rss

وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو کی پریس کانفرنس

العربية العربية, English English, Français Français, Русский Русский, हिन्दी हिन्दी, Português Português, Español Español

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
واشنگٹن ڈی سی
پریس بریفنگ روم

 

وزیر خارجہ پومپیو: سبھی کو صبح بخیر۔ آپ تمام لوگوں سے مل کر خوشی ہوئی۔

میں آج کثیرملکی تعاون کے موضوع پر بات سے آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ ٹرمپ انتظامیہ کثیرملکی اداروں کو روبہ عمل دیکھنا چاہتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس انداز میں حقیقی طور سے کام ہو۔ مگر محض کثیر فریقی ہونے اور ایک جگہ اکٹھے ہو کر بات کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

اسی لیے میں جرائم کی عالمی عدالت کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو کہ پوری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور بدعنوان ادارہ ہے۔ امریکہ نے کبھی ‘روم قانون’ کی توثیق نہیں کی جس کی بنیاد پر یہ عدالت بنی تھی اور ہم امریکی شہریوں کو اس کے دائرہ کار میں لانے کی ناجائز کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

جون میں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی یا اتحادی اہلکاروں سے تحقیقات کے لیے آئی سی سی کی کوششوں میں براہ راست طور سے ملوث اور ایسی کوششوں میں مادی معاونت کرنے والے غیرملکی افراد کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی تھی۔

آج ہم اگلا قدم اٹھا رہے ہیں کیونکہ افسوسناک طور سے آئی سی سی امریکیوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ انتظامی حکم 13928 کی مطابقت سے آئی سی سی کی پراسیکیوٹر فاطو بینیسوڈا اور آئی سی سی کے دائرہ اختیار اور تکمیلی و اشتراکی ڈویژن کے سربراہ پھاکیسو موچوچوکو کو مادی طور پر پراسیکیوٹر بینیسوڈا کی معاونت کرنے پر پابندیوں کے لیے نامزد کرے گا۔

ان افراد کی مادی معاونت جاری رکھنے والے افراد اور اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

علاوہ ازیں دفتر خارجہ نے امریکی اہلکار سے تحقیقات کے لیے آئی سی سی کی کوششوں میں ملوث مخصوص افراد کے لیے ویزے  کے اجرا پر پابندی عائد کر دی ہے۔

کثیرملکی حوالے سے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے مجھے یہ کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے آسیان اور خطہ ہندوالکاہل سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ورچوئل اجلاسوں میں ملاقات کا منتظر ہوں۔

اس دوران ہم کوویڈ، شمالی کوریا، جنوبی بحیرہ چین، ہانگ کانگ اور برما کی راخائن ریاست جیسے وسیع تر موضوعات پر بات چیت کریں گے۔

میں یہ بات بھی کروں گا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ۔چین تعلقات کو دوطرفہ خطوط پر بحال کرنے کے لیے کیسے کام کر رہی ہے۔ آج کل ہم اس ضروری کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سالہا سال تک چینی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے ملک میں کام کرنے والے امریکی سفارت کاروں کی راہ میں معنی خیز رکاوٹیں عائد کی ہیں۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اس حوالے سے خاص طور پر غیرشفاف انداز منظوری دینے کے عمل پر مبنی نظام کا نفاذ کیا۔ یہ نظام امریکی سفارت کاروں کو ان کے باقاعدہ کام، تقریبات میں شرکت، اجلاسوں کے انعقاد اور چینی عوام کے ساتھ خصوصاً یونیورسٹیوں، صحافت اور سماجی میڈیا کے ذریعے تعلق قائم کرنے سے روکنے بنایا گیا ہے۔

آج میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ دفتر خارجہ نے ایک طریق کار ترتیب دیا  ہے جس کے تحت امریکہ میں چین کے اعلیٰ سطحی سفارت کاروں کو یونیورسٹیوں کے دوروں اور مقامی سطح پر سرکاری افسروں سے ملنے کے لیے امریکی حکومت کی منظوری درکار ہو گی۔ چینی سفارت خانے اور قونصل خانوں کی جانب سے ہماری سفارتی املاک سے باہر 50 سے زیادہ لوگوں پر مشتمل ثقافتی تقریبات کے لیے بھی ہماری منظوری حاصل کرنا ہو گی۔

مزید برآں ہم یہ امر یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں کہ چینی سفارت خانے کے تمام حکام اور قونصلروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو باقاعدہ طور سے سرکاری اکاؤنٹس یعنی چینی حکومت کے اکاؤنٹس  کے طور پر ظاہر کیا جائے۔

مشرقی ایشیا۔الکاہل سے متعلق امور پر ہمارے اسسٹنٹ سیکرٹری ڈیوڈ سٹِل ویل آج میرے ساتھ ہیں۔ وہ اس حوالے سے آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔

ہم صرف دوطرفہ برابری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ چین میں ہمارے سفارت کاروں کو بھی وہی رسائی ملنی چاہیے جو امریکہ میں چینی سفارت کاروں کو حاصل ہے اور آج کے اقدامات ہمیں معقول طور سے اسی سمت میں لے جائیں گے۔

اب چین کے بارے میں کچھ مزید بات ہو جائے۔

انڈر سیکرٹری کریچ نے حالیہ دنوں امریکی یونیورسٹیوں کے گورننگ بورڈز کو ایک خط بھیجا ہے جس میں انہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے امریکہ کی علمی آزادی، انسانی حقوق اور یونیورسٹیوں کی استعداد کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ یہ خطرات تحقیق کے لیے خلافِ قانون طور سے مالی وسائل کی فراہمی، انٹلیکچوئل پراپرٹی کی چوری، غیرملکی طلبہ کو دھمکانے اور طلبہ کے داخلے سے متعلق غیرشفاف کوششوں کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔

یونیورسٹی کے گورننگ بورڈ چند اہم اقدامات کے ذریعے اپنے اداروں میں صاف شفاف سرمایہ کاری اور سرمایہ وقف کا شفاف استعمال یقینی بنا کر اس معاملے میں مددگار کردار ادا کر سکتے ہیں:

گورننگ بورڈ سرمایہ وقف خاص طور پر منڈی کے اشاریے میں سامنے آنے والے نئے سرمایے سے متعلق چین کی تمام کمپنیوں کی شناخت ظاہر کریں۔

محکمہ تجارت کی جاری کردہ ایسے اداروں کی فہرست میں شامل چینی کمپنیوں کو سامنے لائیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، عسکری جبر اور ایسی دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

علاوہ ازیں مالیاتی منڈیوں سے متعلق صدارتی ورکنگ گروپ کی جاری کردہ سفارشات کے بارے میں سمجھ بوجھ پیدا کریں جن میں امریکی بازار حصص میں مندرج چینی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو لاحق خدشات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اب میں چین کے موضوع پر ہی رہتے ہوئے اپنی سرحدوں سے باہر کے معاملات پر بات کروں گا۔

ہم انڈیا۔چین سرحد پر کشیدہ صورتحال کے پرامن حل کی امید کر رہے ہیں۔ آبنائے تائیوان سے ہمالیہ تک اور اس سے بھی پرے چینی کمیونسٹ پارٹی کی اپنے ہمسایوں کے ساتھ غنڈہ گردی واضح اور شدید ہوتی جا رہی ہے۔

یہ غنڈہ گردی جنوبی بحیرہ چین میں بھی سب کے سامنے ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ نے وہاں سی سی پی کی سامراجیت کے ذمہ دار چینی افراد اور اداروں پر پابندیاں اور ویزے کی رکاوٹیں عائد کیں۔ یہ افراد اور ادارے توانائی کے وسائل کی غیرقانونی نگرانی، ہمارے اتحادی فلپائن اور دیگر ممالک کی عملداری میں آنے والے معاشی علاقوں میں کی جانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ہم اس بارے میں پہلے بھی بات کر چکے ہیں کہ ہمیں گیلاپاگوس کے قریب چینی جھنڈے  والے 300 سے زیادہ بحری جہازوں کی سرگرمیوں پر بدستور تشویش ہے۔ یہ جہاز قریباً یقینی طور سے غیرقانونی ماہی گیری میں ملوث ہیں۔

ایسی  سمندری لاقانونیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ  گزشتہ ہفتے سمندری قانون سے متعلق عالمگیر ٹریبونل میں بیجنگ کے امیدوار کو کسی بھی دوسرے امیدوار سے کم ووٹ ملے۔

چین سمندری قانون سے متعلق اعلامیے کی سب سے زیادہ کھلی خلاف ورزی کرنے والا  ملک ہے اور دنیا بھر کے ممالک اس کے بارے میں اپنی عدم پسندیدگی واضح کر رہے ہیں۔

ہمیں چینی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی جانب سے تبتی بدھ مت کو چینی بنانے اور وہاں ‘علیحدگی کے رحجان’ کا مقابلہ کرنے کے حالیہ اعلانات کی روشنی میں تبت میں چین کے اقدامات پر بھی تشویش ہے۔ ہم بیجنگ سے کہہ رہے ہیں کہ  وہ دلائی لامہ یا اس کے نمائندوں کے ساتھ کسی بھی طرح کی پیشگی شرائط کے بغیر بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے پر پہنچے جس سے فریقین میں اختلافات کا خاتمہ ہو سکے۔

ہم بیلارس کی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ میری ہدایات پر ڈپٹی سیکرٹری بیگن نے گزشتہ ہفتے وہاں کا دورہ کیا تھا۔ بیلارس کے لوگوں کو غیرجانبدار ماحول میں حقیقی طور سے آزادنہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے اپنے رہنماؤں کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔

ہم بیلارس کے لوگوں کے خلاف تشدد فوری طور پر بند کرنے اور ناجائز طور سے قید تمام لوگوں بشمول امریکی شہری وٹالی شکلیاروو کے خلاف تشدد کے خاتمے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ہم اپنے ماورائے اوقیانوس شراکت داروں کے ساتھ بھی قریبی تعاون کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبر میں ملوث ہر فرد پر ٹھوس اور مخصوص پابندیوں کے نفاذ کے معاملے میں ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں ہیں۔

اب میں مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کروں گا جہاں سے میں حال ہی میں ایک مفید دورہ کر کے آیا ہوں اور وہاں تعینات ہمارے اعلیٰ حکام اس وقت یہاں موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے قائدانہ کردار بدولت یہ خطہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ عرب معاہدے اس کا واضح ثبوت ہیں۔

لہٰذا اس ہفتے تل ابیب سے ابوظہبی تک پہلی براہ راست پرواز اور اسرائیل اور سوڈان کے مابین پہلی براہ راست پرواز ممکن ہوئی اور میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب میں اس خطے کے دورے پر تھا۔

علاوہ ازیں ہر پڑاؤ پر میں نے اپنے ہم منصبوں پر زور دیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے خطے کو لاحق خطرات کے ہوتے ہوئے آپس میں متحد ہو جائیں۔

یہ بات مجھے اپنی گفتگو کے اگلے نکتے پر لے جاتی ہے۔

چالیس سال پہلے اس ماہ ایران کی حکومت نے ملک میں بہائی قومی روحانی اسمبلی کے نو ارکان کو گرفتار کیا تھا۔ اس وقت کے بعد اب تک کسی کو ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔

افسوسناک طور سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان نو لوگوں کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو ایران کے 200 سے زیادہ بہائیوں کے ساتھ ہوا تھا جنہیں اپنے عقیدے پر پُرامن طور سے عمل کرنے کی پاداش میں سزائے موت دے دی گئی۔

ہم عالمی برادری سے پوچھتے ہیں: ایران کی حکومت کو اس کے جرائم پر کب انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

افریقہ کی جانب آتے ہوئے میں سوڈان کا تذکرہ کروں گا جہاں سویلین عہدیداروں کی قیادت میں سوڈان کی عبوری حکومت نے بہت سے اپوزیشن گروہوں کے مابین ایک تاریخی امن معاہدہ کرایا۔ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ جب میں وہاں دورہ کر رہا تھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ممکنہ طور پر ایسا ہی ہو گا۔

اب مغربی کرے میں اپنے ملک کے قریبی علاقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں عالمی ترقیاتی بینک کی صدارت کے لیے امریکہ کے امیدوار ماؤریسیو کلیور۔کیرون کا تذکرہ کروں گا جو کہ اس عہدے کے لیے موزوں امیدوار ہیں۔ اس سلسلے میں 12 ستمبر کو ہونے والا انتخاب ملتوی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اسی روز ہونا چاہیے۔ 

وینزویلا کی بات کی جائے تو اب ایسے ممالک کی تعداد 34 ہو گئی ہے جو وہاں عبوری حکومت کے حق میں ہیں۔ اب مزید ممالک اس امر سے آگاہ ہیں کہ مادورو کی جانب سے 6 دسمبر کو کرائے جانے والے قومی اسمبلی کے فریب آمیز انتخابات نہ تو منصفانہ ہوں گے اور نہ ہی انہیں آزاد کہا جا سکتا ہے۔

ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ تکنیکی طور پر جونہی ممکن ہو ہیٹی میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔

اس کے ساتھ ہی میں آپ سے چند سوالات لینا چاہوں گا۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں