rss

شام میں پابندیوں کے لیے نامزدگیاں

Français Français, English English, العربية العربية, Русский Русский

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کا بیان
29 جولائی 2020

 

آج دفتر خارجہ اور محکمہ خزانہ نے ‘سیزر سیریا سویلین پروٹیکشن ایکٹ’ اور دوسرے اختیارات کے تحت مزید 14 افراد کو پابندیوں کے لیے نامزد کر کے اسد حکومت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی مہم کو آگے بڑھایا۔ یہ مہم گزشتہ ماہ سیزر ایکٹ کے تحت نامزدگیوں کے پہلے دور سے شروع ہوئی تھی ۔

آج جو نامزدگیاں عمل میں آئی ہیں انہیں حمہ اور مارات النعمان پابندیوں کا نام دیا گیا ہے۔ پابندیوں کو یہ نام دینے کا مقصد اسد حکومت کے دو بدترین  مظالم کو یاد رکھنا ہے جو 2011 اور 2019 میں اسی ہفتے ڈھائے گئے تھے۔ نو سال پہلے بشارالاسد کے فوجی دستوں نے حمہ شہر کا ظالمانہ محاصرہ کیا جس میں بہت سے پُرامن مظاہرین کو ہلاک کر دیا گیا۔یہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی دہشت انگیز جھلک تھی۔ ایک سال پہلے اسد حکومت اور اس کے اتحادیوں نے مارات النعمان میں ایک مصروف بازار پر بم برسائے جس کے نتیجے میں 42 معصوم شامی شہری ہلاک ہو گئے۔

اسد حکومت کی فوج ظلم، جبر اور بدعنوانی کی علامت بن چکی ہے۔ اس نے ہزاروں شہریوں کو ہلاک کیا ہے، پرامن مظاہرین کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور انسانی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے سکولوں، ہسپتالوں اور بازاروں کو تباہ کیا ہے۔ ہم انتظامی حکم 13894 کے سیکشن 2 (اے) (i) (اے) کی مطابقت سے زوہیر توفیق الاسد اور شامی عرب فوج کے پہلے ڈویژن کو پابندیوں کے لیے نامزد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ زوہیر توفیق الاسد کے بالغ بیٹے کرم الاسد پر سیکشن 2 (اے) (ii)کے تحت پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ آج اٹھائے گئے اقدامات کے ساتھ ہم بشارالاسد کے بالغ بیٹے حافظ الاسد کو بھی انتظامی حکم 13894 کے سیکشن 2 (اے) (ii) کے تحت پابندیوں کے لیے نامزد کر رہے ہیں۔ ہم بشارالاسد اور اس کی حکومت سے اس کے مظالم پر جواب طلبی کرتے رہیں گے  اور اس کے متاثرین کی یاد کو بھی زندہ رکھیں گے۔

وقت آ گیا ہے کہ اسد کی بیکار اور ظالمانہ جنگ کا خاتمہ ہو۔ ہماری پابندیوں کی مہم کا یہی سب سے بڑا مقصد ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے تحت شامی مسئلے کا سیاسی حل ہی امن کا واحد قابل اعتماد راستہ ہے جس کے شامی عوام حقدار ہیں۔ سیزر ایکٹ اور امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف دیگر پابندیوں کا مقصد شام کے عوام کو نقصان پہنچانا، انسانی امداد کو ہدف بنانا یا شمال مشرقی شام میں استحکام لانے کے لیے اپنی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنا نہیں ہے۔ ہم اپنے عالمگیر اور شامی شراکت داروں کے ذریعے اپنا امدادی کام ان علاقوں میں بھی جاری رکھیں گے جو اسد حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ امریکہ نے یہ جنگ شروع ہونے سے اب تک شام میں  انسانی امداد کے طور پر 11.3 بلین ڈالر دیے ہیں اور امداد کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔

حمہ اور مارات النعمان کے متاثرین کے لیے احتساب اور انصاف ہونا چاہیے۔ اسد حکومت کے جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر اس سے جواب طلبی کی جانی چاہیے۔ اسد حکومت اور اس کی حمایت کرنے والوں کو سادہ سا انتخاب کرنا ہے کہ یا تو وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کے ذریعے شامی جنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار سیاسی حل کی جانب ناقابل واپسی قدم بڑھائیں یا بے بس کر دینے والی پابندیوں کے نئے مراحل کا سامنا کریں۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں