rss

صدر ٹرمپ نے خطے میں امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک تاریخی معاہدہ کروایا ہے

Português Português, English English, Español Español, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी, العربية العربية

وائٹ ہاؤس
دفتر برائے سیکرٹری اطلاعات
برائے فوری اجراء
13 اگست 2020
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین تاریخی معاہدہ

 

”ہمارا تصور خطے اور دنیا میں امن، سلامتی اور خوشحالی سے متعلق ہے۔ ہمارا ہدف ایسے ممالک کو باہم متحد کرنا ہے جو شدت پسندی کی بیخ کنی اور ہمارے بچوں کو ایسا پرامید مستقبل دینے کا مشترکہ مقصد رکھتے ہیں جس میں خدا کی تکریم ہو۔” صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

تاریخی معاہدہ: صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور کسی  بڑے عرب ملک کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کئی دہائیوں کے بعد پہلا معاہدہ ممکن بنایا ہے۔

  • صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک معاہدہ کروایا ہے۔ یہ 1994 کے بعد اسرائیل اور کسی بڑے عرب ملک کے مابین اس نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔
  • دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہاں سفارت خانے قائم کرنے اور سفیروں کے تبادلے کا عہد اور تعلیم، صحت عامہ، تجارت اور سلامتی کے میدان میں وسیع تر تعاون شروع کرنے کا عزم کیا ہے۔
  • یہ تاریخی کامیابی 25 سال سے زیادہ عرصہ میں مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب اہم ترین قدم ہے۔
    • 26 اکتوبر 1994 کے بعد اسرائیل۔عرب امن معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے والی پہلی بڑی عرب ریاست ہے۔

دلیرانہ قیادت کے ذریعے امن کی تشکیل: صدر ٹرمپ کو اندازہ تھا کہ یہ امن، سلامتی اور مشرق وسطیٰ کے عوام کے لیے موقع کے حصول کے لیے نئے طریق کار پر عمل کرنے کا وقت ہے۔

  • یہ تاریخی کامیابی صدر ٹرمپ کی قیادت اور معاہدہ کار کی حیثیت سے ان کی مہارت کی بدولت ممکن ہوئی۔
  • صدر ٹرمپ نے امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ اعتماد قائم کیا اور مشترکہ مفادات اور یکساں مواقع کی نشاندہی کے ذریعے ان کے تزویراتی حساب کتاب کی ازسرنو سمت بندی کی اور اس طرح انہیں پرانے تنازعات برقرار رکھنے کی روش سے دور لے گئے۔
  • اس معاہدے سے مستقبل میں علاقائی امن کی جانب مزید اقدامات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
    • امریکہ سمجھتا ہے کہ مزید عرب اور مسلمان ممالک بھی متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائیں گے۔

مزید پرامن اور خوشحال خطے کی تعمیر: یہ معاہدہ خطے کو حقیقی تبدیلی کی راہ پر ڈالنے میں مددگار ہو گا جو استحکام، سلامتی اور مواقع کی راہ ہے۔

  • یہ معاہدہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے جو پرامن طور سے مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے کی خواہش رکھتے ہیں، جیسا کہ اب وہ اس مقصد کے لیے ابوظہبی کے راستے تل ابیب آ سکیں گے اور ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
    • مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے مزید دوروں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے انتہاپسندوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی جو اس غلط بیانیے سے کام لیتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ حملے کی زد میں ہے اور مسلمان اس مقدس جگہ پر نماز نہیں پڑھ سکتے۔
  • دونوں ممالک کے مابین کاروباری اور مالی تعلقات کو وسعت دینے سے پورے مشرق وسطیٰ میں ترقی اور معاشی مواقع جنم لینے کی رفتار میں تیزی آئے گی۔
  • یہ معاہدہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین اور خطے میں ایک جامع، منصفانہ، حقیقی اور پائیدار امن کے حصول کے لیے صدر کے تصور کو مزید ترقی دینے میں مدد دے گا۔

یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں