rss

ہانگ کانگ کے ساتھ تین دوطرفہ معاہدوں کی معطلی یا منسوخی

English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
ہانگ کانگ کے ساتھ تین دوطرفہ معاہدوں کی معطلی یا منسوخی
ترجمان دفتر خارجہ مورگن اورٹیگس کا بیان
19 اگست 2020

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے ہانگ کانگ کو حاصل اعلیٰ درجے کی خودمختاری ختم کرنے کے لیے کڑے اقدامات کیے ہیں۔ اقوام متحدہ میں مندرج چین۔برطانیہ مشترکہ اعلامیے کے تحت بیجنگ نے خود برطانیہ اور ہانگ کانگ کے لوگوں سے 50 سال تک یہ خودمختاری برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی لیے صدر ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ ہانگ کانگ کے ساتھ ”ایک ملک، ایک نظام” کی بنیاد پر پیش آئے گا اور ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے گا جنہوں نے  ہانگ کانگ کے عوام کی آزادیوں کو پامال کیا ہے۔

ہانگ کانگ کی صورتحال کو معمول پر لانے سے متعلق انتظامی حکم (ای او 13936) بیجنگ کے اقدامات کے جواب میں متعدد اقدامات پیش کرتا ہے جن میں ہانگ کانگ کے ساتھ ترجیحی سلوک کی معطلی اور اس کی منسوخی بھی شامل ہے۔

اس قانون کے اطلاق کے ضمن میں جاری اقدامات کے طور پر ہم نے 19 اگست کو ہانگ کانگ کے حکام کو ہماری جانب سے تین دوطرفہ معاہدوں کی معطلی یا منسوخی  کی بابت مطلع کیا۔ یہ معاہدے مفرور مجرموں کے ہتھیار ڈالنے، سزا یافتہ افراد کے تبادلے، اور بحری جہازوں کی عالمگیر کارروائیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر محصولات سے دوطرفہ استثنا سے متعلق ہیں۔

یہ اقدامات بیجنگ کی جانب سے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے قانون کے اطلاق کے بارے میں ہماری گہری تشویش کو واضح کرتے ہیں۔ اس قانون نے ہانگ کانگ کے عوام کی آزادیوں کو کچل ڈالا ہے۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں