rss

انسداد دہشت گردی کے لیے امریکہ۔انڈیا مشترکہ ورکنگ گروپ اور پابندیوں سے متعلق ڈائیلاگ کے موقع پر مشترکہ بیان

हिन्दी हिन्दी, English English

امریکی دفتر خارجہ
دفتر برائے ترجمان
برائے فوری اجرا
10 ستمبر 2020

 

درج ذیل بیان کا متن امریکہ اور انڈیا کی حکومتوں کی جانب سے انسداد دہشت گردی سے متعلق تیسرے امریکہ۔انڈیا مشترکہ ورکنگ گروپ اور پابندیوں کے لیے نامزدگی سے متعلق ڈائیلاگ کے موقع پر جاری کیا گیا۔

آغاز متن:

انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکہ۔انڈیا مشترکہ ورکنگ گروپ کا چوتھا اجلاس اور پابندیوں سے متعلق امریکہ۔انڈیا ڈائیلاگ کا تیسرا دور 9 اور 10 ستمبر 2020 کو ورچوئل انداز میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر انڈیا کی وزارت برائے خارجہ امور میں انسداد دہشت گردی کے شعبے میں جوائنٹ سیکرٹری مہاویر سنگھوی اور امریکی دفتر خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے شعبے میں رابطہ کار سفیر نیتھن اے سیلز نے انسداد دہشت گردی پر باہمی تعاون پر دور رس نتائج کی حامل بات چیت میں دونوں ممالک کے بین الاداری/بین محکمہ جاتی وفود کی قیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک کے مابین جامع عالمگیر تزویراتی شراکت کے اس اہم عنصر پر باہم قریبی تعاون جاری رکھنے کا عہد کیا۔ دونوں فریقین نے دیگر ممالک کے دہشت گرد آلہ کاروں اور ہر طرح کی سرحد پار دہشت گردی کی کڑی مذمت کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کے لیے نامزد دہشت گرد اداروں کی طرف سے لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا اور دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکس بشمول القاعدہ، داعش، لشکر طیبہ (ایل ای ٹی)، جیش محمد (جے ای ایم) اور حزب المجاہدین کے خلاف ٹھوس اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے خاص طور پر انڈیا میں حالیہ قانونی تبدیلیوں کی روشنی میں دہشت گرد گروہوں اور افراد کے خلاف پابندیوں اور ان کی پابندیوں کے لیے نامزدگی کے لیے اپنی ترجیحات اور طریقہ ہائے کار پر معلومات کا تبادلہ بھی کیا۔

اس موقع پر فریقین نے قرار دیا کہ پاکستان کو یہ امر یقینی بنانے کے لیے فوری، پائیدار اور مستقل نوعیت کے  اقدام کی ہنگامی ضرورت ہے کہ اس کا کوئی علاقہ دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو اور اسے ایسے حملوں بشمول 11/26 کے ممبئی حملوں اور پٹھانکوٹ پر دہشت گرد کارروائی کے ذمہ داروں کو بلاتاخیر انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انڈیا کے عوام اور حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2396 میں بیان کردہ اہم شرائط اور ذمہ داریوں کی مطابقت سے عالمی دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اہلیت ختم کرنے کے لیے معلومات کے تبادلے سے متعلق باہمی تعاون مضبوط کرنے کا مشترکہ عزم تھا۔ شرکا نے دنیا کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے درپیش بعض اہم ترین مسائل سے نمٹنے کی اپنی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ ایسے مسائل میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت اور ان کی کارروائیوں کو روکنا ، انتہاپسندی اور انٹرنیٹ کے دہشت گردی کی غرض سے استعمال پر قابو پانا، دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت روکنا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ممکن بنانا، انہیں دوبارہ پرامن شہری بنانا اور ملک واپس آنے والے دہشت گرد جنگجوؤں اور ان کے اہلخانہ کو معاشرے میں دوبارہ کارآمد کردار ادا کرنے کے قابل بنانا شامل ہیں۔ دونوں فریقین نے باہمی قانونی اور مجرموں کی حوالگی سے متعلق معاونت، قانون نافذ کرنے والی فورسز کی دوطرفہ تربیت اور تعاون پر بات چیت کی۔

اختتام متن۔


یہ ترجمہ ازراہِ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔
تازہ ترین ای میل
تازہ ترین اطلاعات یا اپنے استعمال کنندہ کی ترجیحات تک رسائی کے لیے براہ مہربانی اپنی رابطے کی معلومات نیچے درج کریں