منحرفین کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو طویل فاصلہ طے کر کے آج یہاں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ تمام دیگر معزز مہمانان (تالیاں) یہاں آنے والے تمام دیگر معزز  مہمانان کا بھی شکریہ۔ جو لوگ یہاں موجود ہیں انہوں نے خاص کاوش کی ہے اور جو لوگ ہمیں براہ راست دیکھ رہے ہیں ان کا شکریہ کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔

آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ جس طرح گورنر نے بتایا، میں یہاں سانتا آنا میں پیدا ہوا تھا۔ وہ  جگہ یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ میری بہن اور ان کے شوہر بھی آج سامعین میں موجود ہیں۔ یہاں آنے پر آپ تمام لوگوں کا شکریہ۔ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ آپ نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ کبھی مجھے یہاں کھڑا دیکھیں گے۔

آج میری گفتگو چین کے بارے میں اُن تقاریر کے سلسلے کا چوتھا حصہ ہے جو میں نے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس رے اور اٹارنی جنرل بار کو اپنے ساتھ کرنے کو کہا تھا۔

ہمارا ایک نہایت واضح مقصد اور ایک حقیقی مشن تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی مختلف سطحوں کو واضح کیا جائے اور اس میں بڑے پیمانے پر موجود عدم توازن کو سامنے لایا جائے جو کئی دہائیوں کے عرصہ میں پیدا ہو چکا ہے اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے دوسروں پر غلبہ پانے کے طریقے آپ کے سامنے رکھے جائیں۔

ہمارا مقصد یہ واضح کرنا تھا صدر ٹرمپ کی چین سے متعلق پالیسی میں امریکیوں کو لاحق جن خطرات کے تدارک کی بات کی گئی ہے وہ بالکل واضح ہیں اور ہماری جانب سے اپنی بنیادی آزادیوں کی حفاظت کے لیے بنائی جانے والی حکمت عملی بھی واضح ہے۔

سفیر اوبرائن نے نظریے پر بات کی۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رے نے جاسوسی کا تذکرہ کیا۔ اٹارنی جنرل بار نے معیشت پر بات کی،  اور اب آج میرا مقصد امریکی عوام کے لیے ان تمام چیزوں کو ایک جگہ جمع کرنا اور تفصیل سے بتانا ہے کہ چین سے لاحق خطرہ ہماری معیشت، ہماری آزادی اور درحقیقت دنیا بھر میں آزاد جمہوریتوں کے مستقبل کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے۔

آئندہ برس ڈاکٹر کسنجر کے چین میں خفیہ مشن کو نصف صدی مکمل ہو جائے گی اور صدر نکسن کے دورہ چین  کی 50 ویں سالگرہ بھی زیادہ دور نہیں جو 2022 میں آئے گی۔

اس وقت دنیا آج سے بہت مختلف تھی۔

ہم نے سوچا تھا کہ چین کے ساتھ تعلقات کی بدولت شائستگی اور تعاون پر مبنی روشن مستقبل جنم لے گا۔

مگر آج ہم سب ماسک پہنے ہوئے ہیں اور وبا کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا شمار کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی دنیا سے کیے اپنے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہی ہے۔ ہم ہر صبح ہانگ کانگ اور سنکیانگ میں جبر سے متعلق نئی خبریں پڑھتے ہیں۔

ہم چین کی جانب سے تجارتی اصولوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق اعدادوشمار دیکھتے ہیں جن سے امریکہ میں نوکریاں ختم ہو گئی ہیں اور یہاں جنوبی کیلی فورنیا سمیت پورے امریکہ میں معاشیات کو بہت بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ اسی طرح ہم چین کی فوج کو مضبوط سے مضبوط تر ہوتا دیکھ رہے ہیں جو درحقیقت پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔

میں یہاں کیلیفورنیا سے لے کر اپنی آبائی ریاست کنساس اور دیگر جگہوں پر امریکیوں کے دل و دماغ میں ابھرتے سوالات دہراؤں گا:

چین کے ساتھ تعلقات کے 50 سال بعد اب امریکہ کے عوام کو کیا کرنا ہو گا؟

کیا ہمارے رہنماؤں کی جانب سے چین کے آزادی اور جمہوریت کی جانب ارتقا سے متعلق نظریات درست ثابت ہوئے ہیں؟

کیا اسے  چین کے نکتہ نظر سے سبھی کے لیے فائدہ سمجھا جائے؟

درحقیقت، وزیر خارجہ ہونے کی حیثیت سے کیا میں امریکہ کو محفوظ سمجھوں؟ کیا ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے امن کا بھرپور امکان موجود ہے؟

دیکھیے، ہمیں ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہے۔ ہمیں اس کڑی سچائی کا اعتراف کرنا ہے جو آنے والے برسوں اور دہائیوں میں ہماری رہنمائی کرے کہ اگر ہم 21ویں صدی کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے ژی جن پنگ کے تصورات کے مطابق چین کی صدی نہیں بنانا چاہتے تو پھر چین کے ساتھ تعلقات کا پرانا نمونہ نہیں چلے گا۔ ہمیں اسے  جاری نہیں رکھنا اور اس کی جانب واپس نہیں پلٹنا۔

جیسا کہ صدر ٹرمپ نے بالکل واضح کر دیا ہے، ہمیں ایک ایسی حکمت عملی درکار ہے جو امریکہ کی معیشت اور درحقیقت ہمارے طرز زندگی کا تحفظ کرے۔ آزاد دنیا کو اس نئے جبر پر فتح یاب ہونا ہو گا۔

اب اس سے پہلے کہ میں صدر نکسن کی پالیسی کے حصے بخرے کرتا دکھائی دوں، میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اُس وقت انہوں نے امریکہ کے عوام کے لیے جو بہتر سمجھا وہی کیا اور اُس دور میں ان کی پالیسی درست رہی ہو گی۔

وہ چین کے بارے میں اچھی سمجھ بوجھ رکھتے تھے، سرد جنگ کے پُرجوش لڑاکے تھے اور ہم سبھی کی طرح چین کے عوام کے بہت بڑے مداح تھے۔

انہیں اس بات کا بہت بڑا کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ چین کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بات اس وقت بھی جان لی تھی جب چین خود پر مسلط کردہ  اشتراکی سفاکی کے باعث کمزور حالت میں تھا۔

1967 میں معروف جریدے ‘فارن افیئرز’ میں نکسن نے اپنی مستقبل کی حکمت عملی کی وضاحت کی۔ اس میں ان کا کہنا تھا کہ:

”مستقبل کو دیکھا جائے تو ہم چین کو ہمیشہ کے لیے اقوام عالم سے باہر نہیں رکھ سکتے ۔۔۔ دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک چین تبدیل نہیں ہو جاتا۔ اسی لیے جہاں تک ہو سکے ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس حوالے سے پیش آنے والے واقعات پر اثرانداز ہوں۔ تبدیلی کے لیے راہ ہموار کرنا  ہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔”

میں سمجھتا ہوں کہ اس پورے مضمون میں بنیادی اہمیت کا فقرہ یہی ہے کہ ”تبدیلی کی راہ ہموار کی جائے۔”

چنانچہ صدر نکسن نے بیجنگ کا تاریخی دورہ کر کے چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہماری پالیسی کا آغاز کیا۔ انہوں نے عالی ظرفی سے کام لیتے ہوئے پہلے سے زیادہ آزاد اور محفوظ دنیا کی خواہش کی تھی اور انہیں امید تھی کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی اپنا وعدہ پورا کرے گی۔

جوں جوں وقت گزرتا گیا امریکہ کے پالیسی سازوں نے پہلے سے بڑھ کر یہ فرض کرنا شروع کر دیا کہ جیسے جیسے چین پہلے سے زیادہ خوشحال ہوتا جائے گا وہ دوسری دنیا کے لیے اتنا ہی کھُلتا جائے گا۔ چین درون خانہ جتنا آزاد ہو گا وہ بیرون خانہ اتنا ہی کم خطرناک ہو جائے گا اور اس کا طرزعمل پہلے سے زیادہ دوستانہ صورت اختیار کر لے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ ناگزیر دکھائی دیتا تھا۔

مگر اب یہ سوچنے کا دور گزر چکا ہے۔ چین کے  ساتھ ہمارے جس طرح تعلقات رہے ہیں ان سے چین کے اندر ویسی تبدیلی رونما نہیں ہو سکی جس کی راہ ہموار  ہونے کی نکسن کو امید تھی۔

سچ یہ ہے کہ ہماری اور آزاد ممالک کی پالیسوں نے چین کی ناکام ہوتی معیشت  کو نئی زندگی بخشی جس کے نتیجے میں صرف یہی ہوا کہ چین نے انہی ممالک کو نقصان پہنچایا جن سے اسے فائدہ ہو رہا تھا۔

ہم نے چین کے شہریوں کے لیے اپنی بانہیں کھول دیں مگر جواب میں ہم نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کو اپنے آزاد اورکھلے معاشرے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے دیکھا۔ چین نے اپنے پروپیگنڈہ کرنے والے لوگ ہماری پریس کانفرنسوں، ہمارے تحقیقی مراکز، ہمارے ہائی سکولوں، ہمارے کالجوں حتیٰ کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں والدین اور اساتذہ کی ملاقاتوں میں بھی بھیجے۔

ہم نے تائیوان میں اپنے دوستوں کو نظرانداز کیا جو بعد میں ایک توانا جمہوریت بن گئے۔

ہم نے چین کی کمیونسٹ پارٹی اور حکومت کے ساتھ خصوصی معاشی برتاؤ کیا جس کے جواب میں ہم نے کمیونسٹ پارٹی کو مغربی کمپنیوں پر چین میں داخلے کے بدلے میں اپنے ہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش رہنے کے لیے اصرار کرتے دیکھا ۔

سفیر اوبرائن نے گزشتہ روز ایسی چند مثالیں پیش کی تھیں۔ میریٹ، امیریکن ایئرلائنز، ڈیلٹا، یونائیٹڈ سمیت سبھی نے اپنی کاروباری ویب سائٹس سے تائیوان کے حوالے ختم کر دیے تاکہ بیجنگ ناراض نہ ہو۔

امریکی کی تخلیقی آزادی کا مرکز اور سماجی انصاف کا خود ساختہ علمبردار ہالی وڈ یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس نے ایسی معمولی سی باتوں کو بھی ازخود چھپا لیا جن سے چین کی ناراضگی کا شائبہ ہو سکتا تھا۔

دنیا بھر  میں کاروباری طبقے کی جانب سے چین کی خوشنودی کے لیے ایسے اقدامات دیکھنے کو ملے۔

اس کاروباری اطاعت گزاری کے نتیجے میں کیا ہوا؟ کیا اس خوشامد سے کوئی فائدہ حاصل ہوا؟ میں آپ کو اٹارنی جنرل بار کی تقریر سے ایک اقتباس سناؤں گا۔ گزشتہ ہفتے اپنی تقریر میں انہوں نے بتایا تھا کہ ”چین کے حکمرانوں کا حتمی مقصد امریکہ کے ساتھ تجارت کرنا نہیں بلکہ امریکہ پر حملہ کرنا ہے۔”

چین نے ہماری انتہائی قیمتی انٹلیکچوئل پراپرٹی اور تجارتی راز چرائے اور امریکہ بھر میں لاکھوں نوکریوں کا خاتمہ کیا۔

اس نے امریکہ سے اشیا کی فراہمی کے سلسلے منقطع کرا دیے اور جبری مشقت کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے دنیا کی اہم سمندری گزرگاہوں کو عالمی تجارت کے لیے خطرناک بنا دیا۔

صدر نکسن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ انہوں نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے لیے دنیا کے دروازے کھول کر ایک ”فرینکنسٹائن” تخلیق کر دیا ہے۔ آج ہم یہی کچھ دیکھ رہے ہیں۔

اب نیک نیت  لوگ کہ سکتے ہیں کہ اس تمام عرصہ میں آزاد اقوام نے ان بری چیزوں کو کیوں ہونے دیا۔ کیا  چین کی زہریلی اشتراکیت کے حوالے سے ہماری سمجھ بوجھ معصومانہ تھی، یا ہم سرد جنگ میں اپنی فتح پر اترا رہے تھے، یا ہماری سوچ پست طور سے سرمایہ دارانہ تھی، یا بیجنگ کی جانب سے ”پرامن ترقی” کی باتوں نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک رکھی تھی۔

اس کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو، آج چین میں درون خانہ آمریت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور وہ دنیا میں ہر جگہ پہلے سے زیادہ جارحانہ انداز میں آزادی کی مخالفت کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ: بس کافی ہو گیا۔

میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ میں دونوں سیاسی جماعتوں کے لوگ ان حقائق سے عدم اتفاق کریں گے جو میں  نے آج بیان کیے ہیں۔ تاہم اب بھی بعض لوگ یہ اصرار کر رہے ہیں کہ ہم محض بات چیت کے لیے چین سے گفت و شنید جاری رکھیں۔

اب یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہم بات چیت جاری رکھیں گے۔ مگر اب گفت و شنید پہلے جیسی نہیں ہو گی۔ میں چند ہی ہفتے پہلے یانگ جیچی سے ملاقات کے لیے ہونولولو گیا تھا۔

یہ ملاقات بھی پہلے جیسی کہانی تھی، بہت سی باتیں ہوئیں اور کسی بھی طرزعمل میں تبدیلی کی کوئی پیشکش نہ کی گئی۔

یانگ کے وعدے ان سے پہلے کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے کیے جانے والے بہت سے وعدوں کی طرح خالی خولی تھے۔ میں مختصراً کہوں تو ان کی توقعات یہ تھیں کہ میں ان کے مطالبات تسلیم کر لوں گا جیسا کہ ماضی میں بہت سی امریکی حکومتیں کرتی چلی آئی ہیں۔ مگر میں نے ایسا نہیں کیا اور صدر ٹرمپ بھی نہیں کریں گے۔

جیسا کہ سفیر او برائن نے نہایت عمدگی سے واضح کیا ہے، ہمیں یہ بات ذہن نشیں کر لینی چاہیے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت مارکسسٹ۔لیننسٹ حکومت ہے۔ جنرل سیکرٹری ژی جن پنگ مطلق العنانیت کے اس دیوالیہ  نظریے پر دل سے یقین رکھتے ہیں۔

چینی اشتراکیت کے عالمگیر غلبے کے لیے ان کی دہائیوں پر پھیلی خواہش کے پیچھے یہی نظریہ ہے۔ امریکہ دونوں ممالک میں بنیادی نوعیت کے سیاسی اور نظریاتی فرق کو مزید نظرانداز نہیں کر سکتا جیسا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اسے  کبھی نظرانداز نہیں کیا۔

اس کا اندازہ مجھے ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی اور پھر سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے تجربے اور اب امریکہ کے  وزیر خارجہ کی حیثیت سے دو سال سے زیادہ عرصے تک کام کرنے سے ہوا ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ:

اشتراکی چین کو حقیقی طور سے تبدیل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ چین کے رہنماؤں کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے ان  کےطرزعمل کو دیکھا جائے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ کی پالیسی اسی نتیجے پر استوار ہے۔ صدر ریگن نےکہا تھا کہ انہوں نے سوویت یونین سے ”اعتماد کرو مگر تصدیق کر لو” کی بنیاد پر نمٹا تھا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں مجھے یہ کہنا ہے کہ ہمیں اس پر  عدم اعتماد کرتے ہوئے تصدیق کرنی چاہیے۔ (تالیاں)

ہمیں، دنیا کی آزادی پسند اقوام کو  چین میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنی ہے جیسا کہ صدر نکسن چاہتے تھے۔ ہمیں مزید تخلیقی اور قطعی طور سے چین میں تبدیلی کے لیے حالات پیدا کرنا ہیں کیونکہ بیجنگ کے اقدامات سے ہمارے لوگوں اور ہماری خوشحالی کو خطرہ ہے۔

ہمیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے اپنے لوگوں اور اپنے اتحادیوں کی سوچ میں تبدیلی لا کر اس کام کا آغاز کرنا ہے۔ ہمیں انہیں سچائی سے آگاہ کرنا ہے۔ ہم چین کے ساتھ کسی عام ملک جیسا سلوک نہیں کر سکتے۔

ہم یہ بات جانتے ہیں کہ چین کے ساتھ تجارت کرنا قانون کی پاسداری کرنے والے کسی دوسرے ملک کے ساتھ تجارت جیسا معاملہ نہیں ہے۔ بیجنگ عالمی سطح پر غلبہ پانے کے لیے عالمگیر معاہدوں کے لیے خطرات پیدا کرتا ہے۔

تاہم منصفانہ شرائط پر اصرار کر کے ہم چین سے اس کی جانب سے انٹلیکچوئل پراپرٹی کی چوری اور امریکی کارکنوں کے لیے نقصان دہ پالیسیوں پر بازپرس کر سکتے ہیں جیسا کہ ہمارے تجارتی نمائندوں نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے میں کیا تھا۔

ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی پشت پناہی میں کام کرنے والی کسی کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنا کینیڈا کی کسی کمپنی کے ساتھ کاروبار جیسا معاملہ نہیں ہے۔ چین کی کمپنیاں آزادانہ طور سے کام کرنے والے بورڈز کو جوابدہ نہیں ہوتیں اور ان میں بہت سی ایسی ہیں جن کے پیچھے چینی ریاست کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں منافعے کے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہواوے اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ہم نے یہ ظاہر کرنا چھوڑ دیا ہے کہ ہواوے ایک معصوم ٹیلی مواصلاتی کمپنی ہے جس کا کام محض یہ ممکن بنانا ہے کہ آپ اپنے دوستوں سے بات کر سکیں۔ ہم اسے اپنی قوی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ سمجھتے ہیں اور ہم نے یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے اس سے متعلق اقدام اٹھایا ہے۔

ہم یہ بات بھی جانتے ہیں کہ اگر ہماری کمپنیاں چین میں سرمایہ کاری کریں تو وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر چین کی جانب سے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں میں مدد دینے کی مرتکب ہوں گی۔

ہمارے محکمہ خزانہ و تجارت نے اسی لیے ایسے چینی رہنماؤں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور انہیں بلیک لسٹ کیا ہے جو دنیا بھر میں لوگوں کے انتہائی بنیادی حقوق کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بہت سے اداروں نے مل کر ایک ایسی کاروباری صلاح پر کام کیا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہمارے سی ای اوز کو علم ہو کہ انہیں اشیا فراہم کرنے والے کاروباری سلسلے چین میں کیسے کام کر رہے ہیں۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ میں موجود تمام چینی طلبہ اور ملازمین عام طالب علم  اور کارکن نہیں ہیں جن کے یہاں آنے کا مقصد کچھ رقم کمانا اور کچھ علم حاصل کرنا ہے۔ان میں بہت سے یہاں ہماری انٹلیکچوئل پراپرٹی چوری کرنے اور اسے واپس اپنے ملک لے جانے کے لیے آئے ہیں۔

محکمہ انصاف اور دیگر اداروں نے ایسے جرائم کے لیے سخت سزائیں دینے کے اقدامات اٹھائے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ پیپلز لبریشن آرمی بھی ایک عام فوج نہیں ہے۔ اس کا مقصد چین کے عوام کو تحفظ دینا نہیں بلکہ اس کی کمیونسٹ پارٹی کی اشرافیہ کے مطلق اقتدار کو قائم رکھنا اور چین کی قلمرو کو وسیع کرنا ہے۔

اسی لیے ہمارے محکمہ دفاع نے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے، سمندری آزادی یقینی بنانے  کی کارروائیوں کا دائرہ مشرق اور جنوبی بحیرہ چین تک پھیلا دیا  گیا ہے جس میں آبنائے تائیوان بھی شامل ہے۔ ہم نے چین کو آخری محاذ یعنی خلا میں جارحیت سے روکنے کے لیے خلائی فورس بھی تخلیق کی ہے۔

ہم نے چین سے نمٹنے کے لیے دفتر خارجہ میں نئی پالیسیاں بھی ترتیب دی ہیں جن کی بدولت شفافیت اور باہمیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اہداف کی تکمیل میں مدد ملے گی اور کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں پیدا ہونے والے عدم توازن کو دور کیا جا سکے گا۔

اسی ہفتے ہم نے ہوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کیا کیونکہ یہ جاسوسی اور انٹلیکچوئل پراپرٹی کی چوری کا مرکز تھا۔ (تالیاں)

دو ہفتے پہلے ہم نے جنوبی بحیرہ چین میں عالمی قانون سے نگاہیں چرانے کی پالیسی کو واپس لیا۔

ہم نے چین سے کہا ہے کہ وہ اس دور کی تزویراتی حقیقتوں تناظر میں اپنی جوہری اہلیتوں کی تصدیق کرے۔

دفتر خارجہ دنیا بھر میں ہر سطح پر  اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ چین سے شفافیت اور باہمیت کا مطالبہ کیا جا سکے۔

مگر صرف سختی کا مظاہرہ کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ اس سے ہم اپنا مطلوبہ مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔ ہمیں چین کے لوگوں سے بھی رابطہ کرنا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔ وہ متحرک اور آزادی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں اور چین کی کمیونسٹ پارٹی سے بالکل مختلف ہیں۔

اس کا آغاز لوگوں کے ساتھ میل ملاپ پر مبنی سفارت کاری سے ہوتا ہے۔ (تالیاں) میں جہاں کہیں بھی گیا ہوں میری ملاقات چین سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگوں سے ہوئی ہے جو زبردست صلاحیتوں کے مالک ہیں اور جانفشانی سے کام کرتے ہیں۔

میں ویغور اور قازق النسل چینیوں سے ملا ہوں جو سنکیانگ کے نطربندی کیمپوں سے فرار ہو کر آئے تھے۔ میں نے کارڈینل ژن سے لے کر جمی لائی تک ہانگ کانگ میں بہت سے جمہوری رہنماؤں سے بات کی ہے۔ دو روز پہلے لندن میں میری ملاقات ہانگ کانگ میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے نیتھن لا سے ہوئی تھی۔

گزشتہ ماہ میں نے اپنے دفتر میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی تھی جو تیان من سکوائر کے واقعے میں جان بچانے میں کامیاب رہے تھے۔ ان میں سے ایک آج یہاں موجود ہیں۔

وانگ ڈین ایک نمایاں طالب علم تھے جنہوں نے چینی عوام کے لیے آزادی کی جدوجہد کبھی ترک نہیں کی۔ جناب  وانگ،  براہ مہربانی کیا آپ کھڑے ہوں گے تاکہ ہم آپ کو پہچان سکیں؟(تالیاں)

بابائے چینی جمہوری تحریک وی جن شنگ بھی آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کی حمایت کی پاداش میں کئی دہائیاں  چینی بیگار کیمپوں میں گزاری ہیں۔ جناب  وی، براہ مہربانی کیا آپ کھڑے ہوں گے؟ (تالیاں)

میں نے سرد جنگ کے دوران پرورش پائی اور فوج میں وقت گزارا ہے۔ اگر اس دوران میں نے کوئی بات سیکھی ہے تو وہ یہ ہے کہ اشتراکی قریباً ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ وہ ہمیں کہتے ہیں ہم ایک اعشاریہ چار ارب ایسے لوگوں کی بات کرتے ہیں جن کی نگرانی کی جاتی ہے، جو زیر جبر ہیں اور جو خوف کے مارے بول نہیں سکتے۔

مگر حقیقت اس سے متضاد ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کسی بھی دشمن سے زیادہ چین کے عوام کی دیانت دارانہ آرا اور ناجائز اقتدار پر اپنی گرفت ختم ہونے سے خوفزدہ ہے۔

ذرا سوچیے کہ اگر ہم ووہان میں ڈاکٹروں کی  بات سن سکتے اور انہیں ایک نئے اور انوکھی قسم کے وائرس کی وبا پھیلنے کے بارے میں انتباہ جاری کرنے کی اجازت ہوتی تو دنیا کتنی بہتر ہوتی۔

کئی دہائیوں تک ہمارے رہنماؤں نے بہادی چینی منحرفین کی باتوں کو نظر انداز کیا اور ان کے الفاظ کو غیراہم جانا، جنہوں نے ہمیں اس حکومت کی فطرت بارے خبردار کیا تھا جس کا اب ہم سامنا کر رہے ہیں۔

اب ہم ایسی باتوں کو مزید نظرانداز نہیں کر سکتے۔ ناصرف وہ بلکہ سبھی لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ہم کبھی پہلی حالت میں واپس نہیں جا سکتے۔

مگر چین کی کمیونسٹ پارٹی کے طرزعمل میں تبدیلی لانا صرف چینی عوام کا مقصد نہیں ہو سکتا۔ آزاد اقوام کو آزادی کے تحفظ کے لیے کام کرنا ہو گا۔ یہ کام آسان نہیں ہے۔

مگر مجھے یقین ہے کہ ہم یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ مجھے اس لیے یقین ہے کہ ہم نے پہلے بھی یہ سب کچھ کیا ہے۔ ہمیں علم ہے کہ یہ کام کیسے کرنا ہے۔

اس بات پر میرا اس لیے یقین ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی بعض ویسی ہی غلطیاں دہرا رہی ہے جو سوویت یونین نے کی تھیں۔ وہ اپنے ممکنہ اتحادیوں کو خود سے دور کر رہی ہے، اندرون و بیرون ملک خود پر دوسروں کا اعتماد کھو رہی ہے، ملکیتی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو مسترد کر رہی ہے۔

میرا اس بات پر یقین ہے۔ میں اس لیے پُر تیقن ہوں کہ مجھے دوسری اقوام میں بھی اس حوالے سے بیداری دکھائی دے رہی ہے جو یہ بات جانتے ہیں کہ ہم ماضی میں واپس نہیں جا سکتے۔ میں نے برسلز سے سڈنی اور ہنوئی تک یہ باتیں سنی ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ، میرا یقین ہے ہم آزادی کا تحفظ کر سکتے ہیں کیونکہ آزادی بذات خود ایک پرکشش چیز ہے۔

ہانگ کانگ کے لوگوں کو دیکھیے جو اس پُرفخر شہر پر چینی کمیونسٹ پارٹی کی گرفت مضبوط ہوتا دیکھ کر بیرون ملک ہجرت کے خواہش مند ہیں۔ وہ امریکی جھنڈے لہراتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ صورتحال بالکل ماضی جیسی نہیں ہے۔ سوویت یونین سے برعکس چین عالمگیر معیشت سے پوری طرح جڑا ہوا ہے۔ مگر ہم بیجنگ پر جتنا انحصار کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ وہ ہم پر انحصار کرتا ہے۔ (تالیاں)

دیکھیے۔ میں اس تصور کو رد کرتا ہوں کہ ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں بعض چیزیں ناگزیر ہیں، جہاں کچھ حقیقتیں پہلے سے ہی طے ہیں اور مستقبل میں چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بہر صورت غلبہ پانا ہے۔ ہماری سوچ نے اس لیے ناکامی سے دوچار نہیں ہونا کہ امریکہ زوال پذیر ہے۔ جیسا کہ میں نے اس سال کے آغاز میں میونخ میں کہا تھا، آزاد دنیا اب بھی جیت رہی ہے۔ ہمیں اس پر صرف یقین کی ضرورت ہے اور ہمیں اس کا ادراک کرنا اور اس پر فخر کرنا چاہیے۔ دنیا بھر سے لوگ اب بھی آزاد ممالک میں آنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ یہاں علم حاصل کرنے، کام کرنے اور اپنے اہلخانہ کے لیے زندگی بنانے آتے ہیں۔ وہ چین میں رہنے کے لیے بے تاب نہیں ہیں۔

اب وقت ہے۔ آج یہاں موجودگی بہت اچھا موقع ہے۔ اس کا وقت بالکل مناسب ہے۔ آزاد اقوام کے لیے موقع ہے کہ وہ عملی قدم اٹھائیں۔ ہر ملک چین کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ ہر ملک اپنے انداز میں دیکھے گا کہ اسے اپنی خودمختاری کا تحفظ کیسے کرنا ہے، اپنی معاشی خوشحالی کی حفاظت کیسے کرنا ہے اور اپنے آدرشوں کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے شاخچوں سے کیسے بچانا ہے۔

میں ہر ملک کے ہر رہنما سے کہتا ہوں کہ وہ یہ کام اسی طرح شروع کریں جس طرح امریکہ نے شروع کیا تھا۔ وہ صرف دوطرفہ فائدے کی بات کریں، چین کی کمیونسٹ پارٹی سے شفافیت اور جوابدہی پر اصرار کریں۔ یہ ایسے حکمران ہیں جو دوسروں سے بالکل الگ ہیں۔

ان سادہ اور طاقتور معیارات سے بےحد فائدہ ہو گا۔ طویل عرصہ تک ہم نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کو اپنی شرائط پر باہمی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دیے رکھی، مگر اب ایسا نہیں ہو گا۔ آزاد اقوام کو طے کرنا ہو گا کہ آگے کیسے چلنا ہے۔ ہمیں یکساں اصولوں پر چلنا ہو گا۔

ہمیں ایسے مشترکہ ضوابط وضع کرنا ہوں گے جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سودے بازی یا چکنی چُپڑی باتوں سے تبدیل نہ ہو سکیں۔ درحقیقت حال ہی میں امریکہ نے جنوبی بحیرہ چین پر چینی دعووں کو مسترد کرکے یہی کچھ کیا تھا۔ ہم نے دنیا کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے ہاں ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ان کے شہریوں کی نجی معلومات چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ ہم نے یہ کام ضوابط قائم کر کے کیا۔

یہ بات سچ ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بہت سے چھوٹے ممالک کے لیے یہ مشکل کام ہے۔ انہیں اپنا نقصان ہونے کا خوف ہے۔ اسی لیے ان میں بعض ممالک میں ہمارے ساتھ کھڑا ہونے کی اہلیت اور ہمت نہیں ہے۔

درحقیقت ہمارے ایک نیٹو اتحادی نے اس خوف سے ہانگ کانگ کے لیے آواز بلند نہیں کی کہ بیجنگ اس کی چینی منڈیوں تک رسائی روک دے گا۔ ایسی بزدلی تاریخی ناکامی پر  منتج ہو گی اور ہم اسے دہرا نہیں سکتے۔

ہم ماضی کی غلطیاں دہرانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ چین سے لاحق خطرہ یورپ، افریقہ، جنوبی امریکہ اور خاص طور پر ہندوالکاہل خطے میں جمہوریتوں سے تندہی اور ہمت کا تقاضا کرتا ہے۔

اگر ہم نے اس وقت کوئی قدم نہ اٹھایا تو بالاآخر چین کی کمیونسٹ پارٹی ہماری آزادیوں کو ختم کر دے گی اور قانون کی بنیاد پر قائم نظام کو کمزور کر دے گی جسے ہمارے معاشروں نے کڑی محنت سے تعمیر کیا ہے۔ اگر اب ہم جھک گئے تو شاید ہمارے بچوں کے بچے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے رحم و کرم پر ہوں گے جس کے اقدامات آج آزاد دنیا کے لیے بنیادی نوعیت کا خطرہ بن چکے ہیں۔

جب تک ہم نہیں جھکیں گے اس وقت تک جنرل سیکرٹری ژی چین کے اندر اور باہر ہمیشہ کے لیے جبر روا نہیں رکھ سکتے۔

اب یہ چین کو حدود میں رکھنے کا معاملہ نہیں ہے۔ ایسا مت سوچیں۔ یہ ایک پیچیدہ نوعیت کا نیا مسئلہ ہے جس کا ہمیں پہلے کبھی سامنا نہیں ہوا۔ سوویت یونین آزاد دنیا سے الگ تھلگ تھا مگر اشتراکی چین پہلے ہی ہماری سرحدوں کے اندر بیٹھا ہے۔

اسی لیے ہم اس  مسئلے کا اکیلے سامنا نہیں کر سکتے۔ اقوام متحدہ، نیٹو، جی7 مالک، جی20، ہماری مجموعی معیشت، سفارتی اور عسکری طاقت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کافی ہے تاہم اس کے لیے ہمیں واضح سمت میں اور بھرپور ہمت سے قدم اٹھانا ہو گا۔

شاید اب ہم خیال ممالک کے لیے نئی گروہ بندی اور جمہوریتوں کے نئے اتحاد کا وقت آ گیا ہے۔

ہمارے پاس اپنے مقصد کی تکمیل کے ذرائع موجود ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔ اب ہمیں قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ کتابِ مقدس کے الفاظ میں ”کیا ہماری روح رضامند اور جسم کمزور ہے؟”

اگر آزاد دنیا تبدیل نہیں ہوتی تو اشتراکی چین یقینی طور پر ہمیں تبدیل کر دے گا۔ اب ہم ماضی کے طور طریقوں کی جانب اس لیے واپس نہیں جا سکتے کہ وہ آسائش بخش یا آسان ہیں۔

اپنی آزادیوں کی چین سے حفاظت کرنا اس دور میں ہمارا مقصد ہے اور امریکہ اس کام میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے کیونکہ ہمارے بنیادی اصول ہمیں یہ موقع فراہم کرتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے گزشتہ ہفتے فلاڈلفیا میں آزادی ہال میں کھڑے ہو کر وضاحت کی تھی،  ہمارے ملک کی بنیاد اس بات پر قائم ہے  کہ تمام انسان مخصوص حقوق کے مالک ہیں اور یہ حقوق ناقابل انتقال ہیں۔

ہماری حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقوق کا تحفظ کرے۔ یہ ایک سادہ اور طاقتور حقیقت ہے۔ اس نے ہمیں پوری دنیا کے لوگوں کے لیے آزادی کا روشن مینار بنایا ہے جن میں چین میں رہنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔

درحقیقت رچرڈ نکسن نے 1967 میں جب یہ لکھا کہ ”دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک چین تبدیل نہیں ہو جاتا” تو وہ درست کہہ رہے تھے۔ ان کے الفاظ پر توجہ دینا اب ہم پر منحصر ہے۔

آج خطرہ واضح طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔

آج لوگوں میں بیداری جنم لے رہی ہے۔

آج آزاد دنیا کو بہرصورت ردعمل دینا ہے۔

ہم ماضی کی جانب واپس نہیں جا سکتے۔

خدا آپ سبھی پر رحمت کرے۔

خدا چین کے لوگوں پر رحمت کرے۔ 

خدا امریکہ کے لوگوں پر رحمت کرے۔

آپ سب لوگوں کا شکریہ۔

(تالیاں)


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں